Punjab Ki Taleem, Maryam Nawaz Aur Buzdar
پنجاب کی تعلیم، مریم نواز اور بزدار

پنجاب کی تاریخ میں تعلیم ہمیشہ دعوؤں، وعدوں اور نتائج کے درمیان جھولتی رہی ہے۔ ہر حکومت آتے ہی اعلان کرتی ہے کہ تعلیم اس کی اولین ترجیح ہے، مگر چند برس بعد یہی سوال دوبارہ ہمارے سامنے کھڑا ہوتا ہے: کیا واقعی کچھ بدلا؟ اگر ہم حالیہ برسوں میں پنجاب کے دو اہم ادوار، عثمان بزدار اور مریم نواز شریف، کو سامنے رکھیں تو ہمیں تعلیم کے معاملے میں دو مختلف مزاج، دو مختلف رفتاریں اور دو الگ ترجیحات نظر آتی ہیں۔
عثمان بزدار کا دور ایک ایسے وقت میں شروع ہوا جب پاکستان تحریک انصاف "تبدیلی" کا نعرہ لے کر اقتدار میں آئی۔ تعلیم کے میدان میں بھی ایک جامع دستاویز پیش کی گئی جسے "نیو ڈیل ایجوکیشن پالیسی 2018–23" کا نام دیا گیا۔ اس پالیسی میں سب کچھ تھا: آؤٹ آف اسکول بچوں کو واپس لانے کے وعدے، نصاب میں یکسانیت، سرکاری اسکولوں کی بہتری اور اساتذہ کی تربیت۔ مسئلہ نیت کا نہیں تھا، مسئلہ رفتار اور عملدرآمد کا تھا۔ پالیسی فائلوں میں تو زندہ رہی، مگر زمینی سطح پر اس کی سانسیں کمزور رہیں۔ دیہی علاقوں کے اسکول، اساتذہ کی کمی، سہولیات کا فقدان اور نگرانی کا کمزور نظام، یہ سب سوال اپنی جگہ موجود رہے۔
پھر سیاست نے کروٹ لی اور پنجاب کو ایک نیا چہرہ ملا۔ مریم نواز شریف اقتدار میں آئیں تو ان کے ساتھ ایک مختلف سیاسی تربیت اور انتظامی انداز بھی آیا۔ انہوں نے تعلیم کو صرف پالیسی نہیں بلکہ پراجیکٹ سمجھا۔ اسکولوں کی عمارتیں، کلاس رومز، واش رومز، فرنیچر، ڈیجیٹل بورڈز، یہ سب وہ چیزیں ہیں جو عام آدمی کو نظر آتی ہیں اور شاید اسی لیے اثر بھی فوری ہوتا ہے۔ ہزاروں اسکولوں کی آپ گریڈیشن، اساتذہ کی بڑی تعداد میں بھرتی، ڈیجیٹل لرننگ اور بچوں کے لیے غذائی پروگرام، یہ سب اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ حکومت نتائج دکھانا چاہتی ہے، صرف بیانات نہیں۔
یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔ عثمان بزدار کے دور میں تعلیم پالیسی ڈرِون تھی، جبکہ مریم نواز کے دور میں تعلیم پرفارمنس ڈرِون دکھائی دیتی ہے۔ ایک طرف طویل المدتی منصوبہ بندی تھی جس کی رفتار سست رہی، دوسری طرف فوری اقدامات ہیں جو سیاسی طور پر فائدہ بھی دیتے ہیں اور عوامی سطح پر اعتماد بھی پیدا کرتے ہیں۔
تاہم یہ کہنا بھی سچ ہوگا کہ تعلیم صرف عمارتوں اور لیبارٹریوں سے بہتر نہیں ہوتی۔ اصل امتحان آنے والے برسوں میں ہوگا، کیا یہ سہولیات معیارِ تعلیم بہتر کریں گی؟ کیا سرکاری اسکول واقعی پرائیویٹ اداروں کا متبادل بن سکیں گے؟ اور کیا دیہی اور شہری فرق کم ہوگا؟
پنجاب کی بدقسمتی یہ رہی ہے کہ ہر حکومت پچھلی حکومت کی لکیر مٹا کر نئی لکیر کھینچنے کی کوشش کرتی ہے۔ اگر عثمان بزدار کی پالیسی فریم ورک کو مریم نواز کی رفتار اور عملدرآمد مل جائے تو شاید ہم اس مقام تک پہنچ سکیں جہاں تعلیم واقعی سیاست سے آزاد ہو جائے۔
فی الحال اتنا کہنا کافی ہے کہ پنجاب میں تعلیم کا پہیہ ایک بار پھر گھوم رہا ہے۔ سوال صرف یہ ہے: یہ پہیہ منزل تک جائے گا یا ایک اور چکر لگا کر رک جائے گا؟

