Friday, 16 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Idrees Abbasi
  4. Kitabat Se Click Tak, Sahafat Ke Teen Adwar

Kitabat Se Click Tak, Sahafat Ke Teen Adwar

کتابت سے کلک تک، صحافت کے تین ادوار

یہ ساٹھ کی دہائی کا اختتامی دور تھا، گاؤں کی سادہ زندگی تھی، شام ڈھلتی تو والد صاحب مقامی بازار سے نوائے وقت کا پرچہ اٹھا کر گھر لاتے تھے، اس وقت پورا اخبار زیادہ سے زیادہ دو اور کبھی کبھار تین صفحات پہ مشتمل ہوتا تھا۔ والد صاحب یہ اخبار اور اس کی چیدہ چیدہ سرخیاں دادا جی کو پڑھ کے سناتے تھے اور کچھ سیاسی تبصرے بھی کرتے تھے۔ اس وقت اخبارات کاتب لکھتے ہوتے تھے۔ کتابت باقاعدہ ایک فن اور روزی کا ذریعہ تھا۔

ستر اور اسی کی دہائی میں بڑے اردو اور انگریزی اخبارات کی تعداد دسں کے لگ بھگ یا اس سے نیچے رہی۔ یہ اخبارات نہ صرف ملکی صحافت کی ریڑھ کی ہڈی تھے بلکہ عوام کی رائے اور شعور کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتے تھے۔ صبح سویرے اخبار خریدنے کی روایت ایک تہذیبی علامت سمجھی جاتی تھی اور فیصلوں، مباحثوں اور سیاسی سمت کا تعین انہی صفحات سے ہوتا تھا۔ پھر پچھلی دو دہائیوں میں پاکستان میں پرنٹ میڈیا کا ایک اور دور آیا، جب پرانے اخبارات جنگ، نوائے وقت، مساوات، پاکستان ٹائمز، دی مسلم وغیرہ کے مقابلے میں نئے اخبارات خبریں، پاکستان، جناح، ایکسپریس، نئی بات، 92-نیوز، دی نیوز، نیشن، ایکسپریس ٹریبیون وغیرہ جیسے درجنوں اخبارات نکالے گئے۔ کمپیوٹر کمپوزنگ کے باعث اب کتابت اور کاتب بھی مارکیٹ سے غائب ہو چکے ہیں۔ اردو خطاطی جو کبھی ایک فن جانا جاتا تھا، اب کسی کو اس کا پتہ ہی نہیں۔ قوم کی اب ہینڈ رائٹنگ نہ صرف خراب ہو چکی ہے، بلکہ ہاتھ سے لکھنا یا ڈائری لکھنے کا رواج بھی ختم ہے۔

پھر وقت کے ساتھ ذرائع ابلاغ کا منظرنامہ تیزی سے بدلنے لگا۔ مشرف رجیم میں جب پرائیویٹ ٹی وی چینلز کی دوڑ شروع ہوئی تو صارفین کو ہمہ وقتی بریکینگ نیوز ملنا شروع ہوئ۔ پھر ایک تیسرا دور آیا جب سوشل میڈیا کے عفریت نے روایتی پرنٹ میڈیا اور ٹی وی میڈیا کو ہڑپ کرنا شروع کر دیا۔ اخبارات جن کی سیل ہزاروں کی تعداد سے کم ہو کے سینکڑوں میں آ چکی تھی، اب خال خال ہی لوگ پڑھتے تھے، پرانے قارئین اب انٹرنیٹ پہ ہی اخبارات پڑھنے کو ترجیح دیتے تھے۔ اخبارات جو کبھی پکوڑے بیچنے یا الماریوں میں کپڑوں کے نیچے لگانے کے کام آتے تھے، غائب ہو چکے تھے۔ ہاکر جو سائیکلوں پہ اخبارات کی ردی اکٹھی کرتے تھے، ان کا کاروبار ختم ہو چکا تھا۔

سوشل میڈیا کا تیسرا دور جو گزشتہ پانچ، سات سال سے جاری ہے، اب چوبیس گھنٹے عوام کے ہاتھ میں اینڈرائیڈ فون کی صورت میں ہے۔ اس میڈیائی یلغار میں ایک ایک خبر کے درجنوں version سامنے آتے ہیں۔ جھوٹ اور سچ کی بے انتہا آمیزش ہو چکی ہے، ہر شخص اپنی ذات میں ایک صحافی بن چکا ہے، ہر شخص سیاسیات، معیشت، فارن افیئرز اور کرنٹ افیئرز کا ماہر بن چکا ہے۔ حکومتی حلقوں سے کوئی خبر جاری ہوتی ہے تو سوشل میڈیا واریئرز اس کے منٹوں میں بخئے ادھیڑ دیتے ہیں۔ مقتدرہ کوئی بیانیہ بناتی ہے تو یہ مجنوں منٹوں میں، ایکس، ٹک ٹاک، وڈیوز، میمز اور ٹیکسٹ خاکوں کے ذریعے اس کے پرخچے اڑا دیتے ہیں۔ اب یہ سوشل میڈیا میڈیا بوتل سے نکلا ہوا ایسا جن ہے، جس پہ نہ کوئی فائر وال قابو پا سکی ہے، نہ پیکا ایکٹ اور سائبر کرائمز ونگ۔ یہ ہنگام بے لگام کہاں جا کے رکے گا، یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

