Thursday, 29 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Aamir Hussaini
  4. Nasreen Anjum Bhatti, Us Ki Jaisi Koi Aur Nahi

Nasreen Anjum Bhatti, Us Ki Jaisi Koi Aur Nahi

نسرین انجم بھٹی، اس کی جیسی کوئی اور نہیں

آج پنجابی اور اردو کی اُس شاعرہ کی برسی ہے جس کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ "اوس دی ورگی نہ ہور کوئی"، نسرین انجم بھٹی۔ وہ 26 جنوری 2016ء کو جسمانی طور پر رخصت ہوئیں، مگر اصل سانحہ یہ نہیں کہ وہ مر گئیں، اصل المیہ یہ ہے کہ وہ پنجاب کی اجتماعی آواز نہ بن سکیں۔ یا یوں کہنا زیادہ درست ہوگا کہ بننے ہی نہ دی گئیں۔ پنجابی دانش نے گویا اجتماعی طور پر یہ حلف اٹھا رکھا ہے کہ جو آوازیں ضمیر کو جگاتی ہیں، جو سوال اٹھاتی ہیں، جو انکار اور مزاحمت کی زبان بولتی ہیں، انہیں ضمیر کے قبرستان سے نکال کر کبھی اپنے نام نہاد مرکزی دھارے کے سیاسی، سماجی اور ادبی بیانیے میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔

یہ وہی دانش ہے جس نے شاہ حسین، بلھے شاہ اور وارث شاہ جیسے کلاسیکی ملامتی شاعروں کو زندہ روایت بنانے کے بجائے مکتبی تنقید کی بھاری بھرکم کتابوں میں دفن کر دیا۔ انہیں گاؤں، قصبوں، شہروں کی روزمرہ زندگی سے بے دخل کیا گیا، تاکہ وہ سوال جو یہ شاعر صدیوں سے پوچھتے آئے ہیں، آج کے سماج کے اعصاب میں سرایت نہ کر سکے۔ یہی روایت بھگت سنگھ کے ساتھ برتی گئی اس نوجوان کی قربانی کو ایک محفوظ تاریخی واقعہ بنا دیا گیا، ایک ایسا واقعہ جس سے کوئی خطرہ نہ ہو۔ حکومت نے حسینی والہ جیسے گاؤں کو مشرقی پنجاب میں دھکیل دیا تاکہ کوئی اس کی سمادھی پر جا کر انقلاب کی آگ اپنے سینے میں نہ بھر لے۔ لاہور میں اس کالج کے احاطے میں، جہاں وہ پڑھا، کوئی یادگار تعمیر نہ کی گئی، جس جیل میں اسے پھانسی دی گئی، اسے گرا کر سڑک گزار دی گئی اور اس سڑک کے چوک کو اس کے نام سے منسوب کرنے سے انکار کو عدالتی فیصلے کی سند عطا کر دی گئی۔ چند دیوانوں اور فرزانوں کے سوا، کسی نے اس انکار پر نہ شور مچایا، نہ واویلا کیا۔

لاہور نے حبیب جالب کی شاعری ضیاء الحق کے روحانی وارثوں کے سپرد کر دی، فیض کی "ہم دیکھیں گے" جماعتِ اسلامی کے حوالے کر دی اور نسرین انجم بھٹی کی آواز کو بھی اسی طرح خاموشی سے غائب کر دیا۔ ایوب خان اور جنرل ضیاء کے خلاف آواز اٹھانے والے، کوڑے کھانے والے، پھانسی کے تختے پر جھول جانے والے مشکل سے دس شہیدوں کی بھی کوئی یادگار تعمیر نہ کی گئی۔ بھٹو کی خاطر خود سوزی کرنے والوں کے لیے کوئی مینار نہ بنایا گیا۔ ہاں، یہ ضرور ہوا کہ شاہی قلعے کے سامنے رنجیت سنگھ کا مجسمہ نصب کر دیا گیا، تاکہ طاقت کی تاریخ تو نظر آئے، مزاحمت کی نہیں۔

لکشمی مینشن میں سعادت حسن منٹو کے فلیٹ کو جماعتِ اسلامی کی تاجر تنظیم کے ہاتھ بیچ دیا گیا، استاد دامن کی بیٹھک کو خستہ حال ملبے کے ڈھیر میں بدلنے دیا گیا۔ پنجاب میں غدر پارٹی سے لے کر آزاد ہند فوج تک کے پنجابی سپاہیوں کی کوئی یادگار محفوظ نہ رکھی گئی۔ آزادی، انکار، مزاحمت، انقلاب، بغاوت اور کرانتی یہ سب استعارے اور نشانیاں پاکستانی پنجاب سے بے دخل کرکے ہندوستانی پنجاب کے کھاتے میں ڈال دی گئیں۔ تنویر سپرا، ریاض، سائیں اختر جیسے شاعر نسیا منسیا کر دیے گئے اور نسرین انجم بھٹی، جو ہندوستانی پنجاب کے پاش کا نسوانی، زیادہ تلخ اور زیادہ بے رحم روپ تھیں انہیں بھی اسی خاموشی کے حوالے کر دیا گیا۔

