Seyahat Pakistan Mein Munafa Bakhsh Kyun Nahi?
سیاحت پاکستان میں منافع بخش کیوں نہیں؟
دنیا بھر میں سیاحت کا عالمی دن 27 ستمبر کو منایا جاتا ہے اس کا آغاز 1970ء میں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی منظوری کے بعد کیا گیا تھا۔ جس کا مقصد لوگوں کو سیاحت کی اہمیت سے آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ ثقافتی میدان میں کی گئی تبدیلیوں سے آگاہ کرنا بھی ہوتا ہے۔ سیاحت کے ذریعے ہمیں نئے لوگوں، نئے تہواروں کا پتہ چلتا ہے، تخلیقی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے اور صحت بھی اچھی رہتی ہے۔ بظاہر تو یہ ایک دن ہے لیکن اس کا اصل مقصد سال بھر کے کام کاج سے تھکے ماندے لوگوں کا اپنی مصروفیات سے اپنے لئے سیر و تفریح کے لیے وقت نکالنا اور قدرت کے حسین مناظر سے لطف اندوز ہونا ہوتا ہے۔
دنیا بھر سے مختلف ممالک نے سیرو تفریح کو فروغ دیا۔ اس سلسلے میں امریکہ، سپین اور فرانس نے سیاحت کے ذریعے اپنی معشیت کو بہتر بنایا ہے۔ یہ ممالک بالترتیب 68 اور 62 ارب ڈالر کما رہے ہیں۔ آپ میں سے بہت کم لوگ اروبا (Aruba) نامی ملک کے بارے میں جانتے ہیں۔ یہ جنوبی امریکہ کے خطے میں بحیرہ کریبین میں چھوٹا سا جزیرہ نما ملک ہے۔ اس ملک کی ایک انفرادیت ہے جو دنیا کے ہر ملک کا خواب ہے۔ یہ اپنی کل آمدن کا تقریباََ 43 فی صد سے زائد سیاحت کے شعبے سے حاصل کرتاہے۔ سفید ریتلے ساحل اس ملک کی ایسی خاصیت ہے جو دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔
پاکستان کو قدرت نے بے پناہ خوبصورتی سے نوازا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ لاکھوں سیاحوں کی توجہ کا مرکز بھی ہے ہر سال لاکھوں کی تعداد میں سیاح پاکستان آتے ہیں اور سیاحتی مقامات کی سیر کرتے ہیں۔ پاکستان کے شمالی علاقوں میں قدرت کے بے شمار دلکش مقامات ہیں ان سیاحتی مقامات میں ہنزہ، سکردو، گلگت، ناران، کاغان اور سوات شامل ہیں۔ یہ تمام علاقہ جات اپنی خوبصور تی، دلکش وادیوں، آسمانوں سے باتیں کرتے بلند و بالا پہاڑوں، سفیدی میں لپٹی برف پوش چوٹیوں اور صاف شفاف جھیلوں کے باعث دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں۔ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو (K2) اور نانگا پربت جیسی عظیم پہاڑیاں پاکستان کی پہچان ہیں۔ اس کے علاؤہ تاریخی ورثے جن میں موہنجو داڑو، ٹیکسلا، لاھور قلعہ اور بادشاہی مسجد بھی سیاحت کی شان ہیں۔
اگر پاکستان سیاحتی صنعت کو مزید ترقی دے تو یہ نہ صرف معشیت کے لیئے فائدہ مند ثابت ہوگا، بلکہ دنیا میں پاکستان کا مثبت تاثر بھی اجاگر کرےگا۔ سیاحت کے فروغ کے لیے ضروری ہے کہ حکومت اور عوام دونوں اپنا کردار ادا کریں حکومت کو چاہئے کہ بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنائے سڑکوں، ہوٹلوں اور ٹرانسپورٹ کے نظام کو ترقی دے اور سیاحوں کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ دوسری جانب عوام کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنے شہروں، تاریخی مقامات اور قدرتی خوبصورتی کی حفاظت کریں اور آنے والے مہمانوں کے ساتھ خوش اخلاقی کا مظاہرہ کریں۔ اگر ہم سب اس دن کے مقصد کو سمجھ کر سیاحت کو فروغ دیں تو پاکستان بھی دنیا کی صف اول کے سیاحتی ممالک میں شامل ہو سکتا ہے اور بہتریں زرِمبادلہ کما سکتا ہے۔
سیاحتی مقامات نلتر، سکردو، استور
ہنزہ نگر اور پھنڈر بام جہاں ہمارا
دیوسائی، راما، شندور، سدپارہ، شفری جھیل
جاتا ہے دیکھنے کو ہر کارواں ہمارا
حیدر ؔ کرو ہمیشہ رب سے یہی دعا تم
زندہ رہے ابد تک یہ پاکستان ہمارا

