Wednesday, 15 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Mutahir Khan
  4. Maeeshat Ka Neela Ufaq

Maeeshat Ka Neela Ufaq

معیشت کا نیلا افق

ایک بوڑھا ملاح اکثر اپنے نوجوان شاگرد سے کہا کرتا تھا کہ سمندر کبھی کسی قوم کو غریب نہیں بناتا، قومیں اپنی بے بصیرتی سے غریب ہوتی ہیں۔ شاگرد ہر روز کشتی لے کر ساحل سے لوٹتا، مچھلیاں بیچتا اور سمجھتا کہ سمندر کی دولت صرف اتنی ہی ہے جتنی اس کے جال میں آتی ہے۔ ایک دن بوڑھے ملاح نے اسے ساحل پر کھڑا کرکے کہا، "تم پانی کو دیکھتے ہو، میں امکانات کو دیکھتا ہوں۔ تم مچھلیاں گنتے ہو، دنیا بندرگاہیں، جہاز، توانائی، معدنیات، تجارت اور مستقبل گنتی ہے"۔ یہی فرق آج کی عالمی معیشت اور پاکستان کی معاشی سوچ کے درمیان بھی دکھائی دیتا ہے۔

دنیا نے گرین اکانومی سے آگے بڑھ کر بلیو اکانومی کو اکیسویں صدی کی نئی معاشی سلطنت قرار دے دیا ہے جہاں سمندر محض پانی کا ذخیرہ نہیں بلکہ سرمایہ، روزگار، تحقیق، توانائی، خوراک اور سفارتی اثرورسوخ کا سب سے بڑا ذریعہ بن چکا ہے۔ پاکستان کو قدرت نے پانچ بڑے دریاؤں، دنیا کے وسیع ترین نہری نظام، ایک ہزار کلومیٹر سے زائد ساحلی پٹی، تین اہم بندرگاہوں اور لاکھوں مربع کلومیٹر سمندری معاشی زون کی صورت میں وہ خزانہ عطا کیا ہے جس کے لیے بہت سے ممالک صرف خواب دیکھ سکتے ہیں، مگر المیہ یہ ہے کہ ہم اب بھی اس خزانے کے کنارے کھڑے پیاسے مسافروں کی طرح اپنی معاشی بدحالی کا ماتم کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

دنیا کی تقریباً اسی فیصد تجارت سمندری راستوں سے ہوتی ہے جبکہ پاکستان کی بھی غالب تجارت بحری گزرگاہوں پر منحصر ہے، لیکن ہماری بحری معیشت کی سالانہ آمدنی چند سو ملین ڈالر سے آگے نہیں بڑھ سکی، جبکہ خطے کے دوسرے ممالک اسی سمندر سے اربوں ڈالر کما رہے ہیں۔ سوال صرف وسائل کی کمی کا نہیں بلکہ وژن، منصوبہ بندی، جدید ٹیکنالوجی اور ادارہ جاتی صلاحیت کا ہے۔ ہمارے ساحلوں پر اعلیٰ معیار کی ٹونا، لابسٹر اور دیگر قیمتی آبی حیات موجود ہے، مگر ناقص کولڈ چین، غیر معیاری پروسیسنگ، فرسودہ فشنگ ٹرالرز اور حفظانِ صحت کے ناقص انتظامات نے ہماری برآمدات کو محدود کر دیا۔ یورپی منڈیوں کی پابندیاں دراصل ہمارے نظام پر عدم اعتماد کی علامت ہیں۔

