Sunday, 29 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Sarfaraz
  4. Zulqarnain: Quran Ki Roshni Mein

Zulqarnain: Quran Ki Roshni Mein

ذوالقرنین: قرآن کی روشنی میں

قرآنِ مجید محض عبادات کی کتاب نہیں بلکہ یہ انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے لیے مکمل رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اس میں بیان کیے گئے واقعات اور شخصیات اپنے اندر گہرے اخلاقی، سماجی اور قیادی اسباق رکھتے ہیں۔ انہی میں سے ایک نہایت اہم اور پراثر شخصیت ذوالقرنین کی ہے، جن کا ذکر سورۃ الکہف (آیات 83 تا 101) میں تفصیل سے آیا ہے۔ یہ واقعہ تاریخ، حکمت، قیادت اور ایمان کا حسین امتزاج پیش کرتا ہے۔

ذوالقرنین کی اصل شناخت کے بارے میں مفسرین کے درمیان مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ بعض انہیں سکندرِ اعظم سے جوڑتے ہیں، جبکہ دیگر کے نزدیک وہ ایک نیک اور صالح بادشاہ تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے خاص مشن کے لیے منتخب کیا تھا۔ تاہم قرآنِ مجید کا اسلوب یہ واضح کرتا ہے کہ اصل توجہ ان کی شخصیت یا زمانے پر نہیں بلکہ ان کے کردار، اعمال اور اصولوں پر ہے۔

قرآن کہتا ہے کہ: "ہم نے اسے زمین میں اقتدار دیا اور اسے ہر چیز کا ایک ذریعہ عطا کیا"، اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ذوالقرنین کو نہ صرف سیاسی طاقت بلکہ علم، حکمت اور وسائل بھی عطا کیے گئے تھے۔

ذوالقرنین کی سب سے نمایاں خوبی یہ تھی کہ وہ اپنے اقتدار کو اللہ کی امانت سمجھتے تھے۔ انہوں نے کبھی غرور یا تکبر کا مظاہرہ نہیں کیا بلکہ ہر موقع پر اللہ کی طرف رجوع کیا۔ یہی وہ بنیادی فرق ہے جو ایک عام حکمران اور ایک اللہ کے بندے کے درمیان ہوتا ہے۔

ذوالقرنین کا پہلا سفر مغرب کی طرف تھا جہاں وہ ایک ایسی قوم تک پہنچے جو شاید تہذیبی طور پر کمزور یا مختلف تھی۔ اللہ نے انہیں اختیار دیا کہ وہ چاہیں تو سزا دیں یا نرمی اختیار کریں۔

انہوں نے ایک اصولی اور متوازن فیصلہ کیا: جو ظلم کرے گا، اسے سزا دی جائے گی، جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے، اسے انعام دیا جائے گا۔

یہ فیصلہ ہمیں ایک مکمل عدالتی نظام کی جھلک دکھاتا ہے، جہاں نہ اندھا انتقام ہے اور نہ بے جا نرمی بلکہ مکمل انصاف ہے۔

اپنے دوسرے سفر میں وہ مشرق کی طرف گئے جہاں ایک ایسی قوم آباد تھی جو سورج کی تپش سے بچنے کے لیے کسی قسم کی چھت یا پناہ گاہ نہیں رکھتی تھی۔ یہاں ذوالقرنین نے نہ زبردستی کی، نہ کوئی غیر ضروری مداخلت کی بلکہ حالات کے مطابق معاملہ کیا۔

یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ایک اچھا لیڈر ہر جگہ ایک جیسا طریقہ نہیں اپناتا بلکہ حالات، ثقافت اور ضرورت کے مطابق فیصلے کرتا ہے۔

تیسرے سفر میں ذوالقرنین ایک ایسی قوم تک پہنچے جو زبان کے لحاظ سے کمزور تھی اور اپنے مسائل واضح طور پر بیان نہیں کر سکتی تھی۔ وہ یاجوج و ماجوج کے ظلم و فساد سے تنگ آ چکے تھے اور انہوں نے ذوالقرنین سے مدد طلب کی۔

