Thursday, 18 April 2024
  1.  Home/
  2. Blog/
  3. Muhammad Saqib/
  4. Maulana Rumi Aur Power Of Association

Maulana Rumi Aur Power Of Association

مولانا رومی اور پاور آف ایسوسی ایشن

مولانا رومی جلال الدین نے فرمایا بیٹا کوشش میں لگا رہ "مرتےدم تک کوئی وقت ضرور آئے گا کہ عنایت خداوندی ہمراز ہوگی"۔

لوگ ٹریننگز کے دوران مجھ سے پوچھتے ہیں کہ ثاقب صاحب کامیابی کا کوئی ایک پرنسپل بتائیں۔ اس سوال کا جواب مشکل ہے لیکن اگر جواب دیا جائے تو کامیابی آپ کی صحبت Association میں چھپی ہوتی ہے۔

مولانا جلال الدین رومی کی مشہور و معروف تصنیف مثنوی سے حاصل کردہ یہ دو حکایات اس پرنسپل کو سمجھنے میں آپ کی مدد کریں گی۔۔

(1)

حضرت عیسیؑ تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے ایک پہاڑ کی طرف جا رہے تھے ایک آدمی نے بلند آواز سے پکار کر کہا "اے خدا کے رسولؑ آپ اس وقت کہاں تشریف لے کر جا رہے ہیں۔ وجہ خوب کیا ہے؟ آپؑ کے پیچھے کوئی دشمن بھی تو نظر نہیں آتا"۔ حضرت عیسیؑ نے فرمایا "میں ایک احمق آدمی سے بھاگ رہا ہوں تو میرے بھاگنے میں خلل مت ڈال"۔

اس آدمی نے کہا "یا حضرت آپ کیا وہ مسیحاؑ نہیں ہیں؟ جن کی برکت سے اندھا اور پہرا شفایاب ہو جاتا ہے" آپؑ نے فرمایا "ہاں"۔

اس آدمی نے کہا "کیا آپؑ وہ بادشاہ نہیں ہیں جو مردے پر کلام الہی پڑھتے ہیں اور وہ اٹھ کھڑا ہوتا ہے"آپؑ نے فرمایا ہاں اس آدمی نے کہا کہ کیا آپؑ وہ ہی نہیں ہیں کہ مٹی کے پرندے بنا کر ان پر دم کر دیں تو وہ اسی وقت ہوا میں اڑنے لگتے ہیں" آپؑ نے فرمایا: "بے شک میں وہی ہوں"۔

پھر اس شخص نے حیرانگی سے پوچھا "کہ اللہ تعالی نے آپؑ کو اس قدر قوت عطا کر رکھی ہے تو پھر آپؑ کو کس کا خوف ہے"، حضرت عیسیؑ نے فرمایا: "اس رب العزت کی قسم کہ جس کے اسم اعظم کو میں نے اندھوں اور بہروں پر پڑھا تو وہ شفایاب ہو گئے پہاڑوں پر پڑھا تو وہ ہٹ گئے مردوں پر پڑھا تو وہ جی اٹھے لیکن وہی اسم اعظم میں نے ایک احمق پر لاکھوں بار پڑھا لیکن اس پر کچھ اثر نہ ہوا"۔

اس شخص نے پوچھا یا حضرتؑ یہ کیا ہے کہ یہ اسم اعظم اندھوں، بہروں اور مردوں پر تو اثر کرے لیکن احمق پر کوئی اثر نہیں کرتا حالانکہ حماقت بھی ایک مرض ہے"۔

حضرت عیسیؑ نے جواب دیا "حماقت کی بیماری خدائی قہر ہے"۔

درس حیات "بے وقوف کی صحبت سے تنہائی بہتر ہے"۔

(2)

ایک شکاری نے بڑی ترکیبوں اور مشکل کے ساتھ ایک نادر اور خوبصورت چڑیا پکڑی۔ جب وہ چڑیا جال میں پھنس گئی اور آزاد ہونے کی کوئی صورت نہ پائی تب چڑیا شکاری سے کہنے لگی اے عقل مند انسان تو مجھ جیسی ننھی سی چڑیا کو پکڑ کر کیا کرے گا۔ اگر تو مجھے ذبح کرے گا تو میرے ذرا سے گوشت اور گنتی کی چند نرم و نازک ہڈیوں سے تیرا کیا بنے گا۔ مجھے فروخت کرکے بھلا تجھے کتنا مال ملے گا۔ میری بات سن کر اگر تو مجھے آزاد کرے گا تو میں تجھے تین ایسی پیش بہا نصیحتیں کروں گی۔ جو ہمیشہ تیرے کام آئیں گی۔

ان میں سے پہلی نصیحت تو تیرے ہاتھ پر بیٹھ کر کروں گی وہ نصیحت ایسی ہوگی جسے سن کر تیرا خون بڑھ جائے گا۔ دوسری نصیحت دیوار پر بیٹھ کے کروں گی جو اعلی درجے کی ہوگی۔ تیسری نصیحت درخت کی شاخ پر بیٹھ کر کروں گی۔ اس لیے تیری دانائی، جواں مردی اور دور اندیشی کا تقاضا یہی ہے کہ تو مجھے آزاد کر دے۔ یہ تینوں نصیحتوں پر عمل کرکے تو دنیا میں بڑا نام پائے گا۔