جنوری 2024 کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 111 ملین انٹرنیٹ صارفین ہیں، یعنی ملک کی آبادی کا 45.7 فیصد۔ ان میں سے 71.7 ملین لوگ سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں، جو عملی طور پر ملک کی 29.5 فیصد آبادی بنتی ہے۔ جیسے ہی انٹرنیٹ عام ہوا، عوام نے اخبار کاغذ پر پڑھنے کے بجائے موبائل اور کمپیوٹر پر پڑھنا شروع کر دیا۔ پھر ٹی وی چینلز کا دور آیا جنہوں نے خبروں کی فوری اور لائیو فراہمی سے اخبارات کی رفتار اور اثر کو کمزور کر دیا اور یوں پرنٹ میڈیا کا زوال تیز ہوگیا۔

اب وقت یہاں تک آ پہنچا ہے کہ ٹی وی میڈیا بھی اپنے عروج کے بعد تیزی سے پس منظر میں جا رہا ہے۔ یوٹیوب چینلز، سوشل میڈیا لائیو سٹریمنگ اور پوڈکاسٹ نے ناظرین اور سامعین کی توجہ مکمل طور پر اپنی طرف منتقل کر لی ہے۔ نئی نسل خبروں اور تجزیوں کے لیے انہی ڈیجیٹل ذرائع پر انحصار کرتی ہے، جس کی وجہ سے روایتی میڈیا کا اثر محدود ہوتا جا رہا ہے۔

مستقبل میں غالب امکان ہے کہ صحافت کا اگلا مرحلہ مکمل طور پر ڈیجیٹل ہوگا جہاں مختصر ویڈیوز، ڈیجیٹل ڈاکومنٹریز اور AI پر مبنی خبروں کا نظام مرکزی حیثیت اختیار کر لے گا۔ اس بدلتی دنیا میں روایتی صحافیوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی مہارتوں کو ڈیجیٹل زبان میں ڈھالیں اور متوازی کاروبار جیسے یوٹیوب چینل، پوڈکاسٹ، آن لائن تجزیاتی پلیٹ فارم یا سبسکرپشن بیسڈ جرنلزم شروع کریں، کیوں کہ جس تیزی سے پرنٹ میڈیا اور ٹی وی چینلز پہ زوال آ رہا ہے خدشہ ہے کہ صحافی بڑی تعداد میں بیروزگار ہو جائیں گے، لہذا وہ جاوید چودھری کی حالیہ ایکسپریس ٹی وی سے برطرفی کے بعد اس کی طرف سے یہ پیغام سنجیدگی سے لیں کہ صحافی آنے وقت کے لئے اپنا ایک متوازی معاشی نظام کھڑا کریں تاکہ اچانک جھٹکے کی صورت میں معاشی مشکلات سے بچ سکیں۔

حقیقت یہ ہے کہ سوشل میڈیا کی اس یلغار میں سچ کہیں گم ہوگیا ہے۔ ہر سیاسی پارٹی کا عقیدتمند ہر روز پر خبر پر اپنی اپنی پسند کا سچ گھڑے بیٹھا ہے۔ واٹس ایپ گروپوں میں ایک ہم خیال گروپ کے تبصروں پہ مخالف گروپ کی یلغار ہوتی ہے۔ پھر لوگ گتھم گتھا ہوتے ہیں۔ برسوں کی دوستیاں اور یارانے متاثر ہوتے ہیں۔ موبائل سنڈروم نے ہر شخص کی بے چینی اور اضطراب میں معتدبہ اضافہ کیا ہے۔ موبائل فون نے جہاں ہر شخص کے لئے اپنی مُٹھی میں معلومات کے نئے جہاں کھولے ہیں، وہاں فیملی لائف، سوشلائزیشن، زبانی گپ شپ اور میل ملاپ کو بہت محدود کر دیا ہے۔ لیکن بہرحال یہ ایک کڑوا سچ ہے کوئی نئی چیز پانے کے لئے کچھ کھونا تو پڑتا ہے۔ آج کسی جوان کو سزا دینی ہو تو اس کو گرجنے برسنے کی بجائے خالی ایک سزا دے دیں، موبائل اس کے ہاتھ سے چھین لیں، منٹوں میں ترلے منتوں پہ آ جائے گا۔

About Muhammad Idrees Abbasi

Engineer Muhammad Idrees Abbasi is former advisor world bank and writes on politics and social topics.

Check Also

Wonder Boy Ki Talash?

By Syed Mehdi Bukhari