Tuesday, 13 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Idrees Abbasi
  4. Sitam Zada Murree Ki Dastan (3)

Sitam Zada Murree Ki Dastan (3)

ستم زدہ مری کی داستان (3)

ڈپٹی کمشنر مری ایک متحرک بیوروکریٹ اور ذمہ دار افسر ہیں۔ میں انہیں 2010 سے جانتا ہوں جب وہ ملتان تعینات تھے۔ میرے گاؤں مسوٹ میں قائم ایک گیارہ منزلہ عمارت کی تصویر آج میں ایک ٹیسٹ کیس کے طور پر ان کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔

شیرازی صاحب کے بارے میں میرا گمان ہے کہ پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ کی ٹف ایڈمنسٹریٹو ٹارگٹس والی حکومت میں مری جیسے مشکل اور حساس اسٹیشن پر اگر وہ ڈیڑھ سال سے زائد عرصہ گزار چکے ہیں تو یقیناً کچھ نہ کچھ کارکردگی ضرور دکھا رہے ہوں گے۔

تاہم میرا یہ بھی یقین ہے کہ وہ ہزاروں دوسرے بیوروکریٹس ہی کی مانند ہوں گے جو آؤٹ آف دی باکس سوچنے اور عمل کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ شاید وہ تربیت اور بیوروکریٹک اطوار ہیں جن کے تحت افسران کسی مسئلے پر ایکٹ کم اور ری ایکٹ زیادہ کرتے ہیں۔ دوسری عام عادت یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے دور میں پیدا ہونے والے مسائل اور ان کے حل تک خود کو محدود رکھتے ہیں، سابقہ ادوار کے "گڑھے مردے" اکھاڑنے سے احتراز برتتے ہیں۔

شاید یہ نظام ہی ایسا ہے کہ اگر آپ نوکری کا ایک دن خیریت سے گزار لیں تو سجدۂ شکر بجا لاتے ہیں۔ تاہم پنجاب کی تاریخ میں نسیم صادق جیسے ڈپٹی کمشنر بھی گزرے ہیں جو ملتان میں حقیقی معنوں میں شہر کے کوتوال تھے۔ ان کے دفتر میں طلاق کے مقدمات بھی سنے جاتے تھے، انہوں نے بڑے بڑے قبضہ مافیا سے سرکاری زمینیں واگزار کرائیں اور وہاں شاندار تعمیرات بھی کروائیں۔

میرا گاؤں مسوٹ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے سنگم پر واقع ہے۔ کبھی یہ ایک پُرامن بستی تھی، جو پراپرٹی ڈیلروں اور سرمایہ کاروں کی نظروں سے محفوظ رہتی تھی۔ اس کی برف پوش چوٹیاں اور گھنے جنگلات سیاحوں کے لیے ایک الگ ہی منظر پیش کرتے تھے۔ یہ علاقہ ایک پہاڑی ridge پر واقع ہے جو کے پی کے کے پہلے بازار سوار گلی سے متصل ہے۔ یہاں ہمارے بزرگوں کی آبائی زمینیں تھیں۔

پھر دو دہائیاں قبل ایک ایسا دور آیا جب خون آشام پراپرٹی وَلچرز مری شہر کی حدود عبور کرکے مضافات پر حملہ آور ہوئے۔ ابتدا مری، بھوربن روڈ سے ہوئی، جہاں فائیو اسٹار ہوٹل بنا اور پھر چل سو چل، لوگوں کو راتوں رات امیر بننے کا خبط لاحق ہوگیا۔ یہ بیماری ہمارے پُرسکون علاقے تک بھی آن پہنچی۔ سوار گلی سے متصل یہ پوری ridge بکتی چلی گئی۔ حتیٰ کہ گوروں کے زمانے کا ایک برائیڈل پاتھ۔۔ جو سوار گلی بازار کو باڑیاں بازار سے ملاتا تھا، بھی اہلِ زر نگل گئے اور اس کے اردگرد کنکریٹ کے پہاڑ کھڑے کر دیے گئے۔

