Sicily Ki Faseelon Talay Lihi Gayi Aik Akhri Dastan
صقلیہ کی فصیلوں تلے لکھی گئی ایک آخری داستان

معرکہ سراقوسہ (Syracuse) کا میدان: جہاں وقت تھم گیا ہے۔
باہر موت کا رقص جاری ہے اور یہاں خیمے کے اندر، ایک مدہم جلتے ہوئے چراغ کی روشنی میں، میں اپنی زندگی کی آخری اور سب سے کٹھن جنگ لڑ رہا ہوں۔ یہ جنگ کسی بازنطینی سورما کے خلاف نہیں، بلکہ اس لاعلاج وبائی مرض (طاعون) کے خلاف ہے جو میرے بوڑھے جسم کو اندر ہی اندر دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ میرے بستر کے قریب رکھی میری پرانی، کئی مقامات سے زخمی تلوار اور کاغذات کا وہ پلندہ پڑا ہے جس پر میں نے سالہا سال فقہ کے پیچیدہ مسائل درج کیے تھے۔
جب میں خیمے کا پردہ ہٹا کر باہر دیکھتا ہوں، تو مجھے سراقوسہ (Syracuse) کے بلند و بالا، سنگین قلعے کی فصیلیں نظر آتی ہیں۔ یہ صقلیہ (Sicily) کا وہ مضبوط ترین قلعہ ہے جس کے سامنے میری قیادت میں مسلم فوج مہینوں سے ڈیرے ڈالے ہوئے ہے۔ ہوا میں سمندر کی نمکین بو، بارود، خون اور جلتی ہوئی لکڑیوں کا دھواں رچ بس گیا ہے۔ فصیلوں پر بازنطینی سپاہی مستعد کھڑے ہیں اور نیچے میرے غازی، میرے شاگرد اور افریقہ کے تپتے صحراؤں سے آئے ہوئے وہ مجاہدین موجود ہیں جنہوں نے میری ایک پکار پر لبیک کہا تھا۔
میری عمر اس وقت ستر برس کے قریب ہے۔ سفید داڑھی، چہرے پر پڑی جھریاں اور کمزور ہڈیاں گواہی دیتی ہیں کہ میرا سفر اب ختم ہونے کو ہے۔ باہر میدانِ جنگ سے نعرہ ہائے تکبیر کی صرصراتی آوازیں آ رہی ہیں۔ منجنیقوں سے گرنے والے بھاری پتھروں کی دھمک زمین کو ہلا رہی ہے۔ اس ہنگامے میں، جب موت مجھ سے چند قدم کے فاصلے پر کھڑی مسکرا رہی ہے، میرا ذہن ماضی کے دھندلکوں میں اترتا چلا جا رہا ہے۔ مجھے صقلیہ کے اس ساحل پر پہنچنے سے پہلے کی وہ زندگی یاد آ رہی ہے، جو کتابوں، مدرسوں اور علمِ دین کی خوشبو سے مہکتی تھی۔
میری پیدائش سنہ 142 ہجری (759 عیسوی) میں افریقہ کے ساحلی خطے، حران (موجودہ تیونس) میں ہوئی تھی۔ میرا خاندان اصل میں نیشاپور (خراسان) سے تعلق رکھتا تھا، لیکن قسمت ہمیں مغربِ اسلامی کی اس مٹی پر لے آئی۔ بچپن ہی سے میرے دل میں کتابوں اور علم کے لیے ایک بے پناہ تڑپ تھی۔ جب میری عمر ابھی چھوٹی تھی، تو میرے والد مجھے لے کر تونس منتقل ہو گئے، جہاں میں نے قرآنِ کریم، حدیث اور ابتدائی اسلامی علوم حاصل کیے۔
مجھے یاد ہے وہ دن جب میں تونس کی مسجدوں کے ستونوں سے ٹیک لگائے گھنٹوں اساتذہ کے لیکچر سنتا تھا، لیکن میرا دل مطمئن نہیں ہوتا تھا۔ علم کا جو سمندر میرے اندر موجزن تھا، وہ وسعتیں مانگتا تھا۔ چنانچہ، اپنی جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی میں نے ایک بڑا فیصلہ کیا۔ میں نے اپنا رختِ سفر باندھا اور مشرق کی طرف نکل پڑا، اس علمِ نافع کی تلاش میں جو انسان کے باطن کو روشن کرتا ہے۔
میرا پہلا پڑاؤ مدینہ منورہ تھا، جہاں علمِ نبوت کا چشمہ ابل رہا تھا۔ وہاں میری ملاقات کائنات کے عظیم ترین فقیہ اور محدث، امام مالک بن انس سے ہوئی۔ وہ منظر آج بھی میری آنکھوں کے سامنے ابل رہا ہے جب میں مسجدِ نبوی میں امام مالک کے سامنے زانوئے تلمذ طے کیے بیٹھا تھا۔ ان کا رعب، ان کی علمی ہیبت اور احادیثِ رسول ﷺ کے لیے ان کا احترام بے مثال تھا۔ میں نے ان سے ان کی شہرہ آفاق کتاب "الموطا" پڑھی۔ میں ان سے بحث کرتا، سوالات پوچھتا اور وہ میری علمی پیاس کو دیکھ کر مسکراتے اور فرماتے: "نوجوان، تمہارا مستقبل بہت روشن ہے!"
