Monday, 05 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Idrees Abbasi
  4. Pak Tea House, Farooq Abbasi Aur Pakistan Ka Mustaqbil

Pak Tea House, Farooq Abbasi Aur Pakistan Ka Mustaqbil

پاک ٹی ہاؤس، فاروق عباسی اور پاکستان کا مستقبل

پاک ٹی ہاؤس میں سردار فاروق عباسی ایڈووکیٹ اور میں بیٹھے تھے۔ یہ اپریل 1990 کی ایک چمکیلی صبح تھی۔ اس وقت ٹی ہاؤس کی چائے اور کلب سینڈوچ بڑے مشہور ہوتے تھے۔ فاروق عباسی رشتے میں میرے ماموں لگتے تھے اور وکالت پاس کرنے کے بعد ایم اے سیاسیات بھی کر چکے تھے۔ لاہور میں طویل عرصہ قیام کے بعد وہ اب پنڈی کوچ کرنے کی تیاری کر چکے تھے۔ اسی ملاقات میں انھوں نے وائی ایم سی اے ہوسٹل کے کمرے کی چابی میرے حوالے کی، جو اسی بلڈنگ سے متصل تھا جس میں پاک ٹی ہاؤس تھا۔ گویا اب ان کے جانے کے بعد میں اس کمرے کا قانونی وارث تھا۔

فاروق عباسی نے واپس کبھی اپنے کمرے کا رخ نہیں کیا۔ اگلے چار سال تک وہ میرے تصرف میں ہی رہا تاآنکہ وائی ایم سی اے ایڈمنسٹریشن نے سب قابضین سے کمرے خالی نہیں کرا لئے۔ نوے کی دہائی میں یونیورسٹی سے فراغت کے بعد میں پنڈی میں سرکاری ملازمت اختیار کر چکا تھا۔ تاہم جب بھی لاہور کا چکر لگتا، میں ادھر ہی قیام کرتا اور اکثر صبح کا ناشتہ یا شام کا کھانا پاک ٹی ہاؤس سے ہی کھاتا۔

ٹی ہاؤس کے اندر کونے والے کاؤنٹر پر سانولے رنگ والے علیم الدین بیٹھے ہوتے۔ بل کسی روبوٹ کی طرح کاٹتے۔ فاروق عباسی جو نوے کی دہائی کے بعد کچھ سال ہی جئے، ان کی علیم الدین سے دوستی تھی۔ وہ ہمیشہ ان سے مذاق کرتے جس کے جواب میں علیم پھیکی سی ہنسی ہنس دیتے مگر زیادہ گفتگو نہ کرتے۔ میں کبھی کبھی سوچتا نہ جانے کتنے عرصے سے یہ یہاں بیٹھے ہوئے ملک کے نامور ادیبوں اور شعراء کو دیکھ اور سن رہے ہیں مگر ان کی شخصیت میں ادبی کلام نے شائید زیادہ اثر نہ ڈالا۔ ٹی ہاؤس کی فضا میں اکثر چائے پیتے ادباء کا سگریٹ یا سگار کا بل کھاتا ہوا دھواں گردش کرتا رہتا تھا۔ کاؤنڑ پہ ایک کالے رنگ کا ٹیلیفون بھی رکھا ہوتا تھا۔ جو کبھی بجتے نہیں دیکھا۔ فاروق عباسی جو خود بھی ایک دانشور تھے، اکثر علیم الدین سے جب کسی اہم ادبی شخصیت کا پوچھتے، تو علیم الدین کہتے پرسوں آئے تھے، آج نہیں آئے، گویا وہ بے جان مورتی نہ تھے، ہر طرف نظر رکھتے تھے اور شاندار یاداشت کے مالک تھے۔

