Thursday, 07 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Anwar Bhatti
  4. Aalmi Taqaton Ka Khel Aur Bigarta Aalmi Tawazun

Aalmi Taqaton Ka Khel Aur Bigarta Aalmi Tawazun

عالمی طاقتوں کا کھیل اور بگڑتا عالمی توازن

بندن میاں آج پھر اسی پرانے کھوکھے پر بیٹھے تھے جہاں چائے ہمیشہ گرم اور حالات ہمیشہ ٹھنڈے دماغ سے زیرِ بحث آتے تھے۔ مگر آج معاملہ کچھ اور تھا آج چائے کی بھاپ میں بھی ایک بے چینی تھی اور خبروں کے ہجوم میں بھی ایک عجیب سا شور تھا جیسے الفاظ خود اپنے مطلب کھو بیٹھے ہوں اور بیانات اپنی سچائی سے خالی ہو چکے ہوں بندن میاں نے اخبار کو آہستہ سے میز پر رکھا اور گہری نظر سے سامنے دیکھتے ہوئے بولے کہ یہ دنیا اب سیدھی باتوں سے نہیں چل رہی بلکہ پیچیدہ اشاروں اور بدلتے بیانیوں کا کھیل بن چکی ہے اور اس کھیل کا سب سے بڑا کھلاڑی اور امن نوبل انعام کا خواہش مند امریکہ کا صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہے جس کے الفاظ کبھی امن کی نوید دیتے ہیں اور کبھی جنگ کا بگل بجاتے ہیں اور یہی تضاد اس وقت عالمی سیاست کا سب سے خطرناک پہلو بن چکا ہے۔

بندن میاں نے ذرا سا جھک کر کہا کہ امریکی صدر کی جانب سے ایک طرف پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر کی تعریفوں کے پل باندھے جاتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ پاکستان نے جنگ بندی کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے مگر اگلے ہی لمحے ایران کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ اسرائیل کی سلامتی کے نام پر پورے خطے کو آگ میں دھکیلنے کی باتیں کی جاتی ہیں یہ کیسا تضاد ہے کہ ایک ہاتھ سے امن کا پیغام دیا جاتا ہے اور دوسرے ہاتھ سے جنگ کی چنگاری پھینکی جاتی ہے اور یہی وہ دوہرا معیار ہے جس نے عالمی سیاست کو غیر یقینی اور خطرناک بنا دیا ہے۔

کریم بخش جو اب تک خاموش بیٹھا تھا اس نے آہستہ سے پوچھا کہ بندن میاں کیا واقعی یہ سب اسرائیل کے لیے ہو رہا ہے بندن میاں نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ گہری نظر اٹھائی اور بولے کہ بھائی عالمی سیاست میں اتفاق نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی ہر قدم کے پیچھے ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہوتا ہے اور اگر تم اس پورے منظرنامے کو غور سے دیکھو تو تمہیں صاف نظر آئے گا کہ امریکہ کی خارجہ پالیسی میں اسرائیل محض ایک اتحادی نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ تعلق صرف آج کا نہیں بلکہ دہائیوں پر محیط ہے جس میں فوجی تعاون انٹیلی جنس شیئرنگ مالی امداد اور سفارتی تحفظ سب کچھ شامل ہے اور یہی وجہ ہے کہ جب بھی مشرق وسطیٰ میں کوئی کشیدگی پیدا ہوتی ہے تو اس کا محور کسی نہ کسی شکل میں اسرائیل کی سلامتی بن جاتا ہے۔

بندن میاں نے بات کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ اگر تم تاریخ کے اوراق کو ذرا پلٹ کر دیکھو تو تمہیں اندازہ ہوگا کہ یہ تعلق کس قدر گہرا ہے 1948 سے لے کر آج تک امریکہ نے ہر اہم موڑ پر اسرائیل کی حمایت کی ہے چاہے وہ جنگی محاذ ہو یا سفارتی میدان اقوام متحدہ میں بارہا ایسی قراردادیں آئیں جن میں اسرائیل پر تنقید کی گئی مگر امریکہ نے ویٹو پاور استعمال کرکے انہیں روک دیا اور یہی وہ سفارتی ڈھال ہے جس نے اسرائیل کو ایک خاص تحفظ فراہم کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ صرف سفارتی مدد تک محدود نہیں بلکہ ہر سال اربوں ڈالر کی فوجی امداد جدید ترین دفاعی نظام اور مشترکہ فوجی مشقیں اس اتحاد کو مزید مضبوط بناتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کو خطے میں ایک غیر معمولی عسکری برتری حاصل ہے۔