ان کی وفات کو ابھی دس برس بھی نہیں گزرے کہ پنجاب کی جامعات، کالجوں اور اسکولوں میں ان کی نظمیں نوجوان نسل کی زبان پر نہیں۔ پنجاب سے شائع ہونے والے اخبارات میں ان کا ذکر ناپید ہے، ٹی وی چینلوں پر ان کی برسی کوئی خبر نہیں بنتی۔ سوشل میڈیا پر بلوچستان میں بیٹھے ڈاکٹر شاہ محمد مری ان کا تذکرہ کر رہے ہیں، مگر پنجاب میں جہاں وہ بولیں، لکھیں، لڑیں ان کا نام زبان زدِ عام نہیں۔ کیوں؟ اس لیے کہ نسرین انجم بھٹی یاد کرنے کے لیے نہیں، سوچ بدلنے کے لیے خطرہ تھیں۔

پنجابی نوجوان عورتوں میں نسرین انجم بھٹی کا تذکرہ اس حد تک بھی نہیں جتنا ہندوستانی پنجاب میں جا بسنے والی امرتا پریتم کا ہوتا ہے اور وہ بھی زیادہ تر اس کی ساحر لدھیانوی سے محبت اور امروز کے ساتھ رفاقت کے قصوں تک محدود۔ پنجابی تو افضل توصیف کو بھی بھول چکے ہیں، اس کی برسی پر کسی نے یاد کرنے کی زحمت تک نہیں کی۔ میں نے اپنی بیوی سے پوچھا کہ کیا وہ پروین شاکر کو جانتی ہے؟ جواب آیا: ہاں۔ پھر پوچھا: نسرین انجم بھٹی؟ خاموشی۔ یہی سوال میں نے بہاءالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کی چند نوجوان لڑکیوں سے کیا، انہوں نے کندھے اچکا دیے۔ ایک عزیز کی وفات پر جمع خاندان کی نوجوان لڑکیوں سے پوچھا، وہ میرے چہرے کو تکنے لگ گئیں۔

یہ خاموشی اتفاق نہیں، یہ ایک منصوبہ ہے۔ یہ وہ سماج ہے جو شاعرہ کو تب تک برداشت کرتا ہے جب تک وہ زخموں پر گلاب رکھتی رہے، جیسے ہی وہ سانپ کو گردن پر بٹھا کر دکھا دے، اسے فراموشی کے اندھیرے میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ نسرین انجم بھٹی کی برسی پر اصل سوال یہ نہیں کہ ہم نے انہیں کیوں نہیں یاد کیا، بلکہ یہ ہے کہ ہم نے انہیں یاد نہ کرنے کا فیصلہ کب اور کیوں کیا؟ اور شاید اس کا جواب یہی ہے کہ پنجاب آج بھی ایسی آوازوں سے ڈرتا ہے جو اسے اس کا اصل چہرہ دکھا دیں۔

پنجابی نوجوان عورتوں میں نسرین انجم بھٹی کا تذکرہ اس حد تک بھی نہیں ہے جتنا ہندوستانی پنجاب جا بسنے والی امرتا پریتم کا ہوتا ہے اور وہ بھی بطور شاعرہ نہیں، بلکہ ایک رومانوی قصے کے طور پر۔ ساحر لدھیانوی سے محبت، امروز کے ساتھ رہنا۔

یہی امرتا پریتم کا تعارف ہے۔ شاعری، فکر، انکار، عورت کی خود مختار آواز؟ یہ سب ثانوی ہو چکا ہے۔ پنجابی سماج نے عورت شاعرہ کو بھی قصے کہانی میں بدل دیا ہے، تاکہ اس کی آواز سے کوئی سیاسی یا سماجی خطرہ لاحق نہ ہو اور پنجابی تو توصیف؟ اسے تو گویا اجتماعی حافظے سے محو ہی کر دیا گیا ہے۔ اس کی برسی پر کسی نے یاد کرنے کی زحمت تک نہیں کی نہ ادب کے رکھوالوں نے، نہ جامعات کے شعبہ ہائے اردو و پنجابی نے، نہ خود کو ترقی پسند کہلوانے والوں نے۔

میں اپنے آپ سے سوال کرتا ہوں کہ میری والدہ جو پڑھی لکھی ہیں انھیں پروین شاکر یاد ہے۔ میری بیوی کو بھی یاد ہے پھر نسرین انجم بھٹی کیوں یاد نہیں ہے؟ میرے اندر ایک لمحے کی خاموشی، پھر دوسری طرف انکار۔

یہی آج نوجوان لڑکیوں کے لیے بھی میرا یہ سوال ایسا ہی ہے جیسے میں کسی معدوم سیارے کا نام لے رہا ہوں وہ مجھے اس طرح دیکھنے لگتی ہیں جیسے میں کسی اجنبی زبان میں بات کر رہا ہوں۔ یہ محض لاعلمی نہیں تھی، یہ ایک منظم ناآشنائی تھی۔

میں نے ان کے سامنے نسرین انجم بھٹی کی نظم "کہیڑا ایں / تم کون ہو" کی چند سطریں پڑھیں۔

