Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Anwar Bhatti
  4. Chaar Logon Ka Bundan Mian

Chaar Logon Ka Bundan Mian

چار لوگوں کا بندن میاں

آج پھر حسبِ معمول ریلوے کالونی کی پرانی سی چائے کی دکان پر بیٹھے تھے۔ سامنے ٹین کی چھت تھی جس پر دھوپ ایسے پڑ رہی تھی جیسے کسی غریب کے سر پر حکومت کے وعدے پڑتے ہیں بہت شور سے مگر بغیر اثر کے۔ چائے والے کریم بخش نے حسبِ عادت آدھی چینی اور پورا فلسفہ ڈال کر کپ بندن میاں کے سامنے رکھا اور بولا، میاں جی آج بڑے گم سم ہیں خیریت تو ہے؟

بندن میاں نے چائے کی سطح پر بنتے ٹوٹتے بلبلوں کو دیکھا اور دھیرے سے بولے۔ کریم بخش میں آج صبح سے ایک ہندسے میں پھنسا ہوا ہوں۔ کریم بخش چونکا ہندسہ؟ کہیں بجلی کا بل تو نہیں آگیا؟

بندن میاں مسکرائے نہیں بھئی آج میں چار کے چکر میں ہوں۔ کریم بخش نے قہقہہ لگایا۔۔ اوہ۔۔ یعنی چوتھی شادی کا ارادہ ہے؟

بندن میاں نے ایسی نگاہ سے دیکھا جیسے کوئی بزرگ قبرستان کے راستے میں ناچتے ہوئے آدمی کو دیکھتا ہے۔ پھر بولے۔ یہی تو مسئلہ ہے کریم بخش ہمارے برصغیر میں چار صرف ہندسہ نہیں پوری زندگی ہے۔ آدمی پیدا ہوتا ہے تو چار لوگ مبارک دینے آتے ہیں مرتا ہے تو چار کندھے ڈھونڈے جاتے ہیں اور ساری زندگی انہی چار لوگوں کے خوف میں گزار دیتا ہے کہ لوگ کیا کہیں گے۔ چائے والا خاموش ہوگیا۔ کیونکہ برصغیر میں جب کوئی بزرگ فلسفہ شروع کرے تو غریب آدمی کو فوراً احساس ہوجاتا ہے کہ اب چائے ٹھنڈی ہوگی مگر گفتگو گرم۔

بندن میاں نے جیب سے پرانا رومال نکالا، چشمہ صاف کیا اور بولے، میں نے پوری زندگی میں دیکھا ہے کہ اس ملک میں آدمی کی قسمت چاہے نہ بدلےمگر محاورے نہیں بدلتے۔ ہر بات میں چار گھس آیا ہے۔ چار دن کی چاندنی، چار پیسے، چار باتیں، چار قدم، چار لوگ ایسے لگتا ہے جیسے ہماری پوری تہذیب کسی گنتی کے ماسٹر کے پاس گروی رکھی ہوئی ہو۔ پاس بیٹھا نذیر مستری بولا، میاں جی واقعی عجیب بات ہے۔

بندن میاں نے لمبی سانس لی، عجیب نہیں۔ نذیر صاحب، یہ ہماری اجتماعی نفسیات ہے۔ ہم لوگ مقدار سے زیادہ علامتوں میں جیتے ہیں۔ یہاں کوئی آدمی اگر دو کتابیں پڑھ لے تو لوگ کہتے ہیں چار کتابیں کیا پڑھ لیں خود کو گورنر سمجھنے لگا۔ اب یہ کسی نے نہیں بتایا کہ آخر گورنر بننے کے لیے چار ہی کیوں ضروری ہیں؟ پانچ کیوں نہیں؟ سب ہنس پڑے۔ بندن میاں نے انگلی اٹھائی، بس یہی تو مزاحیہ المیہ ہے۔ برصغیر میں ہنسنے والی باتیں اکثر رونے والی ہوتی ہیں۔ اتنے میں سامنے سے ایک نوجوان گزرا۔ بال ایسے کھڑے تھے جیسے بجلی کے کھمبے پر بیٹھے کبوتر کو کرنٹ لگ گیا ہو۔ ہاتھ میں موبائل، آنکھوں میں تکبر اور چال میں ایسا غرور جیسے ابھی ابھی دنیا خرید کر آیا ہو۔ بندن میاں نے اسے دیکھ کر کہا۔۔ یہ دیکھو۔۔ ابھی دو پیسے کمائے ہوں گے اور اب محلے میں ایسے چل رہا ہے جیسے اسٹیٹ بینک اسی کے دادا نے بنایا تھا۔