دوسری طرف آف شور تیل و گیس، ساحلی ہوا سے توانائی، شمسی منصوبے، ڈی سیلینیشن پلانٹس، ایکوا کلچر، زیرِ آب معدنیات، شپنگ، شپ بلڈنگ، شپ بریکنگ، میری ٹائم سیاحت اور بندرگاہی خدمات جیسے بے شمار شعبے اب بھی اپنی حقیقی استعداد کے منتظر ہیں۔ گوادر، کراچی اور پورٹ قاسم صرف بندرگاہیں نہیں بلکہ وہ دروازے ہیں جن سے پاکستان پورے خطے کی تجارت، لاجسٹکس اور سرمایہ کاری کا مرکز بن سکتا ہے، بشرطیکہ ہم انہیں محض تعمیراتی منصوبوں کے بجائے قومی معاشی حکمتِ عملی کا حصہ بنائیں۔

اگر اس تمثیل کو ایک سیاسی ناول کا منظر سمجھا جائے تو پاکستان اس کردار کی مانند ہے جس کے ہاتھ میں خزانے کی چابی تو موجود ہے مگر وہ برسوں سے بند دروازے کے سامنے کھڑا قسمت کو کوس رہا ہے۔ دنیا کی بڑی طاقتیں آج سمندری جغرافیہ کو نئی عالمی سیاست کی بنیاد بنا رہی ہیں۔ بحیرۂ عرب، بحرِ ہند اور خطے کی تجارتی گزرگاہیں صرف اقتصادی نہیں بلکہ تزویراتی اہمیت بھی اختیار کر چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کا خصوصی معاشی بحری زون محض نقشے پر کھینچی ہوئی سرحد نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کی معاشی خودمختاری کی ضمانت بن سکتا ہے۔

حکومت کی جانب سے نیشنل میری ٹائم پالیسی، نیشنل فشریز اینڈ ایکوا کلچر پالیسی اور میری ٹائم ویژن 100 جیسے اقدامات یقیناً مثبت سمت کا اظہار ہیں، لیکن قومی ترقی صرف دستاویزات سے نہیں بلکہ مسلسل عملدرآمد، شفاف حکمرانی، نجی سرمایہ کاری، سائنسی تحقیق، جدید تعلیم اور مضبوط اداروں سے جنم لیتی ہے۔ بحریہ یونیورسٹی سمیت دیگر جامعات میں بلیو اکانومی کے کورسز اس حقیقت کا اعتراف ہیں کہ مستقبل کی معیشت سمندر کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، مگر یہ علمی سرمایہ اسی وقت قومی دولت میں تبدیل ہوگا جب تحقیق براہِ راست صنعت، تجارت اور سرکاری پالیسی سے منسلک ہوگی۔

آج پاکستان کو صرف معاشی اصلاحات نہیں بلکہ ایک نئے فکری انقلاب کی ضرورت ہے جہاں سمندر کو سرحد نہیں بلکہ سرمایہ سمجھا جائے۔ بلیو اکانومی محض ایک معاشی اصطلاح نہیں بلکہ قومی رویے کی تبدیلی کا نام ہے۔ اگر ہم ساحلی شہروں کو جدید تجارتی مراکز، فشریز کو برآمدی صنعت، شپنگ کو قومی طاقت، گوادر کو علاقائی اقتصادی گیٹ وے، آبی وسائل کو توانائی کے سرچشمے اور سمندر کو قومی خوشحالی کے مستقل وسیلے میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہوگئے تو آنے والے برسوں میں یہی شعبہ پاکستان کی اقتصادی تقدیر بدل سکتا ہے۔ بصورت دیگر بوڑھے ملاح کی وہ بات ہماری اجتماعی ناکامی کا نوحہ بن جائے گی کہ "خزانہ ہمیشہ ہمارے سامنے تھا، مگر ہم پوری زندگی صرف لہریں گنتے رہے"۔ قوموں کی تاریخ میں مواقع بار بار دروازہ نہیں کھٹکھٹاتے اور جو قومیں اپنے سمندروں کی زبان نہیں سمجھتیں، وہ اکثر اپنی تقدیر کی خاموشی بھی نہیں سن پاتیں۔

Check Also

Zehni Tashadud: Khamosh Tashadud Ki Aik Khatarnak Shakal

By Komal Shahzadi