Thursday, 15 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Aamir Hussaini
  4. PPP Aur Bayan Bazu

PPP Aur Bayan Bazu

پی پی پی اور بایاں بازو

میں نے حال ہی میں معروف ترقی پسند دانشور شمیم احمد صاحب کی معراج محمد خان کے حوالے سے یادداشت پر لکھی انگریزی کتاب کا ترجمہ مکمل کیا ہے۔ کتاب پروف ریڈنگ اور اغلاط کی درستگی کے بعد حتمی مسودے کی شکل میں ناشر زاہد کاظمی کے حوالے ہوچکی ہے۔ اگلے ماہ اس کی اشاعت ممکن ہے۔

شمیم صاحب نے معراج محمد خان سے ان کی زندگی کے آخری ماہ و سال میں ان کی نجی اور سماجی زندگی پر تفصیل سے کئی مجلسوں میں انٹرویو کیے جو ریکارڈنگ کی شکل میں موجود ہیں۔ شمیم صاحب معراج محمد خان کے زمانہ طالب علمی کے دوست ہیں۔ دونوں نے طلباء سیاست میں اکٹھے حصہ لیا اور این ایس ایف کے پلیٹ فارم سے اکٹھے جدوجہد کی۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے موجودہ دانشوروں کا ایک ایسا گروہ سوشل میڈیا پر موجود ہے جو پیپلزپارٹی کی تشکیل، اسے عوامی جماعت میں بدلنے اور اس کے نظریاتی رنگ روپ کو نکھارنے میں بائیں بازو کے کردار سے بالکل انکاری ہے۔

وہ مغربی پاکستان میں عوامی سیاست اور اس کے ابتدائی خدوخال کی تاریخ قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو سے شروع کرتا ہے اور پھر ان کے جانشینوں پر ختم کر دیتا ہے۔ اس کی نظر میں ذوالفقار علی بھٹو سے قبل مغربی پاکستان میں عوامی سیاست مزدوروں، کسانوں، طالب علموں اور درمیانے طبقے کی پرتوں میں کبھی موجود نہیں تھی۔

وہ اس بات کو بھی نظر انداز کر دیتا ہے کہ مغربی پاکستان میں طبقاتی بنیادوں پر ترقی پسند سیاست کی بنیاد کمیونسٹ پارٹی پاکستان، خیبرپختون خوا میں سوشلسٹ پارٹی پاکستان (مولانا عبدالرحیم پوپلزئی)، خدائی خدمتگار تحریک، جی ایم سید کی سندھ پیپلزپارٹی، حیدر بخش جتوئی کی سندھ ہاری کمیٹی، ریاست قلات کی نیشنل پارٹی اور پنجاب میں آزاد پاکستان پارٹی جیسے کی گروپوں نے رکھی تھی۔ جبکہ مشرقی بنگال میں ترقی پسند عوامی سیاست کی بنیاد کمیونسٹ پارٹی مشرقی بنگال، مولانا عبدالحمید بھاشانی کی عوامی لیگ، مولوی فضل حق کی کرشک سرامک پارٹی اور دیگر کئی جماعتوں نے رکھی تھی۔ پچاس کی دہائی میں متحدہ پاکستان میں ان مذکورہ بالا سیاسی جماعتوں نے باہم متحد ہوکر نیشنل عوامی پارٹی کی بنیاد رکھی جس کے پہلے مرکزی صدر مولانا عبدالحمید بھاشانی اور مرکزی جنرل سیکرٹری محمود الحق عثمانی تھے۔ مغربی پاکستان میں اس کے مرکزی صدر ولی خان اور جنرل سیکرٹری میجر اسحاق تھے۔