کریم بخش ہنسا۔۔ میاں جی آج کل یہی زمانہ ہے۔ بندن میاں نے افسردگی سے کہا، نہیں کریم بخش زمانہ ہمیشہ ایسا ہی تھا۔ پہلے لوگ چار پیسے کما کر اوقات بھولتے تھےاور اب فالوورز بڑھا کر بھولتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے غرور جیب میں ہوتا تھا اب موبائل میں ہوتا ہے۔ چائے کی دکان پر قہقہہ گونجا مگر بندن میاں کی آنکھوں میں ہنسی کم اور تھکن زیادہ تھی۔ وہ بولے۔۔ مجھے یاد ہے جب میں ریلوے میں نیا نیا بھرتی ہوا تھا تو ایک بابو صاحب ہر وقت یہی کہتے تھے۔ بیٹا چار پیسے جمع کرو، بڑھاپا آسان ہوجائے گا۔ ہم نے سمجھا واقعی شاید چار پیسے سے بڑھاپا سنور جاتا ہوگا۔ پھر پوری عمر تنخواہ آتی رہی اور خرچ ہوتی رہی۔ آخر میں معلوم ہوا کہ یہاں آدمی پیسے نہیں، پریشانیاں جمع کرتا ہے۔ نذیر مستری نے آہ بھری، سچ کہتے ہیں میاں جی۔

بندن میاں بولے اور پھر وہی معاشرہ جو تمہیں کہتا ہے چار پیسے کماؤ، وہی تمہیں یہ بھی کہتا ہے کہ چار لوگوں میں عزت رکھو۔ اب غریب آدمی فیصلہ کرے کہ بچوں کی فیس دے یا لوگوں میں عزت بچائے؟ ایک لمحے کو خاموشی چھا گئی۔ بندن میاں نے چائے کا آخری گھونٹ لیا اور دھیرے سے بولے یہ جو چار لوگوں کا خوف ہے۔۔ نا۔۔ اس نے برصغیر کے لاکھوں انسان زندہ دفن کیے ہیں۔ کریم بخش نے پوچھا۔۔ کیسے؟

بندن میاں نے دکان کے باہر کھیلتے بچوں کی طرف دیکھا۔ ایک لڑکی ڈاکٹر بننا چاہتی تھی مگر گھر والوں نے کہا چار لوگ کیا کہیں گے۔ ایک لڑکا شاعر بننا چاہتا تھا مگر باپ نے کہا چار پیسے کما لو پہلے۔ ایک بیوہ دوسری شادی کرنا چاہتی تھی مگر خاندان بولا چار لوگوں میں ناک کٹ جائے گی۔ ایک بوڑھا باپ اولڈ ہاؤس نہیں جانا چاہتا تھا مگر اولاد نے کہا لوگ کیا کہیں گے اگر گھر میں لڑائی ہوئی۔ وہ رکے اور تلخ مسکراہٹ کے ساتھ بولے۔ اس ملک میں آدھے خواب غربت مار دیتی ہے اور باقی آدھے چار لوگ۔ اتنے میں محلے کا شوکت آیا۔ چہرے پر پریشانی تھی۔ بولا، میاں جی بہو کو آئے ابھی چار دن ہوئے ہیں اور تیور ایسے ہیں جیسے پورا گھر اسی کے نام ہوگیا ہو۔ دکان پر ہنسی پھیل گئی۔ بندن میاں نے شوکت کو غور سے دیکھا اور بولے، بیٹا مسئلہ بہو کے چار دن نہیں، تمہاری چالیس سالہ تربیت کا ہے۔ ہم بیٹوں کو شہزادہ بناتے ہیں اور بہو سے فرشتہ ہونے کی امید رکھتے ہیں۔ پھر جب وہ انسان نکل آئے تو ہمیں حیرت ہوتی ہے۔ شوکت خاموش ہوگیا۔ بندن میاں نے نرمی سے کہا۔۔ یاد رکھو۔۔ گھر محبت سے چلتے ہیں، محاوروں سے نہیں۔ یہ سن کر کریم بخش نے سر ہلایا اور بے ساختہ اُن کے منہ سے نکلا۔۔ واہ میاں جی۔۔

