Gandi Baat Hai, Magar Dhanda Hai
گندی بات ہے، مگر دھندا ہے

میں نے اپنی زندگی میں ریاست کو بہت سی شکلوں میں دیکھا ہے۔ کبھی وہ طاقتور کے سامنے خاموش نظر آئی، کبھی کمزور کے سامنے سخت۔ کبھی عدالت کے فیصلے اخبارات میں سرخی بنے اور کبھی وہی فیصلے فائلوں میں دفن ہو گئے۔ ہم ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں قانون لکھا جاتا ہے، پڑھا جاتا ہے، مگر اکثر نافذ نہیں کیا جاتا۔ شاید اسی لیے یہاں ظلم بھی ضابطے کے ساتھ ہوتا ہے اور استحصال بھی قواعد کے مطابق۔
تعلیم کا شعبہ اس تضاد کی سب سے واضح مثال ہے۔ ریاست کہتی ہے تعلیم ترجیح ہے، عدالتیں کہتی ہیں فیس کا استحصال غیر قانونی ہے اور والدین ہر ماہ فیس کی قطار میں کھڑے ہو کر یہ سوچتے ہیں کہ ترجیح اور حقیقت کے درمیان فاصلہ آخر اتنا زیادہ کیوں ہے۔ ہم نے تعلیم کو ایک نعرہ بنا لیا ہے، ایک وعدہ، مگر ذمہ داری نہیں بنایا۔
میں اکثر سوچتا ہوں ہم نے تعلیم کو اتنا مقدس کیوں بنا دیا ہے کہ اس پر بات کرنا بھی گناہ لگنے لگا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کچھ غلط ہو رہا ہے، مگر ہم آنکھیں بند کر لیتے ہیں، کیونکہ معاملہ "بچوں کے مستقبل" کا ہے۔ پاکستان میں یہ ان چند شعبوں میں شامل ہے جہاں لُوٹ کو بھی خدمت کا نام دے دیا گیا ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ لُٹنے والا بھی شکر ادا کرتا ہے۔
نجی سکول اور کالج آج پاکستان میں صرف تعلیمی ادارے نہیں رہے، یہ مکمل بزنس ماڈل بن چکے ہیں۔ ان کے بروشرز میں اخلاقیات، کردار سازی اور روشن مستقبل کی تصویریں ہوتی ہیں، لیکن ان کی اصل کہانی اکاؤنٹس آفس میں لکھی جاتی ہے۔ یہ وہ کہانی ہے جس میں ہر مرحلے کی قیمت ہے اور ہر قیمت کے پیچھے ایک جواز۔
کہانی یہاں سے شروع ہوتی ہے کہ والدین ماہانہ فیس ادا کرتے ہیں۔ یہ فیس بچے کو پڑھانے کے لیے ہوتی ہے، کم از کم کاغذ پر تو یہی لکھا ہوتا ہے۔ اس فیس میں کلاس روم، استاد، نصاب، بجلی، پنکھا، پانی، حتیٰ کہ ادارے کا منافع بھی شامل ہوتا ہے۔ لیکن جیسے ہی ٹیسٹ سیشن آتا ہے، سکول انتظامیہ والدین کو یاد دلاتی ہے کہ تعلیم کے اس سفر میں ابھی ایک "چھوٹا سا مرحلہ" باقی ہے، ٹیسٹ سیشن فیس۔
یہ وہ مقام ہے جہاں ایک سنجیدہ سوال پیدا ہوتا ہے۔ کیا امتحان تعلیم سے باہر کوئی اضافی سرگرمی ہے؟ کیا پڑھانا فیس میں شامل ہے مگر جانچنا اضافی سروس؟ اگر ایسا ہے تو پھر سکول اور کوچنگ سینٹر میں فرق ہی کیا رہ جاتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ امتحان تعلیم کا لازمی حصہ ہے، مگر ہمارے ہاں اسے بھی کمائی کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے۔
یہاں کہانی مزید دلچسپ ہو جاتی ہے۔ ٹیسٹ دینے کے لیے بچے کو کہا جاتا ہے کہ وہ ٹیسٹ شیٹس خود خرید کر لائے۔ بعض سکول کہتے ہیں بازار سے لے آؤ، لیکن کچھ ادارے اس سادگی کے قائل نہیں۔ انہوں نے اپنی چھپی ہوئی شیٹس تیار کر رکھی ہیں، جن پر سکول کا نام، لوگو اور غیر تحریری حکم درج ہوتا ہے کہ اس کے علاوہ کوئی اور شیٹ قابلِ قبول نہیں۔ بچے مجبور ہیں، والدین خاموش ہیں اور ادارہ مطمئن۔
یوں ایک ہی چیز کی تین بار قیمت وصول کی جاتی ہے۔
پہلی بار پڑھانے کی فیس۔
دوسری بار اسی پڑھائی کا ٹیسٹ لینے کی فیس۔
اور تیسری بار ٹیسٹ دینے کے لیے کاغذ کی فیس۔
