Ya Hazrat Molana
یا حضرت مولانا

کونیا میں مولانا روم کے مقبرے کے پاس میں پہنچا تو لگا جیسے میں وقت کے کسی ایسے دروازے میں داخل ہو رہا ہوں جہاں صدیوں سے عشقِ الہیٰ کی خوشبو رچی ہوئی ہو۔ دربار شریف کے احاطے کی فضاؤں میں ایک ٹھہرا ہوا سکون تھا، ایسا سکون جو نہ شور میں ملتا ہے، نہ شہرت میں۔ خاموش زائرین دیکھ کے مجھے داتا صاحب کے مزار کے اطراف میں شور اور کھینچا تانی یاد آگئی، جہاں مرکزی دروازے کے باہر ہی دیگوں والے آپ کو گھیر لیتے ہیں، ہجوم میں ہر دم آپ کو جیب کٹنے کا اندیشہ ہوتا ہے، لیکن یہاں ترکی میں ایک خاموشی تھی، ایک نظم تھا اور لوگوں کے چہروں پر محبت اور احترام کی جھلک صاف دکھائی دیتی تھی۔
مولانا جلالالدین محمّد رومی کے دربار کے باہر جلی حروف میں اردو میں (ترکی عثمانی فارسی رسم الخط میں) "یا حضرت مولانا" کی سادہ مگر بارعب تختی آویزاں تھی۔ میں نے دیکھا کہ ترک زائرین رومی کے مزار پر نہ دھکم پیل کرتے ہیں، نہ کسی وی آئی پی کو ہٹو بچو کے بیچ گذار کر صاحب مزار کو سلام کرایا جاتا ہے اور نہ ہی مزار کے گرد کوئی خدام ہوتےہیں جو نذرانے کے لالچ میں آپ کا آسودہ چہرہ دیکھ کے آگے آنے کا موقع دیتے ہیں۔ رومی کے دربار پہ دنیاوی تمنائیں مانگتے ہوئے بھی کوئی نظر نہ آیا۔ یہاں جوتوں کے شاپر لپیٹ کے جوتوں سمیت اندر جانے کا نظام بنا ہے، ایسے ہی جیسے حضرت ابو ایوب انصاریؒ کے دربار پہ تھا۔
لوگ ادب سے جھکتے ہیں، دعا کرتے ہیں اور باہر نکلتے وقت ایک دوسرے کو مسکرا کر دیکھتے ہیں۔ کوئی کسی کے مسلک یا لباس پر تبصرہ نہیں کرتا۔ دل میں ایک چبھن سی اٹھی۔۔ ہم برصغیر کے لوگ، جو داتا گنج بخشؒ کے دیس کے وارث ہیں، کیوں رومی کے پیروکار ترکوں کی طرح اپنے بزرگوں کی تعلیمات پر عمل نہیں کر پائے؟ ہم نے داتا صاحبؒ کی "کشف المحجوب" پڑھی ضرور، مگر اسے زندگی کا اصول نہیں بنایا۔ انہوں نے تو کہا تھا کہ "خدمتِ خلق خدا کی سب سے بڑی عبادت ہے"، مگر ہم نے خدمت کی بجائے مسلک، ذات اور فرقے کے نام پر نفرت کے بیج بو دیے۔
ایک احساس شرمندگی ہوا، ہم کیا سے کیا ہو گئے، قوم سے ہجوم بن گئے، ہمارے دربار جو کبھی مرجع خلائق تھے، اب مافیاؤں کے راج تلے کمرشل ہو گئے، ترکوں نے تو رومی کے فلسفے کو اپنے قومی کردار کا حصہ بنا لیا۔ ان کی روزمرہ زندگی میں رواداری، ایمانداری اور ایک دوسرے کے احترام کی جھلک نظر آتی ہے۔ کوئی مذہب کو دوسروں کے خلاف ہتھیار نہیں بناتا۔ وہاں محبت مذہب سے بڑی لگتی ہے، جیسے رومی نے کہا تھا: "آ، چاہے تو کافر ہے، چاہے بت پرست، آ، یہ درگاہِ محبت ہے" اور میں سوچتا رہا کہ ہم پاکستانی، جو داتا صاحبؒ، بابا فریدؒ اور بھٹائی جیسے اولیاء کے وارث ہیں، کیوں ان کی تعلیمات کو بھلا بیٹھے؟ ہمارے ہاں مذہب کے نام پر نفرت، دوغلا پن اور خودغرضی عام ہے، جبکہ تصوف کی اصل روح، عاجزی اور سچائی کہیں کھو گئی ہے۔