بندن میاں اب پوری روانی میں تھے۔ جیسے برسوں سے جمع باتیں آج راستہ پا گئی ہوں۔ بولے۔ ہماری زبان بھی عجیب ہے۔ اگر دو لوگ ایک دوسرے کو دیکھ لیں تو کہتے ہیں آنکھیں چار ہوگئیں۔ اب بندہ پوچھے بھائی چھ کیوں نہیں ہوئیں؟ مگر نہیں، محبت کو بھی چار چاہیے اور جب کوئی کام اچھا ہوجائے تو کہتے ہیں چار چاند لگ گئے۔ گویا ہمارے معاشرے میں چاند بھی اکیلا مکمل نہیں ہوتا۔ سب دوبارہ ہنس پڑے۔

بندن میاں نے آسمان کی طرف دیکھا، لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ یہی چار ہماری پوری روحانی اور تہذیبی ساخت میں بھی موجود ہے۔ چار سمتیں، چار موسم، چار خلفائے راشدین، چار عناصر شاید انسان نے کائنات کے توازن کو اسی ہندسے میں محسوس کیا۔

پھر اچانک ان کی آواز میں اداسی اتر آئی مگر افسوس، ہم نے توازن نہیں سیکھا۔ ہم نے صرف تکرار سیکھی۔ نذیر نے پوچھا کیا مطلب؟

بندن میاں بولے، مطلب یہ کہ ہم ہر نسل کو وہی خوف دیتے ہیں جو ہمیں ملا۔ باپ بیٹے کو ڈراتا ہے، ماں بیٹی کو، استاد شاگرد کو، معاشرہ فرد کوبس ہر طرف ایک ہی جملہ ہے چار لوگ کیا کہیں گے؟ حالانکہ سچ یہ ہے کہ وہ چار لوگ خود بھی کسی اور چار لوگوں سے ڈرے ہوئے ہوتے ہیں۔

یہ سن کر لمحہ بھر کے لیے سب خاموش ہوگئے۔

بندن میاں نے مسکرا کر بات کا رخ بدلا اور پھر ہماری محبتیں بھی عجیب ہیں۔ جوانی میں انسان کسی کو دیکھ لے تو دوست کہتے ہیں لو جی آنکھیں چار ہوگئیں۔ شادی ہوجائے تو کہتے ہیں چار دن کی چاندنی ہے پھر اندھیری رات اور اگر شادی کامیاب ہوجائے تو لوگ حیران ہوجاتے ہیں جیسے پاکستان میں وقت پر ٹرین آگئی ہو۔ دکان پر قہقہے بلند ہوئے۔ بندن میاں بھی ہنسے مگر ان کی ہنسی میں نمی تھی۔ بولے۔۔ میں نے اپنی زندگی میں دیکھا ہے کہ انسان اصل میں چار چیزوں کا بھوکا ہوتا ہے۔ عزت، محبت، سکون اور یقین۔ مگر بدقسمتی سے ہم اسے صرف مشورے دیتے ہیں۔

