Tuesday, 23 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Umar Shahzad
  4. Qarzon Ka Asal Mujrim Kon?

Qarzon Ka Asal Mujrim Kon?

قرضوں کا اصل مجرم کون؟

کبھی کبھی ایک قوم کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ نہیں ہوتی کہ اس کے پاس وسائل کم ہوں، بلکہ یہ ہوتی ہے کہ اس کے وسائل پر چند بے ضمیر لوگوں کا قبضہ ہو جائے۔ پاکستان بھی ایک ایسی ہی کہانی کا کردار بن چکا ہے۔ ہمارے پاس دریا ہیں، ڈیم ہیں، بجلی گھر ہیں، ہزاروں کلومیٹر لمبا ترسیلی نظام ہے اور لاکھوں صارفین ہیں، لیکن اس کے باوجود ہر سال اربوں روپے کا نقصان صرف اس لیے برداشت کرنا پڑتا ہے کیونکہ بجلی صرف پیدا نہیں ہوتی، راستے میں چوری بھی ہو جاتی ہے۔

دنیا کے کئی ممالک نے جب اپنے بجلی کے اداروں کو خسارے، بدانتظامی اور سیاسی مداخلت سے نکالنے کا فیصلہ کیا تو انہوں نے نجکاری یا بڑے پیمانے پر اصلاحات کا راستہ اختیار کیا۔ برطانیہ نے 1980ء اور 1990ء کی دہائی میں بجلی کے شعبے کی نجکاری کی، جرمنی نے نجی سرمایہ کاری اور مسابقت کو فروغ دیا، آسٹریلیا کی مختلف ریاستوں نے تقسیم کار کمپنیوں میں نجی شعبے کو شامل کیا اور چلی نے بجلی کے نظام میں اصلاحات کے ذریعے سرمایہ کاری کو بڑھایا۔ ان تمام تجربات میں ایک بات مشترک تھی کہ حکومت نے صرف ادارے نہیں بیچے بلکہ نگرانی، احتساب اور جدید نظام بھی متعارف کروایا۔ جہاں یہ عناصر مضبوط رہے وہاں بجلی کے نقصانات کم ہوئے، وصولیاں بہتر ہوئیں اور صارفین کو نسبتاً بہتر خدمات ملیں۔

پاکستان میں بھی حکومت تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کی بات کر رہی ہے۔ اس فیصلے پر اختلاف رائے ہو سکتا ہے، لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ موجودہ نظام میں اصلاحات کی شدید ضرورت ہے۔ اگر کوئی ادارہ سالہا سال خسارے میں رہے، بجلی چوری پر قابو نہ پا سکے اور اس کا بوجھ آخرکار ایماندار صارفین اور قومی خزانے پر پڑے تو سوال اٹھنا فطری ہے کہ آخر خرابی کہاں ہے؟

واپڈا اور بجلی کے شعبے میں ہزاروں ایماندار افسران اور ملازمین اپنی ذمہ داریاں دیانت داری سے ادا کرتے ہیں، لیکن عوام کی شکایات یہ بھی ہیں کہ بعض بدعنوان عناصر رشوت لے کر غیر قانونی کنکشن دیتے ہیں، میٹروں میں ٹیمپرنگ کراتے ہیں، بجلی چوری میں سہولت کاری کرتے ہیں اور اس کے بدلے بھاری رقوم وصول کرتے ہیں۔ مختلف علاقوں سے یہ الزامات بھی سامنے آتے رہتے ہیں کہ گھریلو میٹر لگوانے کے لیے غیر قانونی طور پر ساٹھ ہزار سے ایک لاکھ روپے تک طلب کیے جاتے ہیں اور اگر کوئی شہری رشوت نہ دے تو اسے مہینوں بلکہ ایک سال سے زیادہ عرصہ دفاتر کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔ یہ تمام دعوے ہر جگہ یا ہر ملازم پر لاگو نہیں کیے جا سکتے، لیکن اگر یہ شکایات درست ہوں تو یہ صرف ایک فرد کی نہیں بلکہ پورے نظام کی ناکامی ہے۔

