Fyodor Konyukhov Ki Kahani
فیدور کونیو خوف کی کہانی

پاکستان میں جب کوئی چونسٹھ برس کا ہو جاتا ہے تو تقریباً ریٹائرڈ زندگی گذار رہا ہوتا ہے اور اپنے آپ کو بوڑھا سمجھتے ہوئے کسی مشکل کام یا مہم جوئی سے احتراز برتتا ہے۔ لیکن مغرب میں لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ساٹھ کی دہائی میں ہی دراصل آپ کچھ خاص کر گزرنے کی پوزیشن میں ہوتے ہیں اور وہ کچھ کر دکھاتے بھی ہیں۔
آج آپ کو روس کے فیدور کونیو خوف Fyodor Konyukhov کی کہانی سناتے ہیں جو آج سے نو برس قبل جب چونسٹھ برس کا تھا تو اس نے ایک محیر العقول کارنامہ سر انجام دیا۔ عام طور پہ بہرحال اس عمر میں لوگ ریٹائر ہو جاتے ہیں اور ہلکے پھلکے ایڈونچر سے آگے نہیں جاتے، مگر فیدور نے فیصلہ کیا کہ وہ کچھ انوکھا کرے گا اور پھر اس نے دنیا کا چکر اکیلے غبارے میں لگانے کا فیصلہ کیا۔
فیدور کونیوخوف وہ مہم جو ہے جس نے انسانی حوصلے کی تمام حدیں پار کر دیں۔ ایک کہانی کارل بشبائی کی ہے جس نے اکیلے دنیا کا پیدل سفر کرنے کی ٹھانی ہے اور اس کا سفر ہنوز جاری ہے مگر فیدور نے بھی 2016 میں چونسٹھ برس کی عمر میں ایسا کارنامہ انجام دیا جو آج بھی دنیا بھر میں حیرت کی علامت ہے۔ اس نے آسٹریلیا کے شہر نارتھم سے اکیلے گرم ہوا کے غبارے میں دنیا کا چکر لگایا۔ یہ سفر گیارہ دن، چار گھنٹے اور بیس منٹ میں مکمل ہوا، جس میں اس نے تقریباً چونتیس ہزار کلومیٹر فاصلہ طے کیا۔ غبارہ خاص روسی ہیلیم سے بھرا گیا تھا اور اسے برطانوی کمپنی کیمرون بیلونز نے تیار کیا تھا۔ اس مہم کو روسی ادارے مارٹن روسیا نے مالی تعاون فراہم کیا۔ فیدور کے لیے یہ سفر صرف ایک ریکارڈ نہیں بلکہ اپنی برداشت، ایمان اور ارادے کی آزمائش تھی۔
جون 2016 میں آسٹریلیا کے ایک سنسان میدان سے ان کا دیو ہیکل غبارہ آسمان کی طرف اٹھا۔ کوئی ساتھی نہیں، کوئی مدد نہیں، صرف ایک آدمی، ایک خواب اور نیلا آسمان۔
یہ سفر چونتیس ہزار کلومیٹر لمبا تھا اور فیدور نے صرف گیارہ دن اور چار گھنٹے میں دنیا کا چکر مکمل کر لیا۔ غبارے کے نیچے ایک چھوٹی سی کیبن تھی، جہاں وہ سوتا، کھاتا، نقشے دیکھتا اور خدا سے بات کرتا۔ کھانے کے لیے اس کے پاس خشک خوراک اور کافی تھی، پانی وہ ہوا سے کھینچ کر جمع کرتا تھس ٹوائلٹ کے لیے ایک خاص سیلڈ بیگ استعمال کرتا تھا۔ سفر میں نہ آرام، نہ کسی سے بات۔
لیکن اصل امتحان سردی کا تھا۔ منفی پچاس ڈگری تک کے درجہ حرارت میں زندہ رہنا کسی معجزے سے کم نہیں۔ کیبن فائبر گلاس سے بنی تھی جس کے اندر چھوٹا ہیٹر اور آکسیجن سسٹم لگا تھا۔ فیدور نے پولر سوٹ، تھرمل دستانے اور خاص جوتے پہنے ہوتے تھے، جو آرکٹک مہمات کے لیے بنائے گئے تھے۔ پھر بھی کئی بار اس کے ہاتھ اور چہرہ سن ہو جاتا۔ وہ سانس کی بھاپ سے کیبن کو گرم رکھتااور لکھتا، "یہ بلندی مجھے خوف نہیں دیتی، ایمان دیتی ہے"۔
گیارہ دن تک وہ بادلوں کے اوپر، سمندروں کے پار اور تنہائی کے سناٹے میں اڑتا رہا۔ کئی راتوں کو زمین نظر نہیں آتی تھی، صرف بادلوں کا سمندر اور ستاروں کی چمک دکھائی دیتی۔ ایسے میں وہ خدا سے بات کرتے اور کہتے کہ آسمان کی یہ تنہائی مجھے کمزور نہیں کرتی، مضبوط بناتی ہے۔ آپ میں سے اکثر نے ہوائی جہاز پہ طویل سفر کئے ہوں گے، لیکن تیرہ چودہ گھنٹے کے سفر میں انسان کی ہمت جواب دے جاتی ہے۔ آپ فیدور کے اعصاب کی مضبوطی دیکھیں جو گیارہ روز ہوا میں اکیلا معلق رہا۔
