Kuwan Pyase Ki Talash Mein
کنواں پیاسے کی تلاش میں

کنواں پیاسے کی تلاش میں، یہ فقرہ اب محاورہ نہیں رہا، بلکہ ہمارے قومی مزاج کی مکمل تشریح بن چکا ہے۔ کبھی کہا جاتا تھا کہ پیاسا کنویں تک جاتا ہے، آج صورتحال یہ ہے کہ کنواں جوتیاں پہن کر، فائل بغل میں دبائے، آن لائن لنک بنا کر، پیاسے کے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور پیاسا اندر سے آواز دیتا ہے: "ابھی موڈ نہیں، ذرا نیٹ سست ہے، کل دیکھتے ہیں"۔
ہم شاید دنیا کی واحد قوم ہیں جو تعلیم کو اپنی ناکامی کی جڑ سمجھتی ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ اگر ہم واقعی پڑھ لکھ گئے تو ہمیں اپنے مسائل خود حل کرنا پڑیں گے اور یہ مشقت ہمیں منظور نہیں۔ ہم نعروں، الزام تراشی اور وقتی جذباتی تقاریر پر گزارا کرنے کے عادی ہو چکے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ جیسے ہی اسکول بند ہونے کا اعلان ہوتا ہے، بچوں کے ساتھ ساتھ والدین کے چہرے بھی کھل اٹھتے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ کوئی جیل بند ہوگئی ہو۔ سردیوں کی چھٹیوں کے نام پر کہا گیا کہ بچوں کو گھروں میں رکھیں، سردی بہت ہے، حکومت کو بچوں کی بڑی فکر ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ کتابیں الماریوں میں قید ہوگئیں اور بچے مری، سوات اور کالام میں برف کے گولے بناتے نظر آئے۔ جب اسکول کھلنے کا وقت آیا تو یک دم احساس ہوا کہ ابھی تو سردی ہے، بچوں پر ظلم کیوں کیا جا رہا ہے۔
یہ کوئی صدیوں پرانی داستان نہیں، صرف بیس پچیس سال پہلے کی بات ہے کہ سردیوں کی صبحوں میں بھی اسکول لگتے تھے۔ بچے کانپتے ہوئے جاتے تھے اور گھر آ کر یہ نہیں کہتے تھے کہ استاد نے سزا دی ہے، کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ والدین استاد سے زیادہ سخت ثابت ہوں گے۔ آج صورتحال یہ ہے کہ استاد ڈانٹ دے تو والدین اسکول پہنچ جاتے ہیں اور بچہ فخر سے کہتا ہے: "میں نے ابو کو بلا لیا ہے"۔
ہم نے "مار نہیں، پیار" کے نعرے کو اس قدر بے سوچے سمجھے عام کیا کہ مار تو ختم ہوگئی، پیار بھی راستے میں کہیں گم ہوگیا اور نظم و ضبط نے خودکشی کر لی۔ بچے کسی کے قابو میں نہیں، اساتذہ بے بس اور والدین سوشل میڈیا کے ماہر مگر تربیت کے معاملے میں خاموش تماشائی بن چکے ہیں۔ سہولتوں کی بھرمار ہے، نوٹس، گائیڈز، آبجیکٹو، سبجیکٹو، یوٹیوب، گوگل اور اب اے آئی بھی حاضر ہے۔ علم اب محنت نہیں، فائل ڈاؤن لوڈ کرنے کا نام رہ گیا ہے۔ اس سب کے باوجود نتائج ہیں کہ مسلسل نیچے جا رہے ہیں، جیسے انہیں بھی مستقبل پر کوئی خاص یقین نہ ہو۔
