Tuesday, 05 March 2024
  1.  Home/
  2. Blog/
  3. Muhammad Saqib/
  4. Muhammad Ali Kallay, Pakistani Nojawan Aur Goldilock Principle (2)

Muhammad Ali Kallay, Pakistani Nojawan Aur Goldilock Principle (2)

محمد علی کلے، پاکستانی نوجوان اور گولڈی لاک پرنسپل (2)

کالم کے پچھلے حصے میں ہم نے محمد علی کی تاریخی کامیابی کے پیچھے چھپا ہوا راز دریافت کیا اور اس کو پڑھ کے یقینا آپ موٹیویشن کی بلندیوں کو چھو رہے ہوں گے۔ آپ کا خون جوش مار رہا ہوگا اور آپ کا دل چاہ رہا ہوگا کہ ایک چیمپین کی طرح میں بھی اپنی زندگی میں کچھ بڑا کرکے دکھاؤں۔

آج کے اس کالم میں محمد علی کی سٹوری کو ہم ایک اور حقیقی سٹوری کے ساتھ ریلیٹ کرتے ہیں۔ یہ سٹوری شروع ہوتی ہے 1955 میں۔ دس سال کا ایک بچہ کیلیفورنیا کے قریب موجود Disney land برانچ میں جاب حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے اور وہ معمولی سی جاب ہوتی ہے۔

وہ وہاں پر گائیڈ بکس سیل کرتا ہے اور ایک سال کے اندر ہی وہ Disney Land کے میجک شاپ میں آجاتا ہے۔ وہاں موجود سینیئر سے بہت سے ٹرک سیکھتا ہے۔ کچھ ہی مہینوں کے بعد وہ اندازہ لگاتا ہے کہ اس کا اصل ٹیلنٹ کامیڈی کے اندر ہے۔ وہ لوگوں کو ہنساتا بہت اچھا ہے۔

ایک چھوٹے سےکلب میں پرفارم کرنا شروع کر دیتا ہے۔ اس کا ایکٹ چھوٹا ہوتا ہے دو سے پانچ منٹ کا اور ہجوم بھی مختصر ہوتا ہے۔ اور زیادہ تر کراؤڈ کا دھیان اس کے ایکٹ میں نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنی باتوں میں مصروف ہوتے ہیں۔ وہ آپس میں باتیں کرتے رہتے ہیں اور گپ شپ لگاتے رہتے ہیں۔

اس طرح وہ لڑکاہائی سکول تک پہنچ جاتا ہے۔ اب ہائی سکول میں بھی اس ایکٹ پانچ منٹ کا ہوتا ہے اور وہ وہاں بھی کبھی کبھی پرفارم کرتا ہے۔ کچھ سالوں کی محنت کے بعد وہ پانچ سے دس منٹ کی پرفارمنس کو پہنچ جاتا ہے۔ اور تقریبا نو سال کی محنت کے بعد جب وہ 19 سال کا ہو جاتا ہے۔ تب وہ ویکلی ایک بار پرفارم کرتا ہے اور اس کو 20 منٹ دیے جاتے ہیں۔ اس میں وہ تین نظمیں پڑھتا ہے اور کوئی جوک سناتا ہے۔

اس کے بعد وہ 10 سال اور گزارتا ہے اپنے اپ کو پالش کرتا ہے۔ اپنا تجربہ بڑھاتا ہے۔ آخر کار ایک ٹاک شو میں جگہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ اب مڈ 70 تک یہ لڑکا جوان ہو جاتا ہے۔ دو شو کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ جس میں سے ایک کا نام داٹو نائٹ شو اور دوسرے کا نام سیٹرڈے نائٹ لائیو ہوتا ہے۔

فائنلی وہ دن آتا ہے کہ جب اس نوجوان کو شہرت ملتی ہے اور یہ 63 دنوں میں 60 شہروں کا وزٹ کرتا ہے اور اس کے بعد 90 دن میں 85 شہروں کاوزٹ کرتا ہے۔ اس کے ایک شو کو 18695 لوگ دیکھنے آئے ہوتے ہیں۔