کمیونسٹ پارٹی پاکستان نے اپنے قیام کے پہلے دو سالوں میں صنعتی مزدوروں کو ایک متحدہ پلیٹ فارم پرمنظم کرنے لیے آل پاکستان ٹریڈ یونین فیڈریشن کا قیام عمل میں لائی۔ کسانوں کو منظم کرنے کے لیے آل پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کی بنیاد رکھی۔ سندھ میں ہاری کمیٹی کو ہی کسانوں کو منظم کرنے کا کام سونپے رکھا۔ طالب علموں کو منظم کرنے کے لیے ڈی ایس ایف کی بنیاد رکھی۔ شاعروں، ادیبوں، دانشوروں کے لیے انجمن ترقی پسند مصنفین کی بنیاد رکھی گئی۔ خواتین کو منظم کرنے لیے انجمن جمہوری خواتین محاذ کی بنیاد رکھی۔

پاکستان میں یہ بائیں بازو اور ترقی پسند قوم پرست سیاسی کارکن ہی تھے جنھوں نے اینٹی ون یونٹ تحریک کا آغاز کیا۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ کے سنجیدہ طالب علم اس بات سے اچھے سے واقف ہیں کہ گورنر جنرل غلام محمد، اسکندر مرزا اور ایوب خان نے 1956ء کے آئین کے تحت بالغ حق رائے دہی کی بنیاد پر ملک میں ہونے والے انتخابات کو رکوانے کے لیے وہ اقدامات اٹھائے تھے جو ایوب خان کے مارشل لاء پر اپنی انتہا کو پہنچے کیونکہ وہ انتخابات اگر منعقد ہوتے تو نیشنل عوامی پارٹی پاکستان بھاری اکثریت سے انتخابات جیت جاتی اور پاکستان میں یہ واحد عوامی سیاسی پارٹی تھی جس کا سوشلسٹ منشور تھا۔ اس منشور کی روشنی میں پاکستان عوامی جمہوریہ پاکستان بنتا۔ صوبائی خود مختاری ملتی۔ ملک بھر کی بھاری صنعتیں، بینکنگ سمیت تمام مالیاتی سرمایہ قومیا لیا جاتا۔ تمام بڑی جاگیریں ختم کر دی جاتیں۔ نوآبادیاتی دور میں تعمیر فوجی و سول نوکر شاہی کا نوآبادیاتی ڈھانچہ ختم کر دیا جاتا۔ ملک کو سرمایہ داروں، جاگیرداروں، ملاوں، فوجی و سول نوکر شاہی سے نجات مل جاتی۔ پاکستان عالمی سامراجی قوتوں کی ایجنٹ اور گماشتہ ریاست نہ بنتا۔

پچاس کی دہائی سے لیکر ایوب خان کے اگلے 11 سال پاکستان کی جملہ ریاستی مشینری اور اس ملک کے سرمایہ دار، جاگیردار، فوجی و سول نوکر شاہی اور ملاں پر مشتمل حکمران طبقات اپنے تمام تر باہمی اختلافات اور اقتدار کی رسا کشی کے پاکستان میں نیشنل عوامی پارٹی جیسی عوامی سیاست کو دفن کرنے کے لیے متحرک رہے۔ انھوں نے متحدہ پاکستان میں محنت کشوں اور مظلوم و مجبور مقہور اقوام کو ایک متحدہ اور منظم سیاسی مرکز پر اکٹھا ہوکر سیاست کرنے سے روکنے کے لیے ان میں مذھبی، نسلی، لسانی اور شناخت سے جڑے تضادات کو گہرا کرنے اور ان کو باہم تقسیم کرنے کے لیے تقسیم کا ہر ہتھیار آزمایا۔ طلباء سیاست ہو یا مزدور سیاست ہو اسے مسلسل تقسیم کیا۔