کریم بخش نے پوچھا، پھر حل کیا ہے میاں جی؟

بندن میاں نے کرسی پر کمر سیدھی کی اور بولے، حل بہت سادہ ہے مگر مشکل اس لیے لگتا ہے کہ ہم نے سادگی چھوڑ دی ہے۔ وہ بولے، بچوں کو چار لوگوں کے خوف میں نہ پالیں بلکہ چار اچھی باتیں سکھائیں۔ چار پیسے ضرور کمائیں مگر چار انسانوں کا دل نہ توڑیں۔ چار کتابیں پڑھیں تو عاجزی بھی سیکھیں۔ چار قدم چل سکتے ہوں تو کسی تھکے ہوئے کے ساتھ بھی چلیں اور اگر زندگی میں کبھی چار چاند لگ جائیں تو ان کی روشنی دوسروں تک بھی پہنچائیں۔ پھر وہ کچھ دیر خاموش رہے۔ جیسے اندر کہیں بہت پرانی آوازیں جاگ گئی ہوں۔۔ جانتے ہو۔۔ انہوں نے دھیرے سے کہا، میرے ایک دوست تھے۔ پوری زندگی لوگوں کو خوش کرتے رہے۔ اپنی خواہشیں مارتے رہے۔ مرنے لگے تو مجھ سے بولے، بندن میاں۔۔ پوری عمر چار لوگوں کو راضی کرتے کرتے ایک دن خود سے ملاقات ہی نہ ہوسکی۔ اس دن مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ انسان کی سب سے بڑی غربت پیسوں کی نہیں، اپنی ذات کھو دینے کی ہوتی ہے۔ ہوا میں خاموشی تیرنے لگی۔ نزدیکی مسجد سے عصر کی اذان کی آواز کانوں میں گونجی۔ بچے شور مچا رہے تھے۔ ریلوے لائن پر زنگ آلود پٹڑی دھوپ میں چمک رہی تھی جیسے وقت اپنی تھکن چھپا رہا ہو۔ بندن میاں نے آہستہ سے شعر پڑھا۔

عمر دراز مانگ کے لائے تھے چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں

پھر خود ہی مسکرائے اور یوں گویا ہوئے یہ شعر نہیں پورے برصغیر کی سوانح عمری ہے۔ کریم بخش نے پوچھا، میاں جی کبھی ایسا ہوگا کہ لوگ چار لوگوں سے ڈرنا چھوڑ دیں؟ بندن میاں نے بہت دیر بعد جواب دیا۔۔ ہوگا۔۔ جس دن انسان یہ سمجھ جائے گا کہ قبر میں اترتے وقت نہ چار لوگ ساتھ جاتے ہیں نہ چار پیسے صرف کردار جاتا ہے۔ پھر وہ اٹھ کھڑے ہوئے۔ لاٹھی سنبھالی۔ جیب سے پیسے نکالے۔ کریم بخش نے کہا۔۔ رہنے دیں میاں جی۔۔ بندن میاں بولے، نہیں بھئی چار پیسے ہی سہی محنت کی کمائی کا احترام ضروری ہے۔ سب ہنس دیے۔ جاتے جاتے بندن میاں رکے اور بولے اور سنو اگر کبھی زندگی تمہیں بہت الجھی ہوئی لگے نا تو بس چار کام کرلینا۔ سچ بولنا، دل نہ توڑنا، ماں باپ کا احترام کرنا اور ضرورت مند کو خالی ہاتھ نہ لوٹانا یقین کرو باقی ساری گنتی خود ٹھیک ہوجائے گی۔