اگر یہ کسی فلم کا سین ہوتا تو ہم کہتے یہ مبالغہ ہے، لیکن بدقسمتی سے یہ ہمارے بچوں کی روزمرہ حقیقت ہے۔
یہیں مجھے 2012ء کی بھارتی فلم Gangs of Wasseypur یاد آتی ہے۔ منوج باجپائی، جن کا کردار سردار خان تھا، ایک موقع پر کہتا ہے:
"گندی بات ہے، پر دھندا ہے"۔
جب کوئی غلط کام مستقل ہو جائے تو وہ غلط نہیں رہتا، وہ نظام بن جاتا ہے۔ نجی تعلیمی اداروں میں فیس کے نام پر ہونے والی یہ کمائی بھی اب ایک باقاعدہ نظام بن چکی ہے۔
اب یہاں ریاست اور عدالت کا کردار سامنے آتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں قوانین موجود ہیں، عدالتی فیصلے موجود ہیں اور محکمہ تعلیم کے نوٹیفکیشنز بھی فائلوں میں محفوظ ہیں۔ عدالتیں یہ کہہ چکی ہیں کہ نجی سکول ماہانہ فیس کے علاوہ غیر ضروری چارجز نہیں لے سکتے، امتحان تعلیمی عمل کا حصہ ہے، اضافی سروس نہیں۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ فیصلے سنائے تو جاتے ہیں، نافذ نہیں کیے جاتے۔ ریاست شاید یہ بھول چکی ہے کہ قانون صرف فیصلہ دینے کا نام نہیں، اس پر عمل کرانا بھی ریاستی ذمہ داری ہوتی ہے۔ جب عدالت کا فیصلہ سکول کے گیٹ تک نہ پہنچے تو پھر وہ انصاف نہیں رہتا، محض کاغذ بن جاتا ہے۔
دنیا کے کئی ممالک میں تصویر مختلف ہے۔ فن لینڈ میں تعلیم کو کاروبار نہیں سمجھا جاتا۔ وہاں نجی سکول بھی ہوں تو امتحان، ٹیسٹ اور اسسمنٹ فیس کا حصہ ہوتے ہیں، الگ سے کوئی چارج نہیں۔ جرمنی اور سویڈن میں نجی تعلیمی ادارے سخت قوانین کے تحت چلتے ہیں اور والدین سے اضافی وصولیاں آسان نہیں۔ کینیڈا میں بھی نجی سکول موجود ہیں، مگر امتحانات کے لیے الگ فیس لینا غیر قانونی اور قابلِ گرفت سمجھا جاتا ہے۔
یہ فرق اس لیے نہیں کہ وہاں کے لوگ زیادہ نیک ہیں، بلکہ اس لیے کہ وہاں ریاست بیدار ہے۔ وہاں قانون صرف لکھا نہیں جاتا، نافذ بھی کیا جاتا ہے۔
پاکستان میں والدین کا سب سے بڑا مسئلہ انتخاب کی کمی ہے۔ وہ شکایت کریں تو بچے کا مستقبل خطرے میں نظر آتا ہے۔ سکول بدلیں تو نئی داخلہ فیس، نئی کتابیں، نئی یونیفارم، ایک نیا مالی طوفان۔ اسی مجبوری سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے اور یہی مجبوری اس پورے نظام کی بنیاد ہے۔
آخر میں سوال یہ نہیں کہ نجی سکول فیس کیوں لیتے ہیں، سوال یہ ہے کہ ریاست خاموش کیوں ہے۔ اگر حکومت اور عدالتیں واقعی سنجیدہ ہوں تو ایک مثال کافی ہے، ایک سخت کارروائی کافی ہے۔ مگر جب تک خاموشی رہے گی، یہ سب چلتا رہے گا۔
اور شاید اسی لیے یہ فلمی مکالمہ ہمارے تعلیمی نظام پر پورا اترتا ہے:
گندی بات ہے، مگر ہمارے ہاں یہ صرف دھندا نہیں، یہ روایت بن چکا ہے۔
ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں ہر غلط کام کے ساتھ ایک دلیل ضرور جڑیں ہوتی ہے۔ رشوت بری ہے، مگر نظام چلانے کے لیے " ضروری" ہے۔ جھوٹ اخلاقاً غلط ہے، مگر کامیابی کے لیے " مجبوری " ہے۔ استحصال گناہ ہے، مگر " کاروبار" ہے۔ سردار خان بس اتنا کرتا ہے کہ دلیل کو لپیٹ کر پیش نہیں کرتا، ننگی سچائی ہمارے سامنے رکھ دیتا ہے۔ قومیں اس دن مر جاتی ہیں جس دن وہ گناہ کو گناہ ماننے سے انکار کر دیتی ہیں اور اسے صرف دھندہ سمجھنے لگتی ہیں۔ یہی فلسفہ ہم سیاست میں دیکھتے ہیں، یہی میڈیا میں، یہی کاروبار میں، یہی مذہب کے نام پر تجارت میں۔

