Thursday, 07 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Shahid
  4. Mohsin Khalid Mohsin

Mohsin Khalid Mohsin

محسن خالد محسنؔ

محسن خالد محسنؔ اکیسویں صدی کے اُن سنجیدہ شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے نثری نظم کو محض اظہار کا وسیلہ نہیں بلکہ فکری مکالمے کی صورت عطا کی ہے۔ وہ شاعر بھی ہیں، نقاد بھی، محقق بھی اور معلم بھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں صرف جذبے کی روانی نہیں بلکہ شعور کی تہہ داری بھی نمایاں نظر آتی ہے۔ ان کا اصل نام محمد محسن خالد ہے مگر ادبی دنیا میں محسن خالد محسنؔ کے نام سے پہچانے جاتے ہیں۔ یکم جنوری 1987ء کو ضلع قصور کی تحصیل چونیاں کے نواحی گاؤں رسول پور میں پیدا ہوئے۔ دیہی ماحول صوفیانہ فضا اور گھریلو تہذیبی تربیت نے ان کی شخصیت کی فکری ساخت میں بنیادی کردار ادا کیا۔ والد کے نظم و ضبط اور والدہ کے صوفیانہ ذوق نے ان کے مزاج میں حساسیت اور باطنی گہرائی پیدا کی۔

تعلیم کے سفر میں انہوں نے مسلسل جدوجہد کی اور پی ایچ ڈی اردو تک رسائی حاصل کی۔ تدریسی شعبے سے وابستگی نے ان کے فکری افق کو مزید وسعت دی۔ وہ بطور لیکچرار شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں اور یہی علمی سنجیدگی ان کی شاعری میں بھی جھلکتی ہے۔ ان کی شاعری محض وارداتِ قلبی نہیں بلکہ ایک باشعور انسان کی تہذیبی اور سماجی شہادت ہے۔

اردو نثری نظم کی روایت نسبتاً جدید ہے مگر اس کی فکری بنیادیں بہت گہری ہیں۔ ن م راشدؔ نے اس صنف کو فکری آزادی دی۔ میراجیؔ نے اس میں نفسیاتی پیچیدگی اور تہذیبی شعور شامل کیا۔ مظہر امامؔ نے اس کی نظری تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ بعد ازاں فرحت عباس شاہ، علی محمد فرشی، نصیر احمد ناصر اور دیگر شعرا نے اسے عصری حسیت سے جوڑا۔ نثری نظم کی اصل قوت یہ ہے کہ یہ قافیہ اور بحر کی پابندی سے آزاد ہو کر داخلی آہنگ پیدا کرتی ہے۔ اس میں لفظوں کی موسیقیت کے بجائے معنی کی موسیقیت اہم ہوتی ہے۔

اسی روایت میں محسن خالد محسنؔ کی نظم ایک الگ شناخت رکھتی ہے۔ ان کی نظم نہ مکمل تجرید ہے نہ محض بیانیہ۔ وہ داخلی کرب کو سماجی شعور کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ ان کے ہاں لفظ فنی نمائش کے لیے نہیں آتے بلکہ تجربے کی سچائی سے جنم لیتے ہیں۔ ان کی کتابیں "دُھند میں لپٹی شام، ت لاش، محبت معاہدہ نہیں" اس بات کی واضح مثال ہیں۔

ان کی نظم "وقت کا ہندسہ" ایک گہری سماجی اور اخلاقی بصیرت کی حامل نظم ہے۔ شاعر یہاں محض نصیحت نہیں کرتا بلکہ زندگی کے پیچیدہ نظام کو علامتی پیرائے میں پیش کرتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

"ہتھیلی پر اُترنے والے کبوتر
جب اچانک

پھڑپھڑاہٹ کی جگہ
پھن پھیلا دیں"

یہاں کبوتر امن، اعتماد اور قُربت کی علامت ہیں مگر ان کا سانپ میں بدل جانا انسانی تعلقات کی شکست اور بداعتمادی کی علامت بن جاتا ہے۔ شاعر اس تبدیلی کو محض حادثہ نہیں سمجھتا بلکہ اس کے پس منظر میں غفلت کو دیکھتا ہے۔ وہ کہتا ہے:

"باغ پہلے ویران ہوتا ہے
آسیب بعد میں جنم لیتے ہیں"

