Aik Lamhe Ka Faisla
ایک لمحے کا فیصلہ

لاہور کی ایک سرد صبح تھی۔ انارکلی کے پرانے حصے میں چائے والے نے ابھی ابھی دیگچی سے پہلی بھاپ اٹھائی تھی۔ سامنے فٹ پاتھ پر ایک آدمی اپنے ننھے بیٹے کا ہاتھ پکڑے کھڑا تھا۔ بچہ ضد کر رہا تھا کہ اسکول نہیں جانا، باپ کا چہرہ غصے سے سرخ تھا، مگر اس نے ہاتھ نہیں اٹھایا۔ بس ایک لمبا سانس لیا، بچے کی ٹوپی سیدھی کی اور خاموشی سے اسے ساتھ لے کر چل پڑا۔ میں نے اس معمولی سے منظر کو چند لمحے دیکھا اور آگے بڑھ گیا، لیکن سارا دن میرے اندر یہی سوال گھومتا رہا کہ انسان کے اندر یہ کون سا پل ہوتا ہے جہاں ہاتھ اٹھنے سے رک جاتا ہے، زبان زہر اگلنے سے ٹھہر جاتی ہے اور آدمی اپنے اندر سے کسی دوسرے آدمی میں بدل جاتا ہے۔
مگر ہم اکثر بہت جلدی میں ہوتے ہیں۔ ہمیں ہر شخص کے بارے میں رائے فوراً چاہیے، ہر خبر پر فیصلہ فوراً چاہیے، ہر رشتے کا حساب فوراً چاہیے۔ محلے چوراہوں سے لے کر خاندان کے ڈرائنگ روم تک، ہر جگہ ایک عجب جلد بازی پھیلی ہوئی ہے۔ کوئی ایک واقعہ سنتا ہے اور پورا مقدمہ بنا لیتا ہے۔ کوئی ایک ناکامی دیکھتا ہے اور بچے کے ماتھے پر ناکام آدمی کی مہر ثبت کر دیتا ہے۔ کوئی ایک خوش اخلاقی دیکھتا ہے اور سمجھ لیتا ہے کہ بندہ فرشتہ ہوگا۔ حالانکہ زندگی نے مجھے سکھایا ہے کہ نرم لہجہ ہمیشہ نرم دل کی دلیل نہیں ہوتا اور تیز آواز ہمیشہ برے انسان کی علامت نہیں ہوتی۔
میں نے یہ سبق سب سے پہلے ہسپتال کے انتظار گاہ میں سیکھا تھا۔ ایک ڈاکٹر تھا، بڑے اطمینان سے بات کرتا، تیمارداروں کے کندھوں پر ہاتھ رکھتا، مریض کے نام کے ساتھ "بیٹا" اور "امّی" لگاتا۔ لوگ اس کے سحر میں مبتلا تھے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ ٹیسٹوں کی لمبی فہرستیں صرف اس لیے لکھ دیتا ہے کہ کمیشن بنتا رہے۔ دوسری طرف ایک اور ڈاکٹر تھا، خشک مزاج، کم گو، مریض سے آنکھ اٹھا کر بھی کم دیکھتا، مگر رات دو بجے بھی فون اٹھا لیتا۔ تب سمجھ آیا کہ ہمارے دل بہت جلدی تصویریں بنا لیتے ہیں اور پھر انہی تصویروں کے غلام ہو جاتے ہیں۔
یہی بات گھر کے اندر بھی ہوتی ہے۔ ایک ماں اگر دن کے اختتام پر تھکی ہوئی آواز میں بچے کو جھڑک دے تو بچہ اس ایک لمحے کو پوری ماں پر منطبق کر لیتا ہے۔ ہم سب کے اندر ایک ایسا منصف بیٹھا ہے جو پورا مقدمہ سنے بغیر فیصلہ لکھ دیتا ہے اور المیہ یہ ہے کہ اس منصف کو اپنی جلد بازی پر بڑا ناز بھی ہوتا ہے۔