لیکن میں صرف حجاز کے علم پر رکنے والا نہیں تھا۔ مدینہ کے بعد میں نے عراق کا رخ کیا، جو اس وقت عقلی اور فقہی علوم کا گڑھ بن چکا تھا۔ کوفہ اور بغداد میں، میں نے امام ابو حنیفہ کے مایہ ناز شاگرد، امام محمد بن حسن الشیبانی کی شاگردی اختیار کی۔ امام محمد کے پاس بیٹھ کر میں نے فقہِ حنفی کی باریکیاں سیکھیں۔ وہ راتوں کو چراغ جلائے میرے ساتھ بیٹھتے اور ہم فقہ کے پیچیدہ مسائل پر بحث کرتے۔ بعض اوقات پوری رات گزر جاتی اور ہمیں صبح کی اذان چونکا دیتی۔
میں نے مدینہ میں رہ کر حجاز کا روایتی علم (اہلِ حدیث) حاصل کیا اور عراق میں رہ کر اہلِ رائے (حنفی فقہ) کی گہرائی حاصل کی۔ میں ایک ایسا پل بن چکا تھا جو اسلام کے دو بڑے علمی مکاتبِ فکر کو آپس میں جوڑ رہا تھا۔ عراق سے میں مصر گیا، جہاں میں نے امام شافعی کے شاگردوں اور امام مالک کے دیگر اصحاب سے ملاقاتیں کیں اور پھر علم کا یہ بے پناہ خزانہ سمیٹ کر میں واپس اپنے وطن، افریقہ (تیونس) لوٹ آیا۔
جب میں قیروان (تیونس کا دارالخلافہ) پہنچا، تو میری علمی شہرت مجھ سے پہلے وہاں پہنچ چکی تھی۔ قیروان کی جامع مسجد میں میری مسند لگائی گئی۔ افریقہ، اندلس اور مراکش کے کونے کونے سے طلبہ میری درسگاہ میں آنے لگے۔ میں نے ایک کتاب مرتب کی، جس کا نام تلامذہ نے میرے نام پر رکھا، جو آگے چل کر مالکی فقہ کا ایک بنیادی ستون بنی۔
امیرِ افریقہ، جو خاندانِ اغلب (Aghlabids) سے تھے، میری علمی وجاہت سے اس قدر متاثر ہوئے کہ انہوں نے مجھے قیروان کا قاضی القضاہ (چیف جسٹس) مقرر کر دیا۔ مسندِ قضا پر بیٹھنا میرے لیے کوئی اعزاز نہیں بلکہ ایک بھاری ذمہ داری تھی۔ میں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اس کرسی پر بیٹھ کر کبھی کسی ظالم کی حمایت نہیں کروں گا، خواہ وہ وقت کا امیر ہی کیوں نہ ہو۔
کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ امیرِ وقت اور شاہی خاندان کے افراد کے خلاف عام شہریوں نے مقدمات دائر کیے۔ شاہی اہلکار میرے پاس سفارشیں لے کر آتے، مجھے ڈراتے، دھمکاتے، لیکن میری زبان پر صرف اللہ کا خوف اور دل میں عدل کا جذبہ ہوتا تھا۔ میں نے شاہی محل کے قریبی لوگوں کے خلاف فیصلے دیے اور مظلوموں کو ان کا حق دلایا۔ اس کے نتیجے میں شاہی دربار مجھ سے نالاں رہنے لگا، لیکن عوام کے دلوں میں میری محبت ایک سمندر کی طرح ٹھاٹھیں مار رہی تھی۔ میں ایک بوڑھا فقیہ تھا، جس کا سلاحِ جنگ اس کا قلم اور اس کا عدل تھا۔ لیکن تقدیر نے میرے لیے ایک بالکل مختلف میدان چن رکھا تھا۔
