Istanbul Ke Taxi Driver
استنبول کے ٹیکسی ڈرائیور

استنبول ہمیشہ سے دنیا کے خوبصورت ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کی تہذیبی گہرائیاں، سمندر کی خنک ہوائیں اور صدیوں پرانی عمارتیں اسے منفرد مقام دیتی ہیں۔ مگر استنبول کے ٹیکسی ڈرائیورز بھی پاکستانی ڈرائیورز کی طرح بہت شرارتی ہو چکے ہیں۔
میں نے حال ہی میں ترکیہ کا سفر کیا اور اترتے ساتھ ہی سوچا کہ اس بار ٹیکسی کے بجائے میٹرو کے ذریعے شہر کی طرف جاؤں۔ دل میں خواہش تھی کہ مقامی فضا کو قریب سے محسوس کروں۔ کافی پوچھ گچھ کے بعد میں میٹرو کے ذریعے شہر کے مرکزی حصے کے قریب پہنچ گیا۔ میری منزل تاکسم اسکوائر کے نزدیک ایک ہوٹل تھا اور میں نے سوچا کہ باقی تھوڑا فاصلہ ٹیکسی سے طے کر لیتا ہوں۔
یہیں سے میرا اصل تجربہ شروع ہوا۔ ڈرائیور نے میرا ہوٹل نام سے ہی سمجھ لیا مگر جیسے ہی ٹیکسی آگے بڑھی مجھے اندازہ ہونے لگا کہ وہ سیدھے راستے کی بجائے بار بار غلط سمت میں مڑ رہا ہے۔ میپ مسلسل دائیں مڑنے کا کہتا مگر وہ سیدھا نکل جاتا، کبھی بائیں کا اشارہ ہوتا تو وہ مخالف رخ چلا جاتا۔ مختصر سا تین کلومیٹر کا سفر اس نے چھ سات کلومیٹر کا بنا دیا۔ مجھے احساس ہونے لگا کہ وہ راستہ جان بوجھ کر لمبا کر رہا ہے تاکہ کرایہ زیادہ بن سکے۔ یہ سفر دس منٹ کا ہونا تھا مگر اس نے بیس پچیس منٹ لگا دیے۔ یوں لگا کہ میٹرو میں وقت کی جو بچت میں نے کی تھی وہ اسی لمحے پوری ہوگئی۔
یہ معاملہ ایک بار کا نہیں تھا۔ اگلے دو دنوں میں دو مزید ڈرائیوروں نے بالکل ایسے ہی قدم اٹھائے۔ ایک سفر جس کا فاصلہ ڈیڑھ کلومیٹر تھا اسے چھ کلومیٹر بنا دیا گیا، دوسرے میں بھی یہی انداز اپنایا گیا۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ اگر پہلے سے کرایہ طے کر لیا جائے تب بھی منزل پر پہنچ کر وہ بہانے بنا کر زیادہ رقم مانگتے ہیں۔ اگر میٹر کھلا ہو تو راستہ لمبا کر دیتے ہیں اور اگر میٹر بند ہو تو بحث شروع کر دیتے ہیں۔ سیاح ان کی نظر میں آسان شکار ہوتے ہیں اور شاید اسی وجہ سے وہ یہ حرکتیں معمول کے طور پر کرتے ہیں۔
ان سب میں سب سے پریشان کن واقعہ وہ تھا جس میں ایک ڈرائیور نے انتہائی مہارت سے میری جیب سے پچاس ڈالر نکالنے کی کوشش کی۔ میرے پاس کچھ لیرے ایک دتھی کی صورت میں تھے جن میں غلطی سے ایک پچاس ڈالر کا نوٹ بھی شامل تھا۔ جب میں نے پیسے نکالے تو اس نے ہر نوٹ کو دیکھ کر کہنا شروع کر دیا کہ یہ ٹھیک نہیں، یہ جعلی ہے، یہ قبول نہیں۔ میں حیران تھا کہ آخر مسئلہ کیا ہے۔ وہ بار بار کہتا یہ نوٹ بدل کر دکھاؤ مگر ہر بار اسے نیا اعتراض ہوتا۔ اسی دوران اس نے جھٹکے سے نوٹوں کا بنڈل میرے ہاتھ سے پکڑا اور بڑی صفائی سے ڈالر کا نوٹ الگ کرکے اگلی سیٹ پر پھینک دیا۔ خوش قسمتی سے میری نظر اس حرکت پر پڑ گئی۔ میں نے فوراً اسے ٹوک دیا۔ وہ لمحے بھر میں شرمندہ ہوگیا، نوٹ اٹھایا اور مجھے واپس دے دیا۔ میں نے اسے مناسب کرایہ دے کر بات ختم کر دی مگر دل میں یہ سوچ بیٹھ گئی کہ یہ واقعات صرف دھوکا نہیں بلکہ سیاحوں کے لیے ایک باقاعدہ مشکل کا باعث بن چکے ہیں۔
استنبول بے شک خوبصورت شہر ہے مگر اس طرح کے تجربات سیاحوں کی خوشی کو متاثر کرتے ہیں۔ لندن کی فلائٹ میں میرے ساتھ بیٹھے ایک ترک نوجوان فلائٹ اٹینڈنٹ نے میرا تجربہ سن کر افسوس کا اظہار کیا۔ اس نے کہا کہ وہ خود بھی استنبول کے ٹیکسی ڈرائیوروں سے پریشان رہتے ہیں۔ اس نے حسرت سے کہا کہ اگر استنبول کی ٹریفک اور ٹیکسی ڈرائیوروں کے نظام کو بہتر کر دیا جائے تو ہمارا ملک واقعی دنیا بھر میں بہترین سیاحتی مقام سمجھا جائے۔ یہ سن کر احساس ہوا کہ مسئلہ صرف سیاحوں کا نہیں بلکہ خود ترک شہری بھی اس رویے سے تنگ ہیں۔
دنیا کے ہر ملک میں پہلی تاثر ایئرپورٹ سے شروع ہوتی ہے اور ٹیکسی ڈرائیور ہی وہ پہلا فرد ہوتے ہیں جن سے سیاح ملتے ہیں۔ اگر پہلی ملاقات ہی ناخوشگوار ہو تو پورے سفر کا رنگ پھیکا پڑ جاتا ہے۔ ترکیہ جیسے خوبصورت ملک کے لیے یہ صورتحال نقصان دہ ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ٹیکسی نظام کو بہتر بنانے کے لیے سخت قوانین، مؤثر نگرانی اور ذمہ داری کے اصول اپنائے جائیں۔ ایسے اقدامات نہ صرف سیاحوں کے لیے آسانی پیدا کریں گے بلکہ ملک کی ساکھ بھی مضبوط ہوگی۔
یہ تحریر کسی قوم یا ملک کی برائی کے لیے نہیں بلکہ ایک تجربے کے ذریعے ایک ایسے مسئلے کی طرف توجہ دلانے کے لیے ہے جو آسانی سے حل ہو سکتا ہے۔ ترکیہ بے حد خوبصورت ہے اور دلکش یادوں سے بھرا ہوا ملک ہے۔ مگر چند افراد کے رویے سیاحت کو متاثر کرتے ہیں۔ اگر اس مسئلے کو سنجیدگی سے دیکھا جائے تو استنبول وہ شہر بن سکتا ہے جہاں لوگ صرف ایک بار نہیں بلکہ بار بار جانا چاہیں۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ استنبول کے علاوہ دیگر شہروں میں ایسا بہت کم ہے، اناطولیہ، ازمیر، کپوڈوکیا، کونیا وغیرہ میں ایسی جعلسازی نہیں ہے۔