شہری یہ بھی شکایت کرتے ہیں کہ میٹر کے ساتھ فراہم کی جانے والی تار انہیں مکمل طور پر نہیں ملتی اور بعد میں وہ بازار سے نئی تار خریدنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اگر کہیں ایسا ہوتا ہے تو یہ صرف چند میٹر تار کی چوری نہیں بلکہ عوام کے اعتماد کی چوری ہے۔ ایک غریب آدمی پہلے سرکاری دفتر کے چکر لگاتا ہے، پھر رشوت کے مطالبات سنتا ہے، پھر اپنی جیب سے اضافی سامان خریدتا ہے اور آخر میں مہنگا بل بھی ادا کرتا ہے۔

سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جو شخص بجلی چوری نہیں کرتا، وہ بھی سزا بھگتتا ہے۔ لائن لاسز، چوری اور ناقص وصولیوں کا بوجھ آخرکار ٹیرف میں شامل ہو کر ایماندار صارفین تک پہنچتا ہے۔ یعنی ایک شخص کنڈا لگاتا ہے اور دوسرا اس کا بل ادا کرتا ہے۔

پھر لوگ کہتے ہیں کہ حکومت آئی ایم ایف سے قرض کیوں لیتی ہے؟ بعض تو طنزاً کہتے ہیں کہ "ہمیں کیا، حکومت اپنے لیے قرض لے رہی ہے"۔ حقیقت اس سے کہیں زیادہ تلخ ہے۔ جب قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان بجلی چوری، ناقص انتظام اور بدعنوانی سے پہنچتا ہے، جب گردشی قرض بڑھتا ہے، جب سرکاری ادارے خسارے میں جاتے ہیں تو حکومت کو اخراجات پورے کرنے کے لیے بیرونی مالی مدد کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس لحاظ سے اگر کوئی شخص بجلی چوری کر رہا ہے یا اس میں سہولت فراہم کر رہا ہے تو وہ صرف ایک تار نہیں کاٹ رہا بلکہ آنے والی نسلوں کے کندھوں پر قرض کا بوجھ بھی ڈال رہا ہے۔

اعداد و شمار یہ بتاتے ہیں کہ پاکستان کے پاور سیکٹر کو ہر سال بھاری نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ مختلف سرکاری اور غیر سرکاری اندازوں کے مطابق بجلی چوری، لائن لاسز اور ریکوری کے مسائل کی وجہ سے سالانہ سینکڑوں ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے۔ یہ نقصان صرف ایک عدد نہیں بلکہ ایک مسلسل مالی دباؤ ہے جو آخرکار گردشی قرض (circular debt) کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔

گردشی قرض دراصل ایک ایسا مالی دائرہ ہے جس میں حکومت، بجلی پیدا کرنے والی کمپنیاں، تقسیم کار ادارے اور صارفین ایک دوسرے کے مقروض ہو جاتے ہیں۔ جب بجلی چوری ہوتی ہے یا بل وصول نہیں ہوتے تو تقسیم کار کمپنیاں بجلی پیدا کرنے والوں کو ادائیگی نہیں کر پاتیں۔ نتیجتاً حکومت کو سبسڈی یا قرض کے ذریعے یہ خلا پورا کرنا پڑتا ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں آئی ایم ایف کا کردار شروع ہوتا ہے۔

جب ریاست کے پاس اپنے وسائل کم پڑ جائیں اور گردشی قرض بڑھ جائے تو حکومت بیرونی مالیاتی اداروں سے قرض لینے پر مجبور ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے آئی ایم ایف کا قرض صرف ایک معاشی معاہدہ نہیں ہوتا بلکہ ایک بڑے نظامی مسئلے کا نتیجہ ہوتا ہے۔ یہ کہنا مکمل طور پر درست نہیں کہ قرض صرف حکومت اپنے لیے لیتی ہے۔ درحقیقت یہ قرض اس نظام کو چلانے کے لیے لیا جاتا ہے جس میں بجلی چوری، ناقص وصولیاں اور خسارے شامل ہوتے ہیں۔