اپنی سخت مرکزیت پسند پالیسی سے قومی تضادات کو اسقدر گہرا کیا کہ بائیں بازو کی سیاست حاشیے پر چلی گئی۔ ریاست نے اپنا زور اس مد میں لگایا کہ مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان میں بایاں بازو متحدہ جماعت کی شکل میں ابھر نہ سکے۔ تقسیم کرنے کی اس پالیسی نے مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کے تین صوبوں میں قوم پرست سیاست کی جڑیں مضبوط کر دیں۔ کراچی جیسا صنعتی شہر بائیں بازو کی سیاست کا مرکز بننے کی بجائے رجعت پرست اسلامی مذھبی جماعتوں کی سیاست کا گڑھ بن گیا۔ اس شہر میں مزدوروں کو فرقہ وارانہ اور نسل پرستانہ بنیادوں پر تقسیم کرنے کا ہر حربہ اور ہتھکنڈا اپنایا گیا۔ ایسے مشکل وقت میں بھی بائیں بازو کے سیاسی کارکنوں نے ترقی پسند سیاست کا علم بلند رکھا۔

معراج محمد خان کراچی میں طلباء سیاست کا علم اٹھائے پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں منصہ سیاست پر نمودار ہوئے۔ انھوں نے دیکھتے ہی دیکھتے این ایس ایف کو کراچی سمیت پاکستان کے کئی بڑے شہروں کے تعلیمی اداروں میں منظم کرنے اور اسے ترقی پاکستان طالب علموں کی مغربی پاکستان میں سب سے مقبول اور بڑی طلباء تنظیم میں بدل ڈالا۔ یہاں تک یہ تنظیم صرف طلباء سیاست تک محدود نہ رہی بلکہ اس نے مغربی پاکستان میں ایوب خان کی آمریت کے خلاف زبردست تحریک چلانے میں ہر اول دستہ کا کردار ادا کیا۔ اس تنظیم کے پنجاب اور سندھ کے تعلیمی اداروں میں مضبوط یونٹ موجود تھے۔ جب ذوالفقار علی بھٹو ایوب خان کی کابینہ سے استعفا دے کر باہر آئے اور انھوں نے ایوب خان کو للکارا تو یہ معراج محمد خان اور ان کے ساتھی تھے جنھوں نے بھٹو کو این ایس ایف کا پلیٹ فارم مہیا کیا اور ان کو سیاست میں آگے بڑھنے کا موقع فراہم کیا۔

بھٹو پنجاب، سندھ کے پڑھے لکھے تعلیمی اداروں کے نوجوانوں کی بہت بڑی تعداد کی حمایت کبھی حاصل نہ کر پاتے اگر معراج محمد خان، راجا انور، ڈاکٹر امیر حیدر کاظمی کی قیادت میں این ایس ایف کے دو بڑے دھڑے ان کا ساتھ نہ دیتے۔

بلوچستان میں اگر بی ایس او۔ اینٹی سردار گروپ نہ ہوتا تو بلوچستان میں اور لیاری میں بھٹو کی حمایت قائم نہیں ہو سکتی تھی۔ پنجاب میں اگر شیخ محمد رشید، رانا شوکت محمود، شیخ رفیق احمد، خورشید حسن میر، مختار رانا جیسے کردار نہ ہوتے تو یہاں کسانوں اور مزدوروں میں بھٹو صاحب کی رسائی نہیں ہونی تھی۔ صوبہ خیبرپختون خوا میں پشاور کی وادی سے قمر عباس سمیت 60ء اور 70ء کی دہائی کے طلباء سیاست میں معروف اور سرگرم بائیں بازو کے رہنماء نہ ہوتے تو یہاں پر پہلے سے موجود خدائی خدمتگار تحریک اور نیپ کی سیاست کا مقابلہ ممکن نہیں تھا۔ ڈیرہ اسماعیل خان سے چھوٹے کسانوں اور مزارعوں میں مقبول حق نواز گنڈا پور جیسے کردار نہ ہوتے تو وہاں پیپلزپارٹی اور بھٹو رسائی حاصل نہیں کرسکتے تھے۔ لاہور اور اسکے گرد نواح میں پروفیسرز گروپ بھٹو کی حمایت نہ کرتا تو بھٹو شمالی پنجاب کی دانشور پرتوں اور ان کے پنجاب کے کسانوں میں کام کے نتیجے میں کسانوں کے ترقی پسند گروپ بھٹو کے ساتھ رابطے میں نہ آتے۔ سرائیکی بیلٹ میں ایسے درجنوں نام تھے جو بائیں بازو کی سیاست سے وابستہ تھے اور انھوں نے بھٹو کو شہری غریبوں اور دیہی کسانوں اور مزارعوں سے متعارف کرایا۔

