Sunday, 11 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Idrees Abbasi
  4. Sitam Zada Murree Ki Dastan

Sitam Zada Murree Ki Dastan

ستم زدہ مری کی داستان

کل سوشل میڈیا پہ ایک اشتہار نما خبر دیکھی، جس میں مری کے مضافات میں دو سو کنال رقبہ پہ ایک اور فائیو سٹار ہوٹل اور اپارٹمنٹس پروجیکٹ کی تعمیر کی "خوشخبری" سنی۔ دل سے پھر ایک آہ نکلی!

پاکستان میں چند ہی مقامات ہیں جو قدرتی طور پر ضلع مری کی طرح دلفریب ہیں۔ مگر یہ حسن اپنی جگہ لیکن کبھی خوبصورتی کی علامت قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 51 پر مشتمل یہ کہسار اب زخم خوردہ ہیں اور عرصہ دراز سے موقع پرستوں اور سرمایہ کاروں کی ستم ظریفیوں کا شکار ہیں۔ کبھی اس خطے کی چوٹیاں اور وادیاں دیار، چیڑھ اور کیل کے جنگلات سے ڈھکی ہوتی تھیں اور سبز سمندر کی مانند لہراتی تھیں، بادل جو ان چوٹیوں کے دامن میں بسیرا کرکے جب چھٹتے تھے تو ہر سو پھیلا شاداب سبزہ آنکھوں کو تر کرتا تھا۔ جو مسافر پہلی بار اسے دور سے دیکھتے، وہ عموماً انگشت بدنداں ہوتے۔

مری کی اصل پہچان اس کی وہ تاریخ تھی جو آج بھی کہیں کہیں سسک رہی ہے۔ ٹرینٹی چرچ، مال روڈ مری پر شام ڈھلے ٹہلتے خاندان، جی پی او مری کے سامنے لگے خطوط اور پوسٹ کارڈز اور سیسل ہوٹل مری کی بالکونیوں سے نظر آتا دھند میں لپٹا پہاڑی منظر، یہ سب مری کی اجتماعی یادداشت کا حصہ تھے۔ یہ محض عمارتیں نہیں تھیں بلکہ ایک تہذیبی تسلسل، ایک سلیقہ اور انسان و فطرت کے درمیان قائم ایک خاموش معاہدہ تھیں۔ یہاں سیاح آتے تو شور مچانے نہیں، خود کو دھند، خاموشی اور سبزہ کے سپرد کرنے آتے تھے۔ آج انہی مقامات کے اردگرد بے ہنگم شور، بدنما تعمیرات اور تجارتی ہوس نے اس تاریخی رومان کو دیمک کی طرح چاٹ لیا ہے اور مری کی روح آہستہ آہستہ کنکریٹ تلے دفن ہوتی جا رہی ہے۔

انگریز دور میں جبر تھا مگر قانون تھا۔ پھر آزادی ملی، تقریباََ تین دہائیوں تک تو عمارات کی تعمیر کے لئے انگریز کا ہی ماسٹر پلان رائج رہا مگر پھر کبھی آمریت اور کبھی نام نہاد پارلیمانی اور بلدیاتی نظام کے نابغہ کرداروں نے مری اور اس کی ملحقہ تحصیلوں کو تقدیر کے ہاتھوں رلنے دیا۔ مگر یہ تقدیر تھی، نہ جغرافیائی حالات اور نہ ہی کوئی حادثہ، بلکہ رہنماؤں کی نا اہلیت تھی کہ پہاڑ ان کے سامنے کنکریٹ کے جنگل بنتے چلے گئے۔ ظلم یہ ہوا کہ یہاں کے قدیم روایتوں کے امین باسی جو قدرتی طور پر باصلاحیت، امن پسند اور اپنے مٹی سے جڑے ہوئے تھے، ان کو آبائی زمین غیروں کو بیچنے کی راہ پہ لگا دیا گیا اور وراثت بکتی چلی گئی۔