بالآخر گیارہ دن بعد جب غبارہ واپس آسٹریلیا اترا تو فیدور کے چہرے پر تھکن تھی، مگر آنکھوں میں وہ روشنی تھی جو صرف فتح دیکھنے والوں کے پاس ہوتی ہے۔ زمین کو چوم کر اس نے کہا، "میں نے خود کو خدا کے قریب دیکھا"۔
یہ کہانی صرف ایک انسان کے سفر کی نہیں بلکہ انسان کے ایمان، حوصلے اور برداشت کی علامت ہے۔ فیدور نے آسمان کو چھوا، مگر اصل جیت اپنے اندر حاصل کی۔
فیدور 1951 میں یوکرین میں پیدا ہوا۔ اسکا باپ ایک مچھیرا تھا لہذا سمندر کے ساتھ عشق اس کو بچپن سے ہی تھا۔ فیدور نے اوڈیسہ شہر میں ناٹیکل تعلیم کے بعد نیوی میں ملازمت کی اور پھر 2010 میں قدامت پرست چرچ میں پادری کے منصب پہ فائز ہوا۔ وہ روس کا پہلا پادری پادری مہم جو تھا جس نے 2012 میں ماؤنٹ ایورسٹ فتح کی۔ سمندری اور ہوائی مہم جوئی کے علاوہ فیدور شوقیہ مصور بھی تھا اور اس نے تین ہزار کے لگ بھگ تصویریں بنائیں اور سو سے تصویری زائد نمائشوں میں حصہ لیا۔
اس غبارے والے کارنامے کے بعد فیدور نے سمندر کی گہرائیوں کو بھی للکارا۔ وہ پانچ بار مختلف سمندروں کو اکیلے کشتی کے ذریعے عبور کر چکا ہے۔ اس کا سب سے طویل سفر "اکروس" نامی کشتی پر تھا، جس میں اس نے جنوبی بحرالکاہل اور بحرِ ہند میں طویل فاصلہ طے کیا۔ اس دوران اسے کئی طوفانوں اور فنی خرابیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک موقع پر اس کی کشتی کا پانی صاف کرنے والا آلہ اور آٹو پائلٹ نظام ناکام ہوگیا، جس کے باعث اسے مہم ادھوری چھوڑنی پڑی۔ اس کے باوجود وہ کبھی مایوس نہیں ہوا اور کہا کہ "سمندر مجھے روکتا نہیں، مزید بلاتا ہے"۔
فیدور کونیو خوف کی مہم جوئی صرف فتوحات تک محدود نہیں رہی بلکہ اب اس کا مقصد زمین اور سمندر کی حفاظت بھی بن چکا ہے۔ اس کا نیا منصوبہ 2026 میں شروع ہونے والا ہے، جس میں وہ ایک خاص بادبانی رافٹ پر سوار ہو کر بحرالکاہل کا سفر کرے گا۔ اس سفر کا مقصد سمندروں میں پھیلتے مائیکرو پلاسٹک اور آلودگی کا جائزہ لینا ہے۔ یہ مہم تقریباً ایک سو ساٹھ دن پر محیط ہوگی، جس کے دوران وہ سمندری پانی کے نمونے جمع کریےگا تاکہ دنیا کو ماحولیاتی خطرات سے آگاہ کیا جا سکے۔
فیدور کا ایک اور کارنامہ یہ بھی ہے کہ وہ روس کا پہلا مہم جو ہے جس نے جوانی میں نارتھ پول سے ساؤتھ پول تک کا سفر سات برسوں میں 1988 سے 1995 تک مختلف مہمات میں طے کیا اور اس سفر میں مختلف براعظموں کی سات بڑی چوٹیاں بھی سر کیں۔ یعنی یہ وہ واحد مہم جو ہے جو اب 73 برس کی عمر میں پہاڑ، صحرا اور سمندر سب کا سینہ چیر چکا ہے۔
آج فیدور ماسکو میں مقیم ہے جہاں اس کا اسٹوڈیو ایک چھوٹے میوزیم کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ وہ پینٹنگ، تحریر اور منصوبہ بندی کے ذریعے اپنی آئندہ مہمات پر کام کر رہا ہے۔ اس کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ عمر یا حالات انسان کے حوصلے کو محدود نہیں کر سکتے۔ چاہے زمین ہو، سمندر یا آسمان، اگر ارادہ مضبوط ہو تو ہر فاصلہ ممکن ہے۔ علامہ اقبال نے ہماری نوجوان نسل کو ہی شائید یہ شعر پڑھ کے مہمیز دی تھی، محبت مجھے ان جوانوں سے ہے، ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند۔۔ مگر لگتا ہے ابھی تک ان کے چیلنج پہ کوئی پاکستانی نوجوان نہیں اترا۔۔ ہاں گوروں نے یہ چیلنج ضرور قبول کیا۔

