Sitam Zada Murree Ki Dastan (2)
ستم زدہ مری کی داستان (2)

میرے دوست معروف انرجی/ پیٹرولیم ایکسپرٹ و ماہر ماحولیات انجینئر ارشد ایچ عباسی نے بھی 29 دسمبر کو مری کی تباہی پہ معروف جریدے" فرائیڈے ٹائمز "میں ایک مضمون لکھا۔ اس میں انھوں نے کچھ چشم کشا حقائق بیان کئے کہ کیسے ایک سابق ناظم کے دور میں ان کی غیر قانونی بلڈنگ بارے اعلیٰ عدلیہ نے احکامات پاس کئے مگر وہ ہوا میں اڑا دئے گئے اور یوں مری میں غیر قانونی تعمیرات کا آغاز ہوا۔ مضمون عوام الناس کی آگاہی اور متعلقہ حکام کی توجہ کے لئے پیش خدمت ہے۔
"میں یہ سطور نہ کسی مبصر کی حیثیت سے لکھ رہا ہوں، نہ کسی ماہرِ تعلیم یا مشیر کے طور پر، بلکہ مری کے ایک بیٹے کی حیثیت سے۔ ایسے شخص کے طور پر جو اس شہر کو صرف اپنی یادوں میں نہیں بلکہ اپنی زندگی کے رگ و پے میں بسائے ہوئے ہے۔ مری کو اس کے اصل نوآبادیاتی دور کے طرزِ تعمیر میں بحال کرنے کی میری خواہش کسی رومانویت یا ظاہری حسن کی طلب نہیں، بلکہ اس جگہ سے وفاداری کا اظہار ہے جو کبھی وقار کے ساتھ جینا جانتی تھی۔
میں مری کی پہاڑیوں کا مقامی باشندہ ہوں۔ ستر کی دہائی کے اوائل میں میں نے ان گلیوں میں قدم رکھا جب شہر ابھی پہاڑوں کے تابع تھا۔ وہ ان پر حاوی نہیں ہوتا تھا، بلکہ ان کی سنتا تھا۔ ہوا صاف تھی۔ اتفاقاً نہیں بلکہ منصوبہ بندی کے تحت۔ عمارتیں احتیاط سے بنائی گئی تھیں، سڑکیں قدرتی نشیب و فراز کے مطابق تھیں، انہیں چیرتی نہیں تھیں۔ ایک ایسا نظم و ضبط تھا جو غیر محسوس لگتا تھا اور ایک ایسی صفائی جو پہاڑی روشنی کی شفافیت کی عکاس تھی۔ مری لامحدود پھیلاؤ کا خواہاں نہیں تھا، وہ دوام کا متمنی تھا۔
ان دنوں میرا اپنا گھر مال روڈ سے خاصا دور، ایک دور افتادہ گاؤں میں تھا۔ وہ شاندار نہیں تھا، مگر سچا تھا۔ موٹی پتھریلی دیواریں سردی کو روکتی تھیں۔ نالی دار جی آئی شیٹ کی چھت بارش میں بجتی تھی۔ جھوٹی چھت نیچی تھی، بمشکل گیارہ فٹ، جو سردیوں میں حرارت محفوظ رکھنے اور خاندان کو پہاڑ کی سختی سے بچانے کے لیے بنائی گئی تھی۔ اس طرزِ تعمیر نے بقا سے جنم لیا تھاخاموش علم سے، جو نسل در نسل منتقل ہوا تھا۔
لیکن جب میں کشمیر پوائنٹ کی طرف یا مال روڈ پر چلتا، تو تعمیر کا ایک بالکل مختلف فلسفہ سامنے آتا۔ مری کی نوآبادیاتی عمارتیں موسم کی نفی نہیں کرتی تھیں، وہ اس سے سمجھوتہ کرتی تھیں۔ اونچی چھتیں گرم ہوا کو اوپر اٹھنے اور نکلنے دیتی تھیں۔ کشادہ برآمدے دھوپ کی تمازت کو نرم کرتے تھے۔ ڈھلوان دار چھتیں برف کو بغیر مزاحمت کے پھسلنے دیتی تھیں۔ چمنیاں موجود تھیں، آرائش کے لیے نہیں بلکہ ضرورت کے تحت۔ یہ شاہ خرچ ڈیزائن نہیں تھے، بلکہ بلندی، برف باری، ہوا اور وقت کے حساب سے سوچے سمجھے تعمیری منصوبےتھے۔
ان میں سے بہت سی عمارتیں دھجّی وال تکنیک سے بنی تھیں، لکڑی کا ڈھانچہ جس میں پتھر اور مٹی کا پلستر بھرا جاتا تھا۔ یہ مقامی زلزلہ پروف حکمتِ عملی تھی جو نفاست میں ڈھل چکی تھی۔ یہ شاہی منصوبہ بندی اور مقامی دانش کا حسین امتزاج تھا۔ جہاں میرے گاؤں کا گھر قربت اور حرارت کا منبع تھا، وہاں یہ عمارتیں توازن اور پائیداری کی نمونہ تھیں۔ ایک خاندان کے لیے بنی تھی، دوسری ایک ایسے شہر کے لیے جو قائم رہنے کے لیے تھا۔