یہ سرسری سا جائزہ بتاتا ہے کہ بھٹو کی کرشماتی شخصیت، ان کی سحر انگیز خطابت اور عوام کو منہ موہ لینے کی صلاحیتوں کا استعمال کرنے اور انھیں عوامی اجتماعات میں لانے کا فریضہ پاکستان کے بائیں بازو کے کارکنوں اور گروپوں نے سرانجام دیا۔ ان ہی کارکنوں نے بھٹو کو نیشنل عوامی پارٹی میں جانے کی بجائے نئی پارٹی بنانے کا موقعہ فراہم کیا۔

معراج محمد خان اور ان کے ساتھی تھے جنھوں نے کراچی میں نہ صرف اردو اسپیکنگ کمیونٹی کے طلباء اور ترقی پسند کارکنوں سے ان کے رابطے کرائے بلکہ صنعتی ایریا میں مزدوروں میں بھی وہی بھٹو کو لیکر گئے۔ معراج محمد خان کے لیاری میں ترقی پسند نوجوانوں سے بڑے گہرے تعلق تھے۔ جب بھٹو کنونشن لیگ کے جنرل سیکرٹری تھے اور ایوب خان کی صدارتی مہم کا وہاں جلسہ رکھا گیا تھا تو یہ معراج محمد خان تھے جنھوں نے لیاری کے نوجوانوں کی مدد سے سیٹھ عبداللہ ہارون اور بھٹو کی موجودگی میں جلسہ الٹا دیا تھا۔ اس موقعہ پر بھٹو سے ان کی ہاتھا پائی بھی ہوئی تھی۔ پھر یہی معراج محمد خان تھے جن کی مدد سے وہ لیاری میں پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھ پائے تھے۔

پیپلزپارٹی میں بائیں بازو کے ممتاز رہنماؤں اور سرگرم سیاسی کارکنوں کو غلام مصطفٰی کھر، حنیف رامے، مولانا کوثر نیازی جیسے درمیانے طبقے کے موقعہ پرستوں جنھوں نے اسلامی سوشلزم کا لبادہ اوڑھ رکھا تھا بدنام کیا اور بھٹو کے اندر یہ خوف پیدا کیا کہ وہ ان کے خلاف سازش کر رہے ہیں۔ شمیم احمد نے معراج محمد خان کی زبانی بہت سے ایسے واقعات درج کیے ہیں جو یہ بتاتے ہیں کہ انھیں کس طرح سے بھٹو سے دور کیا گیا اور ان کے خلاف کیسے پولیس اور ایف ایس ایف کو استعمال کیا گیا۔

پاکستان کے بائیں بازو کے رہنماؤں خاص طور پر معراج محمد خان کا قصور یہ تھا کہ وہ پیپلزپارٹی میں جاگیرداروں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ، حکومت کو بیوروکریسی کے زریعے چلائے جانے، پی پی پی کی تنظیموں کو موقعہ پرستوں اور جاگیرداروں یہاں تک کہ بیوروکریسی کے حوالے کیے جانے پر برملا اختلاف کر رہے تھے۔ انھوں نے بھٹو کو 71ء میں بنگالیوں کے خلاف فوج کی چڑھائی کی حمایت کرنے اور 74ء میں بلوچستان میں فوجی آپریشن کرنے کی سخت مخالفت کی تھی۔ انھوں نے بھٹو کو کراچی میں مزدوروں کی احتجاجی تحریک کو ریاستی جبر سے کچلنے سے باز رکھنا چاہا تھا۔ وہ بھٹو کے دایاں بازو کے دباؤ میں آکر اسلامائزیشن کی سخت مخالفت کر رہے تھے۔ اس دور میں بھٹو نے پارٹی کے اندر بائیں بازو اور معراج محمد خان کی جانب سے اعلانیہ پریس میں ان اقدامات کے خلاف بیان دینے اور نیپ کے رہنماؤں سے اظہار یک جہتی کرنے پر مولانا کوثر نیازی کو وزیر اطلاعات و نشریات مقرر کیا جو پارٹی کے ترجمان اخبار مساوات، نیشنل پریس ٹرسٹ کے اخبارات اور اپنے رسالے شہاب میں معراج محمد خان سمیت بائیں بازو کے رہنماء اور کارکنوں کے خلاف جھوٹی خبریں اور مضامین کی اشاعت کرانے میں مصروف تھے۔ یہاں تک کہ دائیں بازو کے اخبارات تک کو استعمال کر رہے تھے۔

