Drug, Daulat Aur Maut Ka Badshah
ڈرگ، دولت اور موت کا بادشاہ

دنیا میں بعض لوگ غربت سے اٹھتے ہیں اور تاریخ بن جاتے ہیں، لیکن کچھ لوگ غربت سے اٹھ کر ایسی تاریخ لکھتے ہیں جس کے ہر صفحے سے بارود، خون، خوف اور دولت کی بو آتی ہے۔
کولمبیا کا ایک غریب لڑکا بھی ایسا ہی تھا۔ وہ سائیکلیں چراتا تھا، غیر قانونی سگریٹ بیچتا، جعلی لاٹری ٹکٹ فروخت کرتا تھا اور پھر ایک دن اس نے فیصلہ کیا کہ اگر جرم کرنا ہی ہے تو ایسا جرم کیا جائے جس سے دنیا جھک جائے۔ اس لڑکے کا نام تھا پابلو ایسکوبار۔
یہ وہ شخص تھا جسے دنیا نے "کنگ آف کوکین" کہا۔
ایک وقت ایسا آیا کہ امریکہ میں استعمال ہونے والی کوکین کا تقریباً 80 فیصد حصہ اسی کے نیٹ ورک سے آتا تھا۔ اس کے پاس اتنا پیسہ تھا کہ وہ ہر ہفتے لاکھوں ڈالر صرف ربڑ بینڈ خریدنے پر خرچ کرتا تھا تاکہ نوٹوں کی گڈیاں باندھ سکے۔
پابلو ایسکوبار 1949ء میں میڈیین کے قریب ایک غریب خاندان میں پیدا ہوا۔ اس کا باپ کسان تھا اور ماں اسکول ٹیچر۔ نوجوانی میں اس نے چھوٹے جرائم شروع کیے۔ گاڑیاں چوری کرنا، اسمگلنگ، اغوا برائے تاوان، یہ سب اس کے ابتدائی "کاروبار" تھے۔ لیکن پھر 1970ء کی دہائی میں اسے ایک نئی منڈی کا پتہ چلا، کوکین۔
اس وقت امریکہ میں کوکین امیروں کی پارٹی ڈرگ بن رہی تھی۔ مانگ بڑھ رہی تھی لیکن سپلائی کم تھی۔ پابلو ایسکوبار نے یہ خلا دیکھ لیا۔ اس نے پہلے چھوٹے ڈرگ ڈیلرز کے ساتھ کام کیا، پھر خود اپنی لیبارٹریاں قائم کر لیں۔ اس نے کولمبیا کے جنگلات میں خفیہ پلانٹ لگائے جہاں کوکا پودے سے کوکین تیار کی جاتی تھی۔ اس کے درجنوں پروسیسنگ سینٹرز اور خفیہ لیبارٹریاں تھیں جو کولمبیا، پیرو اور بولیویا کے علاقوں سے منسلک تھیں۔
اس نے صرف ڈرگ نہیں بنائی، اس نے ایک سلطنت بنائی۔ اس کا نیٹ ورک اتنا وسیع تھا کہ کسان، پولیس، سیاستدان، جج، پائلٹ، بندرگاہوں کے افسر، حتیٰ کہ کچھ فوجی افسر بھی اس کے لیے کام کرتے تھے۔
پابلو ایسکوبار نے اسمگلنگ کے ایسے ایسے طریقے ایجاد کیے کہ امریکی ادارے حیران رہ گئے۔ شروع میں ڈرگز گاڑیوں کے ٹائروں، خفیہ خانوں اور ٹرکوں میں چھپا کر بھیجی جاتی تھیں۔ پھر اس نے چھوٹے جہاز خریدے۔ بعد میں اس کے نیٹ ورک کے پاس درجنوں پرائیویٹ طیارے، ہیلی کاپٹر اور کشتیاں تھیں۔ کوکین کو کبھی فرنیچر میں، کبھی پھلوں کی پیٹیوں میں، کبھی جہاز کے فرش کے نیچے اور کبھی ایندھن کے ٹینکوں کے اندر چھپا کر امریکہ پہنچایا جاتا تھا۔
اس کے کچھ جہاز بہاماس اور پاناما کے راستے امریکہ جاتے تھے۔ بعض اوقات وہ سمندر میں مخصوص مقام پر ڈرگز گراتے اور وہاں سے دوسری کشتیاں اٹھا لیتیں۔ امریکی ادارے پکڑتے پکڑتے رہ جاتے تھے۔