وہ سطریں جن میں عورت اپنے جسم، اپنی گردن، اپنے سچ اور اپنے سانپ کا نام لیتی ہے۔

اور پوچھا: ان لائنوں کا مطلب جانتی ہو؟ اب کی بار انہیں میری ذہنی صحت پر شبہ ہونے لگا۔ جیسے میں نے کوئی فحش بات کہہ دی ہو، یا کسی غیر ضروری زخم کو کرید دیا ہو۔ یہی وہ مقام تھا جہاں مجھے واضح ہوا کہ مسئلہ نسرین انجم بھٹی کی شاعری کا مشکل ہونا نہیں، بلکہ سماج کا سہل پسندی کا عادی ہو جانا ہے۔

ویسے بھی، یہ وہی نوجوان عورتیں ہیں جنہیں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی بات سمجھ نہیں آتی، بلوچ عورت کی مزاحمت دکھائی نہیں دیتی، بلوچ سوال محض "دور کا مسئلہ" لگتا ہے۔ انہیں سرائیکی قوم کا مسئلہ بھی سمجھ میں نہیں آتا، کیونکہ انہیں کبھی یہ سکھایا ہی نہیں گیا کہ مرکز سے باہر بھی کوئی زندگی، کوئی تاریخ، کوئی سچ موجود ہوتا ہے۔ انہیں اجالے دکھائے گئے ہیں، وہ اجالے جن کے نیچے سب کچھ یکساں، بے رنگ اور بے سوال نظر آتا ہے۔

آج میں نے ایک یونیورسٹی کی لیکچرار کو وٹس ایپ پر نسرین انجم بھٹی کی یہی نظم بھیجی اور پوچھا: یہاں شاعرہ کس "اجالے" کو مسترد کر رہی ہے؟ جواب آیا: ہمیں تو کسی نے یہ نظم نہ سنائی، نہ اس کی تشریح کی۔ یہ جملہ ایک فرد کا نہیں، پورے تعلیمی اور فکری نظام کا اعترافِ جرم ہے۔ یہ وہ نظام ہے جو عورت کو نظم پڑھانا تو جانتا ہے، مگر انکار پڑھانے سے ڈرتا ہے، جو شاعری کو حسن تک محدود رکھتا ہے، مگر اسے سوال بننے نہیں دیتا۔

نسرین انجم بھٹی کو اس لیے نہیں بھلایا گیا کہ وہ کمزور شاعرہ تھیں، بلکہ اس لیے کہ وہ بہت واضح تھیں۔ وہ جانتی تھیں کہ اصل خطرہ اندھیرا نہیں، جھوٹا اجالا ہے اور یہی وہ اجالا ہے جس کے سائے میں آج کی پنجابی نوجوان عورت کھڑی ہے۔

روشن، تعلیم یافتہ، باخبر نظر آنے والی
مگر اپنے ہی خطے کی سب سے کڑوی، سب سے سچی آواز سے ناآشنا۔ یہی ناآشنائی

دراصل ہماری سب سے بڑی شکست ہے۔
خواب پرست! اجالا نہ کر

میرا خون سفید اور رنگ فق ہے
مجھے ناخن سے کرید، آ چل کے کہیں بیٹھیں

بادشاہ کے حضور کھڑے کھڑے میں شل ہوگئی
موم بتی کی طرح

مجھے الگنی پر ٹانگ دے کہ میری دوہرگی کا بوجھ
بان بٹنے والے پہ ہو تجھ پر نہ ہو

خواب پرست! مجھے جگا تو لے پھر سو جانا
کیونکہ نہیں جانا جس نے جو جانا

بھیڑ بہت ہے اور بیگانگی اس سے بھی بہت
لیکن میں تجھے بہتوں میں سے بھی ڈھونڈ لوں گی

با محبت با ایمان خوشبو دریچہ دریچہ پھری
اور کہتی تھی صدیوں کا کہا

بوند بوند مٹی کشید کرنے کا فن
کہو کہہ چکو

خوں بہا اناروں کے کھیت
پوشیدہ خزانوں کے خواب

انگوٹھی پہ مہر تیری آنکھیں
اور تو حاکم شہر

مہرباں! مہرباں! مہرباں
عذاب زیست سے حکم، رہائی کا دے

ایک موقعہ مجھے جگ ہنسائی کا دے

میں نے کہا کہ نسرین انجم بھٹی کی یہ نظم خواب، اقتدار، محبت، شناخت اور بیداری کے باہمی تصادم پر لکھی گئی ایک نہایت پیچیدہ اور کثیرالمعنی نظم ہے۔ یہ نظم بظاہر ایک مخاطب سے مکالمہ ہے

"خواب پرست"

مگر دراصل یہ مکالمہ رومانوی تسلی، سیاسی فریب اور وجودی سچ کے درمیان برپا ہے۔

شاعرہ ابتدا ہی میں روشنی کو رد کر دیتی ہیں: "اجالا نہ کر"۔

یہاں اجالا نجات یا بیداری کی علامت نہیں، بلکہ وہ جھوٹی روشنی ہے جو خون کو "سفید" اور رنگ کو "فق" کر دیتی ہے، یعنی تشدد اور جبر کو بے رنگ، بے نشان اور قابلِ قبول بنا دیتی ہے۔ یہ وہ اجالا ہے جو سچ کو دھو دیتا ہے، جرم کو معمول بنا دیتا ہے۔

یہ وہی اجالا ہے جسے پنجابی شعور حقیقی اجالا سمجھ بیٹھا ہے اور تم جیسی نوجوان عورتوں کے لیے یہ نظم اسی لیے ایک پہیلی بن کر رہ گئی ہے۔

