Saudi Arab Aur Uske Muhayyer Ul Aqool Mansoobe
سعودی عرب اور اس کے محیر العقول منصوبے

سعودی عرب نے تقریباً پانچ ارب امریکی ڈالر کی تخمینی لاگت سے ایک اور ریکارڈ توڑ فلک بوس عمارت تعمیر کی جانے کا اعلان کیا ہے، جس کی متوقع بلندی تقریباً دو ہزار میٹر یعنی پورے دو کلومیٹر ہوگی۔ اس سے قبل بلند ترین عمارت برج خلیفہ 868 میٹر اونچی ہے۔
سعودی عرب، جو 1960 کی دہائی میں کراچی کی ترقی دیکھنے آیا کرتا تھا، جہاں ہمارے شہروں کی روشنیاں اور حبیب بینک پلازہ ترقی کی علامت سمجھا جاتا تھا، آج اس قدر آگے نکل چکا ہے کہ ہم پیچھے مڑ کر بھی اسے پہنچ نہیں سکتے۔ وہ ملک جس کے پاس کبھی بنیادی شہری سہولیات تک پوری طرح موجود نہ تھیں، آج وہی ملک دنیا کے جدید ترین، بلند ترین اور مہنگے ترین تعمیراتی منصوبوں کا قائد بن چکا ہے۔
یہ مجوزہ ٹاور ریاض میں ایک مستقبل گیر اور جدید ترین ڈسٹرکٹ کے مرکز کے طور ایک عمودی شہر کی مانند پر قائم کیا جائے گا۔ اس میں پرتعیش رہائشی اپارٹمنٹ، عالمی معیار کے ہوٹل ہوں گے۔ یہ منصوبہ سعودی ویژن 2030 کا حصہ ہے۔
چین جیسے طاقتور ملک نے بھی ابھی تک بلند ترین عمارت شنگھائی ٹاور تعمیر کی ہے جس کی بلندی 632 میٹر ہے۔ چین نے 700-800 میٹر تک کے چند منصوبے ضرور تجویز کیے تھے، مگر عملی جامہ نہ پہنایا۔
دنیا میں اب تک کسی بھی ملک نے دو کلومیٹر بلند عمارت تعمیر نہیں کی۔ تاہم اس سے قبل سعودی عرب برج الخلیفہ کے مقابلے میں "جدہ ٹاور" ایک ہزار میٹر سے زائد تک پہنچنے کا دعوے دار تھا، لیکن وہ بھی اب تک مکمل نہ ہو سکا اور تکنیکی و مالی رکاوٹوں کا شکار ہے۔
چین جو اس وقت دنیا بھر میں بلند ترین، پیچیدہ ترین اور ٹیکنالوجی سے آراستہ تعمیرات کا رہنما سمجھا جاتا ہے۔ لیکن دو کلومیٹر تک پہنچنے والا کوئی منصوبہ چین بھی نہ بنا سکا۔ حالانکہ چین کے پاس دنیا کی سب سے تیز رفتاری والی تعمیراتی تکنیک اور انتہائی ترقی یافتہ انفراسٹرکچر کی مہارت موجود ہے۔
انجینیئرنگ ماہرین کے مطابق دو کلومیٹر تک پہنچنے والی عمارت کے لیے عام سٹیل اور عام کنکریٹ کافی نہیں ہوتے۔ زمین کی ساخت، ہوا کے دباؤ، درجہ حرارت کی تبدیلیاں، اسٹرکچرل سوئنگ اور عمارت کے اندر ٹرانسپورٹ سسٹمز سب ایک نئے درجے کی پیچیدگی اختیار کر لیتے ہیں۔
کیا سعودیہ یہ کر لے گا؟
اگر سعودیہ یہ کر گیا تو دنیا بھر کے تعمیراتی فن کو مات دے دے گا۔
اس سے قبل سعودیہ کا ایک جدید نیوم (The line) شہر جو کہ 170 کلومیٹر طویل بننا تھا، اس میں وہ ناکام ہو چکا ہے۔ یہ منصوبہ غیر حقیقی ہونے کی بناء اب صرف 2.4 کلومیٹر تک محدود ہو چکا ہے۔ اسی طرح مکہ میں بہت بڑا ابراج کدائی ہوٹل جو بارہ ٹاورز اور دس ہزار کمروں پر مشتمل تھا، اس پر بھی کام 2015 سے محدود کر دیا گیا۔
بہرحال یہ صورتحال صرف پانچ ارب ڈالر کے فارن ریزرو اور قرضوں میں جکڑے پاکستان کے لیے ایک آئینہ بھی ہے اور ایک تلخ حقیقت بھی۔ وہ سعودی عرب جسے کبھی پاکستان نے تربیت، افرادی قوت اور تعمیراتی معاونت فراہم کی تھی، وہ آج نہ صرف مالی طاقت میں کہیں آگے ہے بلکہ ٹیکنالوجی اور تعمیراتی وژن میں بھی دنیا سے کئی گام آگے نکل چکا ہے۔
مڈل ایسٹ میں عظیم تعمیراتی مقابلوں کے بعد یہاں ایک سوال ذہن میں نہایت شدت سے ابھرتا ہے: کیا وہ وقت قریب آ چکا ہے جس کی خبر ہمارے آقا حضرت محمد ﷺ نے دی تھی؟
آپﷺ نے فرمایا تھا کہ قیامت کے قریب بدو آسمانوں کی بلندی تک عمارتیں تعمیر کرنے میں ایک دوسرے سے مقابلہ کریں گے۔ آج جب ہم صحرا کے باسیوں کو دو کلومیٹر آسمان چُھوتی عمارتیں بنانے کی تیاری کرتے دیکھتے ہیں تو دل بے ساختہ کہہ اٹھتا ہے کہ وہ فرمانِ مبارک کس حیرت انگیز انداز سے ہماری آنکھوں کے سامنے پورا ہوتا محسوس ہو رہا ہے۔
ہم اور ہمارے حکمران یہ فرمان پڑھ اور سن کے تسلی میں تو ہو جاتے ہیں کہ دنیاوی جاہ و جلال کا کیا فائدہ، ویسے بھی قیامت نزدیک ہے، لیکن ساتھ ہی ساتھ اللہ کا وہ فرمان بھلا دیتے ہیں کہ محنتی اللہ کا دوست ہے اور جتنی کوشش کرو گے اتنا صلہ ملے گا۔

