Zahak Bin Almard Ki Noha Gari
ضحاک بن المرد کی نوحہ گری

میرا نام ضحاک ہے اور میں اس وقت کا گواہ ہوں جب زمین پر ہم سے زیادہ طاقتور کوئی نہ تھا۔ میں ارم کے اس عظیم معبد کا نگران تھا جس کی دیواروں پر سونا ایسے مڑھا گیا تھا جیسے شام کی دھوپ پہاڑوں پر اترتی ہے۔ ہم "عاد" تھے، خدا کی وہ مخلوق جسے اس نے پہاڑوں جیسی جثہ اور چٹانوں جیسی جان عطا کی تھی۔ ہمارے قد اتنے بلند تھے کہ ہم عام درختوں کو جھاڑیوں کی طرح جڑ سے اکھاڑ دیتے تھے۔
ہم نے ارم کو ایک ایسی جنت بنایا تھا جس کا تصور بھی محال تھا۔ ہم نے پہاڑوں کو تراش کر ان میں محل بنائے اور زمین کے سینے کو چاک کرکے وہ چشمے نکالے جن کا پانی شہد جیسا میٹھا تھا۔ ہم سمجھتے تھے کہ موت ہمیں چھو کر بھی نہیں گزرے گی، کیونکہ ہم نے اپنی بقا کے لیے پتھروں کو اپنا غلام بنا لیا تھا۔
حق کی پکار اور ہماری سرکشی
ایک دن ہمارے درمیان ہود (علیہ السلام) کھڑے ہوئے۔ وہ ہم ہی میں سے تھے، مگر ان کی آنکھوں میں وہ دنیا دکھائی دیتی تھی جس سے ہم غافل تھے۔
انہوں نے دربار میں بلند آواز سے کہا: "اے میری قوم! تم کیوں ان چیزوں کی عبادت کرتے ہو جو نہ دیکھ سکتی ہیں نہ سن سکتی ہیں؟ اس رب کی طرف پلٹ آؤ جس نے تمہیں یہ قوت بخشی۔ تم ہر اونچی جگہ پر فضول ایک یادگار تعمیر کرتے ہو اور مضبوط قلعے بناتے ہو گویا تمہیں ہمیشہ یہاں رہنا ہے"۔
میں، ضحاک، تخت کے دائیں جانب کھڑا تھا۔ میں نے ایک طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ ان کی طرف دیکھا اور کہا:
"اے ہود! کیا تم یہ چاہتے ہو کہ ہم ان دیوتاؤں کو چھوڑ دیں جنہوں نے ہمیں یہ خوشحالی دی؟ تم ہمیں ایک ایسے ان دیکھے رب سے ڈراتے ہو جو ہم سے ہماری یہ آزادی چھین لے گا؟ دیکھو یہ ستون، دیکھو یہ بازو! اگر تمہارا رب ہم پر کچھ نازل کرنا چاہتا ہے، تو اسے کہو کہ دیر نہ کرے۔ ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ وہ ہمیں کیسے نیچا دکھاتا ہے"۔
ہود (علیہ السلام) کے چہرے پر غم کی لہر دوڑ گئی۔ "میں تم سے کوئی بدلہ نہیں مانگتا، میرا اجر تو اس کے پاس ہے جس نے مجھے پیدا کیا۔ مگر یاد رکھو، جب اللہ کی پکڑ آتی ہے تو پھر کوئی قلعہ، کوئی پہاڑ اور کوئی کاہن بچانے والا نہیں ہوتا"۔