مری کا تعمیراتی ورثہ اتفاقیہ نہیں بلکہ دانستہ تھا۔ مال روڈ پر واقع ہولی ٹرینیٹی چرچ، جو 1850 سے 1857 کے درمیان تعمیر ہوا، آج بھی غیر معمولی استقامت کی حامل نیو گوتھک یادگار ہے۔ اس کے نوک دار محرابیں، رنگین شیشے اور پتھریلا کام زلزلوں، طوفانوں اور ڈیڑھ صدی سے زائد سیاسی تغیرات کے باوجود قائم ہیں۔ ٹاؤن ہال، ٹیوڈر طرز میں، کبھی توازن اور وقار کے ساتھ شہری زندگی کا مرکز تھا، جبکہ وائسریگل لاج، اسکاٹش روایت میں تعمیر شدہ، بلندی کی بجائے تناسب اور ضبط کا ایک اعلیٰ تعمیری نمونہ تھا۔
مال سے آگے، گھڑیال میں اولڈ گیریژن چرچ اینڈ اسکول، فوجی ہیڈکوارٹر کے قریب سینٹ مارگریٹ چرچ، کشمیر پوائنٹ پر کیتھولک چرچ، گھوڑا گلی میں لارنس کالج چیپل اور سینٹ ڈینیز اسکول کی چیپل، یہ سب مذہبی اور شہری طرزِ تعمیر کی ایک خاموش دنیا کا مظہر تھے۔ یہ الگ تھلگ عمارتیں نہیں تھیں، بلکہ ایک مربوط شہری زبان کے اجزا تھےپتھر، لکڑی اور خلا کی ایسی زبان جسے مری کبھی روانی سے بولتا تھا۔
برطانوی دور نے صرف عمارتیں نہیں چھوڑیں، بلکہ شہر بنانے کا قانون بھی چھوڑا: بلندی کی پابندیاں، منظرنامے (سائٹ لائنز)، کھلی جگہیں، ڈھلوانوں کا احترام اور سب سے بڑھ کر یہ فہم کہ پہاڑ خالی زمین نہیں جو صرف منافع کے لیے ہو، بلکہ زندہ نظام ہیں جو تکبر کی سزا دیتے ہیں۔ یہ ورثہ جنگوں، آزادی اور دہائیوں کی غفلت کے باوجود قائم رہا۔ مگر یہ لالچ کے سامنے قائم نہ رہ سکا۔
2002 سے 2007 کے درمیان اور اس کے بعد کے تاریک برسوں میں، مری کی تباہی ناقابلِ تلافی حد تک تیز ہوگئی۔ اُس دور کے ناظم کے پاس یہ اختیار، وسائل اور قانونی آلات موجود تھے کہ وہ ہیریٹیج زون کا اعلان کریں، ضابطے نافذ کریں اور غیر قانونی تعمیرات روکیں۔ اس کے برعکس، تحفظ کے قوانین نظرانداز کیے گئے۔ انہوں نے خود گیارہ منزلہ ہوٹل تعمیر کیا اور چار سو پچاس سے زائد بلند عمارتوں کی تعمیر کی راہ ہموار کی۔ نائب ناظم نے احتجاج کیا اور خلاف ورزیوں کی دستاویزات تیار کیں، جسٹس ناصر اسلم زاہد نے غیر معمولی نوٹس بھی لیا، مگر یہ سب ملی بھگت کے نظام میں دب کر رہ گیا اور قانون اپنی معنویت کھو بیٹھا۔
ناظم کے سائے میں، کنکریٹ کے مینار وہاں تعمیر ہو گئے جہاں کبھی پتھریلی کاٹج تھیں۔ ڈھلوانیں سلامتی یا پناہ کے لیے نہیں بلکہ پارکنگ پلازوں اور شاپنگ آرکیڈز کے لیے بارود سے اڑا دی گئیں۔ جو کچھ غیر ملکی حکمرانوں نے ایک صدی تک محفوظ رکھا، مقامی حکمرانوں نے چند برسوں میں تباہ کر دیا۔
یہ بات واضح اور بے لاگ کہی جانی چاہیے: نہ بھارت، نہ اسرائیل، بلکہ مری کے مقامی تاجر، ہوٹل مالکان اور سیاست دانوں نے مری کو برباد کیا۔ جس طرح 1258 میں ہلاکو خان نے بغداد کو خاک میں ملا دیا تھا، تقریباً سات سو سال پہلے۔ وہ تباہی تیز اور سفاک تھی، ہماری تباہی سست، خاموش اور اسی لیے زیادہ شرمناک تھی۔
اولڈ سیسل ہوٹل، جو کبھی نوآبادیاتی دور کی شان تھا، آج نیون لائٹس والے بدصورت دیو ہیکل ڈھانچوں کے سائے میں ایک کنکریٹ کا پہاڑ بن چکا ہے۔ ہولی ٹرینیٹی چرچ، جو کبھی رنگین شیشوں سے پہاڑی روشنی کو قید کرتا تھا، اب اردگرد اُگتی دیواروں میں بصری قید کا شکار ہے۔ 1867 کا تاریخی جی پی او، جو کبھی خطے کا مواصلاتی دل تھا، غیر قانونی بلند عمارتوں کے بوجھ تلے دب گیا۔
