Dolat Kis Ko Dhundti Hai?
دولت کس کو ڈھونڈتی ہے؟

لاہور کے ایک محلے میں ایک لڑکا رہتا تھا۔ عمر اس کی چھوٹی تھی لیکن خواہش بہت بڑی تھی۔ وہ اپنی گلی کی نکڑ پر کھڑا ہو کر آس پاس کے بڑے گھروں کو دیکھا کرتا تھا۔ اونچی دیواریں۔ چوڑے دروازے۔ برآمدوں میں بچھی ٹھنڈی چھاؤں۔ اندر کھڑی گاڑیاں اور پھر وہ خاموشی سے اپنے گھر لوٹ آتا تھا۔ اس کے دل میں ایک ہی بات اٹھتی تھی، مجھے امیر بننا ہے۔ یہ وہ عمر ہوتی ہے جس میں خواب دلیل سے نہیں، ضد سے پیدا ہوتے ہیں۔
ایک دن وہ گھر کے صحن میں بیٹھا تھا۔ چارپائی ایک طرف پڑی تھی۔ دوپہر کی دھوپ صحن میں ایک سنہری لکیر کی صورت اتری ہوئی تھی۔ اس نے ٹوتھ پیسٹ کی ایک خالی ٹیوب اٹھائی اور دیر تک اسے گھورتا رہا۔ پھر اس کے ذہن میں ایک خیال آیا: کیوں نہ اس سے سکے بنا لیے جائیں۔ بچے کی نیت میں کھوٹ نہیں تھا مگر عقل ابھی کچی تھی۔ شام تک ہاتھ خراب ہو چکے تھے۔ کپڑوں پر دھبے تھے۔ صحن بکھر گیا تھا۔ ماں نے ڈانٹا۔ ابا جی نے سمجھایا اور اسے زندگی کا پہلا سبق ملا: دولت صرف خواہش سے پیدا نہیں ہوتی۔ دولت سمجھ سے بنتی ہے، تدبیر سے بنتی ہے۔
اس لڑکے کا ایک دوست تھا۔ دوست کے والد کی محلے میں ایک چھوٹی سی دکان تھی۔ نہ کوئی شیش محل، نہ کوئی لمبی چوڑی جائداد، بس گلی کے کونے پر ایک سادہ سی دکان جہاں صبح کے ساتھ شٹر اٹھتا تھا اور رات کے ساتھ حساب بند ہو جاتا تھا۔ لڑکا وہاں مفت کام کرنے لگا۔ لوگ سمجھتے تھے بچہ مزدوری کر رہا ہے۔ لیکن وہ دراصل کچھ اور کر رہا تھا۔ وہ دیکھ رہا تھا کہ پیسہ جیب سے نکلتا کیسے ہے، واپس کیسے آتا ہے اور بڑھتا کیسے ہے۔
یہ وہ علم تھا جو کتابوں کے خشک صفحوں پر نہیں ملتا۔ یہ علم اس نے ان ہاتھوں سے سیکھا جو تولیے سے بار بار صاف کیے جاتے تھے۔ ان گاہکوں سے سیکھا جو ادھار مانگتے تھے۔ ان رجسٹروں سے سیکھا جن میں ایک ایک رقم لکھی جاتی تھی۔ اسے معلوم ہوا کہ کمائی صرف نوٹ گننے کا نام نہیں، کمائی اصل میں مزاج، صبر، وقت اور حساب کا مجموعہ ہے۔
پھر اس نے دو گھروں کا فرق دیکھا۔ یہ فرق اینٹوں کا نہیں تھا، سوچ کا تھا۔ ایک گھر وہ تھا جہاں ہر مہینے تنخواہ آتی تھی، چولہا جلتا تھا، بل بھرے جاتے تھے اور مہینے کے آخر تک جیب آہستہ آہستہ خالی ہو جاتی تھی۔ سانس ایک ہی نالی سے آ رہی تھی۔ اگر وہ نالی بند ہو جاتی تو پورا گھر رک جاتا۔
دوسرا گھر مختلف تھا۔ وہاں آمدن شاید کم تھی مگر پیسے کے لیے دروازے ایک نہیں کئی تھے۔ کہیں ایک چھوٹی دکان، کہیں کرائے کا کمرہ، کہیں ایسا سامان جو خود پیسہ کما کر لاتا تھا۔ وہیں اس لڑکے کو اصل نکتہ سمجھ آیا: امیری بڑی آمدن کا نام نہیں۔ امیری آمدن پیدا کرنے والے ذرائع کا نام ہے۔ دریا ایک کنارے سے نہیں بہتا، اس کے کئی دھارے ہوتے ہیں۔
ہم اپنے بچوں کو کہتے ہیں: خوب پڑھو تاکہ اچھی نوکری ملے۔ بات غلط نہیں، مگر ادھوری ہے۔ تعلیم صرف نوکری کا زینہ نہیں، زندگی کو سمجھنے کا چراغ بھی ہے۔ اگر ڈگری لے کر بھی پیسے کا حساب نہ سمجھیں تو پہلی تنخواہ سے آخری قسط تک دوڑتے رہیں گے۔
اثاثہ وہ ہے جو آپ کی جیب میں پیسہ ڈالے۔ بوجھ وہ ہے جو ہر مہینے خاموشی سے جیب خالی کرتا رہے۔ ہم اکثر چمکتی چیزوں کو دولت سمجھ لیتے ہیں۔ حالانکہ بہت سی چیزیں دولت نہیں ہوتیں، دولت کا بھیس ہوتی ہیں۔
دولت کے راستے میں دو بڑے چور بھی کھڑے ہوتے ہیں۔ ایک خوف، دوسرا لالچ۔ خوف انسان کو قدم نہیں اٹھانے دیتا۔ لالچ اسے اندھا کر دیتا ہے۔ دونوں سے بچنا ضروری ہے۔
آخر میں امی جی کی بات یاد آتی ہے۔ مختصر بات تھی مگر پوری زندگی پر بھاری: روٹی کمانے سے پہلے عقل کمانا سیکھو۔
غریب وہ نہیں جس کے پاس کم پیسہ ہو۔ غریب وہ ہے جسے یہ فرق نہ معلوم ہو کہ وہ کماتا کیا ہے اور خرچ کیا کرتا ہے۔ زندگی کی اصل خوش حالی جیب سے پہلے ذہن میں پیدا ہوتی ہے۔