اس تمام صورتِ حال کی بنیادی وجہ استاد کی بے توقیری ہے۔ وہ استاد جو کبھی مسیحا سمجھا جاتا تھا، آج ایک ایسا ملازم ہے جس سے توقع تو آسمان جتنی ہے مگر تنخواہ زمین بوس۔ ایک اشتہار پر نظر ڈال لیجیے: پچیس ہزار روپے میں ایم ایس سی، تجربہ کار استاد درکار ہے، جس نے کسی اچھے ادارے میں پڑھایا ہو۔ گویا تعلیم نہیں، کسی فلاحی ادارے کے لیے رضاکار مانگا جا رہا ہو۔ ایسے میں کون سا ذہین نوجوان کہے گا کہ میں استاد بننا چاہتا ہوں؟ بچے آج ڈاکٹر، انجینئر، سافٹ ویئر ڈیولپر، اے آئی ایکسپرٹ بننے کے خواب دیکھتے ہیں، استاد بننے کا خواب اب شاید نصاب سے بھی خارج ہو چکا ہے۔
نتیجہ یہ ہے کہ تعلیم ڈگری تک محدود ہوگئی ہے، کردار کہیں راستے میں اتر گیا ہے۔ ہزار میں سے نو سو سے زائد نمبر لینے والا بچہ تیس سیکنڈ کے اشارے پر رکنا نہیں جانتا، بلا وجہ لڑائیاں، بدتمیزی اور عدم برداشت عام ہو چکی ہے۔ پہلے حیا تھی، لحاظ تھا، استاد کی بات میں وزن تھا۔ تعلیم عمل کے ساتھ جڑی ہوئی تھی، صرف رزلٹ کارڈ تک محدود نہیں تھی۔
مسلمانوں کے سنہری دور پر نظر ڈالیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ علم کو کیسے عزت دی جاتی تھی۔ نبی کریم ﷺ کی صحبت نے صحابہ کرامؓ کو صرف پڑھا لکھا نہیں بلکہ کردار کا پہاڑ بنا دیا۔ حضرت عمرؓ جیسے سخت مزاج انسان علم اور تربیت کے باعث عدل و انصاف کی علامت بنے۔ بغداد، قرطبہ اور دمشق کے علمی مراکز اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ قومیں کتاب سے بنتی ہیں، نعروں سے نہیں۔
آج کے ترقی یافتہ ممالک کو دیکھ لیجیے۔ فن لینڈ ہو یا جاپان، جرمنی ہو یا جنوبی کوریا، انہوں نے تعلیم کو اپنی بقا کا مسئلہ بنایا۔ استاد وہاں عزت بھی پاتا ہے اور معاشی تحفظ بھی۔ اسی لیے وہاں کا طالب علم اسکول کو سزا نہیں، موقع سمجھتا ہے۔
پاکستان میں حکومت کی سنجیدگی کا عالم یہ ہے کہ تعلیم ہر بجٹ میں سب سے آخر میں یاد آتی ہے۔ پالیسیاں بنتی ہیں، فائلوں میں دفن ہو جاتی ہیں۔ حکمران اچھی طرح جانتے ہیں کہ باشعور قوم سوال کرتی ہے، اس لیے تعلیم کو ہمیشہ نیم جان رکھا جاتا ہے۔
پھر ہم کہتے ہیں کہ سیاستدان برے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ سیاستدان کہاں سے آتے ہیں؟ کیا یہ کسی اور ملک سے درآمد ہوتے ہیں؟ یہ اسی قوم کا عکس ہیں۔ مولانا طارق جمیل صاحب کا جملہ کڑوا ضرور ہے، مگر آئینہ دکھاتا ہے کہ یہاں ریڑھی والے سے لے کر ایوانوں تک بددیانتی کی مختلف شکلیں موجود ہیں، فرق صرف اتنا ہے کہ جو پکڑا نہ جائے وہ شریف کہلاتا ہے۔
آج کنواں پیاسے کی تلاش میں ہے، استاد شاگرد کے گھر اور موبائل اسکرین تک پہنچ چکا ہے، مگر پیاس مر چکی ہے۔ جب تک ہم تعلیم کو واقعی اپنی ترجیح نہیں بنائیں گے، استاد کو عزت اور اختیار نہیں دیں گے اور علم کو صرف روزگار نہیں بلکہ اصلاح کا ذریعہ نہیں سمجھیں گے، تب تک یہ زوال یونہی جاری رہے گا۔ تاریخ ہمیں شاید اسی نام سے یاد رکھے گی: وہ قوم جس کے پاس کنواں بھی تھا، پانی بھی، مگر پیاس نہیں تھی۔