سنہ 211 ہجری (826 عیسوی) کا واقعہ ہے، جب قیروان کے دربار میں ایک عجیب و غریب واقعہ پیش آیا۔ بازنطینی سلطنت کا ایک اعلیٰ بحری کمانڈر، جس کا نام یو فیمیوس (Euphemius) تھا، صقلیہ (Sicily) کے بازنطینی گورنر کے خلاف بغاوت کرکے بھاگتا ہوا ہمارے پاس آیا۔ اس نے امیرِ افریقہ، زیادۃ اللہ اغلب سے ملاقات کی اور پیشکش کی کہ اگر مسلمان صقلیہ پر حملہ کریں، تو وہ اندرونی راستے بتائے گا اور جزیرے پر مسلمانوں کا قبضہ کروا دے گا، بشرطیکہ اسے وہاں کا باجگزار حکمران بنا دیا جائے۔
امیر زیادۃ اللہ اغلب اس پیشکش کو سن کر تذبذب کا شکار ہو گئے۔ صقلیہ بحیرہ روم کا سب سے اہم، بڑا اور مضبوط جزیرہ تھا، جو بازنطینی سلطنت کا دفاعی حصار تھا۔ وہاں حملہ کرنا کوئی معمولی بات نہیں تھی۔ امیر نے قیروان کے تمام علماء، فقہاء اور عمائدینِ سلطنت کی ایک بڑی مجلسِ شوریٰ بلائی۔ اس مجلس میں، میں بھی قاضی کی حیثیت سے موجود تھا۔
دربار میں بحث چھڑ گئی۔ کچھ لوگ کہہ رہے تھے کہ یہ ایک جال ہو سکتا ہے، کچھ کا خیال تھا کہ ہمارے پاس اتنی بڑی بحری قوت نہیں کہ ہم بازنطینیوں کا مقابلہ ان کے گڑھ میں جا کر کریں۔ میں خاموشی سے سب کی گفتگو سن رہا تھا۔ جب میری باری آئی، تو میں نے کھڑے ہو کر مجلس سے خطاب کیا۔ میری آواز میں وہ جلال تھا جو برسوں کے علمی مطالعے اور سچائی سے پیدا ہوتا ہے۔
میں نے کہا: "اے امیر اور اے لوگو! یہ جزیرہ صقلیہ ایک طویل عرصے سے مسلمانوں کے ساحلوں کے لیے ایک ناسور بنا ہوا ہے۔ وہاں کے عیسائی بحری قزاق ہمارے شہروں پر حملے کرتے ہیں، ہمارے بچوں اور عورتوں کو غلام بناتے ہیں۔ آج اللہ نے خود ان کے اندر پھوٹ ڈال دی ہے اور دشمن کا ایک بڑا کمانڈر ہمارے دروازے پر مدد کا طالب ہے۔ یہ تاریخ کا سنہری موقع ہے کہ ہم بحیرہ روم میں اسلام کا پرچم بلند کریں اور بازنطینیوں کے غرور کو خاک میں ملا دیں۔ ہمیں اس مہم پر روانہ ہونا چاہیے!"
میری اس ولولہ انگیز تقریر نے پورے دربار کا ماحول بدل دیا۔ بزدلی اور تذبذب کے بادل چھٹ گئے۔ امیر زیادۃ اللہ اغلب نے میری طرف دیکھا، ان کی آنکھوں میں ایک عجیب چمک تھی۔ انہوں نے کہا: "اے فقیہِ اعظم! آپ کی بات سچی ہے۔ لیکن اس مہم کی قیادت کون کرے گا؟ یہ کوئی عام جنگ نہیں، اس کے لیے ایک ایسی شخصیت کی ضرورت ہے جس پر عوام اور سپاہ دونوں یکساں بھروسہ کرتے ہوں، جس کا تقویٰ اور عزم غیر متزلزل ہو"۔
پھر انہوں نے جو فیصلہ سنایا، اس نے مجھے چونکا دیا۔ امیر نے بلند آواز میں کہا: "میں اس عظیم اسلامی لشکر کا امیرِ کارواں اور سپہ سالارِ اعظم آپ کو مقرر کرتا ہوں!"