انہوں نے پیشکش کی کہ وہ انہیں خراج (ٹیکس) دیں گے، لیکن ذوالقرنین نے اسے رد کر دیا اور فرمایا: "جو کچھ میرے رب نے مجھے دیا ہے وہ بہتر ہے"۔

یہ جملہ ایک عظیم سبق دیتا ہے کہ ایک سچا رہنما خدمت کو کاروبار نہیں بناتا بلکہ اسے ذمہ داری سمجھتا ہے۔

ذوالقرنین نے لوگوں کی مدد سے ایک مضبوط دیوار تعمیر کی جس میں لوہے کے بڑے ٹکڑے اور پگھلا ہوا تانبا استعمال کیا گیا۔ یہ دیوار اس قدر مضبوط تھی کہ یاجوج و ماجوج نہ اس پر چڑھ سکے اور نہ اسے توڑ سکے۔

یہاں ہمیں درج ذیل پہلو نظر آتے ہیں: ٹیکنالوجی کا استعمال (لوہا اور تانبا)، اجتماعی کوشش (لوگوں کی شمولیت)، منصوبہ بندی اور حکمت عملی، اللہ پر مکمل بھروسہ۔

دیوار مکمل ہونے کے بعد بھی ذوالقرنین نے فخر نہیں کیا بلکہ فرمایا: "یہ میرے رب کی رحمت ہے"۔

قرآن کے مطابق یاجوج و ماجوج ایک ایسی قوم ہیں جو زمین میں فساد پھیلاتی ہیں۔ ان کا خروج قیامت کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔ ذوالقرنین کی تعمیر کردہ دیوار ایک وقتی رکاوٹ ہے، جو اللہ کے حکم سے ایک دن ختم ہو جائے گی۔

یہ تصور ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ دنیا کی ہر طاقت عارضی ہے اور اصل اختیار صرف اللہ کے پاس ہے۔

ذوالقرنین کی زندگی سے ہمیں کئی اہم اصول ملتے ہیں:

1۔ عدل و انصاف: ہر فیصلہ انصاف پر مبنی ہونا چاہیے، چاہے وہ دشمن کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔

2۔ عاجزی: طاقت ہونے کے باوجود تکبر نہ کرنا بلکہ ہر کامیابی کو اللہ کی طرف منسوب کرنا۔

3۔ خدمتِ خلق: لوگوں کی مدد کو اپنا فرض سمجھنا، نہ کہ ذاتی فائدے کا ذریعہ۔

4۔ حکمت عملی: مسائل کا حل عقل، علم اور منصوبہ بندی کے ساتھ تلاش کرنا۔

5۔ اللہ پر توکل: ہر کام میں اللہ کی مدد اور رہنمائی کو مقدم رکھنا۔

آج کے دور میں جب قیادت اکثر ذاتی مفادات، کرپشن اور طاقت کے غلط استعمال کا شکار ہو جاتی ہے، ذوالقرنین کا کردار ایک روشن مثال ہے۔ ہمیں ایسے لیڈرز کی ضرورت ہے جو: طاقت کو امانت سمجھیں، کمزوروں کا سہارا بنیں، انصاف کو ہر حال میں قائم رکھیں، اپنی کامیابیوں کو اللہ کی طرف منسوب کریں۔

ذوالقرنین کا واقعہ محض ایک تاریخی قصہ نہیں بلکہ ایک مکمل رہنما اصول ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اگر انسان کو اقتدار، علم اور وسائل مل جائیں تو اسے ان کا استعمال اللہ کی رضا اور انسانیت کی بھلائی کے لیے کرنا چاہیے۔

یہی وہ پیغام ہے جو قرآن ہمیں دیتا ہے اور یہی وہ راستہ ہے جو ایک فرد، ایک معاشرے اور ایک امت کو کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔

Check Also

PHD Aur Old Ka Almiya

By Komal Shahzadi