Kitab Se Screen Tak, Pakistan Ke Badalte Fikri Mausam Ki Kahani
کتاب سے سکرین تک، پاکستان کے بدلتے فکری موسم کی کہانی

یہ 1976 تھا، میں اپنے والد صاحب کے ساتھ یوسف سنز آبپارہ کتابوں کی دوکان پہ کھڑا تھا۔ ہر نئی کلاس کے آغاز پہ درسی کتب خریدنے کے لئے وہ مجھے یہیں لے کے آتے تھے۔ شائد اس وقت مختصر سے اسلام آباد میں اسٹیشنری اور کتب کی یہی واحد مستند دوکان تھی۔ نئی کتابوں کو خریدنے کے بعد میں ان کے کورے اوراق کو سونگھتا تھا، کاغذ کی مست خوشبو سے روح سرشار ہو جاتی تھی۔ اب کے دور کے کاغذ میں ویسی خوشبو نہیں آتی۔
درسی کتابیں خریدنے بعد والد صاحب مجھے میری پسند کے رسالے لے کے دیتے تھے۔ پرائمری کلاس تک میں بچوں کی دنیا اور بچوں کا باغ لیتا تھا۔ ان میں جنوں، پریوں اور شہزادوں کی کہانیاں پڑھ کے میں انجانے دیسوں میں پہنچ جاتا تھا۔ مڈل کلاس سے تعلیم و تربیت اور پھر حکیم سعید کا نونہال لیتا تھا۔ نونہال قدرے ثقیل اور سنجیدہ مگر سبق آموز کہانیوں کا رسالہ ہوتا تھا۔ پھر جوانی میں ڈائجسٹ پڑھنے کا چسکا پڑا۔ جاسوسی، سسپینس، اردو ڈائجسٹ، سیارہ ڈائجسٹ، خواتین ڈائجسٹ، پھر اخبار جہاں، جنگ نوائے وقت کے ہفتہ وار میگزین اور انگریزی کا میگ اور ریڈرز ڈائجسٹ۔
کتابوں کی دکانوں پہ ناول دیکھ کے ہمیشہ نشہ طاری ہو جاتا تھا۔ عمرو عیار، امیر حمزہ کی داستانیں پڑھنا پسندیدہ ترین مشغلہ تھا۔ میں نے زندگی میں پہلا ناول 1975 میں "سلیمانی خزانہ" پڑھا تھا جو میرے بڑے بھائی نے گاؤں میں الماری کے اندر گنجینہ ادب کے نام سے لائیبریری بنا کے بیسیوں کتب میں سجا رکھا تھا۔۔ اسی گاؤں کے گھر کی نیم چھتی میں ایک لکڑی کے بڑے صندوق میں، میرے والد صاحب نے سینکڑوں کتابوں اور رسائل کا خزانہ ذخیرہ کر رکھا تھا۔ یہ ستر کی دہائی کی بات ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ وہ کتابیں ضائع ہوتی چلی گئی، صندوق آج بھی وہیں دھرا ہے، مگر اب میں اس خزانے کے بس نشان ہی باقی ہیں۔
ساٹھ، ستر اور اسی کی دہائیاں پاکستان کے فکری، علمی اور تہذیبی ارتقاء کا وہ سنہری زمانہ تھیں جب علم کتاب کے اوراق سے نکل کر روح میں اترتا تھا۔ اس وقت کمپیوٹر، لیپ ٹاپ اور موبائل فون تو خوابوں میں بھی نہیں تھے، مگر دل و دماغ روشن اور گفتگو میں وقار تھا۔ بچوں کے لیے تعلیم و تربیت اور نونہال جیسے رسائل نہ صرف مطالعے کی عادت ڈالتے بلکہ اخلاق و تربیت کے حقیقی درس دیتے تھے۔ نوجوانوں کے لیے سرگزشت، اردو ڈائجسٹ اور سیارہ ڈائجسٹ دلچسپی، تخیل اور اخلاقی سبق کا امتزاج ہوتے تھے۔ لغت کے لیے آکسفورڈ ڈکشنری یا ضخیم اردو لغت استعمال کی جاتی تھی اور اگر کوئی لفظ نہ سمجھ آتا تو لائبریری یا بزرگوں سے رجوع ہی گوگل کی طرح واحد سرچ انجن تھا۔
اس دور کا ادب صرف تفریح نہیں بلکہ فکری بالیدگی کا ذریعہ تھا۔ اے حمید، ابن صفی، مظہر کلیم، عنایت اللہ اور نسیم حجازی جیسے مصنفین کے ناول گھروں میں ہاتھوں ہاتھ لیے جاتے۔ عمران سیریز، انسپکٹر جمشید، فاروق اور فرزانہ جیسے کردار نہ صرف سنسنی پھیلاتے بلکہ ذہنوں کو سوچنے کی نئی راہیں دکھاتے تھے۔ وہ دور تحریر کا احترام کرنے اور تخیل کی قوت سے جینے کا زمانہ تھا۔ کتاب ہاتھ میں پکڑنا فیشن نہیں، فخر سمجھا جاتا تھا۔