دربار میں ایک لمحے کے لیے سناٹا چھا گیا۔ میں، جو اپنی عمر کے سترویں سال میں داخل ہو رہا تھا، جس نے پوری زندگی مسجد کے حصیر پر بیٹھ کر کتابوں کے صفحات پلٹتے گزاری تھی، اب مجھے ایک ایسے بحری بیڑے کی کمانڈ کرنی تھی جو تاریخ کی سب سے بڑی مہم جوئی پر جا رہا تھا۔ میں نے سر جھکایا، اپنے رب کو یاد کیا اور سوچا کہ اگر اللہ نے میری زندگی کے آخری ایام کے لیے قلم کی جگہ تلوار کا انتخاب کیا ہے، تو میں اس کی راہ میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے سے کیسے پیچھے ہٹ سکتا ہوں؟
مہم کی تیاریاں شروع ہوگئیں۔ قیروان اور اس کے ارد گرد کے علاقوں میں جب یہ خبر پھیلی کہ ان کا بوڑھا قاضی اور فقیہ خود تلوار اٹھا کر جہاد کے لیے جا رہا ہے، تو پورے ملک میں ایک تہلکہ مچ گیا۔ وہ طلبہ جو میری درسگاہ میں حدیث کے اصول سیکھتے تھے، انہوں نے کتابیں بند کیں اور تلواریں خرید لیں۔ افریقہ کے دور دراز صحراؤں سے بربر قبائل، عرب گھڑ سوار اور عام مسلمان جوق در جوق قیروان پہنچنے لگے۔ ایک ایسا لشکر تیار ہوگیا جس کی مثال پہلے نہیں ملتی تھی، یہ علم اور جہاد کا ایک انوکھا سنگم تھا۔
جون 827 عیسوی (ربیع الاول 212 ہجری) کا وہ دن میں کبھی نہیں بھول سکتا، جب ہمارا لشکر سوسہ (Susa) کی بندرگاہ پر جمع تھا۔ سو سے زائد جنگی جہاز ساحل پر لنگر انداز تھے، جن پر پندرہ ہزار سے زائد مجاہدین سوار ہو چکے تھے۔ ساحل پر لاکھوں کا مجمع تھا جو ہمیں الوداع کہنے آیا تھا۔ لوگ رو رہے تھے، دعائیں مانگ رہے تھے۔
میں اپنے سفید گھوڑے پر سوار، چمکتی ہوئی جِلو میں، سپہ سالار کے لباس میں لشکرکے سامنے آیا۔ میری سفید داڑھی ہوا میں لہرا رہی تھی۔ میں نے مجمع کی طرف دیکھا، جہاں میرے بوڑھے ساتھی، علماء اور عام لوگ کھڑے تھے۔ میں نے بلند آواز میں ان سے الوداعی خطاب کیا:
"اے لوگو! تم دیکھ رہے ہو کہ میرے اس بوڑھے چہرے پر جھریاں آ چکی ہیں اور میری ہڈیاں کمزور ہو چکی ہیں۔ تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جس کا مجھ پر علمی یا خاندانی حق نہ ہو۔ خدا کی قسم! میں نے کبھی دنیا کی مال و دولت کے لیے یہ سفر اختیار نہیں کیا۔ میں نے اپنی زندگی علم کی تلاش میں گزاری اور اب میں اس علم پر عمل کرنے جا رہا ہوں۔ میں اندلس اور مشرق کے حکمرانوں کو دیکھتا تھا کہ وہ فتوحات کرتے ہیں اور مجھے رشک آتا تھا۔ آج اللہ نے مجھے یہ موقع دیا ہے۔ اگر میں زندہ لوٹ آیا، تو ہم علم کی نئی شمعیں جلائیں گے اور اگر میں شہید ہوگیا، تو میری روح صقلیہ کے ساحلوں پر اسلام کی فتح کی گواہی دے گی!"