پھر دولت آنے لگی اور ایسی آنے لگی کہ دنیا حیران رہ گئی۔ 1980ء کی دہائی میں اس کی دولت کا اندازہ 25 سے 30 ارب ڈالر تک لگایا گیا۔ فوربز نے اسے دنیا کے امیر ترین افراد کی فہرست میں شامل کیا۔ اس کے پاس محلات، پرائیویٹ چڑیا گھر، سینکڑوں گاڑیاں، درجنوں جہاز اور ہزاروں ملازمین تھے۔ اس کی ایک رہائش گاہ "ہاسیئنڈا نیپولس" میں جراف، ہاتھی اور ہپو تک موجود تھے۔ لیکن دولت کے ساتھ ایک مسئلہ پیدا ہوا، اتنی دولت چھپائی کہاں جائے؟
کہتے ہیں اس کے لوگ دیواروں، فرشوں، کھیتوں اور خفیہ کمروں میں اربوں ڈالر دفن کرتے تھے۔ بعد میں کئی مقامات سے اس کے چھپائے ہوئے نوٹ برآمد بھی ہوئے۔ بعض رقم نمی اور چوہوں کی وجہ سے خراب ہو جاتی تھی۔ اس کے بھائی نے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا کہ ہر سال کروڑوں ڈالر صرف ضائع ہو جاتے تھے۔
پھر ایک وقت ایسا آیا جب پابلو ایسکوبار نے فیصلہ کیا کہ اب صرف جرائم کی دنیا کافی نہیں، اسے اقتدار چاہیے۔
اس نے غریبوں میں پیسہ بانٹنا شروع کیا۔ فٹ بال گراؤنڈ بنوائے، گھر تعمیر کروائے، اسپتالوں کو امداد دی۔ غریب لوگ اسے ہیرو سمجھنے لگے۔ وہ سیاست میں داخل ہوا اور کولمبیا کی کانگریس کا متبادل رکن بھی بنا۔ اس کی خواہش تھی کہ ایک دن وہ کولمبیا کا صدر بنے۔ لیکن پھر اس کی زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ سامنے آیا، امریکہ۔
امریکہ چاہتا تھا کہ بڑے ڈرگ ڈیلرز کو امریکہ لا کر ٹرائل کیا جائے۔ پابلو ایسکوبار اس سے خوفزدہ تھا۔ اس نے ایک جملہ کہا تھا: "میں امریکہ کی جیل میں جانے کے بجائے کولمبیا میں قبر پسند کروں گا"۔
جب اس کے جرائم کھلنے لگے تو سیاست میں اس کا راستہ بند کر دیا گیا۔ اخبارات نے اس کی مجرمانہ زندگی بے نقاب کی۔ وہ صدر بننے کے خواب کے قریب پہنچ کر صدر بننے سے رہ گیا اور پھر اس نے جنگ شروع کر دی۔
اس نے ججوں، سیاستدانوں، پولیس افسروں اور صحافیوں کے قتل شروع کرا دیے۔ کولمبیا میں بم دھماکے روز کا معمول بن گئے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے نیٹ ورک نے ہزاروں افراد کو قتل کیا۔
1985ء میں پیلس آف جسٹس پر حملہ ہوا۔ اس حملے میں شدت پسند گروہ ایم-19 شامل تھا، لیکن کولمبین تاریخ میں یہ الزام بھی بارہا زیر بحث آیا کہ پابلو ایسکوبار نے سپریم کورٹ کے بعض ریکارڈ تباہ کروانے کے لیے اس حملے کی پشت پناہی کی کیونکہ عدالت میں اس کی حوالگی سے متعلق معاملات موجود تھے۔ اس حملے میں درجنوں لوگ مارے گئے اور عمارت ٹینکوں اور آگ سے تباہ ہوگئی۔
پھر وہ وقت آیا جب پوری ریاست اس کے خلاف کھڑی ہوگئی۔ پابلو ایسکوبار نے حکومت سے معاہدہ کیا کہ وہ خود کو گرفتار کروا دے گا، لیکن شرط یہ تھی کہ اسے امریکہ کے حوالے نہیں کیا جائے گا اور اسے ایک "خصوصی جیل" میں رکھا جائے گا۔ یہ جیل دراصل اس کا ذاتی محل تھا جسے "لا کیتھیڈرل" کہا جاتا تھا۔
