Thursday, 05 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Idrees Abbasi
  4. Ghanshyam Singh Aur Dada Ji Ki Kahani

Ghanshyam Singh Aur Dada Ji Ki Kahani

گھنشیام سنگھ اور دادا جی کی کہانی

1945 کی خزاں کی آمد تھی۔ ابھی برف نہیں پڑی تھی، بیساکھ کا مہینہ تھا۔ پنجاب اور سرحد کے سنگم پر واقع ایک چھوٹے سے بازار میں جو محض چند دکانوں پر مشتمل تھا، میرے دادا، جناب سلطان خان، اپنے دوست گھنشیام سنگھ کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف تھے۔

گھنشیام سنگھ گزشتہ کئی برسوں سے دادا جی کا دوست تھا۔ وہ بازار سے متصل انگریز کے کیمپ آفس (باڑیاں چھاؤنی) میں ملازم تھا۔ اس کا آبائی گاؤں ٹیکسلا تھا، جہاں اس کی برادری آباد تھی اور وہ سال میں دو مرتبہ اپنے اہلِ خانہ سے ملنے وہاں جاتا تھا۔

چند برس قبل اس کی شادی ہوئی تھی اور اس کے دو بچے تھے۔ فطرتاً وہ ایک نیک دل اور سادہ انسان تھا۔ ادھر دادا جی نے ایک سال قبل ہی بازار میں کریانے کی ایک چھوٹی سی دکان قائم کی تھی۔ اسی ایک سال میں ناپ تول کی دیانت اور لین دین کی صفائی کے باعث انہوں نے ایک معتبر نام کما لیا تھا۔ ان کی دکان پر ہندو، سکھ اور عیسائی سبھی آتے تھے، زیادہ تر ہزارہ کے علاقے سنداں اور ملحقہ بستیوں سے۔

گھنشیام سنگھ رفتہ رفتہ دادا جی کی نیک سیرت اور کردار سے متاثر ہوتا چلا گیا۔ پھر ایک دن ایسا آیا کہ اس نے خاموشی سے، دادا جی کے کہنے پر اسلام قبول کر لیا۔ مگر ساتھ ہی اس نے یہ درخواست بھی کی کہ اس بات کو راز میں رکھا جائے، کیونکہ اسے اندیشہ تھا کہ اگر اس کی برادری کو علم ہوگیا تو وہ اسے قتل بھی کر سکتی ہے۔

پھر بہار آئی۔ گھنشیام سنگھ اپنے گھر والوں سے ملنے ٹیکسلا گیا۔ چند روز گزرے تھے کہ بازار سے پنڈی سے سامان لانے والی لاری گزری۔ اس کے ڈرائیور نے دادا جی کو ایک رقعہ دیا۔ اسے پڑھتے ہی دادا جی گہرے صدمے میں چلے گئے۔

گھنشیام سنگھ انتقال کر چکا تھا اور اگلے روز ٹیکسلا کے شمالی علاقے خالصہ محلہ سے متصل شمشان گھاٹ میں اس کا کریا کرم ہونا تھا۔

دادا جی نے اپنے بھائی میر محمد اور چند دیگر رشتہ داروں کو ساتھ لیا اور علی الصبح پنڈی روانہ ہو گئے۔ انہیں ہر صورت ٹیکسلا پہنچنا تھا۔

جب وہ اگلے دن دوپہر کو ٹیکسلا پہنچے تو گھنشیام کی ارتھی آخری رسومات کے لیے تیار تھی۔ سرہانے گرو گرنتھ صاحب کی تلاوت ہو رہی تھی اور شمشان گھاٹ لے جانے کی تیاری جاری تھی۔ چونکہ متوفی خالصہ (امرت دھاری) تھا، اس لیے پانچ ککار۔۔ کنگھا، کرپان، کڑا، کچھیرا اور کیس، اس کی ارتھی کے ساتھ رکھے گئے تھے اور ارداس جاری تھی۔

اسی لمحے دادا جی نے بلند آواز میں مجمع کے سامنے گواہی دی کہ گھنشیام سنگھ اسلام قبول کر چکا تھا اور وہ اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفنانے آئے ہیں۔

