La Hasil Se Hasil Tak
لا حاصل سے حاصل تک

کبھی کبھی انسان اپنی زندگی کو یوں دیکھتا ہے جیسے رمضان کے آخری عشرے میں بازاروں کی روشنیاں دیکھ کر گھر لوٹتی ہوئی وہ بچی، جس کے ہاتھ میں ایک سادہ سا جوڑا ہو مگر دل اُن کپڑوں میں اٹکا رہ جائے جو شیشوں کے پیچھے ٹنگے تھے۔ اُس کے پاس بھی کچھ ہے، مگر نظر اُس پر نہیں جاتی۔ نظر اُس پر جاتی ہے جو نہیں ملا۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں دل میں خلا پیدا ہوتا ہے اور عجیب بات یہ ہے کہ یہ خلا حقیقت سے زیادہ تصور کا پیدا کیا ہوا ہوتا ہے۔
اس کتاب کا حاصل بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ انسان دو طریقوں سے اپنی زندگی ناپتا ہے۔ ایک یہ کہ وہ اپنے سامنے ایک خیالی کمال رکھ لیتا ہے، ایک ایسی چوٹی جو ہر قدم کے بعد اور اوپر چلی جاتی ہے۔ پھر وہ جتنا بھی پا لے، اسے کم لگتا ہے۔ یہ خلا ہے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ وہ پلٹ کر دیکھے کہ کل کہاں تھا اور آج کہاں آ پہنچا ہے۔ اگر کبھی وہ خوف میں جیتا تھا اور آج کچھ زیادہ سنبھلا ہوا ہے، اگر کبھی اس کے پاس خواب تو تھے مگر ہمت نہ تھی اور آج قدم میں لرزش کم ہے، تو یہ حاصل ہے۔ زندگی کا سکون اسی حاصل میں چھپا ہے۔
ہماری مشکل یہ ہے کہ ہم اپنی روٹی اپنے چولہے پر پکاتے ہیں مگر خوشبو پڑوسی کے دسترخوان سے مانگتے ہیں۔ سوشل میڈیا نے اس بیماری کو اور بڑھا دیا ہے۔ وہاں ہر شخص اپنی زندگی کا عید والا جوڑا پہن کر آتا ہے، کوئی اپنے آنسو، اپنی قسطیں، اپنی بے خوابی، اپنے گھر کی خاموش لڑائیاں نہیں دکھاتا۔ وہاں سب کے آنگن میں بہار لگتی ہے، صرف دیکھنے والے کو اپنا صحن ویران لگتا ہے۔ یہ وہی شعبدہ بازی ہے جس سے دور ہٹ کر سانس لینے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے اور یہی وہ فضا ہے جو ہمیں دوسروں کے پیمانے سے خود کو ناپنے پر مجبور کرتی ہے، حالانکہ اصل سوال یہ ہے کہ ہم اپنے اندر کتنے آباد ہیں۔
خوشی کا تعلق اکثر اس برتن سے نہیں ہوتا جس میں زندگی پیش کی گئی، بلکہ اُس ذائقے سے ہوتا ہے جو اندر بھرا ہے۔ بڑی گاڑی، بڑا عہدہ، وسیع حلقہ، یہ سب اچھے ہوسکتے ہیں، مگر اگر دل کی پیالی خالی ہو تو سارا اہتمام بے معنی ہو جاتا ہے۔ جو ہم پا چکے ہیں، پہلے اُس کی حرمت پہچاننا ضروری ہے، پھر آگے بڑھنا چاہیے۔
فیض کا ایک مصرعہ یہاں دل پر ہلکے سے دستک دیتا ہے، "اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا"۔ میں اسے یوں سمجھتا ہوں کہ زندگی میں اور بھی سچ ہیں حسرت کے سوا۔ ایک سچ یہ بھی ہے کہ آپ بدل رہے ہیں، سنور رہے ہیں، پک رہے ہیں۔ بس آپ نے مڑ کر خود کو دیکھنا چھوڑ دیا ہے۔
اس لیے جب بھی دل میں کمی کا اندھیرا اترے، ایک لمحہ رک کر اپنے پچھلے برسوں کی طرف دیکھیے۔ آپ شاید کمال تک نہیں پہنچے، مگر آپ وہ بھی تو نہیں رہے جو کبھی تھے اور انسان کی اصل خوشی یہی ہے کہ وہ دوسروں کی بلندی نہیں، اپنی مسافت پہچان لے۔ یہی خلا سے حاصل تک کا سفر ہے، آہستہ، خاموش، مگر نجات دینے والا۔