یہ ترقی نہیں تھی۔ یہ قبضہ تھا۔
میں دو بار شملہ گیا ہوں۔ ہر بار دل بے چین ہوا، حسد سے نہیں بلکہ مری اور شملہ میں فرق سے۔ شملہ کو بھی مری جیسے دباؤ کا سامنا تھا: آبادی میں اضافہ، سیاحت اور سیاسی غفلت۔ مگر وہاں نوآبادیاتی طرزِ تعمیر کو مٹایا نہیں گیا، بحال کیا گیا۔ INTACH جیسے اداروں نے وائسریگل لاج، گائیٹی تھیٹر اور ٹاؤن ہال سمیت اہم عمارتوں کا منظم تحفظ کیا۔ جیکوبیتھن اور ٹیوڈر طرز محفوظ رہے۔ بلندی کی پابندیاں نافذ رہیں۔ ورثے کو رکاوٹ نہیں بلکہ طاقت سمجھا گیا۔ شملہ نے یادداشت کو چنا جب کہ مری نے منافع کو۔
آج کچھ دیر سے سہی، بیداری کے آثار ہیں۔ حکومتِ پنجاب نے کچھ غیر قانونی تعمیرات گرائیں۔ یہ خوش آئند ہے، مگر ناکافی۔ پچھلے پچیس برسوں میں بننے والے غیر قانونی ہوٹل اس بنیاد پر قانونی نہیں ہو سکتے کہ ان کے مالکان نے اربوں کمائے ہیں۔ غیر قانونی عمل منافع کے ذریعے قانونی نہیں بن جاتا۔
ایک اور نہایت فوری ذمہ داری وزیرِ اعلیٰ پنجاب اور اعلیٰ عدلیہ کی منتظر ہے: مری میں متروکہ وقف املاک Evacue Trustکی زمینوں کا جامع آڈٹ۔ یہ زمینیں 1947 کی تقسیم کے دوران ہندوؤں اور سکھوں کے چھوڑے ہوئے اثاثے ہیں، جو وفاقی حکومت کے پاس امانت ہیں۔ مگر اویکیو ٹرسٹ پراپرٹی بورڈ اور مقامی انتظامیہ کی ملی بھگت سے ان کے وسیع رقبے زمین مافیا کے ہاتھوں میں چلے گئے۔ ایک نمایاں مثال راولپنڈی کے ایک کپڑے کے تاجر کی ہے جو ایسی زمین پر غیر قانونی تعمیرات کے ذریعے ارب پتی بنا۔ یہ محض منصوبہ بندی کی ناکامی نہیں، یہ اخلاقی ناکامی ہے۔
مری کی بحالی سیاسی طور پر مشکل، مگر تکنیکی طور پر سیدھی ہے۔ اصل شہر بندی موجود ہے۔ تعمیراتی نقشے موجود ہیں۔ بلندی کی حدیں معلوم ہیں۔ منظرنامے بحال کیے جا سکتے ہیں۔ غیر قانونی ڈھانچے گرائے جا سکتے ہیں۔ نوآبادیاتی عمارتیں مرمت ہو سکتی ہیں۔ درکار چیز ایجاد نہیں، عزم ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں بین الاقوامی تعاون ممکن ہے۔ یونیسکو کے پاس تاریخی شہروں کے لیے فریم ورک موجود ہیں۔ برطانیہ، آسٹریلیا اور کینیڈا کی حکومتوں کے پاس ہِل اسٹیشنز کے تحفظ کی تکنیکی مہارت ہے۔ فنڈنگ، مشاورتی معاونت اور تربیت فراہم کی جا سکتی ہے۔ مری کو دوبارہ ایجاد کرنے کی ضرورت نہیں، اسے یاد کرنے اور اس کی اطاعت کرنے کی ضرورت ہے۔
میں یہ سب ایک اجنبی کی حیثیت سے نہیں لکھ رہا، بلکہ اس شخص کے طور پر جو مری کو اس وقت جانتا تھا جب وہ خود کو نہیں بھولا تھا۔ میں نے دیکھا ہے کہ کیا کھو گیا۔ میں نے دیکھا ہے کہ کیا اب بھی واپس لایا جا سکتا ہے۔ بحالی رومانویت نہیں، یہ نسلوں پر محیط حکمرانی ہے۔ جو شہر اپنی ساخت بھول جائے، وہ اپنی حدود بھول جاتا ہے۔ جو قوم اپنے پہاڑ بھول جائے، وہ اپنا مستقبل بھول جاتی ہے۔
مری اب بھی بچایا جا سکتا ہے، لیکن صرف اسی صورت میں جب ہم سب سے کڑی سچائی کو قبول کریں: مسئلہ کبھی ماضی نہیں تھا۔ مسئلہ وہ حل تھا جسے ہم نے ترک کر دیا۔