جلال الدین رومی کے بلند تعمیر کردہ مقبرے میں جلال بھی تھا، جذب کی کیفیت بھی اور دور دیسوں سے آئے مسافروں پہ محبت کی نظر بھی۔ مجھے تھوڑا احساس تفاخر ہوا، حاضری تھی، صاحب مزار کی اجازت تھی، میں پہنچ گیا، بہت دنیا یہاں کبھی نہیں آ پائے گی۔ شائید کہیں کبھی محشر کے میدان میں رومی مجھے دکھ پائے، میں کہنے کی جسارت کروں گا، حضور میں آیا تھا۔ یہاں مجھے "رومی" کے درویش چشم تصور میں سماع کرتے نظر آئے۔ سفید چوغوں میں ملبوس، لمبی سرخ ٹوپی اوڑھے، ایک ہاتھ اوپر آسمان کی طرف اور ایک زمین کی طرف، گول گول گھومتے۔۔ عشق الٰہی سے لبریز، اللہ کی رحمت کو آسمانوں سے کھینچ کے زمین کی طرف لانے والے۔ گھومنا علامت ہے کائنات کی گردش، زندگی کی گردش اور انسان کے اندرونی سفر کی۔ یوں یہ رقص دراصل عشقِ الٰہی کی حرکت میں ڈھلی ہوئی دعا ہے۔
ڈھلتی شام میں جب میں کپووڈوکیا سے طویل سفر طے کرکے کونیا پہنچا تو اس کی خاموش گلیاں دیکھ کے میں کئی صدیاں پیچھے پہنچ گیا۔ یہ شہر کبھی سلجوق دور کا دارالحکومت تھا، جہاں 13ویں صدی میں مولانا رومی نے علم، عشق اور معرفت کی وہ مشعل جلائی جو آج تک بجھی نہیں۔ رومی 1207ء میں بلخ میں پیدا ہوئے، مگر زندگی کا بڑا حصہ کونیا میں گذارا۔ ان کے مرشد شمس تبریزی سے ملاقات نے ان کی زندگی بدل دی اور پھر وہ خود عشق کے مبلغ بن گئے۔ ان کی مثنوی معنوی آج بھی انسان کے دل کی زبان میں لکھی گئی کتاب لگتی ہے۔ کونیا میں ان کا مزار صرف ایک مرقد نہیں، بلکہ ایک روحانی درس گاہ ہے، جہاں سکون الفاظ سے نہیں بلکہ فضا سے محسوس ہوتا ہے۔
میں مزار کے اندر گیا، ہاتھ باندھے، دل لرزتا ہوا۔ آنکھیں بند کیں تو داتا گنج بخشؒ کا چہرہ یاد آ گیا۔ دل میں پھر ایک احساسِ شرمندگی پھر اٹھا، میں اس دھرتی سے آیا ہوں جہاں تصوف کے دریا بہتے تھے، مگر آج وہاں نفرت کے پتھر جمنے لگے ہیں۔ میں نے دل ہی دل میں کہا: "اے رومی! تمہارے ترک شاگردوں نے تمہارا پیغام زندہ رکھا، مگر ہم نے داتا گنج بخشؒ کے درس کو بھلا دیا۔ ہم نے محبت کو خطبوں میں بانٹ دیا اور ایمان کو سیاست میں"۔
میں نے رومی کے مزار پر جھک کر سلام کیا، مجھے لگا میرا کوئی ہم زاد جو میرے سارے راز جانتا ہو، میرے ساتھ کھڑا مجھ پہ طنزیہ مسکرا رہا ہے۔ کس لئے یہ سلام، تم تو اپنے ہی بزرگ داتا گنج بخشؒ کے مجرم ہو، ان کے فلسفے کو بھلا کر یہاں آئے ہو، وہاں روشنی نہ پا سکے تو ادھر کیا لے لو گے۔ آنکھیں رندھ گئیں، مگر پھر صاحب مزار نے حوصلہ دیا۔ روشنی باہر نہیں، اندر سےجلتی ہے۔ آج سے نیت کر لو، اللہ کا در توبہ کے لیے ہر دم کھلا ہے۔ مجھے کچھ حوصلہ سا ہوا۔ ندامت اور مایوسی میں روشنی کی کرن نظر آئ۔
رومی کے مقبرے پہ الوداعی نظر ڈالتے ہوئے مجھے احساس ہوا تبدیلی کسی مزار سے نہیں، بلکہ اندر سے آتی ہے اور میں سوچتا رہا، اگر ہم داتا گنج بخشؒ اور رومی دونوں کی تعلیمات پر سچے دل سے عمل کر لیں، تو شاید ہمیں کسی دربار پر شرمندہ ہونے کی ضرورت ہی نہ رہے۔ لیکن کیا ہم دل سے بدلنے کے لئے تیار ہیں، شائید نہیں، شائید کئی اور آزمائشوں کے بعد۔۔ یا شائید کسی بہت بڑی آفت آنے کے بعد، اللہ نہ کرے۔