"بادشاہ کے حضور کھڑے کھڑے میں شل ہوگئی"

محض جسمانی تھکن نہیں، بلکہ اقتدار کے سامنے کھڑے رہنے کی داخلی شکست ہے۔ یہاں بادشاہ فرد نہیں، نظام ہے، ایسا نظام جو مخاطب کو بولنے سے پہلے ہی مفلوج کر دیتا ہے۔ اسی لیے شاعرہ التجا کرتی ہیں کہ "مجھے ناخن سے کرید"۔

یعنی مجھے تکلیف دے کر زندہ ثابت کرو، کیونکہ اقتدار کی خاموشی انسان کو موم بتی کی طرح پگھلا دیتی ہے۔ موم بتی کا استعارہ یہاں قربانی کا نہیں بلکہ دوہرے بوجھ کا ہے: جلنا بھی، روشنی بھی دینا اور آخرکار الگنی پر ٹانگ دیا جانا۔

نظم میں خواب پرستی ایک منفی کیفیت کے طور پر ابھرتی ہے۔ "خواب پرست! مجھے جگا تو لے پھر سو جانا"۔

یہ مصرعہ دراصل اس سماج پر طنز ہے جو مظلوم کو لمحہ بھر کے لیے جگا کر خود پھر نیند میں چلا جاتا ہے۔ بیداری یہاں مستقل نہیں، نمائشی ہے۔

شاعرہ جانتی ہیں کہ "نہیں جانا جس نے جو جانا" یعنی جو نظام، جو طاقت، جو بھیڑ پہلے ہی اپنے مفاد کا علم رکھتی ہے، وہ سچ جاننے کی خواہش ہی نہیں رکھتی۔ بھیڑ کی کثرت اور اس سے بھی بڑھ کر بیگانگی، جدید شہری وجود کی وہ تنہائی ہے جہاں ہجوم کے بیچ انسان مزید اکیلا ہو جاتا ہے۔

اس کے باوجود نظم مایوسی پر ختم نہیں ہوتی۔

"لیکن میں تجھے بہتوں میں سے بھی ڈھونڈ لوں گی"۔

یہ مصرعہ محبت کو مزاحمت کے طور پر پیش کرتا ہے۔ محبت یہاں محض ذاتی رشتہ نہیں، بلکہ وہ اخلاقی قوت ہے جو "دریچہ دریچہ" پھر کر خوشبو کی طرح سچ کو پھیلاتی ہے۔ "بوند بوند مٹی کشید کرنے کا فن" تہذیبی یادداشت اور جدوجہد کا استعارہ ہے یعنی تاریخ، خون اور زمین سے معنی اخذ کرنے کی صلاحیت۔

نظم کے آخری حصے میں علامتیں مزید گہری ہو جاتی ہیں: "خوں بہا اناروں کے کھیت"، "پوشیدہ خزانوں کے خواب"، "انگوٹھی پہ مہر تیری آنکھیں "، یہ سب طاقت، ملکیت اور نظر کے رشتے کو ظاہر کرتے ہیں۔ حاکمِ شہر کو "مہرباں " کہہ کر پکارنا دراصل طاقت کی منافقانہ نرمی پر ایک تلخ طنز ہے۔ یہی وہ مہربانی ہے جو عذابِ زیست کو برقرار رکھتے ہوئے صرف حکمِ رہائی کا وہم دیتی ہے۔

آخری دو مصرعے نظم کو ایک مکمل سیاسی و وجودی احتجاج میں بدل دیتے ہیں۔ "عذابِ زیست سے حکم، رہائی کا دے"۔ یہ فریاد زندگی کے معمول بن چکے عذاب سے نجات کی ہے۔ مگر اس کے ساتھ ہی "ایک موقعہ مجھے جگ ہنسائی کا دے"۔

یہ جملہ نسرین انجم بھٹی کے تخلیقی وقار کا اعلان ہے۔ وہ محض نجات نہیں مانگتیں، بلکہ اختیار مانگتی ہیں کہ ہنس سکیں، بول سکیں اور سچ کہہ سکیں "چاہے اس کی قیمت جگ ہنسائی ہی کیوں نہ ہو"۔

یہ نظم دراصل خواب پرستی کے خلاف ایک بیداری نامہ ہے، جہاں شاعرہ روشنی، محبت اور انصاف کو نئے معنی دیتی ہیں

ایسے معنی جو اقتدار کے اجالے سے نہیں، بلکہ مزاحمت کی آگ سے پیدا ہوتے ہیں۔
میں نے اس سے کہا کہ نسرین انجم بھٹی یہ نظم بھی پڑھو

صحیفے اترنے سے پہلے اور نبیوں کے نزول کے بعد
ہاتھ سے گرے ہوئے نوالوں کی طرح ہمیں کتوں کے آگے ڈال دیا جاتا رہا

اس درمیان، آنکھوں کے نیچے ہم نے اپنے ہاتھ رکھے
کہ وہ پاؤں پر نہ گر پڑیں اور کانچ کا اعتبار جاتا رہے