یہ مصرع محض شعری حُسن نہیں بلکہ پورا سماجی فلسفہ ہے۔ زوال اچانک نہیں آتا بلکہ اس کے اسباب پہلے پیدا ہوتے ہیں۔ یہی تنقیدی شعور محسن خالد محسنؔ کو ایک سنجیدہ شاعر بناتا ہے۔

"محبت معاہدہ نہیں" ان کی ایک نہایت اہم نثری نظم ہے جس میں جدید انسانی رشتوں کی تلخ حقیقت سامنے آتی ہے۔ شاعر محبت کے رومانوی تصور کو توڑ کر اسے انسانی استعمال اور جذباتی استحصال کے تناظر میں دیکھتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

"میں نے
دل نہیں دیا تھا

میں نے
اپنی پوری ذات

تمہارے حوالے کی تھی"

یہاں محبت محض جذبہ نہیں بلکہ مکمل وجود کی حوالگی ہے۔ دوسری طرف محبوب محبت نہیں استعمال کے ارادے سے آیا تھا۔ یہی جدید عہد کی سب سے بڑی المیہ صورت ہے کہ تعلقات میں خلوص کی جگہ مفاد نے لے لی ہے۔ شاعر کا یہ اعتراف کہ:

"میں نے
استعمال ہونے کو

محبت سمجھ لیا"

محض ذاتی دکھ نہیں بلکہ پورے عہد کی نفسیاتی شکست ہے۔ یہ نظم جدید معاشرے میں تعلقات کی بے روحی کو نہایت شدت سے آشکار کرتی ہے۔

"دل معصوم نہیں" میں شاعر داخلی اخلاقی کشمکش کو موضوع بناتا ہے۔ عام طور پر دل کو معصومیت اور پاکیزگی کی علامت سمجھا جاتا ہے مگر شاعر اس تصور کو چیلنج کرتا ہے۔ وہ لکھتا ہے:

"میرا دل
بہت معصوم ہے

یا شاید
میں نے اِسے

معصوم کہہ کر
اپنی خواہشوں کو

مہذب قید میں رکھا ہے"

یہاں شاعر خود احتسابی کی طرف جاتا ہے۔ وہ اخلاقی سوالات سے فرار نہیں چاہتا بلکہ اپنی ذات کے اندر موجود خواہش اور کمزوری کا سامنا کرتا ہے۔ یہی داخلی سچائی نثری نظم کی اصل روح ہے۔

"دستورِ دنیا" میں شاعر سماجی جبر اور انسانی مجبوری کو موضوع بناتا ہے۔ اس نظم میں ایک فلسفیانہ سکون بھی ہے اور احتجاج بھی۔ وہ لکھتے ہیں:

"ہم اکثر
اپنے انتخاب کے مالک نہیں ہوتے"

یہ مصرع پورے طبقاتی اور سماجی نظام کی عکاسی کرتا ہے۔ انسان کو اپنی تقدیر کا مکمل اختیار نہیں دیا جاتا۔ اسی کے ساتھ شاعر زندگی کے تسلسل کو بھی قبول کرتا ہے۔ وہ دنیا کے نظام کو سورج، چاند اور دل کی مسلسل حرکت سے جوڑتا ہے۔ یہ نظم وجودی فکر اور سماجی حقیقت کے امتزاج کی بہترین مثال ہے۔

"وقت کا فیصلہ" میں شاعر خاموشی کو وقار بناتا ہے۔ آج کے شور زدہ معاشرے میں جہاں ہر شخص فوری صفائی اور فوری فتح چاہتا ہے وہاں شاعر صبر اور وقت کی گواہی پر یقین رکھتا ہے۔ وہ لکھتا ہے:

"وقت
ہاتھ کی لکیروں سے زیادہ گہرا کاتب ہے"

یہ سطر نہایت بامعنی ہے۔ شاعر تقدیر کو جامد نہیں سمجھتا بلکہ وقت کو ایک فعال قوت مانتا ہے جو سچ کو خود نمایاں کر دیتا ہے۔ اس نظم میں اخلاقی استقامت کا درس موجود ہے۔

"باطنی میزان" میں محسن خالد محسنؔ کا فکری شاعر پوری قوت سے سامنے آتا ہے۔ یہ نظم وجود، مذہب، احتساب اور انسانی اختیار کے سوالات کو چھیڑتی ہے۔ شاعر کہتا ہے:

"فیصلہ
کسی دور اُفتادہ آسمان پر نہیں

تمہارے اندر کی میزان پر لکھا جا رہا ہے"

یہاں شاعر خارجی مذہبی نمائشی پن کی بجائے داخلی اخلاقی شعور پر زور دیتا ہے۔ یہی فکر انہیں محض جذباتی شاعر نہیں بلکہ سنجیدہ فکری شاعر بناتی ہے۔

"تم جو چاہو" میں طبقاتی تفاوت اور انسانی امکانات کا مسئلہ زیر بحث آتا ہے۔ شاعر طبقاتی فرق کو تسلیم کرتا ہے مگر اس کے باوجود انسانی ارادے کی قوت کو بھی اہم مانتا ہے۔ وہ لکھتا ہے:

"تم جو چاہو
وہ بننے کی صلاحیت رکھتے ہو"

یہ جملہ محض ترغیب نہیں بلکہ ایک فکری سوال ہے۔ شاعر فرد کو ذمہ داری کا احساس دلاتا ہے کہ امکانات کو حقیقت میں بدلنا خود انسان کا کام ہے۔

محسن خالد محسنؔ کی نثری نظم کا ایک اہم وصف یہ بھی ہے کہ ان کے ہاں علامتیں مصنوعی نہیں۔ "کبوتر، باغ، درخت، کانٹے، بارش، آئینہ اور دل" جیسی علامتیں زندگی کے عام تجربے سے نکلتی ہیں۔ اسی لیے ان کی نظم قاری سے فوری تعلق قائم کرتی ہے۔ وہ پیچیدگی پیدا کرتے ہیں مگر ابہام نہیں۔ ان کے ہاں فلسفہ موجود ہے مگر وہ خشک نہیں ہوتا۔

لسانی سطح پر بھی ان کی نثری نظم قابل توجہ ہے۔ ان کی زبان نہ مکمل کلاسیکی ہے نہ حد سے زیادہ جدید۔ وہ سادہ مگر بااثر زبان استعمال کرتے ہیں۔ مصرعے مختصر ہیں مگر معنی وسیع۔ یہی خصوصیت اچھی نثری نظم کی پہچان ہے۔ ان کے ہاں خطیبانہ شور نہیں بلکہ باطنی ارتعاش ہے۔

ان کی بطور نقاد اور محقق شناخت بھی ان کی شاعری کو مضبوط بناتی ہے۔ تلمیح، محاورہ، کلاسیکی روایت اور غزل کی شعریات پر ان کی تحقیقی کتابیں ثابت کرتی ہیں کہ وہ ادب کو صرف تخلیقی سطح پر نہیں بلکہ نظری سطح پر بھی سمجھتے ہیں۔ یہی شعور ان کی نظم کو سطحی ہونے سے بچاتا ہے۔

محسن خالد محسنؔ کی نثری نظم میں محبت بھی ہے لیکن رومانوی محبت نہیں، احتجاج ہے لیکن نعرہ نہیں، فلسفہ ہے مگر تصنع نہیں۔ یہی توازن انہیں معاصر شعرا میں ممتاز کرتا ہے۔ وہ زندگی کے تلخ حقائق کو قبول کرتے ہیں مگر قنوطیت کا شکار نہیں ہوتے۔ ان کے ہاں دکھ شعور پیدا کرتا ہے اور شکست خود شناسی۔

یہ کہنا بجا ہوگا کہ محسن خالد محسنؔ نثری نظم کے سنجیدہ شاعر ہیں۔ انہوں نے اس صنف کو محض جدیدیت کی نمائشی فضا میں استعمال نہیں کیا بلکہ اسے فکری دیانت اور داخلی سچائی کے ساتھ برتا ہے۔ ان کی نظموں میں معاصر انسان کی بے چینی بھی ہے اور اخلاقی بیداری بھی۔ وہ اردو نثری نظم کی روایت میں ایک معتبر اور قابل توجہ آواز ہیں۔ ان کی شاعری آنے والے وقت میں مزید تنقیدی توجہ کی مستحق ہے کیونکہ وہ محض لفظوں کے شاعر نہیں بلکہ شعور کے شاعر ہیں۔

Check Also

Insaf Ya Intiqam?

By Shair Khan