Monday, 09 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Aamir Hussaini
  4. Jihad, Takfeer: Shia Bradri Ki Tazeeb Kyun Nahi Ruk Rahi?

Jihad, Takfeer: Shia Bradri Ki Tazeeb Kyun Nahi Ruk Rahi?

جہاد، تکفیر : شیعہ برادری کی تعذیب کیوں نہیں رک رہی؟

پاکستان کی فوجی اسٹبلشمنٹ نے جب "افغان جہاد پالیسی" ڈئزائن کی تو اس پالیسی کا ایک اہم جزو پاکستان میں پاکستان میں دیوبندی مدارس سے طلباء اور اساتذہ کی اس جہاد کے لیے بھرتی تھی۔ اس زمانے میں دیوبندی فرقے کی نمائندہ مذھبی سیاسی جماعت جمعیت علماء اسلام تھی۔

اس جماعت کے سربراہ مفتی محمود کی ناگہانی موت کے بعد ان کے نوجوان فرزند مولانا فضل الرحمان کے پاس تھی اور وہ افغانستان میں سوویت یونین کی حمایت یافتہ حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد کرنے والے مولویوں کی حمایت تو کر رہے تھے لیکن وہ اس بات کے سخت مخالف تھے کہ پاکستان میں دیوبندی مدارس کو اس "جہاد" کے لیے بھرتی کیمپ میں تبدیل کیا جائے۔ وہ بحالی جمہوریت کی تحریک چلانے والے اتحاد ایم آر ڈی کا حصہ تھے اور اس اتحاد میں ان کی شمولیت جنرل ضیاء الحق کو سخت کھٹکتی تھی۔

پاکستان کی فوجی اسٹبلشمنٹ دیوبندی مدارس عربیہ دینیہ کے بہت سارے سرکردہ مولویوں کو اپنے ساتھ ملانے میں کامیاب رہی تھی۔ اس زمانے میں کراچی میں گلشن اقبال میں اشراف المدارس، جامعہ فاروقیہ، جامعہ الرشید، جامعہ بنوریہ کی انتظامیہ، ملتان میں جامعہ خیر المدارس، دارالعلوم کبیروالہ، لاہور میں جامعہ اشرافیہ، راولپنڈی میں جامعہ تعلیمات القرآن، اکوڑہ خٹک میں دارالعلوم عربیہ اسلامیہ جن کی آگے پھر کئی مزید شہروں میں شاخیں تھیں کی انتظامیہ میں شامل بڑے بڑے نامور اور اونچی کلغی والے مولوی فوجی اسٹبلشمنٹ کی پالیسی کے مطابق ان مدارس کو جہاد افغانستان کے لیے بھرتی کے مراکز بنانے میں کامیاب رہے۔

پرانے مدارس دینیہ کے ساتھ ساتھ اسی دوران نئے مدارس بھی سابق فاٹا کے اندر قائم ہوئے جن میں درجنوں تو بنے ہی جہادی نیٹ ورک کے زیر سایہ تھے۔ امریکی، سعودی اور دیگر عرب ممالک کی فنڈنگ، اسمگلنگ نے اس جہادی نیٹ ورک کو بہت طاقتور کردیا۔ جہاد کشمیر پالیسی کے تحت بھی بھرتی کے مراکز دیوبندی مدارس بھی بنے۔

جب پاکستان کی فوجی اسٹبلشمنٹ کے حکمت یار اور دوسرے افغان مجاہدین گروپ سے تعلقات بگڑے اور اسی دوران پاکستانی اسٹبلشمنٹ کے کشمیری جماعت حزب المجاہدین سے معاملات بھی بگڑ گئے تو پاکستانی فوجی اسٹبلشمنٹ نے سارا زور دیوبندی مدارس پر منتقل کردیا۔ اس نے پرانے افغان مجاہدین کی جگہ دیوبندی طالبان کو دی جبکہ کشمیر کے محاذ پر اس نے ایک طرف حرکتہ الانصار / جیش محمد پر ہاتھ رکھ اور دوسرا اس نے سلفی گروپ لشکر طیبہ پر زور لگایا۔