مجھے آگ سے لکھ اور پانی سے اگا
مٹی کے ساتھ انصاف میں خود کروں گی

وہ تو قدم قدم کانٹوں کی باڑ تک خود چل کر گئے
آگ پہناوا کرتے تھے جو لوگ

اور جو اکیلا تھا اس نے سرگوشی ایجاد کی
اور جس نے قبیلہ چاہا اس نے چیخیں بنائیں اور رات کے پرندوں میں بانٹ دیں

پردیسی ہوئے ہاتھ کونجیں پکڑتے رہ گئے
ہوا کا بچھونا جدائی کی انگلیوں نے بنا اور محبت کرنے والے دل نے سمیٹا

کیا پاؤں جوتوں کے لئے بنے تھے یا منزلوں کے لئے؟
پھر تھکن نے کس کے پاؤں توڑے

اور کون اسیر کیا کہ اس سے جوتوں کی قیمت پوچھے اور انسان کے بھاؤ بتائے
پھر اعتبار نے کس کے ٹخنے کاٹے کہ وہ آسمان سمیت زمین پر آ رہے

خداوند! بھیل قبیلے کے لوگ گوشت کھانا کب سیکھے
جب ان کے منہ کو خون اور دل کو خوف خدا لگ گیا

پھر اس کے بعد وہ سر نہ اٹھا سکے
آزادی صرف ایک ٹھنڈی سانس تھی مقدور بھر

اور غلامی! عمر بھر کی روٹیاں

یہ نظم اور اس سے پچھلی نظم نسرین انجم بھٹی کی برسی کے موقعے کی مناسبت سے تم کل اپنی کلاس کے طلباء و طالبات کو سناکر ان سے کہہ سکتی ہو کہ نسرین انجم بھٹی کی برسی ہمیں کسی ایک شاعرہ کی یاد میں ٹھہرنے کا موقع نہیں دیتی، بلکہ ہمیں اپنے عہد کے آئینے کے سامنے لا کھڑا کرتی ہے۔ ان کی دونوں نظموں کو ایک ساتھ پڑھا جائے تو یہ محض دو الگ تخلیقات نہیں رہتیں، بلکہ ایک ہی بڑے بیانیے کے دو باب بن جاتی ہیں: ایک باب تاریخی محکومی اور معاشی غلامی کا اور دوسرا خواب، اقتدار اور بیداری کے فریب کا۔ ان نظموں کے بیچ سے گزر کر یہ احساس شدت سے ابھرتا ہے کہ نسرین انجم بھٹی جس سماج پر لکھ رہی تھیں، وہ سماج ختم نہیں ہوا، وہ زیادہ منظم، زیادہ بے رحم اور زیادہ خاموش ہو چکا ہے۔

پہلی نظم میں شاعرہ صحیفوں اور نبیوں کے مقدس زمانے کو بھی بری الذمہ قرار نہیں دیتیں۔ وہ یہ وہم توڑ دیتی ہیں کہ مذہبی تاریخ لازماً نجات کی تاریخ ہوتی ہے۔ "ہاتھ سے گرے ہوئے نوالوں کی طرح ہمیں کتوں کے آگے ڈال دیا جاتا رہا" جیسے مصرعے بتاتے ہیں کہ محکومی کسی ایک دور یا ایک نظام کی پیداوار نہیں، بلکہ طاقت کے ہر بندوبست میں نئے روپ دھارتی ہے۔ یہاں غلامی زنجیروں سے نہیں، روٹی کے وعدے سے جڑی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں نسرین انجم بھٹی آج کے نیو لبرل، نیم نوآبادیاتی سماج سے جڑ جاتی ہیں، جہاں انسان کی قدر اس کی ضرورت، اس کی افادیت اور اس کی قیمت سے طے ہوتی ہے، منزل سے نہیں۔

دوسری نظم میں یہی غلامی ایک اور سطح پر ظاہر ہوتی ہے۔ یہاں مخاطب "خواب پرست" ہے، وہ فرد، وہ طبقہ، وہ دانش جو روشنی پھیلانے کا دعویٰ کرتا ہے مگر دراصل خون کو سفید اور رنگ کو فق کر دیتا ہے۔ یہ وہ اجالا ہے جو ظلم کو بے نشان بنا دیتا ہے، جو سیاسی جبر کو نارملائز کرتا ہے، جو کہتا ہے: سب کچھ ٹھیک ہے، بس صبر کرو۔ نسرین انجم بھٹی اس اجالے کو مسترد کرتی ہیں، کیونکہ وہ جانتی ہیں کہ اصل مسئلہ اندھیرا نہیں، جھوٹی روشنی ہے۔

ان دونوں نظموں میں اقتدار ایک مرکزی کردار کے طور پر ابھرتا ہے کبھی مذہب کی آڑ میں، کبھی بادشاہ کے حضور، کبھی حاکمِ شہر کے مہربان لہجے میں۔ "بادشاہ کے حضور کھڑے کھڑے میں شل ہوگئی" ہو یا "آگ پہناوا کرتے تھے جو لوگ" یہ سب اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ طاقت ہمیشہ خود کو مقدس، ناگزیر اور مہربان ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے، جبکہ اس کے نیچے انسان کا جسم، اس کی زبان اور اس کی سانس آہستہ آہستہ مفلوج ہو جاتی ہے۔ آج کے سیاسی سماج میں یہ کیفیت اور بھی نمایاں ہے، جہاں اختلاف کو یا تو خاموش کر دیا جاتا ہے یا اسے نمائشی بیداری کے فریم میں قید کر دیا جاتا ہے۔