ٹی ایم اے کے بائی لاز کے مطابق کسی کمرشل عمارت کی آخری حد گراؤنڈ پلس ٹو ہے، مگر سمجھ سے بالاتر ہے کہ گیارہ منزلیں کیسے منظور ہوگئیں۔ ٹی ایم اے کے ناخواندہ اہلکار بڑی کمرشل عمارتوں کی سیوریج ڈسپوزل کو کیوں نظر انداز کرتے ہیں؟ اپنے پاؤ گوشت کے لئے پوری بھینس حلال کرنے کا سلسلہ کب تک جاری رہے گا؟ زیرِ بحث عمارت کے عین نیچے، دو فرلانگ کے فاصلے پر، صدیوں پرانا پانی کا چشمہ (ملاچھ اسپرنگ) واقع ہے، جو پانچ ہزار سے زائد آبادی کے زیرِ استعمال ہے۔ وہ یقیناً مسلسل آلودہ ہو رہا ہوگا۔ مگر جس ملک میں ہم رہتے ہیں، یہ کوئی سوشل ویلفیئر اسٹیٹ تو ہے نہیں، یہاں پانی کی آلودگی شاید پچاسویں ترجیح ہو۔ آپ زندہ رہیں تو کافی سمجھا جاتا ہے۔

شیرازی صاحب، پنجاب حکومت کی ہدایات پر، مری شہر میں پہلے سے موجود تجاوزات کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ یقیناً عمارتیں بن جانے کے بعد انہیں گرانا بیوروکریسی کے لیے سخت ترین اہداف میں سے ہے۔ ادھر آج کل جاوا گاؤں میں ایک پوری ہاؤسنگ سوسائٹی بننے جا رہی ہے۔ مری کے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ چیخ رہے ہیں، مگر نتیجہ کیا نکلے گا؟

زیرِ بحث گیارہ منزلہ عمارت، جو بلڈر مافیا نے بڑے دھڑلے سے ہمارے سروں پر کھڑی کر دی ہے، اس کے خلاف درخواستیں انتظامیہ کو موصول ہوتی رہی ہیں۔ مگر کیا کبھی کوئی مؤثر کارروائی ہوئی؟

ڈیڑھ سال قبل نواز شریف کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی۔ وہ اسی ایوبیہ روڈ پر خود گاڑی چلا رہے تھے، ان کے ساتھ بائیں جانب مریم نواز اور پچھلی سیٹ پر مریم اورنگزیب تشریف فرما تھیں۔ وہ ان خواتین کو، جن کے ہاتھ آج پنجاب کی باگ ڈور ہے، مری کی سابقہ تاریخ سنا رہے تھے، جب سڑکیں خالی ہوا کرتی تھیں اور عمارتیں خال خال ہی دکھائی دیتی تھیں۔ مجھے یقین ہے کہ پرانا مری آج بھی ان کی آنکھوں میں بسا ہوگا اور مری اور اس کے مضافات کو قانون کی آڑ میں ہونے والی غیر قانونی تعمیرات سے پاک کرنا اب بھی ان کی ترجیح ہوگی۔

ڈپٹی کمشنر صاحب سے مودبانہ گزارش ہے کہ کبھی میرے گاؤں تشریف لائیں۔ ایک بااختیار کمیشن تشکیل دیا جائے جو اس نوعیت کی عمارات کی جانچ کرے۔ این او سی کے حصول کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اب سیاہ و سفید سب کچھ جائز ہوگیا۔ مری میں ویسے ہی پانی کی شدید قلت ہے، اوپر سے گلوبل وارمنگ۔

کیا چند برسوں کے لیے کمرشل تعمیرات پر مکمل پابندی عائد نہیں کی جا سکتی؟

خدارا مری پاکستان کے ماتھے کا جھومر ہے، اسے مزید تباہ مت کریں۔

About Muhammad Idrees Abbasi

Engineer Muhammad Idrees Abbasi is former advisor world bank and writes on politics and social topics.

Check Also

Mausam e Sarma Aur Garm Garm Kamre

By Syed Mehdi Bukhari