فوجی اسٹیبلشمنٹ نے مولانا فضل الرحمان کو کمزور کرنے کے لیے مولانا سمیع الحق کو استعمال کیا اور ساتھ ہی اس نے انجمن سپاہ صحابہ پاکستان پر بھی اپنا ہاتھ رکھ دیا۔ فوجی اسٹیبلشمنٹ کی ملک کی داخلی سیاست میں مداخلت کے عمل میں اور سعودی عرب کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے انجمن سپاہ صحابہ پاکستان کی سرپرستی کا عمل ایک تباہ کن غلطی ثابت ہوا۔ دیوبندی فرقے میں انجمن سپاہ صحابہ پاکستان کے راستے سے دیوبندی جہادی نیٹ ورک جو افغانستان اور کشمیر میں مصروف عمل تھا کے اندر تکفیری ذہنیت رکھنے والوں کی ایک بہت بڑی تعداد کو راہ دی۔

نوے کی دہائی میں افغان طالبان کے کابل پر کنٹرول کے دوران وہاں قائم بیس کیمپوں میں تکفیری سوچ اور نظریہ سے متاثر ایک بہت بڑی تعداد نے عسکری تربیت حاصل کی اور وہاں پر موجود عرب، ازبک، تاجک اور دیگر ممالک کے عسکریت پسندوں سے روابط خاص طور پر القاعدہ کے انتہائی تربیت یافتہ عسکریت پسندوں سے روابط نے اس تکفیری جہادی عنصر کو انتہائی مہلک کلنگ مشین میں تبدیل کردیا خاص طور پر لشکر جھنگوی کی طاقت کو بہت تقویت بخشی۔

یہ تکفیری عسکریت پسند ایک طرف تو طالبان نیٹ ورک میں موجود تھے تو دوسری طرف یہ دیوبندی جہادی گروپوں میں بھی سرایت کر گئے۔ خود پاکستان کی سیکورٹی و انٹیلی جنس اپریٹس میں بھی یہ جہادی اور تکفیری عناصر اپنے ہمدرد اور ہینڈلر پیدا کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ پاکستانی اسٹبلشمنٹ کے اندر القاعدہ جیسی عالمی جہادی تنظیم کے ہمدرد اور دوست بھی بن گئے۔ انھوں نے اپنے بیس کیمپ پاکستان کے قبائلی علاقوں اور اس سے ملحقہ علاقوں میں بھی قائم کرلیے۔ پاکستان کی فوجی اسٹبلشمنٹ اپنے قائم کردہ جہادی نیٹ ورک اور اس سے جڑی تنظیموں کو پاکستان کی سیاست میں مداخلت کے لیے بھی استعمال کرتی رہی۔ اس نیٹ ورک میں شامل تکفیری سیکشن نے پاکستان میں مذھبی اقلیتوں اور خاص طور پر شیعہ کو اپنے نشانے پر رکھ لیا۔

نائن الیون کے بعد افغانستان پر امریکی حملے کے بعد پاکستان کی اسٹبلشمنٹ نے افغانستان میں جو ڈبل گیم شروع کی اس نے اس تکفیری نیٹ ورک کو پاکستان میں شیعہ کی تعذیب اور نسلی صفائی کا موقعہ فراہم کیا۔ یہ جو دیوبندی جہادی نیٹ ورک تھا یہ اسی دوران مشرق وسطٰی میں عرب ممالک اور ایران کے درمیان تنازعات کی لڑائیوں میں بھی ملوث ہوگیا۔ عراق، یمن، لبنان، شام اور لیبیا میں چھڑی جنگوں نے پاکستان سے جاکر وہاں لڑنے والے جہادی تکفیری سیکشن کے نئی ابھرنے والی داعش کے ساتھ روابط مضبوط بنائے۔ اس نیٹ ورک کے جو نظریہ ساز تنظیمیں اور گروہ ہیں وہ پورے پاکستان میں سرگرم ہیں۔ یہ اتنے طاقتور ہیں کہ مولانا فضل الرحمان سمیت جتنے بھی مین سٹریم دیوبندی مذھبی و سیاسی قیادت ہے یہ ان کی طرف سے تکفیری سوچ کی مخالفت پر ان پر بھی حملے کرتے ہیں۔