نسرین انجم بھٹی کی شاعری کی اصل قوت یہ ہے کہ وہ بھیڑ اور بیگانگی کے رشتے کو بے نقاب کرتی ہیں۔ بھیڑ بہت ہے، مگر بیگانگی اس سے بھی زیادہ۔ یہ مصرعہ آج کے شہری، ڈیجیٹل، شور سے بھرے مگر معنوی طور پر خالی سماج کی مکمل تصویر ہے۔ یہاں چیخیں ہیں، مگر منتشر، احتجاج ہیں، مگر بے سمت اور بیداریاں ہیں، مگر نمائشی۔ اسی لیے شاعرہ سرگوشی کو چیخ پر ترجیح دیتی ہیں کیونکہ سرگوشی تخلیقی ہے، چیخ اکثر نظام میں جذب ہو جاتی ہے۔

ان نظموں میں محبت بھی کسی رومانوی پناہ گاہ کے طور پر نہیں آتی، بلکہ مزاحمت کی اخلاقیات کے طور پر سامنے آتی ہے۔ "لیکن میں تجھے بہتوں میں سے بھی ڈھونڈ لوں گی" یا "با محبت با ایمان خوشبو دریچہ دریچہ پھری"، یہ وہ یقین ہے جو ریاست، مذہب یا بازار سے نہیں، انسانی رشتے اور یادداشت سے جنم لیتا ہے۔ بوند بوند مٹی کشید کرنے کا فن دراصل اسی سست، صبر آزما، مگر ضدی جدوجہد کا نام ہے، جو تاریخ کو نیچے سے دوبارہ لکھتی ہے۔

آج کے سیاسی، سماجی اور ادبی گھٹن زدہ ماحول میں نسرین انجم بھٹی کی شاعری اس لیے زیادہ بے چین کرتی ہے کہ وہ ہمیں کسی فوری نجات کا خواب نہیں دیتی۔ وہ یہ نہیں کہتیں کہ سب بدل جائے گا، وہ یہ کہتی ہیں کہ غلامی کو پہچانو، اجالے پر شک کرو اور ہنسنے کے حق کا مطالبہ کرو، چاہے اس کی قیمت جگ ہنسائی ہی کیوں نہ ہو۔ ان کی شاعری ہمیں سکھاتی ہے کہ آزادی اکثر ایک ٹھنڈی سانس سے زیادہ نہیں ہوتی، مگر پھر بھی اس سانس کو قیمتی سمجھنا ضروری ہے، کیونکہ یہی سانس ایک دن چیخ بن سکتی ہے، یا شاید ایک نئی نظم۔

نسرین انجم بھٹی کی برسی پر اصل سوال یہ نہیں کہ ہم نے ان کے لیے کیا لکھا، بلکہ یہ ہے کہ ہم نے ان کے سوالات کے ساتھ کیا کیا۔ کیونکہ جب تک روٹی کے عوض آزادی بیچی جاتی رہے گی، جب تک اجالا خون کو سفید کرتا رہے گا اور جب تک خواب پرست خود سو کر دوسروں کو جگانے کا ناٹک کرتے رہیں گے، نسرین انجم بھٹی کی شاعری زندہ رہے گی اور ہمارا ضمیر بے چین۔

۔۔

نسرین انجم بھٹی کی ایک اور نظم ہے

مغربی صحرا کے کنارے کندن کے پھول کھلنا شروع ہو گئے ہیں
مشرقی صحرا کے بیچوں بیچ کھڑی سندری کی ناک کا لونگ مرجھا گیا ہے

یہ کس تاریخ کے اخبار کی خبر ہے
کوئی اشتہار ہے کیا

دیواروں پہ لکیریں نہ ڈالو مٹاؤ گے تو تمہارے ہی ہاتھ کالے ہوں گے
ہاں کھیل کھیل میں ہی دلالی سیکھ جاؤ گے کوئلوں کا تو بہانہ ہے

کوئلے چار دن اور دہک رہے ہیں
پنکھے میرے دل میں لگے ہیں مجھے اب بھی سردی لگتی ہے

برف کی وہ ڈلی پگھلتی کیوں نہیں جس کی آئینے جیسی سطح پر
میرا چہرہ بھی مجھے دکھائی کیوں نہیں دیتا درمیان کون حائل ہے

گرم لرزتے ہوئے آنسو اور ملنے کی تاہنگ
آنسوؤں کے جھکولے میں ہمارے چہرے ڈس لوکیٹ ہو گئے ہیں

اور پھر سانس سے سانس نہ ملی
دم میں دم نہ آیا

رانجھا رانجھا کوکدی میں آپے رانجھن ہوئی

نسرین انجم بھٹی کی یہ نظم تاریخ، جنس، منڈی، سرد مہری اور شناخت کے بکھراؤ پر لکھی گئی ایک نہایت تہہ دار اور علامتی نظم ہے، جس میں ذاتی، اجتماعی اور سیاسی تجربہ ایک دوسرے میں اس طرح مدغم ہیں کہ کسی ایک سطح پر رکنا ممکن نہیں رہتا۔ یہ نظم بیک وقت خبر بھی ہے، سوال بھی، احتجاج بھی اور ایک گہری وجودی چیخ بھی، ایسی چیخ جو بلند نہیں ہوتی، بلکہ سردی کی طرح اندر اترتی چلی جاتی ہے۔