اس کامیاب کو میڈین کو دنیا سٹیومارٹن کے نام سے جانتی ہے۔ سٹیومارٹن کی کامیابی ہیبٹس (Habits) کو ساتھ لے کر چلنا اور مستقل مزاجی سے کام کرنا ہے۔ وہ اپنے الفاظ میں کہتا ہے کہ میں نے 10 سال سیکھنے میں لگا دیے۔ پھر مزید چار سال اپنے سکلز کو پالش کیا اور اس کے بعد اگلے چار سال تھے وہ میری اعلی کامیابی کے تھے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک پاکستانی نوجوان محمد علی کا ماڈل فالو کریں یا سٹیومارٹن کو فالو کرے۔

تو محمد علی کا ماڈل محترم پڑھنے والو اس طریقے سے ہے کہ آپ ایک ٹینس کے پلیئر ہیں اور اپ ایک سٹی کے چیمپین کو۔۔ یا پروونس کے چیمپین۔۔ کو یہ کنٹری کے چیمپین کو چیلنج کر بیٹھتے ہیں اور ظاہر ہے اپ کی گیم ادنی لیول کی اپ اس سے آسانی سے ہار جاتے ہیں۔۔ آپ نے ایک چار سے پانچ سال کے بچے کو چیلنج کر دیا اس کی گیم اتنی کم ہے کہ آپ اس سے آسانی سے جیت جاتے ہیں۔

آپ نے کیا کرنا ہے اپ نے سٹیومارٹن کا طریقہ فالو کرنا ہے جس کے لیے گولڈلی لاک پرنسپل ہماری مدد کرے گا۔ جو یہ بتاتا ہے کہ ہیومن (Human) ایکسپیرینس کرتے ہیں پیک موٹیویشن کو۔۔ جب وہ کوئی ایسا کام کرتے ہیں جو ان کی Abilities سے تھوڑا سا اوپر ہوتا ہے نہ زیادہ مشکل نہ زیادہ آسان۔۔

تھوڑا سا اس کو ہم اور ایکسپلین کرتے ہیں آپ ایک کتاب لکھنا چاہتے ہیں اور آپ جوش میں آئے اور ایک ہی دن میں سات آٹھ پیج لکھ دیے اگلے دن پھر سات آٹھ پیج لکھ کے اور تیسرے چوتھے دن سے آپ کی موٹیویشن ختم ہوگئی آپ روز ایک پیراگراف لکھیں گے تو تین سے چار مہینوں کے بعد آپ آسانی سے ایک کتاب لکھنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

آپ نے زندگی میں کبھی جوگنگ نہیں کی آپ نے دو منٹ سے جوگنگ شروع کی پھر تین منٹ پہ گئے پھر چار منٹ پہ گئے ہر روز ایک ایک منٹ بڑھاتے گئے، یہی سٹیومارٹن کی کامیابی کا راز ہے۔

اپنی لمٹس کو اتنا پش (Push) نہ کیا جائے کہ وہ اپ کے لیے ناقابل اصول بن جائے۔ ہر بندہ محمد علی کلے بننےکا خواب دیکھتا ہے، لیکن محمد علی کے لیول کی محنت کرنا ہر شخص کے بس کی بات نہیں۔ لیکن مستقل مزاجی سے کامیابی کے ساتھ اپنی ہیبٹس کو لے کر چلنے سے اپ یقیناسٹیومارٹن بن سکتے ہیں۔ جو اپنی ذات میں خود بھی ایک کامیاب مثال ہے۔

مائنڈ سائنس بھی یہی بتاتی ہے ہم وہ کام خوشی سے کرتے ہیں جس کام کو کرنے سے ہمیں فتح کا احساس ہوتا ہے اور جو کام کرنے سے ہمیں تکلیف نہیں ہوتی۔ تو ہم سٹیومارٹن کے پرنسپل کو لے کرچلیں گے ہیبٹس کو انسٹال کریں گے اور سٹیپ بائی سٹیپ اپنی کامیابیوں کو انجوائے کریں گے۔

Check Also

Ye Shaadi Nahi, Ye Bharat Ka Power Show Hai

By Arif Anis Malik