یہ نہایت نازک لمحہ تھا۔ سکھوں کے جذبات مجروح ہونے کی صورت میں کسی بھی ناخوشگوار واقعے کا خدشہ تھا۔ مگر دادا جی کے پاس گھنشیام سنگھ کی تحریر کردہ ایک چٹھی موجود تھی۔ انہوں نے وہ بطور ثبوت سب کے سامنے پیش کی۔ چٹھی کی ہینڈ رائٹنگ کی تصدیق خود گھنشیام کے بیٹوں نے کی اور یہ بھی بتایا کہ بابا جی کچھ عرصے سے انہیں بھی اسلام کی طرف مائل کر رہے تھے۔

گردوارے سے آئے گرنتھی اور دیگر سکھ بزرگوں نے سر جوڑ کر مشاورت کی۔ اسی دوران واقعے کی خبر سن کر ٹیکسلا کے مقامی مسلمان بھی بڑی تعداد میں وہاں پہنچ گئے۔ بالآخر فیصلہ ہوا اور گھنشیام، جو اب عبداللہ تھا، کی ارتھی دادا جی کے سپرد کر دی گئی۔

ٹیکسلا کے قدیمی قبرستان میں سینکڑوں مسلمانوں کی موجودگی میں اس کا جنازہ پڑھایا گیا اور اسے سپردِ خاک کر دیا گیا۔ دادا جی اس رات مرحوم کے اہلِ خانہ کے مہمان رہے اور اس کی آخری زندگی کے حالات سنتے رہے۔

یہ واقعہ ٹیکسلا اور گرد و نواح میں طویل عرصے تک زیرِ بحث رہا۔

آج وہ سب ہستیاں آسودۂ خاک ہیں۔

ہر دور کے انسان کو یہ گمان ہوتا ہے کہ وہی اس کا زمانہ ہے، وہی اس کی دنیا ہے۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ ہر دور سے پہلے بھی ایک دور تھا اور اس کے بعد بھی ایک اور دور آئے گا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کچھ واقعات وقت کی گرد میں گم ہو جاتے ہیں اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جو صدیوں بعد بھی انسان کو آئینہ دکھاتے ہیں۔

1945 کی اس چھوٹی سی دکان میں ہونے والا فیصلہ محض ایک مذہبی واقعہ نہیں تھا، بلکہ انسانیت، امانت اور اخلاقی جرات کی ایک زندہ مثال تھا۔ دادا جی نے کوئی خطبہ نہیں دیا، کوئی دعویٰ نہیں کیا، انہوں نے بس حق کا ساتھ دیا، خطرہ مول لیا اور ایک انسان کی آخری شناخت کا دفاع کیا۔ شاید اگلی صدی میں نقشے بدل جائیں، ریاستیں نئی شکل اختیار کر لیں اور تہذیبیں نئے نام پا لیں، مگر اگر ہم اس کہانی سے یہ سبق سیکھ لیں کہ انسان کی قدر اس کے عقیدے سے پہلے اس کے حق سے جڑی ہوتی ہے، تو ممکن ہے کہ آنے والا زمانہ صرف ترقی یافتہ نہیں، بلکہ واقعی مہذب بھی ہو۔ تبدیلی اٹل ہے، مگر یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اس تبدیلی کو انسانیت کی سمت موڑ پاتے ہیں یا صرف تماشائی بن کر وقت کے گزرنے کا نوحہ کرتے رہتے ہیں۔

مجھے یقین ہے، دادا جی اور ان کے ساتھیوں کا یہ عمل، ایک سکھ کو مسلمان بنانے اور اس کی شناخت بچانے کے صلے میں روز محشر ان کی بخشش کا سبب بن جائے گا۔

About Muhammad Idrees Abbasi

Engineer Muhammad Idrees Abbasi is former advisor world bank and writes on politics and social topics.

Check Also

Patang Bazi Chand Afrad Ka Shoq, Pure Shehr Ki Saza

By Abid Mehmood Azaam