Wednesday, 08 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Tayyab Ilyas
  4. Mazboot Log

Mazboot Log

مضبوط لوگ

لاہور کے میو اسپتال کے برآمدے میں ایک شخص سے کبھی میری ملاقات ہوئی تھی۔ سفید شلوار قمیص، پاؤں میں گھسی ہوئی چپل، آنکھوں میں جاگی ہوئی کئی راتیں اور چہرے پر وہ تھکن جو صرف غربت نہیں دیتی، زمانہ دیتا ہے۔ اس کا بیٹا حادثے میں زخمی تھا۔ میں نے پوچھا، "بھائی، ہمت کیسے قائم ہے؟" اس نے مسکرا کر کہا، "صاحب! رونا تو بہت آتا ہے لیکن رونے سے ہڈی نہیں جڑتی، ہمت سے جڑتی ہے"۔ اس ایک جملے نے مجھے بہت کچھ سکھایا۔ طاقت بازو میں کم، ذہن میں زیادہ ہوتی ہے اور انسان کی اصل شکست باہر نہیں، اندر ہوتی ہے۔ آئیے زندگی سے جڑے کچھ اصول سیکھتے ہیں جو آپ کو مضبوطی فراہم کریں گے۔

پہلا اصول یہ ہے کہ خود پر ترس نہ کھائیں اور نہ دوسروں سے امید رکھیں۔ ہمارے ہاں یہ مسئلہ عام ہے۔ کوئی امتحان میں رہ جائے، کاروبار بیٹھ جائے، رشتہ ٹوٹ جائے، فوراً وہ اپنی قسمت کا ماتم شروع کر دیتے ہیں۔ حالانکہ مشکل آن پڑھنے پر مقابلہ سے فرار کے بہانے بنانا، ایسے ہے جیسے آدمی اپنی ہی کشتی میں سوراخ کرکے کنارے کی دعا مانگے۔ سیلابوں میں گھر بہہ جانے والے سندھ اور جنوبی پنجاب کے کتنے لوگ ہم نے دیکھے، جنہوں نے اگلے ہی موسم میں اینٹیں دوبارہ جوڑ لیں۔

دوسرا اصول یہ ہے کہ دوسروں کو اپنا ریموٹ نہ دیں۔ اگر آپ کی خوشی، غصہ، عزتِ نفس اور فیصلے دوسروں کے ہاتھ میں ہیں تو پھر آپ زندہ انسان نہیں، چلتی پھرتی کٹھ پتلی ہیں۔ ایک استاد صاحب کو میں جانتا ہوں، گوجرانوالہ کے ایک سرکاری اسکول میں پڑھاتے تھے۔ والدین انہیں کمتر سمجھتے، افسر ڈانٹتا، محلے والے تنخواہ پر ہنستے، لیکن انہوں نے اپنے کام کا ریموٹ کسی کے ہاتھ نہ دیا۔ آج ان کے شاگرد بڑے عہدوں پر ہیں اور وہ استاد صاحب ایک مثالی زندگی گزار رہے ہیں۔

تیسرا اصول ہے تبدیلی سے نہ ڈریں۔ موسم اگر نہ بدلے تو زمین بانجھ ہو جاتی ہے۔ انسان بھی اگر ایک ہی حال میں جما رہے تو اندر سے سوکھ جاتا ہے۔ فیصل آباد کا ایک نوجوان کپڑے کی دکان پر بیٹھتا تھا، پھر وقت بدل گیا، بازار آن لائن ہوگیا، اس نے سیکھا، بدلا، گر کر اٹھا اور آج وہ درجنوں لوگوں کو روزگار دے رہا ہے۔ تبدیلی دراصل دشمن نہیں، نیا دروازہ ہے۔

چوتھا اصول یہ ہے کہ جو قابو میں نہ ہو اس پر توانائی ضائع نہ کریں۔ ایران کی جنگ، پٹرول کے نرخ، موسم کی سختی، ماضی کی ناانصافیاں، دوسروں کی نیتیں یہ سب ہمارے اختیار سے باہر ہیں۔ لیکن ہم ان ہی پر دل و دماغ جلاتے رہتے ہیں۔ عقل مندی یہ ہے کہ آدمی اپنے دائرۂ اختیار کو پہچانے اور اپنی قوت صحیح جگہ صرف کرے۔