ہم نے ان کا تمسخر اڑایا۔ نوجوانوں نے ان پر پتھر پھینکے اور سرداروں نے انہیں دیوانہ قرار دے دیا۔ ہماری سرکشی اس حد تک بڑھ گئی کہ ہم نے غریبوں پر ظلم کرنا اور کمزوروں کو کچلنا اپنا کھیل بنا لیا۔
پھر وہ وقت آیا جب آسمان نے اپنا رزق روک لیا۔ ایک سال گزرا، دو سال اور پھر تیسرا سال۔ زمین تپ کر تانبا بن گئی۔ ہمارے ہرا بھرا ارم اب دھول اڑا رہا تھا۔ جانور مرنے لگے اور ہمارے وہ عظیم الشان باغات، جن کی ٹھنڈک دور دور تک مشہور تھی، خشک لکڑیوں کا ڈھیر بن گئے۔
ہم معبدوں میں گئے، اپنے بتوں کے سامنے سجدہ ریز ہوئے، قربانیاں دیں، مگر آسمان خاموش رہا۔ ہود (علیہ السلام) اب بھی پکار رہے تھے: "توبہ کرو، ابھی بھی وقت ہے!" مگر ہم نے کہا کہ یہ محض موسم کا ایک چکر ہے جو جلد گزر جائے گا۔
پھر ایک دوپہر، جب گرمی اپنی حدوں کو چھو رہی تھی، افق پر ایک سیاہ لکیر نمودار ہوئی۔
"وہ دیکھو!" ایک پہرے دار نے معبد کے مینار سے پکارا۔ "مغرب کی سمت سے گھٹا اٹھ رہی ہے!"
پورے شہر میں ایک شور مچ گیا۔ لوگ گھروں سے باہر نکل آئے۔ وہ بادل اتنا عظیم تھا کہ اس نے سورج کی روشنی کو نگل لیا۔ حبس زدہ فضا میں ایک ٹھنڈی لہر آئی۔ میں نے اپنے ساتھی کاہنوں سے کہا: "دیکھا! ہمارے دیوتاؤں نے ہماری سن لی۔ یہ بادل ہمارے لیے سیرابی لایا ہے۔ آج ارم کی پیاس بجھ جائے گی"۔
ہم نے جشن کی تیاری شروع کر دی۔ ڈھول بجنے لگے، ناچ گانا شروع ہوگیا۔ ہم بادلوں کی طرف دیکھ کر ہنس رہے تھے اور ہود (علیہ السلام) کا مذاق اڑانے کے لیے ان کے گھر کی طرف بڑھے۔
جیسے ہی وہ بادل بستی کے اوپر پہنچا، ایک عجیب سی خاموشی چھا گئی۔ پرندے ساکت ہو گئے اور ہوا جیسے رک گئی۔
پھر اچانک، بادل کے پیٹ سے ایک آواز نکلی۔ وہ کڑک نہیں تھی، وہ ایک "چنگھاڑ" تھی۔ ایک ایسی ہولناک چیخ جس نے کانوں کے پردے پھاڑ دیے۔
ہود (علیہ السلام) کی آواز آئی: "بھاگو! یہ وہ نہیں جو تم سمجھ رہے ہو! یہ وہ عذاب ہے جس کی تم نے جلدی مچائی تھی! اس میں دردناک ہوا ہے!"
پہلا جھونکا جب لگا، تو زمین لرز اٹھی۔ وہ ہوا نہیں تھی، وہ ایک ان دیکھی تلوار تھی جو ہر چیز کو کاٹ رہی تھی۔ میں نے دیکھا کہ ارم کے سب سے بڑے ستون، جنہیں ہم نے ہزاروں سال کی مضبوطی دی تھی، ایسے کڑک کر ٹوٹے جیسے سوکھی ٹہنیاں ہوں۔
"اندر چھپ جاؤ!" میں نے چیخ کر کہا۔ "پہاڑوں کی غاروں میں چلو!"