انھی دنوں میری دلچسپی کے پیش نظر ایک دن فاروق عباسی نے علیم الدین کو اپنی ٹیبل پہ بلوایا اور ان سے پاک ٹی ہاؤس کی ہسٹری پوچھی۔ علیم الدین نے بتایا کہ 1940ء میں ایک سکھ بوٹا سنگھ نے "انڈیا ٹی ہاؤس" کے نام سے یہ چائے خانہ شروع کیا۔ بوٹا سنگھ نے کچھ سال تک اس چائے خانہ و ہوٹل کو چلایا مگر اس کا کام کچھ اچھے طریقے سے نہ چلا۔ بوٹا سنگھ کے چائے خانہ میں دو سکھ بھائی جن کے نام کے آگے بھلا لگتا تھا اور وہ گورنمنٹ کالج میں پڑھتے تھے اپنے دوستوں کے ہمراہ اکثر یہاں آتے۔ یہ تقسیم سے قبل کی بات ہے یہ دونوں بھائی گورنمنٹ کالج سے گریجوایشن کر چکے تھے اور کسی کاروبار کے متعلق سوچ رہے تھے کہ ایک روز اس چائے خانہ پر بیٹھے، اس کے مالک بوٹا سنگھ سے ان کی ڈیل ہوگئی اور بوٹا سنگھ نے یہ چائے خانہ ان کو فروخت کر دیا۔

بعد ازاں قیام پاکستان کے بعد علیم الدین کے والد حافظ رحیم بخش صاحب جالندھر سے ہجرت کرکے پاکستان آئے اور انہوں نے یہ چائے خانہ کرائے پہ لے لیا۔ علیم الدین نے بتایا کہ بہت عرصہ اس کا نام "انڈیا ٹی ہاؤس" چلتا رہا۔ پھر ایوب خان کے دور میں بدل کر پاک ٹی ہاؤس رکھ دیا۔ والد کے انتقال کے بعد اب علیم الدین اور ان کے دوسرے بھائی سراج الدین نے یہ کاروبار سنبھالا ہوا ہے۔

فاروق عباسی تو مجھے علیم الدین سے متعارف کروا کے پنڈی چلے گئے اور بعد ازاں دنیا سے ہی رخصت ہو گئے مگر میں پھر یہاں اکثر آتا رہا۔ نوے کی دہائی میں یہاں دو بڑی ادبی تنظیمیں، حلقہ ارباب ذوق اور انجمن ترقی پسند مصنفین کے اجلاس ہوتے تھے۔ اتوار کو بڑا رش ہوتا اور کوئی ٹیبل خالی نہ ملتی۔ میں یہاں ادب کی تلاش میں تو نہیں مگر ماش کی دال کھانے بڑے شوق سے آتا لیکن اکثر جگہ نہ ملنے سے کہیں اور جانا پڑتا۔

پاک ٹی ہاؤس ایک عرصہ عروج کا مظہر رہا مگر بعد ازاں یہ اجڑتا چلا گیا۔ حتی کہ 1999 میں علیم الدین نے کاروبار میں نقصان کا کہہ کے اسے بند ہی کر دیا۔ اس وقت پاک ٹی ہاؤس YMCA کی ملکیت میں تھا۔ ادیبوں اور شاعروں نے اس چائے خانے کی بندش کے خلاف مظاہرہ کیا اور یہ کیس عدالت میں بھی گیا اور بعض عالمی نشریاتی اداروں نے بھی احتجاج کیا۔ آخر کار 31 دسمبر 2000ء کو یہ دوبارہ کھل گیا اور اہل قلم یہاں دوبارہ بیٹھنے لگے لیکن 6 سال کے بعد مئی 2006ء میں یہ دوبارہ بند ہوگیا اس بار ادیبوں اور شاعروں کی طرف سے کوئی خاص احتجاج دیکھنے میں نہیں آیا۔ پھر عوام کے اصرار پہ 2012 میں لاہور کے کمشنر کے حکم پر دوبارا کھولا گیا۔ مارچ 2013 کو پنجاب حکومت اور لاہور ہائی کورٹ کی مداخلت سے یہ جگہ دوبارہ عوام کے لیے کھول دی گئی۔ تقریب میں معروف ادیب عطا الحق قاسمی بھی موجود تھے۔ اکتوبر 2013 میں اسے لاہور والڈ سٹی اتھارٹی کے زیر انتظام کر دیا گیا۔

پاک ٹی ہاؤس اپنے عروج کے زمانے میں مشہور شعراء ناصر کاظمی، انتظار حسین، سجاد باقر رضوی، پروفیسر سید سجاد رضوی، قیوم نظر، شہرت بخاری، انجم رومانی، امجد اسلام امجد، احمد مشتاق، مبارک احمد وغیرہ کی آماجگاہ رہا۔ ان مشہور ہستیوں کی محافل شام کے وقت ایک مخصوص میز پہ لگتی۔ مشہور صوفی بزرگ اشفاق احمد بھی ستر کی دہائی میں یہاں اپنی سائیکل پہ آیا کرتے تھے۔ ساحر لدھیانوی جو بعد ازاں انڈیا چلے گئے اس کے ابتدائی سالوں میں یہاں آ کر ہی محفل سجاتے تھے۔

