Saturday, 17 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Waqas
  4. Taleemi Nizam Ko 20vi Sadi Mein Chore Kar Hum 21vi Sadi Mein Aagaye

Taleemi Nizam Ko 20vi Sadi Mein Chore Kar Hum 21vi Sadi Mein Aagaye

تعلیمی نظام کو بیسویں صدی میں چھوڑ کر ہم اکیسویں صدی میں آ گئے

یہ ایک سادہ سا مگر تکلیف دہ سوال ہے: اگر پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے تو پھر ہم تعلیمی میدان میں کیوں پیچھے ہیں؟

روزانہ اخبارات، ٹاک شوز اور سوشل میڈیا پر تعلیم کی اہمیت پر زور دیا جاتا ہے، مگر جب اعداد و شمار سامنے آتے ہیں تو حقیقت کسی اور کہانی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ پاکستان کا تعلیمی نظام محض مسائل کا شکار نہیں، بلکہ یہ ایک غیر مساوی، کم سرمایہ کاری والا اور پرانا نظام بن چکا ہے جو اکیسویں صدی کے تقاضوں کو پورا کرنے میں ناکام نظر آتا ہے۔

اعداد و شمار جو سوال اٹھاتے ہیں، پاکستان کی مجموعی خواندگی کی شرح تقریباً 60.6 فیصد ہے، جبکہ خواتین میں یہ شرح مزید کم ہو کر 52 فیصد کے قریب رہ جاتی ہے۔ دیہی علاقوں میں صورتحال اس سے بھی زیادہ تشویشناک ہے، جہاں ہر دوسرا بچہ بنیادی تعلیم سے محروم ہے۔ اس وقت ملک میں تقریباً 2 کروڑ 50 لاکھ بچے اسکول سے باہر ہیں، یہ تعداد کئی ترقی یافتہ ممالک کی کل آبادی سے زیادہ ہے۔

اس کے برعکس، فن لینڈ، کینیڈا اور جنوبی کوریا جیسے ممالک میں خواندگی کی شرح 98 سے 100 فیصد کے درمیان ہے۔ سوال یہ نہیں کہ وہاں بچے زیادہ ذہین ہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ وہاں تعلیم کو ریاستی ترجیح حاصل ہے۔

اصل مسئلہ: تعلیم پر کم خرچ۔ پاکستان تعلیم پر اوسطاً GDP کا 2 فیصد سے بھی کم خرچ کرتا ہے، جبکہ UNESCO کے مطابق کسی بھی ملک کو معیاری تعلیم کے لیے کم از کم 4 سے 6 فیصد GDP تعلیم پر خرچ کرنا چاہیے۔

دوسری طرف OECD ممالک تعلیم پر اوسطاً 4.9 فیصد GDP خرچ کرتے ہیں، جس کا نتیجہ بہتر اسکول، تربیت یافتہ اساتذہ اور جدید نصاب کی صورت میں نکلتا ہے۔

پاکستان میں کم بجٹ کا سیدھا اثر سرکاری اسکولوں پر پڑتا ہے: بغیر عمارت کے اسکول، اساتذہ کی کمی، تربیت کا فقدان اور ایسا نصاب جو رٹّا سسٹم کو فروغ دیتا ہے۔

ایک ملک، کئی تعلیمی نظام

پاکستان میں بیک وقت سرکاری، نجی، کیمبرج، مدارس اور مختلف بورڈز کے نظام چل رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ملک میں 10 سے زائد متوازی تعلیمی نظام موجود ہیں، جو سماجی تقسیم کو مزید گہرا کرتے ہیں۔

ایک ہی شہر میں پڑھنے والے بچے مختلف دنیاؤں کے لیے تیار ہو رہے ہیں، کوئی عالمی منڈی کے لیے اور کوئی محض امتحان پاس کرنے کے لیے۔ اس کے برعکس، فن لینڈ میں ایک یکساں قومی نصاب ہے، جہاں رٹنے کے بجائے تنقیدی سوچ، تحقیق اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت پر زور دیا جاتا ہے۔

صنفی اور علاقائی ناانصافی

بلوچستان میں خواندگی کی شرح 42 فیصد سے بھی کم ہے، جبکہ شہری پنجاب اس سے کہیں آگے ہے۔

لڑکیوں کی تعلیم اب بھی ثقافتی، معاشی اور سیکیورٹی مسائل کی نذر ہے، حالانکہ عالمی تحقیق ثابت کرتی ہے کہ لڑکیوں کی تعلیم براہ راست معاشی ترقی سے جڑی ہوتی ہے۔

تو پھر راستہ کیا ہے؟ یہ ماننا پڑے گا کہ تعلیمی اصلاحات محض نعرے سے نہیں آئیں گی۔ جب تک تعلیم کو دفاع، سیاست اور وقتی منصوبوں سے اوپر رکھ کر قومی بقا کا مسئلہ نہیں سمجھا جائے گا، تب تک یہ خلا بڑھتا رہے گا۔

سوال اب یہ نہیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔

اصل سوال یہ ہے: کیا ہم واقعی اپنے بچوں کو مستقبل کے لیے تیار کر رہے ہیں، یا صرف امتحان پاس کرنے کی مشق کروا رہے ہیں؟

حوالہ جات (References):

Pakistan Literacy Rate: Pakistan Bureau of Statistics / SAMAA

Out-of-School Children: The News / UNICEF Pakistan

Education Spending: UNESCO Institute for Statistics

OECD Education Expenditure Reports

Global Literacy Data: World Population Review، World Atlas

Check Also

Darakht Dar Ul Hukumat Ke Phephre

By Asif Masood