مگر ہوا ان غاروں کے اندر بھی ناگن کی طرح گھس رہی تھی۔ وہ اتنی سرد تھی کہ جس انسان کو چھوتی، اس کا خون وہیں جم جاتا۔ وہ ہوا ہمیں زمین سے ایسے اٹھاتی جیسے ہم انسان نہیں بلکہ پروں کے گچھے ہوں۔
وہ عذاب ایک گھنٹے یا ایک دن کا نہیں تھا۔ وہ سات راتیں اور آٹھ دن کا طویل جہنم تھا۔
دوسری رات تک، ارم کے تمام چراغ بجھ چکے تھے۔ صرف ہوا کی وہ "سرسر" سنائی دیتی تھی۔ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ میرے قبیلے کے وہ جوان، جن کے ایک ہاتھ کے اشارے سے دیواریں گر جاتی تھیں، ہوا میں معلق تھے۔ ہوا انہیں بلندی پر لے جاتی، انہیں گھماتی اور پھر ایسے زور سے زمین پر پٹختی کہ ان کے سر تن سے جدا ہو جاتے۔
میں ایک گہرے تہہ خانے میں چھپا ہوا تھا، جہاں پتھروں کی سات تہیں تھیں۔ وہاں بھی ہوا کی آواز ایک بین کی طرح سنائی دے رہی تھی۔ مجھے اپنے ان ساتھیوں کی چیخیں سنائی دے رہی تھیں جو ابھی کچھ دیر پہلے میرے ساتھ ہنس رہے تھے۔ ان کی آوازیں آہستہ آہستہ ختم ہوتی گئیں اور ان کی جگہ صرف ہوا کی مہیب گرج نے لے لی۔
آٹھویں دن کی صبح، جب ہوا تھمی، تو کائنات میں ایسی خاموشی تھی جو موت سے بھی زیادہ بھیانک تھی۔
میں ملبے سے باہر نکلا۔ میرا جسم زخموں سے چور تھا، میرے بال سفید ہو چکے تھے۔ میں نے ارم کی طرف دیکھا۔۔ مگر ارم وہاں نہیں تھا۔ وہاں صرف ریت کے ڈھیر تھے اور ٹوٹے ہوئے ستونوں کے مہرے تھے۔ وہ عظیم الشان شہر، جس پر ہمیں ناز تھا، ایسے مٹ گیا تھا جیسے وہ کبھی تھا ہی نہیں۔
میں نے دیکھا، دور افق پر ہود (علیہ السلام) اور ان کے چند ایمان والے ساتھی محفوظ کھڑے تھے۔ وہ اس طوفان سے ایسے بچ گئے تھے جیسے اللہ نے ان کے گرد ایک حفاظتی حصار کھینچ دیا ہو۔
میں، ضحاک بن المرد، ارم کا سب سے بڑا عالم اور کاہن، اب صرف ایک زندہ لاش تھا۔ میں نے اللہ کے نبی کو پکارنا چاہا، مگر میری زبان گنگ تھی۔ میں نے سمجھ لیا تھا کہ جب انسان خالق کو چھوڑ کر اپنی بنائی ہوئی مخلوق اور اپنی طاقت پر بھروسہ کرتا ہے، تو قدرت اسے زمین کا پیوند بنا دیتی ہے۔
آج میری داستان ان لوگوں کے لیے ہے جو آسمان کی طرف سر اٹھا کر چلتے ہیں۔ یاد رکھو، وہ بادل جو آج تمہیں زندگی کی امید دے رہے ہیں، اگر رب کا حکم ہو، تو وہی تمہارا کفن بھی بن سکتے ہیں۔ قومِ عاد اب قصوں میں ہے، مگر وہ ہوا آج بھی کہیں نہ کہیں سفر کر رہی ہے، ان لوگوں کی تلاش میں جو زمین پر فساد مچاتے ہیں۔
یہ قصہ سناتے ہوئے
قرآن کے وہ الفاظ میرے ذہن میں ہتھوڑے۔ کی طرح برس رہے تھے: "فَتَرَى الُقَوُمَ فِيهَا صَرُعَىٰ كَأَنَّهُمُ أَعُجَازُ نَخُلٍ خَاوِيَةٍ" (تم ان لوگوں کو وہاں ایسے گرا ہوا دیکھتے جیسے وہ کھجور کے کھوکھلے تنے ہوں)۔

