Kya Maryam Nawaz Ka Punjab Badle Ga?
کیا مریم نواز کا پنجاب بدلے گا؟

یہ سوال بظاہر بہت سادہ ہے، مگر اس کے اندر ایک پورا نظام دفن ہے: پنجاب میں تعلیم کیوں پیچھے ہے، جبکہ دعوے ہمیشہ آگے کے ہوتے ہیں؟
ہر نئی حکومت آتے ہی تعلیم کو اپنی ترجیحات میں سرفہرست قرار دیتی ہے۔ پریس کانفرنسوں میں اصلاحات کے انبار لگ جاتے ہیں، فائلوں میں منصوبے چمکنے لگتے ہیں، مگر جب ہم گاؤں کے کسی سرکاری اسکول میں داخل ہوتے ہیں تو وہاں تصویر بالکل مختلف ہوتی ہے۔ ٹوٹی ہوئی کرسیاں، خاموش بچے اور ایک استاد جو خود حالات سے ہارا ہوا نظر آتا ہے۔
سب سے پہلا اور بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے تعلیم اور روزگار کے درمیان رشتہ توڑ دیا ہے۔ آج کا طالب علم برسوں تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی بے سمت کھڑا ہے۔ اس کے ہاتھ میں ڈگری ہے، مگر اس کے پاس ہنر نہیں۔ ہم نے پورے نظام کو نمبروں، گریڈز اور رٹے تک محدود کر دیا ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ نوجوان نوکری کا امیدوار بن تو جاتا ہے، مگر قابل امیدوار نہیں بن پاتا۔
اس مسئلے کا حل بہت مشکل نہیں، اگر نیت صاف ہو۔ نصاب کو عملی زندگی سے جوڑنا ہوگا۔ اسکول کی سطح پر بچوں کو ٹیکنیکل اور ووکیشنل تعلیم سے روشناس کرانا ہوگا۔ ہر بچے کو ڈاکٹر یا افسر بنانے کا خواب چھوڑ کر اسے ایک باعزت، خودمختار شہری بنانے پر توجہ دینا ہوگی۔
دوسرا بڑا مسئلہ اساتذہ سے جڑا ہوا ہے۔ ہم اساتذہ بھرتی تو کر لیتے ہیں، مگر ان کی تربیت کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ایک ایسا استاد جو خود پرانے طریقوں میں الجھا ہو، وہ نئی نسل کو مستقبل کے تقاضوں کے مطابق کیسے تیار کرے گا؟
تعلیم صرف کتاب پڑھانے کا نام نہیں، یہ سوچ بدلنے کا عمل ہے اور سوچ وہی بدل سکتا ہے جو خود سیکھنے کے عمل میں شامل ہو۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اساتذہ کی مستقل تربیت کو نظام کا حصہ بنایا جائے۔ کارکردگی کو ترقی سے جوڑا جائے اور تدریس کو محض نوکری نہیں بلکہ ذمہ داری بنایا جائے۔
تیسرا مسئلہ سرکاری اور نجی اسکولوں کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج ہے۔ ایک طرف مہنگے نجی اسکول ہیں، جہاں سہولیات بھی ہیں اور اعتماد بھی، دوسری طرف سرکاری اسکول ہیں، جو اکثر توجہ کے منتظر رہتے ہیں۔ یہ فرق صرف تعلیمی نہیں، یہ سماجی تقسیم کو بھی جنم دے رہا ہے۔
اگر ریاست واقعی تعلیم کو سنجیدگی سے لیتی ہے تو اسے سرکاری اسکول کو اپنی پہلی ترجیح بنانا ہوگا۔ فنڈز کے درست استعمال، شفاف نگرانی اور مقامی کمیونٹی کی شمولیت سے سرکاری اسکول کو ایک بار پھر قابلِ اعتماد بنایا جا سکتا ہے۔
چوتھا اور اکثر نظر انداز ہونے والا مسئلہ والدین کا کردار ہے۔ ہم یہ ماننے کو تیار نہیں کہ بچے کی پہلی درسگاہ اسکول نہیں بلکہ گھر ہوتا ہے۔ پنجاب میں اکثر والدین تعلیم کو صرف فیس اور رزلٹ تک محدود سمجھتے ہیں۔ بچے کی ذہنی اور اخلاقی تربیت پر کم ہی بات ہوتی ہے۔
اسکول اور والدین کے درمیان مضبوط تعلق وقت کی اہم ضرورت ہے۔ والدین کو تعلیمی عمل کا حصہ بنائے بغیر ہم کسی بڑی تبدیلی کی امید نہیں رکھ سکتے اور آخر میں سب سے اہم مسئلہ: وژن کی کمی۔
ہم نے تعلیم کو قومی منصوبہ بنانے کے بجائے سیاسی تجربہ بنا دیا ہے۔ ہر حکومت نیا نعرہ دیتی ہے، مگر پچھلی حکومت کے منصوبے ادھورے چھوڑ دیتی ہے۔ تعلیم کو کم از کم بیس سالہ وژن کے ساتھ چلانے کی ضرورت ہے، ایسا وژن جو حکومتوں سے بالاتر ہو۔
اگر پنجاب کو واقعی ترقی یافتہ دیکھنا ہے تو اسے تعلیم کو اشتہار نہیں، عبادت سمجھنا ہوگا اور شاید تب ہم فخر سے کہہ سکیں گے: یہ پنجاب ہے، جہاں تعلیم وعدہ نہیں، حقیقت ہے۔