اگر بجلی کے نظام میں لیکیج نہ ہو، اگر ہر یونٹ کی مکمل ادائیگی ہو اور اگر چوری کا تناسب کم ہو جائے تو گردشی قرض میں نمایاں کمی آ سکتی ہے اور جب گردشی قرض کم ہوگا تو بیرونی قرضوں پر انحصار بھی کم ہو جائے گا۔

چند روز قبل وزیر دفاع خواجہ آصف نے سوشل میڈیا پر ایک واقعہ بیان کیا کہ ان کے ایک ملازم کے گاؤں میں ٹرانسفارمر خراب ہوا اور مبینہ طور پر اس کی مرمت کے لیے اسی ہزار روپے وصول کیے گئے، حالانکہ سفارش بھی موجود تھی۔ اگر یہ واقعہ درست ہے تو یہ تشویشناک ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ اس کے بعد کیا ہوا؟ ایک ٹویٹ یقیناً توجہ مبذول کرا سکتی ہے، مگر جب حکومت خود اپنی ہو تو صرف شکایت کافی نہیں ہوتی۔ بہتر یہی ہوتا کہ معاملہ وزیراعظم اور متعلقہ حکام کے سامنے رکھا جاتا، تحقیقات ہوتیں اور اگر بدعنوانی ثابت ہوتی تو ذمہ دار اہلکاروں کو سزا دی جاتی تاکہ دوسروں کے لیے بھی مثال قائم ہوتی۔

میرے گھر کے قریب واپڈا کا ایک دفتر ہے۔ اکثر صبح سویرے رینجرز کے اہلکار واپڈا ٹیموں کے ساتھ بجلی چوروں کے خلاف کارروائی کے لیے نکلتے ہیں۔ ہر بار یہ منظر دیکھ کر ذہن میں ایک طنزیہ خیال آتا ہے کہ اگر یہی نگرانی صرف بجلی چوروں تک محدود نہ رہے بلکہ بعض بدعنوان اہلکاروں پر بھی اسی سختی سے ہو تو شاید آدھا مسئلہ وہیں ختم ہو جائے۔ کیونکہ جب نظام کے محافظ ہی کمزور پڑ جائیں تو قانون کی گرفت بھی بے اثر ہو جاتی ہے۔

نجکاری کا مطلب صرف ادارہ فروخت کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ اصل مقصد ایسا نظام بنانا ہے جہاں اسمارٹ میٹر ہوں، ہر یونٹ کا حساب ہو، رشوت کی گنجائش کم ہو، ٹیکنالوجی انسانی مداخلت کی جگہ لے اور احتساب بلاامتیاز ہو۔ اگر صرف نام بدل گیا اور رویے وہی رہے تو عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

آج پاکستان کا اصل مسئلہ بجلی کی کمی نہیں بلکہ اعتماد کی کمی ہے۔ لوگ اس لیے ناراض نہیں کہ انہیں بل ادا کرنا پڑتا ہے، وہ اس لیے ناراض ہیں کہ وہ دوسروں کی چوری کا بوجھ بھی اپنے کندھوں پر اٹھاتے ہیں۔ ریاست اس وقت مضبوط ہوتی ہے جب قانون غریب اور طاقتور دونوں کے لیے ایک جیسا ہو، جب رشوت لینے والا عہدے کی وجہ سے محفوظ نہ رہے اور جب ایماندار شہری کو یہ یقین ہو کہ اس کی دی ہوئی رقم واقعی قومی ترقی پر خرچ ہو رہی ہے۔

شاید اسی دن ہمیں آئی ایم ایف کے دروازے پر بار بار دستک دینے کی ضرورت بھی کم پڑ جائے، کیونکہ قومیں قرضوں سے نہیں بلکہ اپنی بدعنوانیوں سے مقروض ہوتی ہیں۔

Check Also

Budget Aur Karobari Tabqa

By Shahid Mehmood