جمعیت علمائے اسلام فاٹا، کے پی کے اور بلوچستان میں اس کے کئی اہم رہنماء اور کارکن ٹی ٹی پی، داعش کے ہاتھوں مارے جا چکے ہیں اور خود مولانا فضل الرحمان پر بھی کئی بار خوفناک حملے ہوئے ہیں۔ پاکستان کی فوجی اسٹبلشمنٹ جس کے کنٹرول میں داخلی سلامتی کے سویلین اور فوجی ادارے ہیں وہ تکفیری جہادی سوچ کو پروان چڑھانے والے نظریہ ساز جماعتوں اور تنظیموں کو کاغذوں میں تو کالعدم قرار دلواتے ہیں لیکن انھیں عملی طور پر جلسے جلوس کرنے، مساجد و مدارس میں اس سوچ کو پروان چڑھانے اور سوشل میڈیا پر ان کے پروپیگنڈے کو روکنے میں دلچسپی لیتے نظر نہیں آتے۔

سپاہ صحابہ پاکستان کا کیس اس حوالے سے بہت اہم ہے۔ انجمن سپاہ صحابہ پاکستان پر پہلی بار جنرل مشرف کے دور میں پابندی لگی لیکن یہ ملت اسلامیہ پاکستان کے نام سے نہ صرف دوبارہ کام کرنے لگی بلکہ الیکشن کمیشن پاکستان میں یہ بطور سیاسی جماعت کے رجسڑڈ بھی ہوگئی۔ پھر ملت اسلامیہ پر پابندی لگی تو یہ راہ حق پارٹی پاکستان کے نام سے الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ ہوگئی۔ اب تک یہ اس نام سے رجسٹرڈ ہے۔ اس نے پھر اہلسنت والجماعت پاکستان کے نام سے کام شروع کیا۔ اس نام کو بھی کالعدم قرار دیا گیا لیکن یہ اس نام سے کام کر رہی ہے۔

اسی طرح یہ سنی علماء کونسل، سنی کوآرڈینیشن کمیٹی کے ناموں سے بھی کام کر رہی ہے۔ یہ تمام پلیٹ فارم اعلانیہ شیعہ تعذیب اور منافرت کے نعروں اور ایجنڈے پر کام کرتے ہیں۔ ریاست پاکستان اور اس کی مقامی سطح کی مشینری شیعہ کمیونٹی کے مذھبی پروگراموں میں تو چھوٹی سے چھوٹی "مذھبی منافرت" کے اظہار پر پوری طاقت سے حرکت میں آتی ہے لیکن وہ اس کمیونٹی کے خلاف پورے ملک میں چلنے والی انتہائی منظم "منافرت انگیز اور تعذیبی مہم" جو شیعہ کمیونٹی کے خلاف نسل کشی کی حد تک جانے والی والے پرتشدد واقعات کا بنیادی سبب ہیں اس کا خاتمہ کرنے میں متحرک نظر نہیں آتی۔