بندن میاں نے قدرے سنجیدہ لہجے میں کہا کہ اب اگر ہم ایران کی طرف دیکھیں تو وہاں تصویر بالکل مختلف نظر آتی ہے ایران کو نہ صرف پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا رہا ہے بلکہ اسے عالمی سطح پر ایک خطرے کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے حالانکہ حقیقت اس سے کہیں زیادہ مختلف ہے ایران ایک ایسا ملک ہے جس نے اپنی پالیسیوں کے ذریعے خطے میں ایک متبادل طاقت کا کردار ادا کیا ہے اور یہی بات امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے ایک چیلنج بن جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے تیل کے ذخائر دنیا کے بڑے ذخائر میں شمار ہوتے ہیں اور اس کی جغرافیائی حیثیت اسے ایک اہم مقام دیتی ہے خاص طور پر آبنائے ہرمز جہاں سے دنیا کی توانائی کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے اگر اس راستے میں کوئی خلل پیدا ہو جائے تو اس کا اثر پوری دنیا کی معیشت پر پڑتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ایران کو کمزور کرنا صرف ایک سیاسی فیصلہ نہیں بلکہ ایک معاشی حکمت عملی بھی ہو سکتی ہے۔

بندن میاں نے بات کو مزید گہرائی کے ساتھ پیش کرتے ہوئے کہا کہ جب ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف سخت بیانات دیتے ہیں یا اس کے تیل کے ذخائر کو نشانہ بنانے کی بات کرتے ہیں تو یہ محض جذباتی ردعمل نہیں ہوتا بلکہ ایک سوچا سمجھا پیغام ہوتا ہے جو نہ صرف ایران بلکہ چین اور روس جیسے ممالک کو بھی دیا جاتا ہے جو ایران کے قریب سمجھے جاتے ہیں اس طرح ایک ہی بیان کئی سطحوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ انہوں نے آہستہ سے کہا کہ یہی جدید جیو پولیٹیکل کھیل ہے جہاں الفاظ گولیوں سے زیادہ طاقتور ہو جاتے ہیں اور بیانات خود ایک ہتھیار کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔

بندن میاں نے ایک لمحے کے لیے توقف کیا اور پھر گہری آواز میں کہا کہ مگر اس ساری بحث میں ایک حقیقت ایسی ہے جسے ہم اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں اور وہ ہے عام انسان کا کردار یا یوں کہو کہ اس کی بے بسی فیصلے بڑے ایوانوں میں ہوتے ہیں مگر ان کے اثرات چھوٹے گھروں تک پہنچتے ہیں جنگیں نقشوں پر لڑی جاتی ہیں مگر ان کی آگ عام لوگوں کے گھروں تک پہنچتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ جب ہم اسرائیل ایران یا امریکہ کی بات کرتے ہیں تو ہمیں اس کے پیچھے چھپے انسانی پہلو کو بھی دیکھنا چاہیے کیونکہ آخرکار نقصان عام آدمی ہی اٹھاتا ہے۔

بندن میاں نے گفتگو کا رخ بدلتے ہوئے کہا کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں میں دباؤ اور دھمکی ایک مستقل ہتھیار کے طور پر استعمال ہوتے رہے ہیں۔ کبھی تجارتی محاذ پر دباؤ، کبھی عالمی معاہدوں سے علیحدگی اور کبھی بین الاقوامی اداروں کو نظرانداز کرنا یہ سب ایک ایسے رویے کی عکاسی کرتا ہے جہاں عالمی نظام کو اصولوں کے بجائے طاقت کے ترازو میں تولا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرزِ سیاست کا ایک منفی پہلو بھی سامنے آیا ہے جب مسلسل دھمکی اور دباؤ کی زبان استعمال کی جائے تو عالمی سطح پر اعتماد کمزور ہونے لگتا ہےاتحادی محتاط ہو جاتے ہیں اور مخالف طاقتیں مزید قریب آ جاتی ہیں یوں طاقت بڑھانے کی کوشش بعض اوقات اس کے برعکس نتائج پیدا کرتی ہے۔

