Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Umar Shahzad
  4. Cinema Se Wazarat e Aala Tak

Cinema Se Wazarat e Aala Tak

سنیما سے وزارتِ اعلیٰ تک

رات کے دو بج رہے تھے۔ چنئی کی سڑکوں پر شور بڑھتا جا رہا تھا۔ نوجوان موٹر سائیکلوں پر جھنڈے لہرا رہے تھے، عورتیں بالکونیوں سے پھول پھینک رہی تھیں، آتش بازی ہو رہی تھی اور پورا شہر ایسے لگ رہا تھا جیسے کسی سپر ہٹ فلم کا آخری منظر چل رہا ہو۔ لیکن یہ فلم نہیں تھی۔ یہ جمہوریت تھی۔ بھارتی ریاست تامل ناڈو میں فلمی دنیا کے سپر اسٹار جوزف وجے اقتدار کے دروازے تک پہنچ چکے تھے۔

یہ جمہوریت ہی ہے کہ جہاں عوام کبھی ایک چائے والے کو وزیر اعظم بنا دیتے ہیں اور کبھی فلموں کے ہیرو کو ریاست کا حکمران۔ تامل ناڈو تو ویسے بھی فلمی سیاست کی سرزمین رہی ہے۔ یہاں ایم جی رام چندرن اور جے للیتا جیسے فلمی ستارے برسوں حکومت کرتے رہے۔ اب اسی روایت میں ایک نیا نام شامل ہو چکا ہے: جوزف وجے۔

22 جون 1974ء کو چنئی میں پیدا ہونے والے جوزف وجے ایک فلمی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے والد ایس اے چندر شیکھر فلم ڈائریکٹر تھے جبکہ والدہ شوبھا چندر شیکھر گلوکارہ تھیں۔ گھر میں فلمی دنیا کا ماحول تھا۔ کہیں موسیقی کی ریہرسل ہو رہی ہوتی، کہیں اسکرپٹ پر بحث چل رہی ہوتی اور کہیں شوٹنگ کی باتیں ہو رہی ہوتیں۔ شاید یہی وجہ تھی کہ جوزف وجے کا بچپن عام بچوں جیسا نہیں تھا۔

انہوں نے تعلیم چنئی میں حاصل کی اور بعد میں ویژول کمیونیکیشن کی تعلیم کے لیے کالج میں داخلہ لیا لیکن فلمی مصروفیات کی وجہ سے تعلیم مکمل نہ کر سکے۔ بھارت میں ایک عرصے تک یہ افواہ گردش کرتی رہی کہ انہیں کالج سے نکال دیا گیا تھا، لیکن اس بات کی کبھی کوئی مستند تصدیق سامنے نہیں آئی۔ حقیقت یہی سمجھی جاتی ہے کہ فلمی دنیا نے انہیں کتابوں سے زیادہ اپنی طرف کھینچ لیا۔

فلمی خاندان میں پیدا ہونا کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتا۔ جوزف وجے کے ابتدائی دن آسان نہیں تھے۔ ان کی اداکاری پر تنقید ہوتی تھی، آواز کا مذاق اڑایا جاتا تھا، یہاں تک کہا جاتا تھا کہ یہ لڑکا کبھی بڑا ہیرو نہیں بن سکے گا۔ لیکن شاید فلم اور جمہوریت میں ایک چیز مشترک ہوتی ہے، دونوں جگہ آخری فیصلہ عوام کرتے ہیں۔

جوزف وجے نے جلد سمجھ لیا کہ صرف رقص اور ایکشن سے عوام کے دل نہیں جیتے جا سکتے۔ انہوں نے اپنی فلموں میں نوجوانوں کے مسائل شامل کرنا شروع کیے۔ ان کی فلموں میں غریب نوجوان دکھائی دینے لگے، کرپٹ سیاست دان دکھائی دینے لگے، بے روزگاری اور ناانصافی کے خلاف آواز اٹھائی جانے لگی۔ وہ صرف اداکار نہیں رہے بلکہ نوجوان نسل کے غصے اور امید کی علامت بنتے گئے۔