میری گفتگو سن کر ساحل پر موجود لاکھوں انسان زار و قطار رونے لگے۔ نعرہ تکبیر بلند ہوا جس سے سوسہ کے پہاڑ لرز اٹھے۔ میں نے اپنے جہاز پر قدم رکھا، لنگر اٹھائے گئے اور ہمارا بحری بیڑا نیلگوں سمندر کی لہروں کو چیرتا ہوا صقلیہ کی طرف روانہ ہوگیا۔
تین دن کے بحری سفر کے بعد، ہمارے جہازوں کو صقلیہ کا ساحل نظر آیا۔ ہم نے جزیرے کے مغربی کنارے پر واقع ایک شہر مازارا ڈیل ویلو (Mazara del Vallo) کے ساحل پر لنگر گرائے۔ یہ صقلیہ کی مٹی پر مسلمانوں کا پہلا باقاعدہ اور تاریخی قدم تھا۔
جیسے ہی میں جہاز سے نیچے اترا، میں نے سجدہ شکر ادا کیا۔ بازنطینیوں کو ہماری آمد کی خبر مل چکی تھی، لیکن وہ حیران تھے کہ مسلمانوں کا یہ لشکر کسی عام لٹیرے یا قزاق کا نہیں، بلکہ ایک منظم فوج کا ہے جس کی قیادت ایک بوڑھا عالم کر رہا ہے۔ مازارا کے حکام نے مزاحمت کی کوشش کی، لیکن ہمارے مجاہدین کے جذبے کے سامنے وہ ٹک نہ سکے۔ چند ہی دنوں میں مازارا پر اسلام کا پرچم لہرا رہا تھا اور میں نے وہاں پہلی بار نمازِ جمعہ قائم کی، جہاں خطبے میں اللہ کے نام کے ساتھ عدل و انصاف کا اعلان کیا گیا۔
تاہم، صقلیہ کو فتح کرنا اتنا آسان نہیں تھا۔ یہ جزیرہ پہاڑوں، گھنے جنگلات اور مضبوط قلعوں سے بھرا ہوا تھا۔ بازنطینی سلطنت نے اپنی پوری قوت کو مجتمع کرنا شروع کر دیا۔ بازنطینی شہنشاہ مائیکل دوم نے قسطنطنیہ سے ایک بڑا بحری بیڑا اور تازہ دم فوج صقلیہ کے گورنر کی مدد کے لیے روانہ کر دی۔
ہم مازارا سے آگے بڑھے، تو صقلیہ کے داخلی راستوں پر بازنطینی سپہ سالار بلاطہ (Balata) ایک عظیم الشان لشکرکے ساتھ ہمارا راستہ روکے کھڑا تھا۔ اس کی فوج ہماری فوج سے دگنی تھی اور ان کے پاس بہترین زرہ پوش گھڑ سوار تھے۔
جنگ شروع ہونے سے پہلے، میرے کچھ نوجوان کمانڈرز میرے خیمے میں آئے۔ ان کے چہروں پر تشویش تھی۔ انہوں نے کہا: "اے قاضی صاحب! دشمن کی تعداد بہت زیادہ ہے اور ہماری پشت پر سمندر ہے۔ اگر ہم ہار گئے تو ہمارا بچنا نامکن ہے۔ کیا یہ بہتر نہیں کہ ہم تھوڑا پیچھے ہٹ جائیں؟"
میں نے اپنی تلوار میان سے نکالی اور ان کی طرف دیکھا۔ میری آنکھوں میں وہ عزم تھا جو موت کے خوف سے بے نیاز ہوتا ہے۔ میں نے کہا: "کیا تم اس بوڑھے سے بزدلی کی امید رکھتے ہو؟ میں نے امام مالک سے حدیث پڑھی ہے کہ اللہ کی راہ میں ایک دن کا قیام دنیا اور مافیہا سے بہتر ہے۔ اگر ہم پیچھے ہٹے، تو دشمن ہمیں سمندر میں غرق کر دے گا۔ ہماری نجات صرف آگے بڑھنے اور فتح حاصل کرنے میں ہے۔ تم میدان میں صرف میری تلوار دیکھنا، اگر یہ بوڑھا سپاہی پیچھے ہٹے، تو تم بھی ہٹ جانا!"