شکاری تھوڑی دیر غور کرنے کے بعد راضی ہوگیا چڑیا اڑ کا شکاری کے ہاتھ پر آن بیٹھی۔ پہلی نصیحت یہ ہے کہ "ناممکن بات خواہ کیسا ہی شخص کہے اس پر یقین نہ کر"۔

یہ کہہ کر چڑیا پھر سی اڑی اور دیوار پر جا بیٹھی۔ اس نے دوسری نصیحت یہ کی کہ"گزری ہوئی بات کا غم نہ کر"۔

اس کے بعد چڑیا نے کہا "میرے وجود میں دس درہم وزن کا ایک ایسا قیمتی موتی ہے جس کی قیمت ہفت اقلیم میں کہیں نہیں ہے یہ موتی پا کر تو تیری اولاد عیش و عشرت سے زندگی بسر کرتی مگر افسوس کہ تو نے مجھے آزاد کرکے یہ پیش بہا موتی ہاتھ سے کھو دیا۔ یہ تحفہ تیرے مقدر میں نہ تھا"۔ اتنا سننا تھا کہ شکاری رونے چلانے اور ماتم کرنے لگا۔ جیسے اس کا کوئی عزیز مر گیا ہو بار بار ٹھنڈی آہیں بھرتا اور سینہ پیٹ کر کہتا کہ ہائے میں تو برباد ہوگیا مجھ بے وقوف نے ایسی نادر چڑیا کو کیوں آزاد کر دیا۔

ننھی سی جان نے مجھے ہتھیلی میں جنت کے جھلک دکھلا کر لوٹ لیا۔ شکاری جب رو دھو چکا، تب چڑیا نے کہا "اے بے وقوف میں نے یہ پہلے ہی تجھے نصیحت کر دی تھی کہ گزری ہوئی بات کا غم نہیں کرنا چاہیے جب یہ بات ہوگئی تو کف افسوس ملنا کس کام کا "۔ دوسرا چڑیا نے کہا ارے نادان تو نے میری پہلی بات غور سے نہیں سنی تھی میں نے کہا تھا کہ ناممکن بات کا ہرگز یقین نہیں کرنا چاہیے خواہ وہ کیسی ہی کیوں نہ ہو ذرا سوچ تو سہی مجھ ننھی سی جان کا پورا وجود تین درہم وزن سے زیادہ نہیں ہے بھلا دس درہم وزن کا موتی میرے وجود میں کہاں سے آگیا"؟

یہ بات سن کر شکاری رونا دھونا بھول گیا ہے حیرت سے چڑیا کو تکنے لگا اور کہنے لگا بے شک تو ٹھیک کہتی ہے پھر شکاری کہنے لگا "اے نازک بدن چڑیا مہربانی کرکے وہ تیسری نصیحت بھی کرتی جا چڑیا نے کہا ارے بھائی تو نے میری دو نصیحتوں پر کون سا عمل کیا جو تیسری نصیحت بھی مجھ سے سننا چاہتا ہے۔ وہ قیمتی نصیحت تجھ جیسے بے مغز انسان کے لیے نہیں ہے

درس حیات:

بند گفتن با جھول خواب ناک

تخم افگندن ہود در شور خاک

ترجمہ:

خر دماغ اور جاہل کو کوئی نصیحت کرنا ایسا ہی ہے جیسے بنجر زمین میں بیج ڈالنا

چڑیا کے بتائے ہوئے دانش کے موتی ہمیں ڈبل شاہ جیسے لوگوں سے محفوظ رکھتے ہیں۔ انہیں سکیمز scams پر ایک محفل میں بات ہو رہی تھی۔ میں نے پوچھا کہ ان فراڈی لوگوں کو انویسٹمنٹ کے لیے لوگ کہاں سے ملتے ہیں۔

دلچسپ جواب ملا۔ چائے کے ہوٹلوں سے۔

جی ہاں! کراچی میں بیشتر چائے کے ہوٹل 24 گھنٹے کھلے رہتے ہیں اور یہ شکاری اپنا جال بچھائے کروڑوں روپے کے پرافٹ کی بات کرتے ہوئے آپ کو یہیں ملیں گے اور یہی ہوٹل شارٹ کٹ کے متلاشی نوجوانوں کی بیٹھک ہے۔ وہی صحبت کی کہانی۔

مولانا رومی جلال الدین نے فرمایا

"میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کھلے اور چھپے خدا سے ڈرنے کی

کھانے، سونے اور بولنے میں کمی کرو

گناہوں سے دور رہو

شہوتوں کو ترک کرو

قیام شب اور روزوں کا اہتمام کرو

ہر طرح کے انسانوں کی جفاہوں کو برداشت کرو

نادانوں اور عامیوں کی ہم نشینی چھوڑو

نیکوں، بزرگوں کی صحبت اختیار کرو

بہترین آدمی وہ ہے جو لوگوں کو نفع پہنچائے

بہترین کلام وہ ہے جو مختصر اور دلیل والا ہو

ترک ہوا قوت پیغمبری ایست تمام تعریف و توصیف خدائے واحد کے لیےہے

اور اس کے پیغمبر ﷺ پر سلام ہو

"

نہ اٹھا پھر کوئی رومی عجم سے لالہ زاروں سے

وہی آب و گل ایراں وہی تبریز ہے ساقی

(بال جبرائیل، اقبال رحمت اللہ علیہ)

Check Also

Civil War

By Mubashir Ali Zaidi