اخبارات اس وقت علم، سیاست اور فہم کا مینار تھے۔ اردو میں نوائے وقت، جنگ، مساوات اور انجام بڑے نام تھے۔ بائیں بازو کے دانشور مساوات اور پاکستان ٹائمز جیسے اخبارات کے قاری تھے جبکہ دینی مزاج رکھنے والے افراد اور جماعتِ اسلامی سے وابستہ حلقے ترجمان القرآن، ایشیا اور شریعت جیسے جرائد پڑھا کرتے تھے۔ انگریزی اخبارات میں دی مسلم، ڈان، پاکستان ٹائمز اس وقت کے باوقار اخبارات تھے جن کے اداریے فکری رہنمائی کا درجہ رکھتے تھے۔ ان کا ایک ایک لفظ سنجیدہ طبقے کے لیے "فکری سمت" متعین کرتا تھا۔
اسی زمانے میں اردو کے عظیم ادبی رسائل نے تخلیقی تحریر کو جِلا بخشی۔ نقوش، فنون، اوراق، سیارہ، ادب لطیف اور معیار جیسے رسائل میں فیض احمد فیض، احمد ندیم قاسمی، انتظار حسین، بانو قدسیہ، منٹو اور اشفاق احمد کی تخلیقات چھپنا اور پڑھنا فخر کی بات تھی۔ ان رسائل نے قاری اور مصنف کے درمیان ایک فکری رشتہ قائم کیا جو آج ناپید ہو چکا ہے۔
اُس وقت کے گھروں میں اخبار کا آنا ایک سماجی وقار کی علامت تھا۔ بزرگ صبح چائے کے ساتھ سرخیوں پر بحث کرتے اور نوجوان اُن اداریوں سے سیاسی شعور سیکھتے۔ جس گھر میں ٹی وی ہوتا، وہ محلے میں عزت کا مقام رکھتا۔ 1970 تک ٹی وی ابھی محدود تھا، مگر ریڈیو ہر گھر کی جان تھا۔ فلپس کا ریڈیو گھر کی زینت ہوتا اور 1965 و 1971 کی جنگوں کے دنوں میں پوری قوم ریڈیو پاکستان سے چمٹی خبریں سنتی تھی۔ ایک طرف آل انڈیا ریڈیو کی آکاش وانی دشمن کی خبریں سناتی، تو دوسری طرف ریڈیو پاکستان قوم کے جوش و ولولے کو بڑھاتا۔
پھر وقت نے کروٹ لی۔ نوّے کی دہائی میں پیجر اور پھر انسٹا اور پاک ٹیل کے دو دو کلو وزنی موبائل فون آئے۔ یہ اسٹیٹس سمبل تھے۔ جلد ہی نوکیا اور سام سنگ کے چھوٹے مگر سادہ فونز نے رابطے کے معنی بدل دیے۔ میں نے نوکیا فون سے 1996 میں لندن چھوٹے بھائی سے ٹیکسٹ میسج پہ بات کی۔ یہ ایک محیرالعقول تجربہ تھا اور پیجر کا بہترین نعم البدل تھا۔
پھر ایک اور دور آیا۔ جنرل مشرف کے دور میں نجی ٹی وی چینلز کو آزادی ملی، تو میڈیا ایک طوفان کی طرح ہر گھر میں داخل ہوگیا۔ اب خبر دنوں میں نہیں لمحوں میں پہنچتی تھی۔ مشرف دور نے اظہارِ رائے کی نئی راہیں کھولیں، مگر ساتھ ہی "توجہ" کا بحران بھی پیدا کیا۔
ڈیجیٹل انقلاب نے انسان کو ایک نئی دنیا دی، لیکن اس قیمت پر کہ کتابیں، رسائل اور پرنٹ میڈیا رفتہ رفتہ ماضی کا قصہ بن گئے۔ اخبارات کے اسٹال اجڑ گئے، اینڈرائیڈ فون آ گئے اور قاری سوشل میڈیا کے اسکرول میں گم ہوگیا۔ لوگ اب پورا صفحہ پڑھنے سے پہلے ہی اکتا جاتے ہیں۔ کتاب پڑھنا ایسے ہوگیا جیسے تیز رفتار فراری سے اتر کر صحرائی اونٹ پر بیٹھ گئے ہوں۔ یہ قدرتی بات ہے کتاب ایک مخصوص ٹاپک پہ ہوتی ہے، بے جان ہوتی ہے اور سست رفتار ہوتی ہے، موبائل فون آپکے لئے لاکھوں ایٹریکشنز لئے بیٹھا ہے، لائیو ہے اور ہر سیکنڈ میں ایک نئی دنیا کی جھلکی دکھاتا ہے۔ انسانی نفسیات بھی یہی ہے، جدھر دلچسپی ہو، ادھر انسان کھنچا چلا جاتا ہے۔