اسلم گورداس پوری نے اپنی سوانح عمری میں لکھا ہے کہ کیسے مولانا کوثر نیازی، حنیف رامے، غلام مصطفٰی کھر اور پارٹی میں شامل جاگیرداروں نے بھٹو اور پارٹی کے مخلص نظریاتی بائیں بازو کے کارکنوں کے درمیان ایک دیوار کھڑی کردی تھی۔ جلسوں میں انھیں اسٹیج پر آنے اور بھٹو کے سامنے تقریر کرنے تک کی اجازت نہیں دی جاتی تھی۔ معراج محمد خان کو کابینہ تک کے اجلاسوں میں شرکت تک سے روکا جانے لگا تھا۔ ایک وقت وہ آیا جب بھٹو نے بقول معراج محمد خان انھیں پیغام بھیجا کہ اگر انہوں نے پارٹی چھوڑی تو اگلے دن وہ جیل میں ہوں گے اور پھر ہوا بھی ایسے ہی جیسے ہی معراج محمد خان نے اپنا استعفا انھیں بھجوایا اگلے دن ہی وہ گرفتار کرلیے گئے۔

بائیں بازو کے رہنماوں کے بارے میں بڑی آسانی سے یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ انھوں نے پیپلزپارٹی چھوڑنے میں جلدی کی۔ حالانکہ بائیں بازو پیپلزپارٹی میں کام کرنے اور وہاں رہ کر اختلاف کرنے کی گنجائش ختم کردی گئی تھی۔ ان کے خلاف پولیس، ایف ایس ایف، انٹیلی جنس ایجنسیاں اور پارٹی میں موجود جاگیردار اور موقعہ پرست درمیانے طبقے کے رہنماء سرگرم تھے اور زمین ان پر تنگ کردی گئی تھی۔ ان کے سامنے پارٹی میں رہنے کا واحد آپشن یہ تھا کہ وہ اپنے نظریات کے مطابق پارٹی میں کام کرنا بند کردیں۔ ان پر یہ الزام لگایا جاتا تھا کہ وہ پارٹی پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ پارٹی کو توڑنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ پاکستان پیپلزپارٹی کی بنیاد ہی کسانوں، مزدوروں اور غریب عوام کے مفادات کے مطابق نظریہ سازی کرنا تھی اور اب اسی نظریہ سازی کو سازش اور پارٹی پر قبضے کے مترادف ٹھہرایا جا رہا تھا۔

معراج محمد خان بھٹو کو باور کرانا چاہتے تھے کہ وہ جن پیٹی بورژوازی کے نام نہاد اسلامی سوشلسٹ اور جاگیرداروں پارٹی میں بائیں بازو کے رہنماؤں کو استعمال کر رہے ہیں وہی اصل میں پارٹی کے سب سے بڑے دشمن اور انھیں عوام سے الگ رکھے ہوئے ہیں۔ معراج محمد خان نے بھٹو کو متنبہ کیا تھا کہ بیوروکریسی اور فوجی جرنیل انھیں اور ان کی حکومت کو عوام سے الگ کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔ مشکل وقت آیا تو یہ سب آپ کا ساتھ چھوڑ دیں گے۔