وہاں فٹ بال گراؤنڈ تھا، بار تھا، آرام دہ کمرے تھے اور اس کے اپنے لوگ تعینات تھے۔ اس نے حکومت سے یہ شرط بھی منوائی کہ کولمبیا کی پولیس اس جیل سے کئی کلومیٹر دور رہے گی۔ اس کی گاڑیوں کی مکمل تلاشی بھی نہیں لی جاتی تھی۔
وہ جیل کے اندر بیٹھ کر بھی اپنا ڈرگ نیٹ ورک چلا رہا تھا۔ وہاں سے احکامات جاری ہوتے، ڈیلیں طے ہوتیں اور مخالفین قتل ہوتے رہے۔ پھر ایک دن حکومت کو احساس ہوا کہ یہ جیل نہیں، ایک بادشاہت ہے۔ جب حکومت نے اسے دوسری جیل منتقل کرنے کی کوشش کی تو وہ فرار ہوگیا۔
کولمبیا کی پولیس، امریکی ڈی ای اے، سی آئی اے اور خصوصی یونٹس اس کے پیچھے لگ گئے۔ اس کے دشمن ڈرگ گروپ بھی اس کے خلاف ہو گئے۔ پابلو ایسکوبار مہینوں تک چھپتا رہا۔ اسی دوران ایک مشہور واقعہ سامنے آیا۔ کہا جاتا ہے کہ ایک رات وہ اپنی بیٹی کو سردی سے بچانے کے لیے تقریباً 20 لاکھ ڈالر مالیت کے نوٹ جلا بیٹھا تاکہ کمرہ گرم رکھا جا سکے۔ یہ واقعہ بعد میں دنیا بھر میں اس کی دولت کی علامت بن گیا۔
اس کی بیوی کا نام ماریہ وکٹوریہ ہیناؤ تھا جبکہ اس کی مختلف خواتین سے تعلقات کی کہانیاں بھی مشہور رہیں۔ اس کی زندگی پر بننے والی کئی فلموں اور سیریز میں ایک صحافی خاتون ورجینیا ویلیجو کا ذکر آتا ہے جس کے ساتھ اس کا تعلق رہا۔ ورجینیا ویلیجو نے بعد میں کتاب بھی لکھی جس میں اس نے دعویٰ کیا کہ وہ پابلو کے کئی خفیہ معاملات سے واقف تھی اور بعض مواقع پر اس کی مدد بھی کرتی رہی۔
آخرکار 2 دسمبر 1993ء کو میڈیین میں اس کا سراغ ملا۔ اس نے اپنے خاندان کو فون کیا تھا اور اسی سگنل کو ٹریس کر لیا گیا۔ کولمبیا کی نیشنل پولیس کے خصوصی یونٹ "سرچ بلاک" نے امریکی اداروں کی مدد سے اس کے ٹھکانے پر چھاپہ مارا۔ چھتوں پر فائرنگ ہوئی اور پھر دنیا کا سب سے خوفناک ڈرگ لارڈ زمین پر گرا پڑا تھا۔
سرکاری مؤقف یہ تھا کہ وہ پولیس کی گولی سے مارا گیا، لیکن بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس نے خود کو گولی ماری تاکہ زندہ گرفتار نہ ہو۔ پابلو ایسکوبار مر گیا، لیکن اس کی کہانی نہیں مری۔
آج بھی دنیا بھر میں اس پر کتابیں لکھی جاتی ہیں، فلمیں بنتی ہیں اور یونیورسٹیوں میں اس کے نیٹ ورک کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ اس کی زندگی پر سب سے مشہور ڈاکومنٹری اور ویب سیریز "نارکوس" بنی جس نے پوری دنیا میں بے پناہ شہرت حاصل کی۔ اس کے علاوہ کئی ڈاکومنٹریز اور انٹرویوز بھی بنے جن میں اس کے ساتھیوں، اہل خانہ اور پولیس افسروں نے تفصیلات بیان کیں۔
لیکن پابلو ایسکوبار کی کہانی صرف ایک مجرم کی کہانی نہیں۔ یہ دولت کے نشے، طاقت کی ہوس اور قانون سے ٹکرانے کی قیمت کی کہانی ہے۔ دنیا میں بہت سے لوگ غریب پیدا ہوتے ہیں۔ بہت سے امیر بن جاتے ہیں۔ لیکن تاریخ صرف انہی لوگوں کو یاد رکھتی ہے جو طاقت کے نشے میں یہ بھول جاتے ہیں کہ دنیا کی ہر سلطنت کا ایک دن خاتمہ ضرور ہوتا ہے۔