جنگِ بلاطہ شروع ہوئی۔ یہ ایک ہولناک معرکہ تھا۔ بازنطینی گھڑ سواروں نے ہمارے لشکر پر شدید دباؤ ڈالا۔ ایک وقت ایسا آیا کہ ہماری صفیں اکھڑنے لگیں۔ اس نازک لمحے پر، میں نے اپنا گھوڑا آگے بڑھایا۔ میں نے اپنی زرہ پر امام مالک کی الموطا کا ایک نسخہ باندھ رکھا تھا اور میرے ہاتھ میں چمکتی ہوئی تلوار تھی۔ میں نے بلند آواز میں نعرہ لگایا: "اے قرآن کے حافظو! اے علم کے طالبو! آج تمہارا استاد تمہارے سامنے لڑ رہا ہے، آگے بڑھو اور جنت کے دروازے کھول دو!"
میری یہ پکار سن کر مجاہدین کے اندر ایک نئی روح پھونک دی گئی۔ میرے شاگرد، جو کبھی مسجد میں قلم چلاتے تھے، اب دشمن کی صفوں کو چیرتے چلے گئے۔ میں خود صفِ اول میں لڑ رہا تھا، میری تلوار بازنطینی سپاہیوں کے وار روک رہی تھی اور ان پر کاری ضربیں لگا رہی تھی۔ عیسائی سپہ سالار بلاطہ نے جب دیکھا کہ ایک بوڑھا شخص موت سے بے پرواہ ہو کر ان کی فوج کو تباہ کر رہا ہے، تو اس کے حوصلے پست ہو گئے۔ بازنطینی فوج میں بھگدڑ مچ گئی، بلاطہ میدانِ جنگ سے بھاگ کھڑا ہوا اور بعد میں اطالیہ (اٹلی) بھاگتے ہوئے مارا گیا۔ یہ ہماری پہلی بڑی اور فیصلہ کن فتح تھی۔
بلاطہ کی شکست کے بعد، صقلیہ کا دل یعنی اس کا دارالخلافہ سراقوسہ (Syracuse) ہمارے سامنے تھا۔ یہ ایک ساحلی شہر تھا، جس کے گرد دنیا کی سب سے مضبوط فصیلیں بنی ہوئی تھیں اور اسے سمندر کی طرف سے بھی تحفظ حاصل تھا۔ ہم نے سنہ 212 ہجری کے اواخر میں سراقوسہ کا محاصرہ شروع کر دیا۔
یہ محاصرہ میری زندگی کی سب سے بڑی آزمائش بن گیا۔ مہینے گزرتے گئے، لیکن قلعے کی فصیلیں ٹس سے مس نہ ہوئیں۔ بازنطینیوں نے قلعے کے اندر رصد کا بڑا ذخیرہ کر رکھا تھا، جبکہ باہر ہمارے پاس خوراک کی کمی ہونے لگی۔ موسمِ سرما کی سرد ہوائیں اور سمندری طوفان ہمارے خیموں کو اکھاڑ دیتے۔ بازنطینیوں کے جنگی جہاز مسلسل قسطنطنیہ سے آ کر قلعے کے اندر مدد پہنچا رہے تھے، جبکہ ہمیں افریقہ سے کوئی مدد نہیں مل پا رہی تھی۔
اس طویل محاصرے کے دوران، دشمن کی فوج نے کئی بار قلعے سے باہر نکل کر رات کے اندھیرے میں ہمارے کیمپوں پر شب خون مارا۔ ایسے ہی ایک شب خون کے دوران، بازنطینی سپاہیوں نے میرے خیمے پر حملہ کر دیا۔ میں نیند سے بیدار ہوا، اپنی تلوار اٹھائی اور تنِ تنہا تین بازنطینی زرہ پوش سپاہیوں کا مقابلہ کیا۔ اللہ نے مجھے وہ طاقت دی کہ میں نے ان میں سے دو کو وہیں ڈھیر کر دیا اور تیسرا بھاگ کھڑا ہوا۔ میرے سپاہی جب دوڑتے ہوئے آئے، تو انہوں نے دیکھا کہ ان کا ستر سالہ سالار خون آلود تلوار ہاتھ میں لیے کھڑا تھا اور اس کے چہرے پر ذرہ برابر بھی خوف نہیں تھا۔
لیکن اب، سراقوسہ کی فصیلوں کے سائے تلے، ایک ایسا دشمن آ پہنچا ہے جس کے خلاف میری تلوار بے کار ہے۔ محاصرے کو کئی ماہ گزر چکے ہیں اور گرمی کا موسم شروع ہوتے ہی لشکر میں ایک ہولناک وبائی مرض، طاعون، پھیل گیا ہے۔