پھر ان کے مداحوں کے گروپ وجود میں آئے۔ جنوبی بھارت میں مداحوں کے یہ گروپ صرف پوسٹر لگانے یا فلموں کے ٹکٹ خریدنے تک محدود نہیں ہوتے بلکہ یہ باقاعدہ سماجی نیٹ ورک بن جاتے ہیں۔ جوزف وجے کے مداح خون کے عطیات دینے لگے، غریب بچوں میں کتابیں تقسیم کرنے لگے، سیلاب متاثرین کی مدد کرنے لگے اور یوں آہستہ آہستہ ایک فلمی ہیرو کے گرد سماجی طاقت جمع ہونا شروع ہوگئی۔

2024ء میں جوزف وجے نے اپنی سیاسی جماعت تملگا ویٹری کڑگم قائم کی۔ پارٹی کا بنیادی نعرہ نوجوان، تعلیم، روزگار اور کرپشن کے خلاف جدوجہد تھا۔ بہت سے لوگ اسے ایک فلمی شوق سمجھ رہے تھے لیکن وقت کے ساتھ یہ واضح ہونے لگا کہ وجے سیاست میں سنجیدہ ہیں۔ ان کے جلسوں میں ہزاروں نوجوان شریک ہونے لگے۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ ان جلسوں میں لوگ صرف ایک اداکار کو دیکھنے نہیں آتے تھے بلکہ وہ ایک نئی امید سننے آتے تھے۔

2026ء کے انتخابات میں تامل ناڈو کی سیاست میں بھونچال آ گیا۔ برسوں سے اقتدار پر قابض جماعتوں کو پہلی بار احساس ہوا کہ ایک فلمی اداکار ان کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق انتخابی نتائج نے پورے ملک کو حیران کر دیا۔ لیکن بھارت کی جمہوریت صرف فلمی ستاروں کی کہانی نہیں۔ اس جمہوریت نے ایک ایسی عورت بھی پیدا کی جس کے پاس نہ دولت تھی، نہ خاندانی سیاسی سلطنت اور نہ ہی کوئی شاہانہ پس منظر۔ اس عورت کا نام تھا ممتا بنرجی۔

اگر جوزف وجے کی کہانی سنیما سے سیاست تک کی کہانی ہے تو ممتا بنرجی کی داستان فٹ پاتھ سے اقتدار تک کے سفر کی کہانی ہے۔

5 جنوری 1955ء کو کولکتہ کے ایک سادہ بنگالی گھر میں پیدا ہونے والی ممتا بنرجی نے متوسط طبقے کی زندگی دیکھی۔ ان کے والد سیاسی کارکن تھے لیکن گھر میں دولت نہیں تھی۔ انہوں نے تاریخ، تعلیم اور قانون کی تعلیم حاصل کی اور پھر سیاست میں آگئیں۔ شروع ہی سے ان کی شخصیت میں ایک عجیب ضد اور مزاحمت تھی۔ وہ سڑکوں پر احتجاج کرتیں، پولیس سے الجھ جاتیں اور عام کارکنوں کے ساتھ زمین پر بیٹھ کر کھانا کھاتیں۔

بعد میں انہوں نے اپنی جماعت آل انڈیا ترنمول کانگریس بنائی۔ اس وقت لوگ ان کا مذاق اڑاتے تھے۔ کہتے تھے یہ دبلی پتلی عورت مغربی بنگال کی سیاست نہیں بدل سکتی۔ لیکن جمہوریت اکثر ایسے لوگوں کو اوپر لے آتی ہے جنہیں ابتدا میں کمزور سمجھا جاتا ہے۔