جس روز اسلام آباد میں شیعہ مسجد پر خودکش حملہ ہوا، اس روز، اسی وقت اس مسجد سے کچھ فاصلے پر واقع ایک مذھبی مرکز میں شیعہ کے خلاف انتہائی منافرت انگیز تقریر اور نعرے جاری تھے اور یہ عمل اس مرکز سے کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ اس واقعے سے ایک روز پہلے ملتان میں کالعدم اہلسنت والجماعت/سپاہ صحابہ پاکستان کی مرکزی قیادت جو سندھ، پنجاب، کے پی کے اور بلوچستان حکومتوں کی فورتھ شیڈول لسٹ میں شامل ہے نے ایک بہت بڑا اجتماع قاسم باغ اسٹیڈیم میں کیا اور اس میں شیعہ کے خلاف زبردست منافرت انگیز تقاریر کی گئیں اور اس کے خلاف نعرے بازی بھی ہوئی۔ یہ خلاف قانون اجتماع اس حقیقت کے باوجود ہوا کہ اس کے انعقاد کے خلاف شہریوں نے کمشنر ملتان اور ڈپٹی کمشنر ملتان کو درخواست بھی جمع کرائی لیکن اس پر کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔

ریاست تکفیری دہشت گردی جو شاخ ہے کے خلاف تو کاروائی کرتی ہے لیکن اس کی جو جڑ ہے اسے کاٹنے کی کوئی کوشش نہیں کرتی۔ پاکستان میں تکفیری نیٹ ورک کا نیکٹا میں بطور کالعدم جماعتوں کے اندراج ایک مذاق بن چک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں شیعہ برادری کی اکثریت کے نزدیک ان کی تعذیب اور نسلی صفائی کی اصل ذمہ دار خود ریاست ہے۔ ریاست اس تکفیری نیٹ ورک کے سرکردہ کالعدم رہنماؤں کو فورتھ شیڈول لسٹ میں ڈالنے کے باوجود جلسے جلوس کے انعقاد اور انھیں مساجد و مدارس میں، سوشل میڈیا پر شیعہ برادری کے خلاف منافرت پھیلانے کی اجازت دیتی ہے۔

لوگ یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ ریاست نے بریلوی فرقے کی انتہاپسند تکفیری جماعت تحریک لبیک کے خلاف جس سختی سے کاروائی کی وہ سختی سپاہ صحابہ پاکستان جیسی جماعتوں اور تنظیموں کے خلاف کیوں نہیں کی جاتی جبکہ ان پر تو پابندی بھی دو عشروں پہلے سے لگی ہوئی ہے۔

مذھبی منافرت اور اس کی سب سے خطرناک شکل تکفیر پر پابندی کا جب تک حقیقی نفاذ نہیں ہوتا مذھبی اقلیتوں کی تعذیب، ان پر تشدد اور شیعہ جیسے مذھبی فرقوں کے خلاف تعذیب اور نسلی صفائی کے عمل کو روکا نہیں جا سکے گا۔

تکفیری سوچ اور نظریہ روایتی مذھبی سیاست سے کہیں زیادہ خطرناک اور اس معاشرے کا ناسور ہے اس نے پاکستان کی سماجی بنت Social fabrication کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیا ہے۔ زرا سوچیے کہ جب پاکستان کی عوام اور مذھبی علماء کی اکثریت اسلام آباد میں شیعہ مسجد پر ہوئے خودکش بم دھماکے کی مذمت اور مرنے و ذخمی ہونے والوں سے اظہار تعزیت و یک جہتی کر رہی تھی تب تکفیری سوچ کے عناصر شیعہ برادری کے خلاف منافرت پھیلانے میں مصروف تھے۔

سوشل میڈیا پر اس کی موجودگی صاف دیکھی جاسکتی ہے۔ جب تک ان کافر ساز، گستاخ ساز فیکٹریوں کو بند نہیں کیا جائے گا تب تک مساجد، امام بارگاہ، مزارات، عید میلاد اور عاشورہ کے جلوسوں، کلیسا، مندر پر حملے روکے نہیں جا سکیں گے۔ یہ تکفیری نظریات کے اڈے پاکستان میں بلوائی حملوں، لنچنگ جیسے واقعات کے رونما ہونے کا بنیادی سبب ہیں۔

Check Also

Ye Ghurbat Nahi, Ye Khayanat Ki Qeemat Hai

By Asif Masood