Thursday, 21 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Ali Ahmar
  4. Adh Adhoore Log

Adh Adhoore Log

ادھ ادھورے لوگ

محمد حفیظ خان سے میرا پہلا تعارف ان کے ناول "انواسی" کے ذریعے ہوا تھا اور واللہ کیا ہی تگڑا ناولُ تھا وہ جس میں آپ نے "کمپنی" اور مقامی لوگوں کی کشمکش کو ڈیڑھ سو سال پیچھے جا کر خوبصورت پیرائے میں بیان کیا تھا۔ اس کے بعد آپ کا ناول "کرکناتھ" میرے زیر مطالعہ رہا جس میں سیاست، بیوروکریسی اور بزنس کے تانے بانے آپ نے خوبصورتی سے جوڑے تھے۔

یہ آپ کی تیسری کتاب ہے جو میری نظر سے گزری اور مجھے کہہ لینے دیجیے کہ باقی دو ناولوں کی نسبت اس ناول کا پلاٹ بہت عامیانہ سا تھا۔ یوں تو مصنف نے اس ناول میں ریاستی جبر کے اوپر کھل کر بات کی ہے کہ کیسے ایک طرف تو پاکستان کو اپنے پاؤں پر کھڑے کرنے والی ریاست بہاولپور کو اس کے جائز مقام سے دور کر دیا گیا۔ تو دوسری طرف اس علاقے کے لاکھوں لوگوں کی ثقافت، تہذیب، تاریخ اور جغرافیا یک جنبش قلم ان سے چھین لیا گیا۔

ایک معلوماتی دستاویز کے طور پر تو یہ کتاب بہت عمدہ ہے کہ اس میں ون یونٹ جیسی جکڑ بندیوں، ایبڈو (Elected Bodies Disqualification Order) کی سیاہ کاریوں اور اس کے نتیجے میں نا اہل ہونے والے لیڈروں کے ردعمل کے طور پر بنگلہ تحریک کو ہوا ملنا اور ان شعلوں کو بھڑکتی آگ بنانے میں ایوب اور یحییٰ کے کردار پر کھل کر بات کی گئی ہے۔ مگر ایک چھوٹا سا پل جو ناول اور دستاویزی کتاب کے بیچ ہوتا ہے وہ مصنف سے کتاب کے آدھے میں کہیں چھوٹ گیا۔ گو کہ کتاب کے بالکل آخر میں مصنف نے اس کے ازالے کی اپنی سی کوشش کی مگر اس وقت تک کہانی ہاتھ سے بالکل نکل چکی تھی۔

Check Also

Qanoon Ke Aeene Mein Insaf Ki Tasveer

By Zakaria Khan