یہ بیماری کسی بازنطینی تیر سے زیادہ مہلک ثابت ہو رہی ہے۔ روزانہ میرے درجنوں جاں نثار مجاہدین، میرے پیارے شاگرد، اس مرض کا شکار ہو کر میری آنکھوں کے سامنے دم توڑ رہے ہیں۔ ان کے جسموں پر سیاہ گلٹیاں نکل آتی ہیں اور چند گھنٹوں میں وہ ابدی نیند سو جاتے ہیں۔ میں ہر روز ان کے جنازے پڑھاتا ہوں اور میرا دل خون کے آنسو روتا ہے۔
اور اب۔۔ یہ خاموش قاتل میرے جسم میں بھی داخل ہو چکا ہے۔ دو دن پہلے، مجھے شدید بخار نے آ گھیرا۔ آج صبح جب میں بیدار ہوا، تو میں نے اپنے گلے اور بازو کے نیچے طاعون کی گلٹیاں دیکھیں۔ میرا جسم آگ کی طرح تپ رہا ہے اور میرے اندر اتنی سکت بھی نہیں رہی کہ میں اپنی تلوار کو سیدھا پکڑ سکوں۔
باہر منجنیقوں کی گرج اب بھی سنائی دے رہی ہے۔ میرے کمانڈرز خیمے کے باہر کھڑے رو رہے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ان کا سالار، ان کا قاضی، ان کا استاد اب رخصت ہونے والا ہے۔ لیکن میں مطمئن ہوں۔ میں نے اپنی زندگی کا مقصد پورا کر دیا ہے۔ میں نے علم بھی حاصل کیا، عدل بھی کیا اور جب وقت آیا، تو خدا کی راہ میں جہاد کا حق بھی ادا کر دیا۔
مجھے یقین ہے کہ صقلیہ کی اس مٹی پر جو بیج میں نے بویا ہے، وہ ایک دن ایک عظیم الشان درخت بنے گا۔ یہ جزیرہ صقلیہ، عیسائی یورپ کے دل میں اسلام کا ایک درخشاں مرکز بنے گا، جہاں سے علم، فلسفہ اور ثقافت کی شعاعیں پورے یورپ کو روشن کریں گی۔ میری موت اس محاصرے کا خاتمہ نہیں، بلکہ صقلیہ میں اسلامی سلطنت کی بنیاد ہے۔
میرے چراغ اب بجھنے کو ہے اور سانسیں اکھڑ رہی ہیں۔ میں نے قلم اٹھا کر کاغذ کے اس آخری ٹکڑے پر اپنا نام لکھنے کی کوشش کی ہے، تاکہ تاریخ یاد رکھے کہ افریقہ کا وہ قاضی کون تھا جس نے ستر برس کی عمر میں بحیرہ روم کو عبور کرکے صقلیہ کی قسمت بدل دی تھی۔
ہاں! تاریخ مجھے اسد بن الفرات کے نام سے یاد رکھے گی۔ میں، اسد بن الفرات، امام مالک کا شاگرد، امام محمد کا رفیق، قیروان کا قاضی القضاہ اور صقلیہ کا سپہ سالارِ اعظم۔۔ اب اپنے رب کے حضور حاضر ہو رہا ہوں۔۔ اشہد ان لا الہ الا اللہ، واشہد ان محمد عبدہ ورسولہ۔
[علامہ اسد بن الفرات: علامہ اسد بن الفرات علم اور تلوار کا ایک انوکھا سنگم تھے، جو امام مالک اور امام محمد کے مایہ ناز شاگرد اور قیروان کے چیف جسٹس بنے۔ سنہ 827 عیسوی میں، تقریباً ستر برس کی عمر میں، آپ کو افریقہ کے امیر نے جزیرہ صقلیہ (Sicily) پر حملے کے لیے مسلم لشکر کا سپہ سالارِ اعظم مقرر کیا۔ آپ نے مازارا کے ساحل پر کامیاب لینڈنگ کی اور بازنطینی فوج کو عبرتناک شکست دے کر سراقوسہ کا تاریخی محاصرہ کیا۔ اگرچہ آپ اسی محاصرے کے دوران طاعون کے مرض سے شہید ہو گئے، لیکن آپ کی اس عسکری پیش قدمی نے یورپ کے قلب میں اڑھائی صدیوں پر محیط "امارتِ صقلیہ" کی بنیاد رکھ دی، جو آگے چل کر علم و حکمت کا عظیم مرکز بنی۔ ]

