Monday, 19 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Idrees Abbasi
  4. Sitam Zada Murree Ki Dastan (4)

Sitam Zada Murree Ki Dastan (4)

ستم زدہ مری کی داستان (4)

میں ڈپٹی کمشنر مری، شیرازی صاحب کا دلی طور پر شکر گزار ہوں کہ انہوں نے میری سابقہ تحریر پر سوموٹو نوٹس لیتے ہوئے مسوٹ میں بطور ٹیسٹ کیس قائم ایک متنازعہ کثیر المنزلہ عمارت کی تعمیر کا سنجیدگی سے نوٹس لیا۔ ان کی بروقت مداخلت کو عوامی سطح پر سراہا جا رہا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر انتظامیہ چاہے تو بے ضابطگیوں کا سدباب ممکن ہے۔

زیرِ بحث موضوع "ستم زدہ مری کی داستان" کو اختتام تک پہنچاتے ہوئے، ڈپٹی کمشنر صاحب کو چند مزید تجاویز پیش کی جا رہی ہیں، جن پر ان سے سرسری بات ہو چکی ہے، تاہم اب ان پر سنجیدہ اور عملی کارروائی ناگزیر ہے۔

یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ ٹی ایم اے میں موجود ٹاؤن میونسپل آفیسر اور ماتحت عملہ بڑی عمارات یا میگا پراجیکٹس کی فنی جانچ پڑتال اور بعد ازاں مؤثر نگرانی کی اہلیت نہیں رکھتا۔ مری اب ایک مکمل ڈسٹرکٹ کی حیثیت اختیار کر چکا ہے، لہٰذا امید کی جاتی ہے کہ ڈپٹی کمشنر صاحب حکومتِ پنجاب اور سیکرٹری لوکل گورنمنٹ کو فوری ریفرنس ارسال کریں گے، جس میں درج ذیل نکات شامل ہوں:

1۔ عمومی طور پر "گراؤنڈ پلس ملٹی بیسمنٹ" طرز کی این او سیز تکنیکی اور قانونی دھوکے کے مترادف ہوتی ہیں۔ ایسی این او سیز کے نتیجے میں ڈھلوان یا ویلی سائیڈ پر عظیم الجثہ عمارات وجود میں آتی ہیں جو شدید حفاظتی، منصوبہ بندی اور ماحولیاتی خدشات کو جنم دیتی ہیں۔ ویلی سائیڈ یا ڈھلوان پر تعمیر شدہ فریم اسٹرکچر کو محض سپورٹنگ اسٹرکچر تصور کیا جائے، نہ کہ قابلِ رہائش فلور ایریا۔

2۔ تمام مکمل شدہ میگا عمارات کو کمپلیشن سرٹیفیکیٹ کے حصول کا پابند بنایا جائے اور قواعد سے ہٹ کر تعمیر شدہ حصوں کو لازماً مسمار کروایا جائے۔ اس ضمن میں بحریہ ٹاؤن اور ڈی ایچ اے کے بلڈنگ کنٹرول سسٹمز کو بطور مثال سامنے رکھا جا سکتا ہے۔

3۔ این او سی میں پارکنگ سمیت چند عمومی شرائط کے ساتھ سیوریج کو مین سیور میں ڈالنے کی شرط رکھی جاتی ہے، حالانکہ موقع پر کوئی مین سیور موجود ہی نہیں ہوتا۔ نتیجتاً یہ شرط ناقابلِ عمل بن جاتی ہے اور اوپن سیوریج ڈسپوزل زیرِ زمین آبی ذخائر کو آلودہ کرتی ہے۔

4۔ تمام بڑی عمارات میں آن سائٹ منی سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ کی تنصیب لازمی قرار دی جائے۔ بجلی، پانی اور گیس کے کنکشنز کی منظوری کو ٹریٹمنٹ پلانٹ کی تکمیل سے مشروط کیا جائے۔ نیز ہر تعمیر شدہ عمارت کے لیے مناسب شجر کاری کو قانونی تقاضا بنایا جائے۔

5۔ اب تک جاری شدہ تمام این او سیز کی ازسرِنو قانونی و فنی جانچ کی جائے اور جن میں قانونی سقم موجود ہوں، ان کی بنیاد پر اجازت سے زائد تعمیر کو ختم یا مسمار کیا جائے۔

6۔ پنجاب کی سطح پر ایک ہائی پاور کمیٹی تشکیل دی جائے جو بین الاقوامی ماحولیاتی اداروں اور ملکی کنسلٹنٹس کی مدد سے موجودہ قوانین کو Revamp کرے اور اس امر کا تعین کرے کہ برطانوی دور کے گراؤنڈ پلس ٹو قوانین کو موجودہ حالات میں کس طرح مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔ بطور حوالہ شملہ کے قوانین کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے، جنہیں یونیسکو کی رہنمائی حاصل رہی ہے۔

7۔ مری کے لیے پنجاب میں خصوصی قانون سازی کی جائے تاکہ ٹی ایم اے قوانین کی ازسرِنو ترتیب کے ساتھ ساتھ سترہ میل سے مری اور اس کے مضافات میں پانچ، دس کنال پر مشتمل ہاؤسنگ کالونیز کی بے ہنگم افزائش کو روکا جا سکے۔ یہ تعمیرات نہ صرف مری کے زیرِ زمین آبی ذخائر بلکہ سملی ڈیم اور راول ڈیم کے پانی کو بھی آلودہ کر رہی ہیں۔

8۔ ٹی ایم اے نظام ختم کرکے مری ڈویلپمنٹ اتھارٹی قائم کی جائے، جہاں IDAP پنجاب کی طرز پر مارکیٹ بیسڈ، اہل، فنی اور مشاورتی ماہرین کی بھرتی ہو، جو نظرِ ثانی شدہ قوانین کی روشنی میں مری کے مسخ شدہ شہری خدوخال کو مرحلہ وار درست کر سکیں۔

ہم پُرامید ہیں کہ ڈپٹی کمشنر صاحب اپنی موجودہ تعیناتی کے دوران اگر ان اقدامات پر عملدرآمد یقینی بناتے ہیں تو وہ نہ صرف عوامی اعتماد پر پورا اتریں گے بلکہ تاریخ میں بھی اپنا نام ایک جری اور باکردار منتظم کے طور پر رقم کر جائیں گے۔ یہ منصب عوام کی امانت ہے، درست فیصلے انہیں اللہ کے حضور بھی سرخرو کریں گے اور عوام کی نظر میں بھی۔

حضور کو نیک و بد سمجھائے دیتے ہیں۔

عملدرآمد آپ کی موقر صوابدید پر ہے۔

About Muhammad Idrees Abbasi

Engineer Muhammad Idrees Abbasi is former advisor world bank and writes on politics and social topics.

Check Also

Gul Plaza Atishzadgi, Karachi Mein Qayamat e Sughra

By Mushtaq Ur Rahman Zahid