Saturday, 09 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Umar Shahzad
  4. Cuba, Inqilab Aur Pabandiyan

Cuba, Inqilab Aur Pabandiyan

کیوبا، انقلاب اور پابندیاں

میں نے ایک بار ایک پرانی تصویر دیکھی تھی۔ تصویر میں ایک شخص فوجی یونیفارم پہنے، ہاتھ میں موٹا سا سگار تھامے، ہجوم کے درمیان کھڑا تھا۔ اس کی داڑھی بکھری ہوئی تھی، آنکھوں میں عجیب اعتماد تھا اور اس کے اردگرد ہزاروں لوگ ایسے کھڑے تھے جیسے وہ صرف ایک لیڈر نہیں بلکہ ایک خواب ہو۔ وہ شخص فیدل کاسترو تھا۔

دنیا میں بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنی زندگی میں ہی "علامت" بن جاتے ہیں۔ فیدل کاسترو انہی لوگوں میں شامل تھا۔ اس کے ساتھ ایک اور نوجوان بھی تھا، لمبے بال، سخت چہرہ، موٹر سائیکل پر پورا لاطینی امریکہ گھومنے والا ڈاکٹر، چی گویرا۔

یہ دونوں لوگ صرف حکومت گرانا نہیں چاہتے تھے، یہ دنیا بدلنے نکلے تھے۔ لیکن آج اگر آپ کیوبا کو دیکھیں تو وہاں لمبی قطاریں ہیں، بجلی کے بریک ڈاؤن ہیں، خالی بازار ہیں، ٹوٹتی عمارتیں ہیں اور لاکھوں لوگ ملک چھوڑ رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ہوا؟ کیا صرف امریکی پابندیاں ذمہ دار ہیں؟ یا انقلاب کے خواب نے خود اپنے لوگوں کو تھکا دیا؟

کیوبا کی کہانی سمجھنے کے لیے ہمیں پیچھے جانا ہوگا۔ کیوبا کبھی اسپین کی کالونی تھا۔ پھر 1898ء میں ہسپانوی۔ امریکی جنگ کے بعد امریکہ نے وہاں اثر و رسوخ قائم کر لیا۔ رسمی طور پر کیوبا آزاد تھا لیکن حقیقت یہ تھی کہ معیشت، شوگر انڈسٹری، ہوٹل، کیسینو اور تجارت پر امریکی کمپنیوں کا بڑا کنٹرول تھا۔

1950ء کی دہائی میں کیوبا لاطینی امریکہ کا ایک "رنگین جزیرہ" سمجھا جاتا تھا۔ ہوانا میں امریکی سیاح آتے تھے، جوئے خانے چلتے تھے، نائٹ کلب روشن رہتے تھے، مافیا کے کردار سرگرم تھے اور امیر طبقہ عیش کرتا تھا۔ لیکن دوسری طرف دیہات میں غربت تھی، کسان بدحال تھے، زمین چند خاندانوں کے پاس تھی اور حکومت پر فوجی حکمران فلجینسیو باتیستا قابض تھا۔

یہی وہ ماحول تھا جہاں فیدل کاسترو ابھرا۔ 1953ء میں اس نے مونکاڈا بیرکس پر حملہ کیا۔ حملہ ناکام ہوا، لوگ مارے گئے اور فیدل گرفتار ہوگیا۔ عدالت میں اس نے تاریخی جملہ کہا: "تاریخ مجھے بری کر دے گی"۔

پھر جلاوطنی، میکسیکو، خفیہ منصوبہ بندی اور وہاں ملاقات ہوئی چی گویرا سے۔ چی گویرا اس وقت تک پورے لاطینی امریکہ میں غربت اور امریکی کارپوریٹ اثر دیکھ چکا تھا۔ وہ صرف ڈاکٹر نہیں رہا تھا، وہ انقلابی بن چکا تھا۔

1956ء میں یہ لوگ "گرانما" نامی کشتی میں واپس کیوبا پہنچے۔ فوج نے زیادہ تر ساتھی مار دیے لیکن چند لوگ پہاڑوں میں بچ گئے۔ وہیں سے گوریلا جنگ شروع ہوئی۔ آہستہ آہستہ کسان، طلبہ اور حکومت سے ناراض لوگ ان کے ساتھ شامل ہوتے گئے۔