یقیناً گیجٹس نے زندگی آسان بنائی ہے۔ اب ہم سیکنڈوں میں رابطہ کرتے ہیں، دنیا کی خبریں لمحوں میں حاصل کرتے ہیں اور علم کے سمندر میں چند کلکس میں غوطہ لگا لیتے ہیں۔ چیٹ جی پی ٹی تو نئے انقلاب آغاز ہے مگر اب اس سہولت نے تخیل کی پرواز محدود کر دی ہے۔ ہم زیادہ جانتے ہیں، مگر کم سوچتے ہیں۔ علم تو بڑھا ہے، مگر فہم گھٹ گئی ہے۔ دنیا واٹس ایپ کے ذریعے جڑ گئی مگر فزیکل ملاقاتوں کی روایات صدیوں کی مسافت پہ چلی گئ۔ مہمان اب بن بلائے نہیں اتے، سوشل میڈیا چھا گیا مگر عملاً سوشل ہونا معدوم ہوگیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ مغربی دنیا، جس نے یہ ٹیکنالوجی تخلیق کی، وہاں آج بھی کتاب بینی زندہ ہے۔ لندن، پیرس، نیویارک اور برلن کی میٹرو ٹرینوں میں اب بھی لوگ ہاتھ میں ناول لیے بیٹھے نظر آتے ہیں۔ کتاب ان کے سفر کی ساتھی ہے اور پڑھنا اب بھی وقار کی علامت۔ جبکہ ہم، جو کبھی "کتاب دوست قوم" کہلاتے تھے، آج سکرین کے قیدی بن چکے ہیں۔ ہم نے مغرب کو پیچھے نہیں چھوڑا، بلکہ خود کو بہت پیچھے کر لیا ہے۔
تاہم یہ حقیقت ہے کہ گیجٹس کے بھی اپنے فائدے ہیں۔ علم اب زیادہ قابلِ رسائی ہے، دنیا بھر کی لائبریریاں آن لائن ہیں، نئی نسل کے پاس سیکھنے کے بے شمار مواقع ہیں۔ فاصلے سمٹ گئے ہیں، کاروبار اور تعلیم نے عالمی وسعت اختیار کر لی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس طاقت کا درست استعمال کر رہے ہیں؟
مغربی ممالک جیسے برطانیہ، یورپ اور امریکا میں عوامی لائبریریوں کا نیٹ ورک مضبوط، منظم اور حکومتی سرپرستی میں فعال ہے، جہاں لاکھوں لوگ ہر سال مطالعے یا ریسرچ کے لیے لائبریریوں کا باقاعدہ رخ کرتے ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان میں لائبریریوں کی تعداد محدود، وسائل کم اور عوامی دلچسپی کمزور ہے، جس کے باعث لائبریری میں جانے کی شرح نہایت کم ہے۔ یوں مجموعی طور پر مغرب میں کتب بینی اور لائبریری کلچر آج بھی زندہ اور سماجی سرگرمی کا حصہ ہے، جب کہ پاکستان میں یہ عادت بتدریج کمزور پڑتی جا رہی ہے۔ فن لینڈ میں لائبریری وزٹ اور کتاب خریدنے کی شرح اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ ہے، شائید یہ ان کی قومی و ثقافتی ترجیح ہے۔
زمانہ بہرحال اب ریورس نہیں ہو سکتا۔ ہم ساٹھ اور نوّے کی دہائی کو یاد تو کر سکتے ہیں، مگر واپس نہیں جا سکتے۔ آج جب ہم دو دہائیاں پیچھے دیکھتے ہیں، تو سوچنا چاہیے کہ دو دہائیاں آگے۔۔ یعنی 2045 یا 2050 کی دنیا کیسی ہوگی؟ شاید اس وقت انسان موبائل نہیں بلکہ ہولوگرام کے ذریعے رابطہ کرے گا، دماغ میں نصب مائیکرو چپس علم کی جگہ لے لیں گی، مصنوعی ذہانت انسان کے خیالات کو پہلے سے جان لے گی اور "ورچوئل کلاس رومز" میں استاد اور شاگرد جسمانی نہیں، ڈیجیٹل وجود ہوں گے۔ پھر ہماری وہ نسل ہماری باتوں کو متروک قرار دے گی، مگر اس گزرتے ہوئے وقت کو اچھے لفظوں میں یاد کرے گی، جیسے ہم اپنے ماضی کو یاد کر رہے ہیں۔
ہو سکتا ہے کہ آنے والے بیس برسوں بعد دنیا میں کتاب صرف ایک یاد بن جائے، یا پھر ایک نئے انداز میں "ڈیجیٹل خوشبو" کے ساتھ دوبارہ جنم لے۔
وقت کا پہیہ کبھی رک نہیں سکتا۔ مگر یہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ اس رفتار میں ہم اپنی فکری روح کو زندہ رکھتے ہیں یا اسے مشینوں کے شور میں کھو دیتے ہیں۔ آخرکار یہی سچ باقی رہ جاتا ہے: "قلم کی روشنائی بجھ جائے تو قوموں کی تقدیریں مدہم پڑ جاتی ہیں اور جو قوم کتاب پڑھنا بھول جائے، وہ خود ایک بھولی ہوئی داستان بن جاتی ہے"۔