نظم کا آغاز ہی جغرافیہ کو سیاست اور جنس کے ساتھ جوڑ دیتا ہے۔ مغربی صحرا میں کندن کے پھولوں کا کھلنا اور مشرقی صحرا میں سندری کی ناک کے لونگ کا مرجھا جانا محض قدرتی مناظر نہیں، بلکہ طاقت کے غیر مساوی بہاؤ کی علامت ہیں۔ ایک طرف وہ خطہ ہے جہاں وسائل، چمک اور نمو ہے، دوسری طرف وہ بدن، وہ شناخت، وہ نسوانی وجود ہے جس کی علامت، ناک کا لونگ، مرجھا گیا ہے۔ یہاں عورت کا جسم خود ایک سیاسی جغرافیہ بن جاتا ہے، جس پر ترقی اور زوال کے فیصلے لکھے جاتے ہیں۔

"یہ کس تاریخ کے اخبار کی خبر ہے / کوئی اشتہار ہے کیا"، یہ سوال نظم کو براہِ راست میڈیا، تاریخ نویسی اور منڈی کے دائرے میں لے آتا ہے۔ شاعرہ خبر اور اشتہار کے فرق کو مشکوک بنا دیتی ہیں، کیونکہ اس سماج میں خبر بھی اکثر فروخت ہوتی ہے اور اشتہار بھی حقیقت کا دعویٰ کرتا ہے۔ یوں سچ ایک ایسی شے بن جاتا ہے جو تاریخ سے نہیں، مارکیٹ سے اپنا جواز حاصل کرتا ہے۔

دیواروں پر لکیریں ڈالنے کا استعارہ یادداشت، مزاحمت اور احتجاج کی طرف اشارہ کرتا ہے، مگر فوراً ہی اس پر قدغن لگا دی جاتی ہے: مٹاؤ گے تو تمہارے ہی ہاتھ کالے ہوں گے۔ یہ وہ منطق ہے جس کے تحت طاقت خود کو بے داغ اور مزاحمت کو مجرم ثابت کرتی ہے۔ "کھیل کھیل میں ہی دلالی سیکھ جاؤ گے"، یہ مصرعہ نہایت تلخ طنز ہے اس سماجی تربیت پر، جہاں بچے بھی جلدی یہ سیکھ لیتے ہیں کہ ضمیر نہیں، دلالی فائدہ دیتی ہے، کوئلہ محض ایک بہانہ ہے، اصل کاروبار سیاہی کا ہے۔

کوئلوں کا دہکنا وقتی ہے، مگر سردی مستقل۔ "پنکھے میرے دل میں لگے ہیں مجھے اب بھی سردی لگتی ہے"، یہ داخلی بے حسی اور جذباتی منجمد پن کی تصویر ہے۔ باہر حرارت ہے، اندر سرد مہری۔ یہ وہ کیفیت ہے جو مسلسل تشدد، جھوٹ اور سودے بازی کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے، جہاں دل خود اپنے خلاف کام کرنے لگتا ہے۔

برف کی ڈلی اور آئینے کی سطح نظم کا سب سے گہرا استعارہ ہے۔ برف پگھلتی نہیں، آئینہ شفاف ہے مگر چہرہ دکھائی نہیں دیتا، درمیان کوئی حائل ہے۔ یہ "کوئی" دراصل نظام، بیانیہ، خوف اور طاقت کا وہ پردہ ہے جو فرد کو خود اپنے وجود سے بھی بیگانہ کر دیتا ہے۔ شناخت موجود ہے، مگر قابلِ دید نہیں، چہرہ ہے، مگر پہچانا نہیں جا سکتا۔

آنسوؤں کے جھکولے میں چہروں کا ڈس لوکیٹ ہو جانا اس بیگانگی کی انتہا ہے۔ یہاں رونا بھی تسلی نہیں دیتا، بلکہ مزید بکھراؤ پیدا کرتا ہے۔ سانس سے سانس نہ ملنا، دم میں دم نہ آنا، یہ محض محبت کی ناکامی نہیں، بلکہ انسانی ربط کے منقطع ہو جانے کی علامت ہے، ایک ایسے سماج میں جہاں ہر رشتہ لین دین میں بدل چکا ہے۔

نظم کا آخری مصرع "رانجھا رانجھا کوکدی میں آپے رانجھن ہوئی" اس تمام شکست و ریخت کے بعد ایک عجیب مگر گہرا امکان پیدا کرتا ہے۔ یہ محض صوفیانہ استعارہ نہیں، بلکہ خود میں تحلیل ہو جانے کی مزاحمتی صورت ہے۔ جب بیرونی شناختیں، اخبار، اشتہار، دیواریں، آئینے سب جھوٹ بولنے لگیں، تو ذات خود ایک پناہ گاہ بن جاتی ہے۔