پھر 1959ء آیا۔ فلجینسیو باتیستا ملک چھوڑ کر بھاگ گیا اور فیدل کاسترو فاتح بن کر ہوانا میں داخل ہوا۔ دنیا نے اسے ایک رومانوی انقلاب کے طور پر دیکھا۔ نوجوان اس کی تصویریں ٹی شرٹس پر لگانے لگے۔ چی گویرا عالمی بغاوت کی علامت بن گیا۔ لیکن اصل مسئلہ اب شروع ہوا۔

فیدل کاسترو نے امریکی کمپنیوں کی جائیدادیں قومی تحویل میں لینا شروع کر دیں۔ زمینیں ضبط ہوئیں، شوگر ملیں سرکاری ہوئیں، بینک حکومت کے کنٹرول میں گئے۔ امریکہ نے اسے سیدھا چیلنج سمجھا۔ پھر سرد جنگ اپنے عروج پر تھی۔ ایک طرف امریکہ تھا اور دوسری طرف سوویت یونین۔

کیوبا آہستہ آہستہ سوویت یونین کے قریب ہوتا گیا۔ روس نے تیل، پیسہ اور اسلحہ دینا شروع کیا جبکہ امریکہ نے پابندیاں لگا دیں۔ 1961ء میں امریکہ نے خفیہ طور پر حکومت گرانے کی کوشش کی جسے بے آف پگز انویژن کہا جاتا ہے۔ یہ ناکام ہوگئی۔

پھر 1962ء میں دنیا ایٹمی جنگ کے قریب پہنچ گئی جب سوویت یونین نے کیوبا میں میزائل نصب کر دیے۔ اسے کیوبن میزائل کرائسس کہا جاتا ہے۔ امریکہ اور روس آمنے سامنے آ گئے۔ آخرکار روس نے میزائل ہٹائے لیکن کیوبا عالمی سیاست کا مستقل میدان جنگ بن گیا۔

فیدل کاسترو نے تعلیم اور صحت پر بہت کام کیا۔ خواندگی بڑھی، صحت کا نظام بہتر ہوا اور غربت میں کچھ کمی آئی۔ لیکن دوسری طرف ایک جماعتی نظام قائم ہوگیا، میڈیا محدود ہوا، اختلاف دبایا گیا اور معیشت مکمل طور پر ریاست کے کنٹرول میں آ گئی۔

فیدل کاسترو تقریباً 49 سال تک کیوبا پر حکمران رہا۔ اس نے 1959ء سے 2008ء تک اقتدار اپنے ہاتھ میں رکھا۔ بعد ازاں بیماری کے باعث اس نے اقتدار اپنے بھائی راؤل کاسترو کے حوالے کر دیا۔ فیدل کاسترو 25 نومبر 2016ء کو 90 سال کی عمر میں وفات پا گیا۔ اس کی موت کے بعد دنیا بھر میں مختلف ردعمل سامنے آئے۔ کہیں اسے انقلابی ہیرو کہا گیا اور کہیں آمریت کی علامت۔

اب ذرا معیشت کی بات کرتے ہیں۔ کیوبا کی معیشت طویل عرصے تک تین چیزوں پر کھڑی رہی: شوگر، سگار اور سیاحت۔

کیوبا کی شوگر انڈسٹری کبھی دنیا کی طاقتور صنعتوں میں شمار ہوتی تھی۔ ایک وقت میں چینی کی برآمدات سے اربوں ڈالر آتے تھے۔ لیکن سوویت یونین ٹوٹنے کے بعد سب کچھ ہل گیا کیونکہ روس سستی قیمت پر کیوبا کی چینی خریدتا تھا۔ بعد میں عالمی منڈی میں قیمتیں گر گئیں، فیکٹریاں پرانی ہوگئیں اور پیداوار کم ہوتی گئی۔

اسی طرح کیوبا کے سگار دنیا بھر میں شہرت رکھتے ہیں۔ خاص طور پر پینار ڈیل ریو کا علاقہ بہترین تمباکو کے لیے مشہور ہے۔ وہاں کی وادی "ویلٹا اباخو" کو دنیا کے بہترین سگار تمباکو کی زمین سمجھا جاتا ہے۔ کوہیبا اور مونٹے کرسٹو جیسے برانڈ عالمی حیثیت رکھتے ہیں۔