بندن میاں نے گہری آواز میں کہا کہ اصل حقیقت یہی ہے کہ یہ جنگ صرف سرحدوں یا ریاستوں کی نہیں بلکہ اعتماد، معیشت اور عالمی نظام کی ہے۔ جب سیاست میں دھمکی غالب آ جائے اور مکالمہ پس منظر میں چلا جائے تو نقصان کسی ایک ملک کا نہیں رہتا بلکہ پوری دنیا اس کی قیمت چکاتی ہے۔

بندن میاں نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ اگر تم اس پورے منظرنامے کو اور گہرائی سے دیکھو تو تمہیں ایک اور اہم پہلو نظر آئے گا اور وہ ہے خلیجی ممالک کی پالیسی جس میں انہوں نے اپنی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے امریکہ پر غیر معمولی انحصار کیا انہوں نے اربوں نہیں بلکہ کھربوں ڈالر کے دفاعی معاہدے کیے جدید ترین جنگی طیارے میزائل ڈیفنس سسٹمز اور جدید ٹیکنالوجی خریدی اور یہ سمجھا کہ اس کے بدلے انہیں ایک ناقابل شکست دفاعی حصار مل جائے گا۔ انہوں نے قدرے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا کہ مگر تاریخ ہمیں بار بار ایک ہی سبق دیتی ہے کہ اسلحہ خریدنا آسان ہے مگر تحفظ خریدنا ممکن ہوتا ہے۔

بندن میاں نے کہا کہ حالیہ مہینوں میں خطے میں کشیدگی بڑھی اور مختلف حملوں نے ان ممالک کی سلامتی کو چیلنج کیا تو یہ سوال شدت سے ابھرا کہ کیا واقعی یہ تمام سرمایہ کاری اس وقت ان کے کام آئی جس وقت انہیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت تھی۔ انہوں نے گہری نظر سے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ نے اپنے مفادات کو ہمیشہ ترجیح دی ہے اور اسرائیل اس کے لیے ایک ایسا اتحادی ہے جسے وہ کسی صورت نظر انداز نہیں کر سکتا یہی وجہ ہے کہ جب بھی خطے میں کوئی بڑا بحران آتا ہے تو اس کی پالیسی کا جھکاؤ واضح طور پر اسی طرف ہوتا ہے۔

بندن میاں نے مزید کہا کہ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ خلیجی ممالک کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا مگر یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ ان کی توقعات اور حقیقت کے درمیان ایک واضح فرق موجود ہے اور یہی وہ فرق ہے جو آج ایک لمحہ فکریہ بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آ چکا ہے کہ یہ ممالک اپنی پالیسیوں کا ازسرنو جائزہ لیں اور یہ سمجھیں کہ صرف بیرونی طاقتوں پر انحصار کرنا ایک پائیدار حکمت عملی نہیں ہو سکتی انہیں اپنی سلامتی کے لیے خود انحصاری علاقائی تعاون اور متوازن خارجہ پالیسی کو بھی اہمیت دینا ہوگی۔

بندن میاں نے آخر میں گہری سانس لے کر کہا کہ دنیا میں کوئی بھی اتحاد مستقل نہیں ہوتا نہ کوئی دشمنی ہمیشہ رہتی ہے مستقل صرف مفادات ہوتے ہیں اور جو قومیں اس حقیقت کو سمجھ لیتی ہیں وہی وقت کے ساتھ مضبوط رہتی ہیں۔ انہوں نے چائے کا آخری گھونٹ لیا اور کپ کو میز پر رکھتے ہوئے آہستہ سے کہا کہ دنیا کو آج طاقت سے زیادہ عقل کی ضرورت ہے دھمکیوں سے زیادہ مکالمے کی ضرورت ہے اور اندھی وابستگیوں سے زیادہ توازن کی ضرورت ہے کیونکہ جب تک یہ شعور پیدا نہیں ہوتا تب تک ہر نئی خبر صرف ایک نئے بحران کی تمہید بنتی رہے گی اور بندن میاں خاموش ہو گئے مگر ان کی خاموشی میں ایک پوری دنیا بول رہی تھی۔

Check Also

Aata, Pir Aur Qaum Ki Taqdeer

By Saadia Bashir