Wednesday, 07 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Zeashan Butt
  4. 25Wa Ghanta

25Wa Ghanta

25 واں گھنٹہ

کیا واقعی دن پچیس گھنٹے کا ہوگیا ہے؟ نہیں، دن تو آج بھی وہی پرانا، وفادار اور مظلوم چوبیس گھنٹوں پر مشتمل ہے۔ سورج اسی وقت نکلتا ہے، اسی وقت ڈوبتا ہے، گھڑی کی سوئیاں بھی وہی چکر لگاتی ہیں، مگر مسئلہ دن میں نہیں، مسئلہ ہم ہماری سوچ میں ہے۔ سیانے ٹھیک ہی کہتے ہیں کہ اگر ترقی کرنی ہے تو چوبیس گھنٹوں میں سے پچیسواں گھنٹہ پیدا کرنا پڑتا ہے۔ یہ پچیسواں گھنٹہ گھڑی میں نہیں ملتا، یہ نیت، نظم و ضبط اور ترجیحات سے پیدا ہوتا ہے۔

ہم میں سے اکثر لوگ وقت کے معاملے میں بڑے سادہ ہیں۔ اذان ہوئی تو کہا: "ابھی وقت ہے"، آلارم بجا تو بٹن دبا کر فرمایا: "پانچ منٹ اور"، دفتر کا کام آیا تو کہا: "ذرا چائے پی لوں"، کتاب سامنے رکھی تو خیال آیا: "کل پڑھ لیں گے"۔ یہی پانچ پانچ منٹ، جب جمع ہوتے ہیں، تو کم از کم ایک گھنٹہ بن جاتے ہیں اور یہی وہ گھنٹہ ہوتا ہے جو ہمیں آگے لے جا سکتا تھا، مگر ہم نے اسے لحاف کے نیچے، سوشل میڈیا کی اسکرولنگ میں یا "بس ابھی کرتا ہوں" کی نذر کر دیا۔

بانی پاکستان کی زندگی اس پچیسویں گھنٹے کی عملی تفسیر ہے۔ وہ شدید علالت کے باوجود وقت کے پابند تھے۔ بیماری کے عالم میں بھی فائلیں وقت پر منگواتے، ملاقاتیں مختصر مگر بامقصد رکھتے۔ ان کے نزدیک وقت قوم کی امانت تھا۔ وہ کہا کرتے تھے کہ "میں ایک منٹ بھی ضائع کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا، کیونکہ میرے پاس ایک قوم کا مقدمہ ہے"۔ یہی احساسِ ذمہ داری تھا جو انہیں عام لوگوں سے عظیم رہنما بناتا ہے۔

سر سید احمد خانؒ کو دیکھیے۔ 1857ء کے بعد جب پورا برصغیر مایوسی کی دلدل میں دھنس چکا تھا، سر سید نے رونا نہیں رویا، وقت کو کوسا نہیں، بلکہ قلم اٹھایا، تعلیمی تحریک شروع کی، علی گڑھ کی بنیاد رکھی۔ وہ چاہتے تو کہہ سکتے تھے: "اب کیا ہو سکتا ہے؟" مگر انہوں نے پچیسواں گھنٹہ نکالا، وہ گھنٹہ جو دوسروں نے ماتم میں ضائع کیا اور قوم کو علم کی روشنی دی۔

مفکر پاکستان کی زندگی بھی وقت کی قدر کا ایک روشن باب ہے۔ شاعرِ مشرق صرف اشعار کے خالق نہیں تھے، وہ وقت کے قدردان تھے۔ ان کی راتیں مطالعے، غور وفکر اور دعا میں گزرتی تھیں۔ وہ خودی کا درس اسی قوم کو دے رہے تھے جو وقت کی بے قدری میں مبتلا تھی۔ اقبالؒ نے کہا تھا:

"ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں"

یہ "آگے" تب ہی ملتا ہے جب آدمی اپنے آج کو سنوار لے۔

قرآن مجید ہماری رہنمائی یوں کرتا ہے

زمانے کی قسم! بے شک انسان خسارے میں ہے

مگر فوراً استثنا بھی بیان کر دیا: ایمان، عمل صالح، حق کی تلقین اور صبر۔ گویا وقت سب کے پاس برابر ہے، خسارے اور فائدے کا فیصلہ اس کے استعمال سے ہوتا ہے۔