ستم ظریفی یہ رہی کہ یہاں کے بچوں کو علم، سائنس اور ہنر کی طرف راغب کرنے کے بجائے پراپرٹی ڈیلری ہوٹل مافیا اور ٹھیکیداری کے نظام میں دھکیل دیا گیا اور مری کی انتظامیہ نے ٹاؤن پلاننگ، قدرتی پانی کی عدم دستیابی اور گرین ٹورزم کے اصولوں کو نظر انداز کرکے بے ہنگم شہری پھیلاؤ کی مجرمانہ معاونت کی۔ برائیڈل پاتھ جس پہ کبھی گھوڑوں کی ٹاپ سنائی دیتی تھی، اب بے ہنگم کنکریٹ کی سڑکیں بن گئےاور ان کے اطراف کثیر المنزلہ پلازے کھڑے کر دیے گئے اور یہ کسی ایک طرف نہ ہوا بلکہ مری شہر سے بھوربن، گلیات اور پنڈی جانے والی تمام شاہراہوں کے اردگرد ہوا۔

آج وفاقی دارالحکومت سے باہر نکلیں تو پرانی مری روڈ اور نئی ایکسپریس وے پہ واقع دائیں بائیں تمام پہاڑیاں کٹی پھٹی نظر آتی ہیں۔ حتی کہ کوٹلی ستیاں کے جنگلات بھی محفوظ نہ رہے۔ پراپرٹی ولچرز نے سینکڑوں کنالوں پہ مشتمل خوبصورت سبز پہاڑوں کو مرلہ مرلہ کی ہاؤسنگ سکیموں میں بدل دیا اور یہ عین قانون کی ناک تلے ہوتا رہا۔ میرا اپنا گاؤں جو پنجاب اور کے پی کے سنگم پہ واقع ہے، اس ظلم سے نہیں بچا۔

مری کو پاکستان کا سوئٹزرلینڈ ہونا چاہیے تھا، انسان اور قدرت کے درمیان ہم آہنگی کی بہترین نمائش کے ساتھ۔ مگر اس کی بجائے، اسے ترقی کے نام پہ ایک بدصورت حسینہ میں تبدیل کر دیا گیا۔ یہ سب سلم ڈاگ ملینیئر Slumdog Millionaire فلم کے ایک کے منظرنامے سے زیادہ کچھ نہیں لگتا، جو انڈیا کی کچی آبادیوں Slums پہ بنائی گئی تھی۔ وہ فلم جو دنیا بھارت کی جھگیوں والی آبادی دکھاتی ہے، مری کے زیادہ تر بنائے گئے بازار، ان کی بھیڑ بھاڑ اور بے ترتیب رہائشی راستوں سے گزرنے کے دوران ذہن میں آتی ہے۔

میرے ذہن سے وہ یادیں محو نہیں ہو رہیں جب جی ٹی ایس کے بس اڈے سے کشمیری ہاتو ایک پتلی چڑھائی چڑھتی سڑک پہ سامان اٹھا کے مال روڈ تک پہنچاتے تھے۔ اب اس سڑک کے اطراف گھبرو پٹھانوں کی دوکانوں کا راجہ بازار ہے۔

1992 میں ایک سوئس کمپنی نے مری کا ارضیاتی سروے کیا اور قرار دیا کہ ہر سال مری کے پہاڑ قدرتی شکست و ریخت، موسمیاتی اثرات اور عمارتی بوجھ تلے دب کر اوسطاً دو انچ بیٹھ رہے ہیں۔ مری کے پہاڑ خاموشی سے اپنے اوپر ستم ہوتے ہوئے دیکھتے رہ گئے۔ اندازہ کر لیں گزشتہ 33 سالوں میں یہ پہاڑ کتنے پستہ قد ہو چکے ہوں گے۔

کیا کبھی پنجاب کے ماحولیاتی ادارے نے جائزہ واٹر سیمپلنگ کی ہے، کہ ایسی بے ہنگم تعمیرات کے سیوریج نے نچلی آبادیوں کے زیر زمین پانی کو کتنا آلودہ کیا ہے؟ کیا اداروں نے پارکنگ کے علاوہ منی ٹریٹمنٹ پلانٹس کی تعمیر کا سوچا ہے۔