غالب نے شاید اسی کیفیت کے کسی کنارے کو چھوا تھا؎
بس کہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا
آدمی ہونا آسان ہے، انسان ہونا مشکل۔ آدمی فوری ردعمل دیتا ہے، انسان ذرا رک کر دیکھتا ہے۔ آدمی سنی سنائی بات پر نفرت پال لیتا ہے، انسان ایک قدم پیچھے ہٹ کر پوچھتا ہے، "کیا میں پوری بات جانتا ہوں؟" آدمی ایک نقصان پر دنیا اجڑی ہوئی سمجھ لیتا ہے، انسان بیٹھ کر دیکھتا ہے کہ شاید ابھی بہت کچھ باقی ہے۔
ہمارے بازار، ہماری سیاست، ہمارے گھروں کے جھگڑے، سب اسی جلد باز ذہن کے مارے ہوئے ہیں۔ گوجرانوالہ کی منڈی میں تاجر نے ایک بار مجھے کہا، "صاحب، کاروبار حساب سے نہیں، خوف سے بھی چلتا ہے"۔ اس وقت میں نے اس جملے کو ہلکا لیا۔ بعد میں دیکھا کہ واقعی آدمی منافع سے زیادہ نقصان سے ڈرتا ہے۔ اسے دس ہزار کمانے سے اتنی خوشی نہیں ہوتی جتنی پانچ ہزار ڈوبنے سے تکلیف ہوتی ہے۔ اسی لیے لوگ پرانے، زخم خوردہ کاروبار سے چمٹے رہتے ہیں۔ اسی لیے خراب رشتے نبھاتے رہتے ہیں۔ اسی لیے غلط فیصلے ماننے کے بجائے ان پر نئی غلطیوں کی اینٹیں رکھتے جاتے ہیں۔ ہم حقیقت سے نہیں، اپنے نقصان کے خوف سے بندھے ہوتے ہیں۔
ایک اور عجیب بات بھی ہے۔ ہم زندگی کو جیتے کم ہیں، یاد زیادہ رکھتے ہیں۔ آپ کسی سے پوچھیں شادی کی تقریب کیسی تھی، وہ تین گھنٹے کی خوشی نہیں سنائے گا، وہ آخر میں بجلی جانے کا قصہ سنائے گا۔ کسی سفر کے بارے میں پوچھیں، وہ پورے راستے کی ہوا، کھیت، دریاؤں کی چمک چھوڑ کر صرف آخری ہوٹل کے خراب کھانے کو یاد رکھے گا۔ جیسے ہماری یادداشت ایک سخت گیر محرر ہو، جو پوری داستان میں سے چند نوک دار لمحے چن کر باقی سب پر سیاہی پھیر دیتی ہے۔ اس لیے بعض لوگ اچھی زندگی گزار کر بھی خود کو بدقسمت سمجھتے ہیں اور بعض لوگ تکلیفوں کے بیچ بھی ایک خوب صورت آخری لمس کی وجہ سے اپنے دن کو ابلِ شکر جان لیتے ہیں۔
میں نے اپنی ماں کو بڑھاپے میں یہ حکمت بغیر کسی کتاب کے سمجھتے دیکھا۔ جب گھر میں کوئی تلخی ہو جاتی، وہ شام کو دانستہ کھیر پکا دیتیں یا آنگن میں چارپائیاں ڈال کر سب کو ساتھ بٹھا لیتیں۔ میں ایک دن ہنس کر بولا، "آپ ہر لڑائی کے بعد میٹھا کیوں بناتی ہیں؟" ماں نے کہا، "دن کا آخری ذائقہ اچھا ہونا چاہیے، ورنہ رات دل میں کانٹا لے کر اترتی ہے"۔ اس ایک جملے میں کتنی بڑی دانائی تھی۔ ہم اکثر بحث جیتنے پر زور دیتے ہیں، وہ دل بچانے پر زور دیتی تھیں۔
