Dingu
ڈِنگُو

وہ اپنی تیس چالیس بکریاں لے کر چل رہا ہوتا، ہاتھ میں چھڑی جو اس نے گردن کے پیچھے کندھوں پہ رکھی ہوتی اور دونوں ہاتھ اس کے اوپر اٹکائے ہوتے۔ سر پہ کبھی پٹکا ہوتا کبھی نہیں ہوتا۔ میں اسے ہمیشہ اسی حالت میں دیکھتا تھا۔ آتے جاتے کبھی سلام کر لیتا۔ اس کے علاوہ وہ کبھی کبھی کبڈی کے گراؤنڈ میں نظر آتا۔ سخت جان اور پھرتیلا تھا اسلیے کبڈی اچھی کھیلتا تھا۔ میں نے اسے ان دو حالتوں کے علاوہ آج تک نہیں دیکھا۔ ہم ایک ہی گاؤں میں رہتے تھے۔ اس کا ایک جبڑا ٹیڑھا تھا جیسے منہ کے اندر کی طرف ہوا ہو۔ اسلیے لوگ اسے ڈِنگُو کہہ کر پکارتے تھے۔
ڈنگو اپنی بکریوں کے ساتھ بہت خوش رہتا تھا، اسے ہمیشہ ہنستے مسکراتے دیکھا۔ کبھی چہرے پہ شکایت کے تاثرات نہیں دیکھے۔ میں اکثر سوچتا ہوں کیا اسے بھی اپنی زندگی سے شکایتیں ہونگی؟ کیا وہ کسی کے سامنے گلہ کرتا ہوگا؟ یا اس کے خواب کیسے ہوں گے؟ یا وہ اپنی چالیس بکریوں کی کائنات میں خوش تھا؟ مجھے یقین ہے کہ وہ اپنی اسی کائنات میں خوش ہوگا اور اگر وہ ایسے خوش ہے تو کیا اسکی زندگی آسان نہیں؟ میں اور میرے دوست گاؤں چھوڑ چکے۔ پہلے پڑھائی کے لیے اور پھر روزگار کے لیے بڑے شہروں میں شفٹ ہو گئے۔ زندگی میں بہت سی مشکلات دیکھیں، بہتری کی کوشش میں کیا کچھ نہیں کیا۔ لیکن کیا آج ہم ڈنگو جتنی بھی مطمئن زندگی گزار رہے ہیں؟
ڈنگو جس نے کبھی امتحان کا سٹریس نہیں لیا، جس نے کبھی نوکری کی غلامی نہیں کی، جسے کبھی حسد کا سامنا نہیں ہوا، جس نے خود بھی کبھی اپنے ہی ساتھیوں کی ٹانگیں نہیں کھینچی۔ جسے سب سے بہتر سب سے اوپر جانے کا خمار نہیں ہے۔ جسے نیچے رہ جانے کا بھی خوف نہیں ہے۔ جو گھٹیا سیاست نہیں کرتا۔ کیا اسے ملکی سیاست سے بھی کوئی فرق پڑتا ہوگا؟ کیا اسکا حکومتوں کے بدلنے، سیاست دانوں کی لڑائیوں پہ خون جلتا ہوگا؟ اسے بگڑتی معیشت، بگڑتے حالات اور ملکی زوال پہ پشیمانی ہوتی ہوگی؟ یا وہ صرف اپنی کائنات میں مگن کھلیانوں میں گیت گاتا ہوا اپنی بکریاں سنبھالتا ہوگا۔
میں یہاں وہ سب بیان کررہا ہوں جو میں سوچتا ہوں۔ اصل میں ڈنگو کیا سوچتا ہوگا وہ تو اس سے مل کے بات کرکے ہی پتا چلے گا۔ میری اس کے ساتھ رسمی سلام کے علاوہ ملاقات نہیں ہے۔ میرا ارادہ ہے کہ جب گاؤں جاؤں تو کسی وقت خصوصاً اس سے ملاقات کروں۔ اس سے بات کروں، زندگی کے بارے پوچھوں۔ اس سے قناعت سیکھوں، خوش رہنا سیکھوں، کسی کی پرواہ کیے بغیر اپنی زندگی میں مگن رہنا سیکھوں۔ گاؤں کے بارے پوچھوں، جانوروں کے بارے بات کروں اسکی بکریوں کا پوچھوں۔ کیا کبھی وہ ان سے تنگ بھی آتا ہوگا؟ کیا اسے لگتا ہوگا کہ اسے کچھ اور کرنا چاہیے۔ وہ کیسے خواب دیکھتا ہوگا۔ اس کی تو نیند بھی ہم سے بہت بہتر ہوگی۔ شام ڈھلتے ہی کام ختم کرکے رات کی پہلے پہر ہی سونے کی تیاری کرتا ہوگا۔ سکرین پہ نظریں جمائے نیند خراب نہیں کرتا ہوگا۔ وہ صبح اٹھ کر بھاگم بھاگ ناشتہ کرکے کام پہ جانے کی تیاری نہیں کرتا ہوگا۔ دل کرتا ہے یہ سب اس سے پوچھوں۔ میں اس سے ملاقات کے بعد ایک اور کالم لکھوں گا۔ اسکے نظریات بیان کروں گا۔
ہم چھ سے آٹھ ہزار قدم گننے کے لیے بھی کلائی بینڈ لگائے پھرتے ہیں، ٹریڈ مل پہ واک کرتے ہیں اور ڈنگو اپنی بکریوں کے پیچھے جانے کتنا چل لیتا ہوگا۔ ہم چھٹیاں گزارنے سبزہ میں جاتے ہیں، ڈنگو اسی سبزہ میں پھرتا ہے، ہم صحیح سمت میں بھی ہیں؟ کیا ہم نے کامیابی کے جو پیمانے بنا رکھے ہیں وہ ٹھیک ہیں؟ کیا کچھ حاصل ہوگا تو ہم خوش ہوں گے؟ کبھی یہ تگ و دو ختم ہوگی؟ کیا ہوگا اگر آخر میں کامیابی کی بجائے ملال رہ گیا؟ اگر خود کو کسی مقام پر کامیاب سمجھیں بھی تو کہیں یہ زعم تکبر کی طرف نہ لے جائے۔ پھر نجات کیسے پائیں گے؟
یہاں یہ بات نوٹ فرما لی جائے کہ ڈنگو ایک شخص کا نام ضرور ہے لیکن اس کا نام میں نے علامتی طور پہ استعمال کیا ہے۔ ایسے بہت سے لوگ ہونگے۔ میں ایک مختلف زاویے کی زندگی کی بات کرنا چاہتا تھا۔ کسی ایک شخص پہ اپنی مرضی کی رائے قائم کرنے کا وہ بھی اسے اچھی طرح جانے بغیر قائل نہیں ہوں۔ بس اس نتیجے پر پہنچنا چاہتا ہوں کہ زندگی کیا ہے، کامیابی کسے کہتے ہیں، اطمینان کیسے آتا ہے۔ کیا ہم جو کر رہے ہیں وہ ٹھیک ہے؟
ہمیں تو حساب بھی انواع و اقسام کی میسر یا حاصل کردہ چیزوں، کھانوں، سہولیات اور اس کے علاوہ رویوں اور معاملات کا دینا پڑے گا اور ڈنگو اگر صوم و صلوٰۃ کا پابند ہوا اور اسکی وجہ سے پریشانی میں بھی غالباً کوئی انسان نہیں گیا تو وہ اپنی تیس چالیس بکریوں کا حساب دے کر سرخرو ہو جائے گا۔ تو کامیاب کون ہوا؟ ڈنگو یا ہم؟

