Monday, 19 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Aamir Hussaini
  4. Peoples Party Aur Dakhli Jamhuriat

Peoples Party Aur Dakhli Jamhuriat

پیپلزپارٹی اور داخلی جمہوریت

گزشتہ روز میں نے "پی پی پی کی قیادت اور اخلاقیات" کے حوالے سے ایک تحریر فیس بک، وٹس ایپ سماجی رابطے کی ایپس پر آپ لوڈ کی۔ ملک بھر میں پی پی پی کے کارکنوں، ہمدردوں اور عام سوشل میڈیا قاری نے اس پر اپنی رائے دی۔ یہ پوسٹ لٹمس ٹیسٹ ثابت ہوئی۔ اس نے یہ ثابت کیا کہ پی پی پی میں فعال کارکن ہوں، ناراض ہوکر گھر بیٹھ جانے والے ہوں، اس سے ہمدردی رکھنے والے ہوں یا سفید پوش محنت کش طبقے سے تعلق رکھنے والے عام لوگ ہوں ان کی اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ پی پی پی کی قیادت کی پالیسیاں اور سیاست ان کی خواہشات، مفادات اور آرزوؤں کی ترجمانی نہیں کر رہیں۔

اس پارٹی پر سرمایہ دار، جاگیردار اور درمیانے طبقے کے بد عنوان لوگوں کا قبضہ ہے۔ پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو، شریک چئیرمین آصف علی زرداری اور دیگر صف اول کے نمایاں رہنماؤں کو گراس روٹ لیول پر پی پی پی کے کارکنوں کی نہ تو پہچان ہے اور نہ ان سے ان کا کوئی رابطے کا باقاعدہ تنظیمی نیٹ ورک ہے۔ پارٹی کی تنظیموں کی تشکیل نامزدگی کے زریعے سے عرصہ دراز سے چلی آ رہی ہے جس کی وجہ سے پارٹی کی تنظیموں پر پارٹی کے اندر موجود طبقہ اشرافیہ اور ایسے ورکرز کے چند ٹولوں کا قبضہ ہے جن کا کردار بہت عرصہ پہلے حقیقی ورکرز کلاس سے مطابقت رکھتا تھا لیکن اب وہ پارٹی کے اندر ایک مافیا کی شکل اختیار کر چکے ہیں اور ان کا کردار بدترین موقعہ پرست ورکرز بیوروکریسی کا بن چکا ہے۔

پی پی پی کے کارکن پارٹی کے چیئرمین، شریک چئیرمین اور دیگر رہنماؤں سے یہ سوال کرتے ہیں کہ جدید ترین ورچوئل رابطے کے اس دور میں وہ پارٹی کے اندر ورکرز کی باقاعدہ رکنیت سازی اور اس رکنیت سازی کی بنیاد پر پارٹی کے اندر منتخب تنظیمی ڈھانچہ تشکیل دینے سے گریز کیوں کر رہے ہیں۔ پارٹی کی تنظیموں کو نامزدگی کے انتہائی غیر منصفانہ اور ظالمانہ طریقے سے ایڈہاک ازم پر چلائے جانے کا کیا جواز بنتا ہے؟ پارٹی کی ضلعی ایگزیکٹو کونسل، ڈویژنل کونسل، صوبائی کونسلز، فیڈرل کونسل، سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کو نامزدگیوں کی بنیاد پر تشکیل دیے جانے اور سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کو چھوڑ کر باقی تمام کونسلز غیر فعال کیوں ہیں؟ پارٹی سالانہ یا دو سالہ بنیادوں پر ڈیلی گیٹ کانفرنس کرنے کا اصول گزشتہ پچاس سالوں سے معطل کیوں ہے؟

اگر پارٹی جمہوریت پر یقین رکھتی ہے تو یہ پارٹی میں حقیقی بنیادوں پر انتخابات کرانے اور اس کے بنیادی کارکنوں کو ووٹ کا حق دینے سے انکاری کیوں ہے؟

مذکورہ بالا یہ تمام سوالات تنظیم کے سوالات ہیں اور یہ جب تک حل نہیں ہوتے اس وقت تک دوسرا سوال پارٹی کی سیاست اور پالیسی والے سوال کا حل نہیں نکل سکے گا۔ اگر پیپلزپارٹی کی تنظیمیں اور اس کی صوبائی کونسلز، فیڈرل کونسلز اور سنٹرل ایگزیکٹو کونسل منتخب ادارے ہوں گے تو یہ سوال خود بخود حل ہو جائے گا کہ پارٹی کی سیاست، پالیسیاں اور فیصلے پارٹی کی اکثریت کی رائے کے عکاس اور ترجمان ہیں کہ نہیں ہیں۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے وہ تمام کارکن جو پارٹی کو عوامی سیاست کی طرف واپس لانے کے خواہش مند ہیں انھیں سب سے پہلے اپنے آپ کو پارٹی کی تنظیم کے سوال کو جمہوری انداز سے حل کرنے کا مطالبہ کرنا ہوگا۔ انھیں پارٹی کے اندر اوپر سے لیکر نیچے تک انتخابات کرائے جانے اور پارٹی کے جملہ اداروں کو منتخب ادارے بنائے جانے کے مطالبے کے گرد متحد اور منظم ہونا ہوگا۔ تب ہی پارٹی پر اشرافیہ کے قبضے کا خاتمہ ہو سکے گا۔