معراج محمد خان کو مکمل یقین تھا کہ بھٹو نے جن عوامی پالیسیوں سیاسی و معاشی اصلاحات کو نافذ کیا ہے اس ملک کے سرمایہ دار، جاگیردار، ملاں اور فوجی و سول نوکر شاہی اس جرم پر انھیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔

جب ملک میں مارشل لاء لگا تو معراج محمد خان نیپ کی قیادت کے ساتھ غداری کے مقدمے میں قید تھے اور ٹرائل کا سامنا کر رہے تھے۔ وہ فوجی قیادت جو بھٹو کو اس مقدمے کو ختم کرنے اور نیپ کی قیادت کو رہا کرنے سے روکتی رہی تھی اور جنرل ضیاء انھیں کہا کرتا تھا کہ اگر انھوں نے نیپ کی قیادت کو رہا کیا تو فوج میں بغاوت ہو جائے گی انھوں نے مارشل لاء لگانے کے ساتھ ہی نیپ کی قیادت کو رہا کردیا۔ حیدر آباد ٹربیونل توڑ دیا۔ سازش کیس ختم کردیا۔ معراج محمد خان کو رہا کرکے جنرل ضیاء کے سامنے پیش کیا گیا۔ جنرل ضیاء نے انھیں کہا کہ وہ کراچی میں اردو اسپیکنگ مہاجروں کی سیاسی جماعت بنائیں فوجی جنتا ان کی مدد کرے گی۔ معراج محمد خان نے ایسا کرنے سے انکار کیا۔ ضیاء نے انھیں یاد دلایا کہ بھٹو کہ نے ان کے ساتھ کتنا برا سلوک کیا۔ معراج محمد خان نے کہا کہ یہ ان کا بھٹو کا معاملہ ہے وہ اس درمیان میں نہ آئیں۔ معراج محمد خان وہاں سے واپس آئے۔ بیگم نصرت بھٹو سے ملے۔ انھیں کہا کہ فوجی جرنیل، جاگیردار، سرمایہ دار اور ملاں بھٹو کے خون کے پیاسے ہیں۔ بھٹو کو قتل ہونے سے بچانا ہے تو ملک گیر عوامی احتجاجی تحریک چلائیں اور کارکنوں اور عوام کو اسلام آباد کی طرف مارچ کی کال دیں۔ یہی بات انھوں نے سپریم کورٹ سے پھانسی کے حکم کو برقرار رکھنے کے فیصلے کے آنے کے بعد کہی۔ لیکن بیگم نصرت بھٹو کو عرب کے بادشاہوں اور عالمی لیڈروں پر یقین تھا کہ وہ بھٹو کو پھانسی سے بچا لیں گے۔ لیکن وہی ہوا جس کی پیشن گوئی معراج محمد خان نے کی تھی۔

مارشل لاء لگنے کے بعد پیپلز پارٹی کے نام نہاد اسلامی سوشلسٹ پیٹی بورژوازی کے موقعہ پرست لیڈر مصطفٰی کھر، کوثر نیازی، حنیف رامے، پارٹی میں غلام مصطفٰی جتوئی جیسے جاگیردار پیپلزپارٹی پر قبضہ کرنے کی سازشیں کرنے لگیں۔ بھٹو کی پھانسی کے بعد یہ عوامی پیپلزپارٹی، مساوات پارٹی بناکر سامنے آئے۔ پنجاب اور سندھ سے اکثر جاگیردار جنرل ضیاء الحق کے ساتھ کھڑے ہوگئے۔ جبکہ بائیں بازو کے جن ممتاز رہنماؤں زبردستی پیپلزپارٹی سے نکلنے پر مجبور کیا گیا تھا بشمول معراج محمد خان وہ جنرل ضیاء کے مارشل لاء کے خلاف ایم آر ڈی کا حصہ بنے۔ جیلیں کاٹیں، شاہی قلعے میں اذیتیں برداشت کیں۔ نذیر عباسی جیسے کارکن خفیہ اذیت خانوں میں مارے گئے۔ نیپ سے میر غوث بخش بزنجو ایم آر ڈی کی صف اول کی قیادت میں شامل ہوئے۔ جیل کاٹی اور صعوبتیں برداشت کیں۔