پانچواں اصول ہے سب کو خوش کرنے کی کوشش نہ کریں۔ یہ ناممکن ہے۔ اگر آپ نرم ہوں گے تو لوگ کہیں گے کمزور ہے، اگر مضبوط ہوں گے تو کہیں گے مغرور ہے۔ ایک خاتون افسر سے میری ملاقات اسلام آباد میں ہوئی، وہ دیانت دار تھیں، اس لیے ماتحت ناراض۔ انہوں نے کہا، "میں نے ایک دن فیصلہ کیا کہ سب کو نہیں، اپنے ضمیر کو خوش رکھوں گی"۔ یہی ذہنی طاقت ہے۔

چھٹا اصول یہ ہے کہ حساب سے خطرہ مول لیں۔ اندھا دھندچھلانگ لگانا بہادری نہیں، بے وقوفی ہے، لیکن ہر خطرے سے بھاگنا بھی بزدلی ہے۔ ہمارے ہاں کئی لوگ اس لیے پیچھے رہ جاتے ہیں کہ وہ "اگر" اور "مگر" کی دہلیز سے باہر نہیں نکلتے۔ دریا پار کرنا ہو تو پاؤں بھیگنے کا حوصلہ رکھنا پڑتا ہے۔

ساتواں اصول ہے ماضی میں نہ رہیں۔ ماضی قبر ہے، نصیحت دیتا ہے، زندگی نہیں دیتا۔ ایک سابق کھلاڑی نے مجھ سے کہا تھا، "میرا اصل نقصان انجری نے نہیں کیا، انجری کی یاد نے کیا"۔ یہ بڑی بات ہے۔ زخم بھر جاتے ہیں، اگر انسان انہیں روز کھرچنا چھوڑ دے۔

آٹھواں اصول یہ ہے کہ غلطی نہ دہرائیں، ٹھوکر کھانا جرم نہیں، ایک ہی پتھر سے بار بار ٹھوکر کھانا جرم ہے۔ ذہنی مضبوطی کا مطلب ہے آدمی اپنی حماقت کا پوسٹ مارٹم کرے اور پھر وہی راستہ دوبارہ نہ چلے۔

نواں اصول ہے حسد نہ کریں۔ حسد انسان کے دل میں جلتا ہوا کوئلہ ہے، پہلے اپنے ہاتھ جلاتا ہے۔ سوشل میڈیا نے اس بیماری کو اور بڑھا دیا ہے۔ مضبوط آدمی دوسروں کی کامیابی سے جلتا نہیں، سیکھتا ہے۔

دسواں اصول یہ ہے کہ ناکامی پر ہار نہ مانیں۔ پاکستان کی گلیوں میں ایسی ہزاروں کہانیاں بکھری ہیں جن میں ناکامی کے بعد نئی زندگی شروع ہوئی۔ ناکامی انجام نہیں، آغاز ہے۔

گیارھواں اصول ہے تنہائی سے نہ گھبرائیں۔ تنہائی وہ آئینہ ہے جس میں آدمی اپنا اصل چہرہ دیکھتا ہے۔ رات کے آخری پہر کی خاموشی، فجر سے پہلے کی ٹھنڈی ہوا اور اپنے دل کے ساتھ چند لمحے، یہ انسان کو اندر سے ترتیب دیتے ہیں۔

بارھواں اصول ہے حق نہ جتائیں۔ دنیا کسی کی مقروض نہیں۔ جو شخص ہر چیز کو اپنا حق سمجھتا ہے، وہ محرومی میں ٹوٹ جاتا ہے۔ لیکن جو ہر نعمت کو عطا سمجھتا ہے، وہ تنگی میں بھی شکرکے چراغ جلا لیتا ہے۔

تیرھواں اور آخری اصول یہ ہے کہ فوری نتائج کی توقع نہ رکھیں۔ بیج آج بویا جائے تو کل سایہ نہیں دیتا۔ صبر صرف انتظار کا نام نہیں، مسلسل کوشش کے ساتھ انتظار کا نام ہے۔

ذہنی مضبوطی شور نہیں کرتی، یہ اندر چپ چاپ اینٹ پر اینٹ رکھتی ہے۔ ہمارے گھروں میں، محلوں میں، بازاروں میں، اسپتالوں میں، کھیتوں میں، اسکولوں کالجوں میں، ایسے لاکھوں لوگ ہیں جو ان اصولوں کو روز جیتے ہیں۔ اصل مضبوطی یہی ہے۔ آندھی آئے تو شاخ کی طرح ٹوٹنا نہیں، درخت کی طرح جھکنا اور پھر سیدھا ہو جانا۔

Check Also

Iran Ki Androoni Kashmakash Aur Pakistan

By Saad Makki Shah