جیسے ملک میں حقیقی عوامی جمہوریت کی بحالی کا واحد راستا ہر شہری کے ووٹ کا احترام ہے۔ آزاد و شفاف غیر جانبدار انتخابات ہیں ویسے ہی پارٹی میں حقیقی جمہوریت کے قیام کا واحد راستا پارٹی کے کارکن کو پارٹی کی نیچے سے لیکر اوپر تک تنظیموں اور اداروں کی تشکیل کے لیے ووٹ کے حق کو بحال کرنا ہے۔ اس کے علاوہ کوئی اور دوسرا راستا پارٹی میں جمہوریت لانے کا نہیں ہے۔

پیپلزپارٹی کے کارکن فیصلہ کرلیں کہ انھوں نے پارٹی میں اپنے ووٹ کا حق کیسے بحال کرانا ہے؟

پارٹی میں کارکن کا ووٹ وہ ہتھیار ہے جو اس بات کا فیصلہ کرے گا کہ امیدوار کونسلر سے لیکر قومی و صوبائی صوبائی اسمبلی کے امیدوار کون ہوں گے؟ ان کو ملنے والے فنڈز، نوکریاں کس بنیاد پر تقسیم ہوں گی۔ سب سے بڑھ کر لوکل گورنمنٹ، صوبائی حکومتوں اور وفاقی حکومت کی سیاسی، معاشی اور سماجی پالیسیوں کی تشکیل کیسے ہوگی؟ پارٹی کی پارلیمانی جماعت بطور حکمران پارٹی یا بطور حزب اختلاف کن اصولوں کے تحت اپنا کردار ادا کرے گی؟

پارٹی میں تنظیموں کی جمہوری بنیادوں پر تشکیل کے مطالبے کی منظوری کے لیے پی پی پی کے ہر ضلع کے کارکنوں کو خود کو منظم کرنا ہوگا اور اس مطالبے کے گرد ملک گیر تحریک چلانا پڑے گی۔ اگر تو وہ اس کے لیے تیار ہیں تو پھر انھیں منزل پانے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔ اگر وہ بغیر خود کو منظم کیے یونہی بس گلے شکوے کرتے رہے اور مرکزی قیادت سے ذاتی تعلق اور رسائی کی خواہش کرتے رہے تو وہ کبھی بھی پارٹی میں عزت اور احترام نہیں پا سکیں گے۔ ان کی پارٹی میں ووٹ کی بحالی انھیں عزت اور طاقت دلا سکتی ہے اور کوئی راستا نہیں ہے۔

یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سندھ میں پی پی پی پر قابض اور ان قابضین کے جو اقربا ہیں وہ ان نوکریوں تک بھی رسائی رکھتے ہیں جن کے بارے میں پارٹی پر قابض اشرافیہ عام سیاسی کارکنوں کو یہ کہہ کر مایوس کرتی ہے کہ پرکشش نوکریاں اب صرف اور صرف سندھ پبلک سروس کمیشن، این ٹی ایس، آئی بی اے کے طریقہ امتحان کے پاس کرنے سے ملتی ہیں اس کے سوا کوئی دوسرا راستا نہیں ہے۔ جب کہ سب کو پتا ہے کہ یہ نوکریاں کیسے اور کن کو دی جا رہی ہیں۔

پارٹی میں نامزدگیاں اور غیر جمہوری طریقہ تنظیم وہ بنیادی خرابی ہے جو اقربا پروری، بدعنوانی اور قبضہ گیری کے کلچر کو باقی رکھے ہوئے ہے۔ جو شخص بھی پارٹی میں نامزدگیوں کے طریقہ کار اور پارٹی تنظیموں اور اداروں کو غیر منتخب بنائے رکھنے پر اصرار کرتا ہے وہ پارٹی کے اندر طبقہ اشرافیہ اور قبضہ مافیا کا ایجنٹ اور دلال ہے۔ اب فیصلہ کارکنوں نے کرنا ہے کہ وہ طبقہ اشرافیہ اور قبضہ گروپ کے دلال اور ایجنٹوں کے ساتھ ہیں یا اپنے ساتھ ہیں؟

Check Also

Akhir Kyun?

By Javed Ayaz Khan