لاہور شہر تہذیب کی ایک تاریخ ہے۔ یہاں کے چپے چپے میں تقسیم سے پہلے کی تاریخ اور نشانیاں ہیں۔ مگر اہلیان لاہور نے اندرون شہر کے بارہ دروازوں سمیت ہر جگہ بکھری تاریخ کی ان نشانیوں کو غرق کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ ایک دن فاروق عباسی مرحوم مجھے انارکلی میں قطب الدین ایبک کے مزار پہ لے گئے۔ برصغیر کے اس عظیم بادشاہ کی مزار کی کسمپرسی اوراس کے اردگرد بے ہنگم بلند عمارات کی انکروچمنٹ دیکھ کے رونا آیا۔ سوچا قطب الدین کی روح یہاں آ کر کتنا تڑپتی ہوگی۔ اب آ کر موجودہ حکومت کو کچھ خیال آیا۔ پاک ٹی ہاؤس کے قرب میں موجود نیلا گنبد بحال کیا اور اس کے اطراف صفائی کی اور عوام کو پتہ چلا یہاں کیا نابغہ تاریخی خزانہ پنہاں تھا۔

پاک ٹی ہاؤس کا ماحول اب بھی بڑا دلکش اور رومانوی ہے۔ شائید بحالی کے بعد اب اس کی روح مطمئن ہے اور اس میں بھٹکتی اس کے بانی بوٹا سنگھ کی روح بھی سر شار ہوگی۔ مگر اب بھی پنجاب بھر میں زبوں حالی اور انکروچمنٹ کی شکار تاریخی عمارات حکومت کے کسی ایسے ہی اقدام کی منتظر ہیں۔ پاک ٹی ہاؤس کا نائیلون والا چمکیلا فرش، چوکور سفید پتھر کی میزیں، دیوار پر لگی قائدآعظم کی تصویر، گیلری کو جاتی ہوئی سیڑھیاں، بازار کے رخ پر لگی شیشے دار لمبی کھڑکیاں تو اپنی من مراد پا چکی ہیں مگر پنڈی میں بھابڑا بازار کی سوہن سنگھ حویلی، موتی بازار کی لال سنگھ حویلی اور راجہ بازار کی سردار بہادر سنگھ حویلی کسی مسیحا کے انتظار میں ہیں جو آ کے انھیں گنجان عمارات کے چنگل سے نجات دلائے۔ مری میں مری بروری کے جنگل میں تاریخی مری بروری کی شراب فیکٹری تھی، جو مومن لوگوں نے ثواب کمانے کی خاطر رفتہ رفتہ غائب کر دی، اب کے بچے کچھے کچھ گھڑے ہوئے پتھر گواہی دیتے ہیں کہ عمارت عظیم تھی۔

فاروق عباسی مرحوم نے قطب الدین ایبک کے مزار کی بے حرمتی دیکھ کے ایک سرد آہ بھری اور کہا "یہ وہ ملک نہیں ہے جو قائد اعظم نے بنایا تھا، یہ ان کے جاتے ہی سمگلروں اور اٹھائی گیروں کے حوالے ہوگیا جن کے نزدیک یہ تاریخی ورثے محض اینٹ اور پتھر ہیں۔ یہ ہمارا مستقبل کیا خاک سنواریں جو ماضی نہ سنبھال سکے"۔

گزرے سالوں میں ہر آنے والا شکستہ دن دیکھ کے مجھے فاروق عباسی کی وہ پیشین گوئیاں یاد آتی ہیں جو اس ملک کے مایوس مستقبل بارے وہ اکثر کرتے ہوتے تھے۔ میں ان سے بیکار میں بحث کرتا تھا کہ آپ قنوطیت کا شکار ہیں، پاکستان کا مستقبل روشن ہوگا۔ مگر اب تین دہائیوں بعد جب میں ان کی روح کے لئے مغفرت کی دعا کرتا ہوں تو ان سے معافی مانگتا ہوں، آپ ٹھیک تھے، میں غلط تھا۔

About Muhammad Idrees Abbasi

Engineer Muhammad Idrees Abbasi is former advisor world bank and writes on politics and social topics.

Check Also

Barhak Ka Badshah

By Rao Manzar Hayat