اور ہاں، یہ بھی سچ ہے کہ آدمی صرف اپنے خیالات سے نہیں بنتا، ماحول بھی اس کے اندر خاموشی سے دستک دیتا رہتا ہے۔ آپ نے دیکھا ہوگا، مسجد سے لوٹتے ہوئے آدمی کا لہجہ کچھ نرم ہوتا ہے۔ اسپتال کی راہداری میں کھڑا شخص خود بخود آہستہ بولنے لگتا ہے۔ بھوک میں معمولی بات پر غصہ بڑھ جاتا ہے، تھکن میں فیصلے خراب ہوتے ہیں، شور میں انصاف کمزور پڑتا ہے۔ ہم خود کو بڑا خودمختار سمجھتے ہیں، مگر سچ یہ ہے کہ جسم کی تھکن، جیب کی تنگی، کمرے کی گھٹن، اردگرد کے لفظ، سب مل کر ہمارے فیصلوں کی شکل بناتے ہیں۔ اس لیے بعض اوقات مسئلہ کردار کا نہیں، حالت کا ہوتا ہے۔
میں اب جب بھی کسی پر فوری رائے قائم کرنے لگتا ہوں تو اپنے آپ سے ایک چھوٹا سا سوال کرتا ہوں: یہ میں دیکھ رہا ہوں یا میرا خوف دیکھ رہا ہے؟ یہ میں سمجھ رہا ہوں یا میری جلد بازی سمجھ رہی ہے؟ یہ سامنے والا واقعی ایسا ہے، یا میں نے اس کے گرد اپنی خواہش، اپنی نفرت، اپنی یاد یا اپنے پرانے زخم کا رنگ چڑھا دیا ہے؟
زندگی نے مجھے یہ نہیں سکھایا کہ دل کی آواز ہمیشہ غلط ہوتی ہے۔ نہیں، دل بھی کئی بار وہ دیکھ لیتا ہے جو دلیل دیر سے سمجھتی ہے۔ مگر دل کو تنہا حاکم بنا دینا بھی دانش مندی نہیں۔ اندر کے ایک گھوڑے کو لگام چاہیے اور دوسرے کو ہمت۔ ایک ہمیں بچاتا ہے، دوسرا ہمیں سنوارتا ہے۔ ایک فوری آگاہی دیتا ہے، دوسرا ہمیں بے انصافی سے روکتا ہے۔ اصل کمال شاید اسی میں ہے کہ آدمی اپنے اندر اٹھتی پہلی لہر کو پہچان لے، مگر اس پر فوراً کشتی نہ چلا دے۔
فیض کا ایک مصرعہ ایسے لمحوں میں دیر تک ساتھ رہتا ہے؎
دل نہ اُمید تو نہیں، ناکام ہی تو ہے
میں اس مصرعے کو یوں سنتا ہوں کہ انسان خطا کار ہے، مگر بے چارہ نہیں۔ وہ اپنے ذہن کی چالیں سمجھ کر تھوڑا بہتر ہو سکتا ہے۔ اگلی بار غصہ آئے تو ایک گھونٹ پانی پی سکتا ہے۔ اگلی بار کسی کے بارے میں رائے بنے تو ایک سوال اور پوچھ سکتا ہے۔ اگلی بار بچے کی کاپی میں سرخ دائرہ دیکھے تو پوری زندگی کا فیصلہ سنانے کے بجائے اس کے سر پر ہاتھ رکھ سکتا ہے۔
آخر میں بات وہی انارکلی کی صبح پر آ ٹھہرتی ہے۔ مجھے آج بھی وہ باپ یاد ہے جس نے ہاتھ اٹھانے کے بجائے سانس لیا تھا۔ بعض اوقات پوری تہذیب اسی ایک سانس میں بچی رہتی ہے۔ گھر، رشتہ، عزت، انصاف، سب کچھ۔ انسان کی بڑائی اس میں نہیں کہ اس کے اندر پہلی آواز کیا اٹھتی ہے، بڑائی اس میں ہے کہ وہ آخری عمل کیا چنتا ہے۔ دنیا تیز فیصلوں سے بھری پڑی ہے، دوست۔ ذرا آہستہ ہو کر جینا بھی عبادت ہی کی ایک صورت ہے۔