سوئٹزرلینڈ میں پہاڑی علاقوں میں یا تو عمارتیں مرکزی سیوریج سے منسلک ہوتی ہیں۔ یا پھر آن سائٹ ٹریٹمنٹ پلانٹس Sequencing Batch Reactor یا Membrane Bio Reactor نصب کرنا لازم ہوتا ہے۔ مری یا بھی اگر بلڈنگ بائی لاز میں ترمیم کرکے نئی عمارتوں کے لیے یہ شرط لازمی بنا دی جائے اور پرانے پلازوں کو مرحلہ وار مہلت دی جائے، تو یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ NOC، کمپلیشن سرٹیفکیٹ اور یوٹیلیٹیز کو منی ٹریٹمنٹ پلانٹ سے مشروط کیا جائے۔ جہاں چھوٹے پلازے ہیں وہاں گلی میں ایک ہی کلسٹر پلانٹ بن جائے۔ مگر اصل رکاوٹ ٹیکنالوجی نہیں بلکہ نفاذ کی کمزوری اور مصلحت ہے۔

این اے 51 اور بالخصوص مری نے جو کچھ برداشت کیا وہ صرف ناقص انتظامیہ اور لیڈرشپ کی ناہلیت کی اعلی مثال ہی نہیں یہ ریاستی جرم بھی ہے۔ اعلی قیادت نپے تلے حساب کتاب اور ذاتی مفادات کے تابع تحت غلط فیصلوں پہ خاموشی اختیار کرکے شریک جرم ہوتی رہی۔ مگر اب یہ سب کچھ کرکے کوئی اصول پرستی اور عوامی نظام کے نعروں کا بے مقصد راگ الاپے گا تو یہ کھوکھلا نعرہ ہوگا۔

موجودہ پنجاب حکومت نے مری کی بحالی اور انکروچمنٹ کے خاتمے کا اصولی فیصلہ تو کیا لیکن وہ اس میں کس حد تک کامیاب ہو سکتے ہیں، یہ ایک ملین ڈالر کوئسچن ہے۔ سنجیدہ طبقوں کی طرف سے ایک تجویز حکومت پنجاب کو دی جا رہی ہے کہ مری کے کچھ تاریخی مقامات کو ہیریٹیج ڈکلیئر کرکے یونیسکو کے حوالے کر دیا جائے، جو اس کی دیکھ بھال کرے۔ مگر یونیسکو یہ اعتراض ضرور کرے گا کہ کونسی تاریخی بلڈنگ آپ نے چھوڑی ہے، جس کا میں دفاع کروں۔

پانی کے چشمے محدود ہیں اور خشک ہو رہے ہیں، اگر مری میں مشروم گروتھ روکی نہ گئی تو بالآخر کراچی ٹینکر اور واٹر مافیا وجود میں آ جائے گا۔ مگر کوتاہ نظر ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن سے اتنی بالغ نظری کی امید نہیں۔ مری ویسے بھی بڑی کمائی کا سٹیشن سمجھا جاتا ہے۔

قصہ مختصر اصلاح احوال نہ ہوا تو سن لیں، اب جنریشن زی اور الفا کا دور ہے۔ نوجوان جاگ رہے ہیں۔ ہر درخت جو بغیر منصوبہ بندی کے ذاتی مفاد کے تابع کسی پلازہ کے لیے کاٹا گیا وہ صرف ایک ماحولیاتی زخم نہیں ہے بلکہ ورثے کے ساتھ غداری ہے اور اس کا حساب یہ نسل لےگی اور اگر ایسا نہ ہوا تو مری خود بڈھے راوی کی طرح اپنی بربادی کا حساب کبھی نہ کبھی ضرور لے گی اور خوب لے گی۔

About Muhammad Idrees Abbasi

Engineer Muhammad Idrees Abbasi is former advisor world bank and writes on politics and social topics.

Check Also

Mojuda Irani Surat e Haal

By Syed Mehdi Bukhari