نبی کریم ﷺ کی زندگی تو وقت کے حسنِ استعمال کا اعلیٰ ترین نمونہ ہے۔ ایک صحابیؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب کوئی کام کرتے تو پورے انہماک سے کرتے، حتیٰ کہ ایسا لگتا جیسے اس کے علاوہ کوئی کام ہی نہیں۔ نہ فضول بات، نہ بے مقصد نشست۔ ایک حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا:

"دو نعمتیں ایسی ہیں جن کی قدر اکثر لوگ نہیں کرتے: صحت اور فراغت"۔

ہم صحت کو بیماری میں یاد کرتے ہیں اور فراغت کو گزر جانے کے بعد۔

حضرت عمرؓ کا واقعہ مشہور ہے کہ وہ راتوں کو گشت کرتے تاکہ رعایا کے حالات جان سکیں۔ کوئی ان سے پوچھتا کہ یہ کیوں؟ تو جواب ہوتا: "اگر دن حکمرانی کے لیے ہے تو رات حساب کے لیے ہے"۔ یہ تھا پچیسواں گھنٹہ، جو اقتدار میں بھی جواب دہی سکھاتا ہے۔

میرے روحانی استاد اشفاق احمد مرحوم کہا کرتے تھے کہ "ہم وقت کو مارتے مارتے خود مر جاتے ہیں"۔ وہ کہتے تھے کہ انسان چھوٹے چھوٹے لمحوں کو حقیر سمجھ کر ضائع کرتا ہے، پھر ایک دن پوری زندگی ہاتھ سے نکل جاتی ہے۔ واصف علی واصفؒ کا بھی یہی فلسفہ تھا۔ وہ فرماتے تھے: "جو وقت کو پہچان لیتا ہے، وقت اس کے قدم چومتا ہے"۔ مگر ہم ہیں کہ وقت کو صرف گھڑی کی سوئی سمجھتے ہیں، حالانکہ وہ کردار کا پیمانہ ہے۔

قاسم علی شاہ اپنے لیکچرز میں اکثر کہتے ہیں کہ کامیابی کوئی جادو نہیں، یہ نظم و ضبط کا نام ہے۔ وہ نوجوانوں کو یہی سمجھاتے ہیں کہ ایک گھنٹہ خود پر لگاؤ، کتاب، ہنر، صحت یا سوچ پر، یہی تمہارا پچیسواں گھنٹہ ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہم تین گھنٹے موبائل پر لگا دیں تو تھکن نہیں ہوتی، مگر تیس منٹ مطالعہ کو قیامت سمجھتے ہیں۔

ہم وہ قوم ہیں جو کہتے ہیں: "بس یہ ویڈیو دیکھ لوں"، "بس یہ میچ ختم ہو جائے"، "بس یہ قسط نکل جائے" اور زندگی نکل جاتی ہے۔ ہم بڑے فخر سے کہتے ہیں: "یار وقت ہی نہیں ملتا"، حالانکہ وقت ہمیں ڈھونڈتا ہے اور ہم اس سے چھپتے پھرتے ہیں۔

دنیا کے بڑے کھلاڑی ہوں، اداکار ہوں یا کاروباری شخصیات، سب کے پاس چوبیس ہی گھنٹے تھے، مگر انہوں نے پچیسواں گھنٹہ پیدا کیا۔ کسی نے نیند کم کی، کسی نے فضول محفل چھوڑی، کسی نے "کل" کو "آج" میں بدلا۔ فرق صرف اتنا ہے۔

آخر میں بس اتنا سمجھ لیں کہ پچیسواں گھنٹہ کوئی اضافی وقت نہیں، یہ اضافی شعور ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب انسان اپنے آپ سے کہتا ہے: "اب نہیں تو کبھی نہیں"۔ جو یہ لمحہ پا گیا، وہی آگے بڑھ گیا، باقی سب گھڑی دیکھتے رہ گئے۔ ہمیشہ کی طرح یہ ہی کہوگا کہ تجربہ شرط ہے۔۔

Check Also

Mere Ilm Mein Na Aane Wali Meri Agenti

By Nusrat Javed