مگر یہ پناہ مکمل نجات نہیں، بلکہ بقا کی آخری صورت ہے۔

یہ نظم مجموعی طور پر اس عہد کی کہانی ہے جہاں صحرا یکساں نہیں، خبریں مشتبہ ہیں، کوئلہ بہانہ ہے، دل سرد ہیں اور آئینے سچ نہیں دکھاتے۔ نسرین انجم بھٹی یہاں چیخ نہیں کرتیں، بلکہ ہمیں اس سردی کا احساس دلاتی ہیں جو آہستہ آہستہ روح میں سرایت کر جاتی ہے اور شاید یہی ان کی شاعری کی سب سے خطرناک خوبی ہے۔

اگر نسرین انجم بھٹی آج زندہ ہوتیں اور دیکھتیں کہ ایمان مزاری کو سزا سنائے جانے کے خلاف احتجاج روکنے کے لیے کراچی پریس کلب کی طرف آنے والی نو سڑکیں بند کر دی گئی ہیں، تو وہ اسے محض ایک انتظامی اقدام، سیکیورٹی پلان یا ٹریفک مینجمنٹ نہیں سمجھتیں۔ وہ اسے ریاست کے خوف کا نقشہ کہتیں، ایسا نقشہ جو سڑکوں پر نہیں، ذہنوں پر کھینچا جاتا ہے۔

نسرین انجم بھٹی کی نظر میں سڑکوں کا بند ہونا دراصل آواز کے راستوں کا بند ہونا ہوتا۔ پریس کلب ان کے لیے اینٹوں کی عمارت نہیں، بلکہ وہ جگہ ہوتی جہاں "سرگوشی" چیخ بننے کی کوشش کرتی ہے۔ جب نو راستے بند کیے جاتے ہیں تو یہ اس بات کا اعتراف ہوتا ہے کہ ایک آواز بھی طاقت کے لیے ناقابلِ برداشت ہے۔ وہ شاید یہی کہتیں کہ یہ وہی سماج ہے جہاں "دیواروں پہ لکیریں نہ ڈالو" کا حکم پہلے دیا جاتا ہے اور پھر یہ دھمکی کہ اگر مٹانے کی کوشش کرو گے تو ہاتھ تمہارے ہی کالے ہوں گے۔

ایمان مزاری کی سزا کو نسرین انجم بھٹی انفرادی مقدمہ نہیں سمجھتیں، بلکہ اسے اس سلسلے کی ایک کڑی قرار دیتیں جس میں قانون، عدالت اور ریاست مل کر سچ کو "خبر" نہیں رہنے دیتیں، بلکہ اسے اشتہار کے شور میں دفن کر دیتی ہیں۔ ان کی شاعری میں "بادشاہ کے حضور کھڑے کھڑے شل ہو جانا" اسی کیفیت کا نام ہے جہاں بولنے والا بولنے سے پہلے ہی مفلوج کر دیا جاتا ہے اور پھر کہا جاتا ہے کہ احتجاج کیوں نہیں مہذب؟

کراچی پریس کلب کی طرف آنے والی بند سڑکیں نسرین انجم بھٹی کو اس سوال تک لے آتیں جو وہ بار بار پوچھتی ہیں کیا پاؤں جوتوں کے لیے بنے تھے یا منزلوں کے لیے؟

یہاں پاؤں کو منزل تک پہنچنے سے نہیں روکا گیا، بلکہ انہیں یہ یاد دلایا گیا کہ ان کی اصل حیثیت صرف فرماں برداری ہے۔ احتجاج کو طاقت سے پہلے جغرافیے سے شکست دی گئی یہ وہی حکمتِ عملی ہے جسے وہ "کھیل کھیل میں دلالی سیکھ جانا" کہتی ہیں۔

وہ یہ بھی دیکھتیں کہ بڑے شہروں کی پیٹی بورژوازی دانش اس بندش پر کیسے ردِعمل دے رہی ہے: کوئی اسے "حالات کی نزاکت" کہے گا، کوئی "قانونی مجبوری" اور کوئی خاموشی کو ہی دانش مندی سمجھ لے گا۔ نسرین انجم بھٹی اس خاموشی کو سب سے خطرناک سمجھتیں، کیونکہ ان کے نزدیک غلامی ہمیشہ زنجیر سے نہیں آتی اکثر یہ روٹین، نظم و ضبط اور معمول کی شکل میں آتی ہے۔

اور شاید آخر میں وہ یہی کہتیں کہ نو سڑکیں بند کرنے کے باوجود اصل خوف بند نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ جس سماج میں وکیل کی سزا پر احتجاج کو جرم سمجھا جائے، وہاں احتجاج رک سکتا ہے، سوال نہیں۔ ان کی نظر میں یہ واقعہ اس بات کی علامت ہوتا کہ آزادی اب ایک "ٹھنڈی سانس" سے زیادہ نہیں رہی مگر پھر بھی، اسی سانس میں وہ امکان چھپا ہے جس سے کل کوئی اور سرگوشی جنم لے گی اور شاید کسی دن وہ چیخ بن جائے۔

نسرین انجم بھٹی اسے یوں دیکھتیں
یہ ریاست کا نظم نہیں، اس کی گھبراہٹ ہے

اور گھبراہٹ ہمیشہ اس بات کا ثبوت ہوتی ہے کہ کہیں نہ کہیں سچ زندہ ہے۔

Check Also

China Mein, Sub Chain Se Nahi

By Arif Anis Malik