Friday, 03 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Tayyab Ilyas
  4. Seekhna Kis Tarah Aata Hai

Seekhna Kis Tarah Aata Hai

سیکھنا کس طرح آتا ہے؟

1999 کا سال تھا۔ نئی دہلی کا ایک غریب محلہ تھا۔ ڈاکٹر سگاٹا مترا نے ایک عجیب کام کیا۔ اس نے دیوار میں سوراخ کیا۔ اس میں کمپیوٹر لگا دیا۔ کوئی استاد نہیں تھا۔ کوئی نصاب نہیں تھا۔ کوئی نگرانی نہیں تھی۔ سامنے کچی بستی کے بچے تھے۔ غریب، ننگے پاؤں، دنیا کے حساب سے نااہل۔ لیکن چند گھنٹوں میں وہ کمپیوٹر تک پہنچ گئے۔ چند دنوں میں مشین کو سمجھنا شروع کر دیا۔ پھر انٹرنیٹ ڈھونڈ لیا، پھر الفاظ پہچانے، پھر معلومات نکالیں، پھر سوال پیدا کیے۔ ڈاکٹر مترا نے اس تجربے کو ہول اِن دا وال کا نام دیا۔ نتیجہ سادہ تھا: بچہ پہلے سے سیکھنے والا ہوتا ہے۔ اسے صرف راستہ چاہیے، روک ٹوک نہیں۔ جستجو چاہیے، حکم نہیں۔

یہ واقعہ پڑھا تو مجھے اپنا زمانہ یاد آ گیا۔ سال 2004 میں پاکستان اسلامک اکیڈمی میں سر مزمل کے دفتر میں پہلی بار کمپیوٹر دیکھا۔ چھونے کی اجازت نہیں تھی۔ صرف دیکھنا تھا۔ مگر بعض اوقات دیکھنا بھی کافی ہوتا ہے۔ انسان کے اندر ایک بیج گر جاتا ہے جو خاموشی سے پھوٹتا ہے۔

اس کے بعد کمیونٹی گرلز کالج کی لیب آئی۔ ایک استاد نے ونڈوز پر پہلا پروگرام سکھایا۔ اپنی تاریخِ پیدائش ڈالو اور سامنے پیدائش کا دن آ جائے۔ 2006 میں یہ جادو کی طرح لگتا تھا۔ اصل بات پروگرام نہیں تھی۔ اصل بات یہ تھی کہ مشین جواب دیتی ہے۔ اگر صحیح سوال کریں تو دروازہ کھل جاتا ہے۔ پھر اسی لیب میں سپر ماریو ملا۔ لوگ کھیل کو فضول سمجھتے ہیں۔ میں نہیں سمجھتا۔ بعض کھیل انسان کو بٹن، ردعمل، توجہ، شکست، دوبارہ کوشش اور راستہ ڈھونڈنے کا فن سکھا دیتے ہیں۔ جو سبق کتاب ایک مہینے میں نہیں دیتی، کبھی کبھی کھیل ایک گھنٹے میں دے دیتا ہے۔

پھر 2008 آیا۔ والد صاحب نے اپنے ایک پرانے شاگرد سے راولپنڈی سے کمپیوٹر منگوایا۔ ونڈوز ایکس پی تھا۔ ساتھ ورلڈ کال کا پیشگی کارڈ اور پی ٹی سی ایل کا سست انٹرنیٹ۔ رفتار کم تھی، انتظار زیادہ تھا۔ لیکن اس سست رفتار دنیا نے بھی کائنات کا دروازہ کھول دیا۔ مسئلہ رفتار نہیں ہوتا۔ مسئلہ رسائی ہوتا ہے۔

ڈاکٹر مترا نے کیا ثابت کیا؟ یہ کہ بچہ خود سیکھنے کی صلاحیت لے کر پیدا ہوتا ہے۔ مسئلہ دماغ کا نہیں، موقع کا ہے۔ ہمارے ہاں ہم نے پوری نسل کو اس کے برعکس سبق دیا۔ ہم نے بچوں کو کہا: چپ رہو، سوال مت کرو، کھیل وقت کا ضیاع ہے، نمبر ہی اصل قابلیت ہیں، غلطی شرمندگی ہے۔ نتیجہ کیا نکلا؟ جو بچہ پیدائشی طور پر دریافت کرنے والا تھا، وہ رٹا لگانے والا بن گیا۔ جو جستجو سے سیکھ سکتا تھا، وہ ڈر سے لکھنے لگا۔

ہم نے تعلیم کو سیکھنے کا عمل نہیں رہنے دیا۔ ہم نے اسے اطاعت کا نظام بنا دیا۔ استاد کو رہنما کے بجائے حاکم بنا دیا۔ بچے کو متجسس ذہن کے بجائے خالی رجسٹر سمجھ لیا۔ پھر ہم حیران ہوتے ہیں کہ ہمارے سکولوں سے موجد کیوں نہیں نکلتے۔ وجہ واضح ہے۔ ہم انہیں جواب رٹواتے ہیں، سوال نہیں دیتے۔

آج ہم ایک ایسے زمانے میں داخل ہو چکے ہیں جہاں مصنوعی ذہانت دنیا بدل رہی ہے۔ نوکریاں بدل رہی ہیں، ہنر بدل رہے ہیں، سب کچھ بدل رہا ہے۔ لیکن ہمارے اکثر سکول اب بھی اسی جگہ کھڑے ہیں جہاں تختی، ڈنڈا، حاضری اور رٹا تھا۔

1999 میں ڈاکٹر سگاٹا مترا نے ہندوستان کے غریب بچوں کو موقع دیا۔ وہ سیکھ گئے۔ 2004 میں ایک استاد نے مجھے موقع دیا۔ میں سیکھ گیا۔ 2008 میں ایک باپ نے گھر میں ایک پرانا کمپیوٹر رکھ دیا۔ دنیا بدل گئی۔ سوال اب بھی وہی ہے: آج کے بچوں کو کون موقع دے گا؟

نسل نکمی نہیں۔ طریقہ نکما ہے۔

سیکھنا انسان کی فطرت ہے۔ نہ سیکھنا ہمارے نظام کی غلطی ہے۔

Check Also

Seekhna Kis Tarah Aata Hai

By Muhammad Tayyab Ilyas