آج جب پیپلزپارٹی کے دانشور معراج محمد خان، ڈاکٹر مبشر حسن، خورشید حسن میر جیسے بائیں بازو کے ممتاز باکردار سیاسی رہنماؤں پر طنز کے نشتر چلاتے ہیں اور بڑی آسانی سے یہ کہہ دیتے ہیں کہ انھوں نے پارٹی چھوڑ کر جلد بازی کی تو وہ دراصل ملک بھر کے محنت کش طبقات کی جدوجہد سے نفرت کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں۔

میں ان سے پوچھتا ہوں کہ بائیں بازو کے وہ رہنماء جو آخری وقت تک تا دم اخیر پیپلزپارٹی میں رہے ان کے ساتھ کیا سلوک ہوا؟ رانا شوکت محمود ہوں، شیخ رفیق احمد ہوں، شیخ محمد رشید ہوں ان کے بارے میں محترمہ شہید بے نظیر بھٹو نے اپنی کتاب "مشرق کی بیٹی" میں فخریہ طور پر لکھا کہ انھوں نے کامیابی سے پارٹی میں بائیں بازو کے ان سخت گیر سنئیر رہنماوں کو سائیڈ لائن پر کر دیا۔ شیخ محمد رشید نے اپنی کتاب جہد مسلسل میں لکھا ہے کہ انہیں پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاسوں میں بلایا نہیں جاتا۔ ان سے ٹکٹوں کی تقسیم بارے مشاورت نہیں کی جاتی۔ انھوں نے 1988ء اور 1993ء میں پارٹی قیادت پر امریکہ نواز ہونے، سرمایہ دارانہ اصلاحات متعارف کرانے اور فوجی اسٹیبلشمنٹ سے مصالحت کرنے کے الزامات عائد کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی پی پی کی قیادت پارٹی کی بنیادی تاسیسی منشور سے منحرف ہوگئی ہے۔ یہ عوام کو طاقت کا سرچشمہ نہیں سمجھتی۔ یہ سوشلسٹ سیاست سے الگ ہوگئی ہے۔ یہ سوشلزم کا نام تک نہیں لیتی۔ پارٹی پر سرمایہ داروں، جاگیرداروں اور درمیانے طبقے کے موقعہ پرستوں کا قبضہ ہوگیا۔ منشیات، اسلحے اور اسمگلنگ کی ناجائز کمائی اور بدعنوانی سے دولت کمانے والے اس پارٹی کے ٹکٹ ہولڈر بننے لگے ہیں۔ اس سے بڑھ کر کوئی اور چارہ شیٹ کیا ہوسکتی تھی جو بابائے سوشلزم کہلانے والے اور تادم اخیر پارٹی میں رہنے والے پارٹی کے سینئر نائب صدر شیخ محمد رشید نے اپنی پارٹی کی قیادت کے خلاف لکھ ڈالی۔ پیپلزپارٹی ان کا نام لیتے ہوئے بھی شرماتی ہے۔

عمار علی جان نے پچھلے دنوں جب ایک پوڈ کاسٹ میں یہ کہا کہ پی پی پی آج پاکستان کے بدترین طبقات کی نمائندہ سیاسی جماعت بنی ہوئی ہے تو کئی ایک جیالوں نے آسمان سر پر اٹھا لیا۔ حالانکہ انھوں نے شیخ محمد رشید کی کتاب پڑھی ہوتی تو وہ خاموش رہنا ہی پسند کرتے۔

Check Also

Ghair Mutawazan Nizam, Thaka Hua Muashra

By Saadia Bashir