دنیا کے امیر لوگ، سیاست دان اور کاروباری شخصیات کیوبا کے سگار کو اسٹیٹس سمبل سمجھتے رہے ہیں۔ 2024ء میں کیوبا کی بڑی سگار کمپنی "ہابانوس" نے تقریباً 827 ملین ڈالر کی فروخت کی، جو ایک ریکارڈ تھی۔

سیاحت بھی کیوبا کی بڑی طاقت تھی۔ وبا سے پہلے ہر سال تقریباً 40 لاکھ سے زیادہ سیاح کیوبا آتے تھے اور سیاحت سے اربوں ڈالر حاصل ہوتے تھے۔ یورپ، کینیڈا اور لاطینی امریکہ کے لوگ وہاں کے ساحل، پرانی امریکی گاڑیاں، موسیقی اور انقلابی رومانویت دیکھنے آتے تھے۔

لیکن پھر پابندیاں سخت ہوئیں، کرونا آیا، ایندھن کی کمی ہوئی اور سیاحت گر گئی۔ آج حالات یہ ہیں کہ ہوٹل خالی پڑے ہیں، بجلی نہیں، پیٹرول کم اور خوراک مہنگی ہے۔

امریکہ کہتا ہے کہ کیوبا کا کمیونسٹ نظام ناکام ہوا۔ کیوبا کہتا ہے کہ امریکی پابندیاں نے ملک کا گلا گھونٹ دیا اور حقیقت شاید ان دونوں کے درمیان کہیں کھڑی ہے۔

کیوبا پر امریکی پابندیاں صرف تجارت تک محدود نہیں رہیں۔ بینکنگ، سرمایہ کاری، شپنگ، مالیاتی لین دین، حتیٰ کہ بعض اوقات دوسرے ممالک کی کمپنیوں پر بھی دباؤ ڈالا گیا کہ وہ کیوبا سے تجارت نہ کریں۔ اس کا اثر عام آدمی پر پڑا۔ ادویات مہنگی ہوئیں، مشینری کم آئی، صنعتیں کمزور ہوئیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ریاستی کنٹرول، ناقص معاشی فیصلے، نجی شعبے کی کمزوری اور سیاسی سختی نے بھی معیشت کو نقصان پہنچایا۔

چی گویرا خود بعد میں کیوبا چھوڑ کر دوسرے ممالک میں انقلاب برآمد کرنے نکل گیا۔ سب سے پہلے وہ کانگو گیا جہاں اس نے افریقی باغیوں کے ساتھ مل کر گوریلا جنگ لڑنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا۔ اس کے بعد وہ خفیہ طور پر بولیویا پہنچا تاکہ پورے لاطینی امریکہ میں انقلاب کی نئی لہر پیدا کر سکے۔ لیکن بولیویا میں اسے مقامی حمایت نہ مل سکی۔ امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے نے بولیوین فوج کی مدد کی، چی گویرا پکڑا گیا اور 1967ء میں بولیویا کے ایک چھوٹے سے گاؤں لا ہیگیورا میں اسے گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔

کہتے ہیں مرنے سے پہلے بھی اس نے اپنے قاتل سے کہا تھا: "گولی چلاؤ، تم صرف ایک انسان کو مار رہے ہو، ایک خیال کو نہیں"۔

آج اگر آپ ہوانا کی سڑکوں پر جائیں تو آپ کو 1950ء کی امریکی گاڑیاں نظر آئیں گی، دیواروں پر چی گویرا کی تصویریں نظر آئیں گی، سمندر کے کنارے سگار پیتے لوگ ملیں گے، لیکن ان سب کے پیچھے ایک تھکی ہوئی معیشت بھی دکھائی دے گی۔

کیوبا دراصل ایک سوال ہے۔ کیا ایک چھوٹا ملک سپر پاور کے سامنے کھڑا رہ سکتا ہے؟ کیا انقلاب غربت ختم کرتا ہے یا نئی مشکلات پیدا کرتا ہے؟ اور کیا پابندیاں حکومت کو کمزور کرتی ہیں یا عوام کو؟

فیدل کاسترو مر گیا، چی گویرا بھی چلا گیا، سوویت یونین بھی ٹوٹ گیا، سرد جنگ بھی ختم ہوگئی، لیکن کیوبا اب بھی تاریخ کے اسی موڑ پر کھڑا ہے جہاں نظریہ، طاقت، غربت اور ضد ایک دوسرے سے لڑ رہے ہیں۔

Check Also

Thank You David

By Arif Anis Malik