وہ آہستہ آہستہ سڑک پر چلنے لگے۔ شام اتر رہی تھی۔ پرانی کالونی کی دیواروں پر دھوپ مرجھا رہی تھی۔ لوگ اپنے اپنے گھروں کو لوٹ رہے تھے۔ مگر بندن میاں کے الفاظ فضا میں ایسے معلق تھے جیسے کسی پرانے درخت پر آخری پرندہ بیٹھا ہو اور شاید واقعی زندگی آخرکار صرف اتنی ہی ہوتی ہے۔ چار دن کی چاندنی، چند لوگوں کی رائے، کچھ ادھورے خواب اور ایک انسان جو ساری عمر خود کو سمجھنے کی کوشش کرتا رہتا ہے مگر اکثر اُس وقت سمجھ پاتا ہے جب وقت اُس کے ہاتھوں سے ریت کی طرح پھسل چکا ہوتا ہے۔ پھر ایک دن اچانک اُسے احساس ہوتا ہے کہ جن لوگوں کے خوف میں اُس نے اپنی خواہشیں دفن کیں وہ لوگ تو اپنے اپنے موسموں میں گم تھےجن چار پیسوں کے لیے اُس نے سکون بیچا وہ ضرورت سے زیادہ کبھی ہوئے ہی نہیں، جن چار باتوں نے اُسے رات بھر جگائے رکھا وہ اگلے دن لوگوں کو یاد بھی نہ رہیں اور جن چار قدموں کے ساتھ چلنے کا وعدہ کیا گیا تھا اُن میں سے اکثر راستے کے پہلے موڑ پر ہی بدل گئے۔ پھر انسان بیٹھ کر اپنی زندگی کے ملبے میں خود کو ڈھونڈتا ہے۔ اُسے اپنی جوانی کسی پرانی الماری میں رکھی زرد تصویروں جیسی لگتی ہے۔ خواہشیں ادھ جلے خطوں کی طرح محسوس ہوتی ہیں اور خواب ایسے جیسے بارش سے پہلے اُڑتی ہوئی گرد، جو چند لمحے فضا میں رہتی ہے پھر کہیں کھو جاتی ہے۔

تب بندن میاں جیسے لوگ دھیرے سے مسکراتے ہیں اور کہتے ہیں۔۔ بیٹا۔۔ زندگی کو جینے کی کوشش کرو ثابت کرنے کی نہیں۔ کیونکہ جو لوگ ساری عمر خود کو دنیا کے سامنے ثابت کرتے رہتے ہیں وہ اکثر اپنے ہی دل کے سامنے ہار جاتے ہیں۔ اصل سکون شاید یہی ہے کہ انسان رات کو سوتے وقت اپنے دل پر بوجھ نہ محسوس کرے، کسی غریب کی آہ اُس کے نصیب سے نہ لپٹی ہو، کسی مجبور کی آنکھ اُس کی وجہ سے نم نہ ہوئی ہواور اُس کے لہجے نے کسی ٹوٹے ہوئے انسان کو مزید نہ توڑا ہو۔ ورنہ دنیا کا دستور بڑا عجیب ہے۔ یہاں لوگ مرنے کے بعد خوبیوں کے قصیدے پڑھتے ہیں اور جیتے جی خامیاں گنتے رہتے ہیں۔ یہاں انسان کی قیمت اُس کے کردار سے کم اور اُس کے لباس، عہدے اور جیب سے زیادہ لگائی جاتی ہے۔ یہاں محبت کم اور مطلب زیادہ نبھایا جاتا ہے۔ مگر ان سب کے باوجود زندگی پھر بھی خوبصورت ہے۔

اگر انسان دوسروں کی نظروں سے نکل کر کبھی اپنے رب کی نظر سے خود کو دیکھ لے۔ اگر وہ چار لوگوں کی عدالت سے نکل کر اپنے ضمیر کی عدالت میں حاضر ہوجائے۔ اگر وہ حسد کے بجائے شکر اور نفرت کے بجائے نرمی سیکھ لے۔ کیونکہ آخر میں نہ چار دن رہتے ہیں نہ چار چاندصرف انسان کے اعمال کی خوشبو رہ جاتی ہے اور بعض لوگ قبروں میں دفن ہونے کے بعد بھی زندہ رہتے ہیں۔ اپنے اخلاق سے، اپنی محبت سے، اپنی سچائی سےاور اُن چند لفظوں سے جو انہوں نے کسی ٹوٹے ہوئے دل کو سہارا دینے کے لیے کہے تھے۔

Check Also

9 May Se 10 May Tak Ka Safar

By Najam Wali Khan