Tuesday, 06 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Zeashan Butt
  4. Babar Azam, Cricket Ka Mughal e Azam

Babar Azam, Cricket Ka Mughal e Azam

بابر اعظم، کرکٹ کا مغل اعظم

بابر کا جادو واقعی سر چڑھ کر بول رہا ہے اور یہ جادو کسی ایک میچ، ایک اننگز یا ایک لیگ تک محدود نہیں بلکہ پچھلے کئی برسوں سے مسلسل اپنا اثر دکھا رہا ہے۔ کرکٹ بلاشبہ دنیا کا دوسرا مقبول ترین کھیل ہے، مگر پاکستان میں یہ محض کھیل نہیں، جذبات کا نام ہے، سانسوں کی رفتار ہے اور اُن چند خوشیوں میں سے ایک ہے جو اب بھی اجتماعی طور پر ہمیں جوڑ لیتی ہیں۔ ایسے وقت میں جب قوم کے چہرے کم کم ہی مسکراتے ہیں، ایک کور ڈرائیو، ایک خوبصورت اسکوائر کٹ اور ایک ذمہ دار اننگز دلوں کو پھر سے زندہ کر دیتی ہے۔

ہر دور میں کرکٹ نے ہمیں ہیرو دیے۔ کبھی عمران خان کی کرشماتی قیادت، کبھی وسیم اکرم کی سوئنگ کا جادو، کبھی وقار یونس کی تباہ کن ریورس اور کبھی شاہد آفریدی کے چھکوں کی بارش۔ مگر ماننا پڑے گا کہ حالیہ دور میں جس طرح کی دیوانگی بابر اعظم کے حصے میں آئی ہے، وہ شاید کسی اور پاکستانی کھلاڑی کو نصیب نہیں ہوئی۔ آج کرکٹ سے شغف رکھنے والا ہر شخص، چاہے وہ لاہور کی چائے کی دکان ہو یا سڈنی کا اسٹیڈیم، ایک ہی نام لیتا نظر آتا ہے: بابر اعظم۔ وہ اب محض ایک کھلاڑی نہیں رہے، بلکہ کرکٹ کے "مغلِ اعظم" بن چکے ہیں، جن کی بادشاہت بیٹ سے قائم ہے اور جس کی رعایا دنیا بھر میں پھیلی ہوئی ہے۔

اس وقت دنیا کے مختلف حصوں میں لیگ کرکٹ کا میلہ لگا ہوا ہے۔ دبئی کی چکاچوند، بنگلہ دیش کی اپنی رونق اور خاص طور پر آسٹریلیا کی بگ بیش لیگ، جہاں کرکٹ صرف کھیل نہیں بلکہ مکمل انٹرٹینمنٹ ہے۔ ہر لیگ کی خواہش ہوتی ہے کہ بڑے نام اس کا حصہ بنیں، تاکہ اسٹیڈیم بھی بھرے اور خزانہ بھی۔ اس بار پاکستان کے سات کھلاڑی آسٹریلیا میں جلوہ دکھا رہے ہیں، مگر سچ یہ ہے کہ وہاں بھی "ہر بابر ہی بابر ہے"۔ سڈنی سکسرز نے جس انداز میں بابر اعظم کی تشہیر کی اور پھر جس گرمجوشی سے ان کا استقبال ہوا، وہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بابر صرف پاکستان کے نہیں، عالمی کرکٹ کے اسٹار ہیں۔

آسٹریلیا میں مقیم پاکستانی کمیونٹی پہلے ہی کرکٹ کی دیوانی ہے، مگر بابر کی آمد نے اس دیوانگی کو نئی جہت دے دی۔ سڈنی، میلبورن اور برسبین کے اسٹیڈیمز میں بابر کے نام کے نعرے، سبز ہلالی پرچم اور "بابر! بابر!" کی صدائیں یہ بتاتی ہیں کہ فین فالوئنگ صرف سوشل میڈیا کے اعداد و شمار تک محدود نہیں، بلکہ میدانوں میں نظر بھی آتی ہے۔ بگ بیش کے ٹکٹوں کی فروخت میں اضافہ، مرچنڈائز کی مانگ اور ٹی وی ریٹنگز، سب کچھ اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ بابر کی شمولیت محض فنی نہیں، مالی لحاظ سے بھی ایک سونے کی کان ہے۔

اعداد و شمار کی بات کی جائے تو بابر اعظم کا قد صرف تاثر سے نہیں، کارکردگی سے ناپا جاتا ہے۔ ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ میں وہ پانچ ہزار سات سو سے زائد رنز بنا چکے ہیں، اوسط پچپن سے زیادہ ہے اور ان کے نام انیس سنچریاں درج ہیں۔ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں چار ہزار سے زائد رنز، اوسط اکتالیس کے قریب اور تین سنچریاں، یہ سب اس فارمیٹ میں غیر معمولی کارکردگی کی مثال ہے۔ ٹیسٹ کرکٹ میں بھی وہ تین ہزار آٹھ سو سے زائد رنز، پینتالیس کے لگ بھگ اوسط اور نو سنچریاں بنا چکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار صرف پاکستان میں نہیں، دنیا بھر میں انہیں جدید دور کے عظیم بلے بازوں کی صف میں لا کھڑا کرتے ہیں۔