2011ء میں ممتا بنرجی نے مغربی بنگال میں بائیں بازو کی چونتیس سالہ حکومت ختم کر دی اور وزیر اعلیٰ بن گئیں اور مسلسل پندرہ سال وزیر اعلیٰ رہیں۔ یہ صرف ایک سیاسی کامیابی نہیں تھی بلکہ بھارتی سیاست کی ایک بڑی تبدیلی تھی۔ ان کی شخصیت کا سب سے دلچسپ پہلو ان کی سادگی ہے۔ وہ آج بھی سادہ سفید ساڑھی پہنتی ہیں، عام ربڑ کی چپل استعمال کرتی ہیں اور نہایت سادہ زندگی گزارتی ہیں۔ وہ غیر شادی شدہ ہیں اور انہوں نے اپنی پوری زندگی سیاست کے لیے وقف کر دی۔

بھارتی میڈیا میں یہ قصے بھی مشہور ہیں کہ وہ بعض اوقات خود بازار سے سبزی خریدنے چلی جاتی تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ وہ آج بھی کولکتہ کے اپنے پرانے سادہ گھر میں رہتی ہیں۔ ان کی رہائش کسی حکمران کے محل جیسی نہیں بلکہ ایک متوسط طبقے کے گھر جیسی محسوس ہوتی ہے۔

لیکن ممتا بنرجی صرف سیاست دان نہیں۔ وہ شاعرہ بھی ہیں، مصورہ بھی اور لکھاری بھی۔ ان کی تین سو پینٹنگز تقریباً نو کروڑ بھارتی روپے میں فروخت ہوئی تھیں۔ 2012ء میں امریکی جریدے "ٹائم" نے انہیں دنیا کی سو بااثر ترین شخصیات میں شامل کیا جبکہ "بلوم برگ مارکیٹس" میگزین نے انہیں دنیا کی پچاس بااثر ترین مالیاتی شخصیات کی فہرست میں جگہ دی۔ 2018ء میں انہیں "اسکوچ چیف منسٹر آف دی ایئر ایوارڈ" بھی دیا گیا۔

کہتے ہیں کہ اقتدار انسان کے اندر چھپے ہوئے اصل کردار کو سامنے لے آتا ہے۔ کچھ لوگ اقتدار میں جا کر بدل جاتے ہیں اور کچھ لوگ اقتدار میں جا کر بھی وہی رہتے ہیں جو پہلے تھے۔ ممتا بنرجی شاید انہی لوگوں میں شامل ہیں۔ وہ جب جلسے میں تقریر کرتی ہیں تو ایک عام بنگالی عورت دکھائی دیتی ہیں لیکن جب سیاسی میدان میں اترتی ہیں تو بڑے بڑے سیاسی اتحادوں کو ہلا دیتی ہیں۔

یہی جمہوریت کا حسن ہے۔ جمہوریت کبھی ایک فلمی ہیرو کو اقتدار تک پہنچا دیتی ہے اور کبھی ایک سادہ چپل پہننے والی عورت کو ریاست کا سب سے طاقتور شخص بنا دیتی ہے۔ لیکن جمہوریت کی اصل طاقت شاید یہی ہے کہ یہاں ہر لیڈر کو وقت کے امتحان سے گزرنا پڑتا ہے۔ عوام صرف نعروں سے مطمئن نہیں رہتے، وہ آخرکار کارکردگی بھی دیکھتے ہیں، نتائج بھی مانگتے ہیں اور پھر اپنے مستقبل کا فیصلہ کرتے ہیں۔

جوزف وجے کے سامنے اب اصل امتحان شروع ہوا ہے۔ فلم میں ولن کو تین گھنٹے میں شکست دی جا سکتی ہے لیکن غربت، بے روزگاری، کرپشن اور بیوروکریسی کو شکست دینے میں دہائیاں لگ جاتی ہیں۔ سیاست اسکرپٹ سے نہیں چلتی، زمینی حقیقتوں سے چلتی ہے۔

اور شاید یہی جمہوریت کا سب سے بڑا حسن بھی ہے اور سب سے بڑا امتحان بھی۔ یہ کسی کو بھی آسمان تک پہنچا سکتی ہے اور پھر وہی عوام ایک دن اسے زمین پر بھی لے آتے ہیں۔

Check Also

Operation Bunyan Ul Marsoos (5)

By Javed Chaudhry