اگر تقابل کیا جائے تو بابر کی تکنیک میں ہمیں ویرات کوہلی کی تسلسل، کین ولیمسن کا سکون اور جو روٹ کی کلاس جھلکتی ہے، مگر بابر کا اپنا انداز الگ اور منفرد ہے۔ کور ڈرائیو ہو یا آن ڈرائیو، وہ شاٹ نہیں کھیلتے، تصویر بناتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ناقدین بھی اکثر تعریف کیے بغیر نہیں رہ پاتے اور تعریف وہی معتبر ہوتی ہے جو مخالف کرے۔ حیرت انگیز طور پر بھارتی میڈیا بھی اس وقت بابر کے گن گاتا نظر آ رہا ہے، یہاں تک کہ یہ اعتراف کیا جا رہا ہے کہ بابر کی شمولیت سے بگ بیش لیگ کی آمدنی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

اب تک بابر بگ بیش میں دو شاندار نصف سنچریاں اسکور کر چکے ہیں اور یہ واضح پیغام دے دیا ہے کہ وہ صرف نام کے نہیں، کام کے بھی بادشاہ ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کی سری لنکا سیریز سے پہلے آسٹریلوی بورڈ نے پاکستان کرکٹ بورڈ سے معاہدہ کیا کہ تین کے بجائے پانچ میچ کھیلے جائیں، بس شرط یہ کہ بابر اور دیگر بڑے کھلاڑی دستیاب ہوں۔ گویا کرکٹ کی عالمی منڈی میں بابر کی قیمت وہ ہے جو بورڈز کی حکمتِ عملی بدلوا دے۔

مگر تصویر کا دوسرا رخ بھی ہے اور وہ کچھ تلخ ہے۔ ہمارے ہاں بابر کے کچھ "اپنے" ہی ان کے سخت ترین ناقد بنے ہوئے ہیں۔ خصوصاً باسط علی، اکمل برادران، احمد شہزاد اور چند سستے یوٹیوبرز، جو خود میدان میں وہ مقام حاصل نہ کر سکے، اب مائیک اور کیمرے کے ذریعے روزی روٹی کما رہے ہیں۔ ان کی تنقید اکثر فنی سے زیادہ ذاتی محسوس ہوتی ہے اور دلیل سے زیادہ بغض جھلکتا ہے۔ طنز یہ ہے کہ جنہوں نے خود مستقل مزاجی کا لفظ لغت میں بھی کم ہی دیکھا، وہ بابر کو مستقل مزاجی کا درس دیتے نہیں تھکتے۔

دوسری طرف کرکٹ کے اصل بڑے نام، انضمام الحق، وقار یونس اور خاص طور پر وسیم اکرم، ہمیشہ بابر کی صلاحیتوں کے معترف نظر آتے ہیں۔ وسیم اکرم کا یہ کہنا کہ "بابر پاکستان کا اثاثہ ہے، اسے سنبھال کر رکھنا چاہیے" محض ایک جملہ نہیں، ایک تجربہ کار لیجنڈ کی گواہی ہے۔ یہی فرق ہے شور مچانے والوں اور کرکٹ کو سمجھنے والوں میں۔

طنزیہ انداز میں کہا جائے تو بابر پر تنقید کرنے والوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ بابر ان کے بیانیے کے مطابق ناکام نہیں ہو رہا۔ وہ رنز بناتا جا رہا ہے، ریکارڈ توڑتا جا رہا ہے اور فین فالوئنگ بڑھاتا جا رہا ہے۔ اگر بابر واقعی ناکام ہوتا تو شاید یہ سب خاموش ہو جاتے، مگر کامیابی بعض اوقات ناکامی سے زیادہ لوگوں کو تکلیف دیتی ہے۔

آخر میں، ہماری یہی دعا ہے کہ بابر اعظم سمیت پاکستان کے تمام کھلاڑی ہر میدان میں سبز ہلالی پرچم کو سربلند کریں۔ اختلاف رائے اپنی جگہ، تنقید کا حق اپنی جگہ، مگر بغض اور ذاتی ایجنڈا قوموں کو آگے نہیں لے جاتا۔ اگر یہی ٹیم، یہی جذبہ اور یہی اعتماد برقرار رہا تو وہ دن دور نہیں جب ایک بار پھر ورلڈ کپ پاکستان کے نام ہوگا اور تب شاید بابر کے ناقدین بھی یہ کہنے پر مجبور ہوں گے: ہاں، واقعی، یہ جادو سر چڑھ کر بولتا ہے۔

Check Also

Ahwal e Shayar

By Syed Mehdi Bukhari