Tuesday, 24 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Aamir Hussaini
  4. Gharelu Kaam Aur Aurtein, Zati Tajurba Aur Ilm

Gharelu Kaam Aur Aurtein, Zati Tajurba Aur Ilm

گھریلو کام اور عورتیں، ذاتی تجربہ اور علم

سائرہ فاروق میری ایک دہائی سے زیادہ فیس بک فرینڈ ہیں۔ وہ سماجی موضوعات پر انتہائی سادہ مگر موثر انداز میں تحریریں لکھتی ہیں۔ انھوں نے گزشتہ روز ایک تحریر لکھی جو بظاہر ایک نہایت معمولی سے مسئلے پر تھی۔ وہ عورتیں جن کے کچن میں بغیر دھلے برتنوں کا ایک ڈھیر لگ جاتا ہے تو کیا وہ عورتیں ایسا کسی کام چوری کے سبب کرتی ہیں یا وہ نکھٹو ہوتی ہیں؟ بہت سارے مردوں نے اس پر گھر کے کام کو لیکر عورتوں پر طرح طرح کے منفی تبصرے کیے۔ سائرہ کی یہ تحریر اسی حوالے سے تھی۔

سب سے پہلے تو میں یہ واضح کردوں کہ یہ اور اس سے جڑے دیگر مسائل کا تعلق ہمارے معاشرے میں "ڈومیسٹک لیبر" کو "لیبر" نہ سمجھنے کے سبب ہے۔ اکثر مرد ہی نہیں بلکہ خواتین کی ایسی معتدبہ تعداد موجود ہے جن کے خیال میں ڈومیسٹک لیبر ایک "غیر پیداواری"، "ناقابل منفعت" محنت ہے اور یہ ایک ایسی محنت ہے جو باہر جاکر کی جانے والی محنت اور کام سے نہ تو جڑی ہوئی ہے اور نہ ہی اس کی کوئی اہمیت ہے۔

عام طور پر جن گھرانوں میں عورتیں "جاب" نہیں کرتیں اور وہ بس گھریلو کام کرتی ہیں انہیں "فارغ " اور گھر کے مردوں کی کمائی پر گزارا کرنے والی عورتیں خیال کیا جاتا ہے۔ دوسرا اکثر و بیشتر مردوں کا ہی نہیں بلکہ عورتوں کا بھی یہ خیال ہے کہ "گھریلو محنت" عورتوں کا ہی کام ہے۔ اس خیال کے تحت جو عورتیں باہر جاب کرتی ہیں ان کی باہر کی نوکری سے کہیں زیادہ ان کی "گھریلو محنت" کا کڑا احتساب ہوتا ہے اور اس میں اگر کوئی کمی بیشی ہو تو انھیں سخت مشکل پیش آتی ہے۔

ہم نے "عورتوں کے سوال" کو اپنے اسٹڈی سرکلز کے لیڈ آف دینے والے مارکسی مرد اور عورت دانشوروں سے اس حوالے سے جو پہلا سبق پڑھا وہ یہ تھا کہ ڈومیسٹک لیبر جدید سرمایہ دارانہ دور میں ورکنگ کلاس خاندانوں ميں ان خاندانوں کے ورکرز کی قوت محنت برقرار رکھنے اور انہیں سرمایہ داری پیداوار کے لیے زیادہ منفعت بخش بنانے میں کلیدی رول ہی ادا نہیں کرتی بلکہ یہ مستقل کے محنت کشوں یعنی ان خاندانوں کے بچوں کی پرورش میں بھی بہت کلیدی کردار ادا کرتی ہے، اس اعتبار سے ڈومیسٹک لیبر نہ تو غیر پیداواری ہے نہ ہی یہ اجرتی محنت سے کمتر ہے بلکہ عورتیں عام طور پر مستقبل کے محنت کشوں یعنی بچوں کو ان کی پیدائش سے لیکر کم وبیش 15 سال تک ان کی پرورش ميں جو محنت صرف کرتی ہیں وہ صرف جسمانی اعتبار سے ہی نہیں بلکہ نفسیاتی اور ذہنی اعتبار سے بھی بہت سخت ہوتی ہے۔ یہ محنت انھیں اپنے مخصوص ایام میں بھی کرنا پڑتی ہے جب اکثر عورتیں مینوپاز اور موڈ سوئنگ اور جسمانی تکالیف سے گزر رہی ہوتی ہیں۔ زچگی کے دنوں میں بھی انہیں اگر میٹرنٹی لیو مل بھی جائے تو گھریلو کام سے انہیں چھٹی نہیں ملتی۔

میں نے اپنے خاندان کی عورتوں جن میں جاب کرنے والی اور گھریلو عورتیں دونوں شامل ہیں ان کی زندگیوں کو بہت قریب سے دیکھا۔ میری دادی اور والدہ کے زمانے میں تو ہمارے گھر میں چھوٹے موٹے صفائی کے کام اور کپڑے وغیرہ دھونے کے لیے ملازم عورتیں رکھنے کا تصور نہیں تھا حالانکہ ہمارا تعلق ایک خوشحال کاروباری گھرانے سے تھا۔ یہ جوائنٹ فیملی سسٹم تھا۔ میرے دادا اور ان کے چار بھائی ایک گھر ميں رہتےتھے اگرچہ ان سب کے پورشن الگ الگ تھے اور ان سب کے ویجیٹبل اینڈ فروٹ مارکیٹ میں الگ الگ کمیشن ایجنٹ شاپ تھیں، دکانوں پر کئی مستقل مزدور کام کرتے تھے۔

فجر کی آذان سے پہلے گھر کی سب عورتیں بیدار ہو جایا کرتیں۔ وہ دکان پر جانے والے مردوں کے لیے ناشتہ تیار کرتیں۔ دوسری مرتبہ وہ اسکول جانے والے بچوں اور بچیوں کے لیے ناشتہ تیار کرتیں، ان کی یونیفارم استری کرتیں، ان کے بوٹ پاش کرتیں اور انھیں اسکول روانہ کرتیں۔ اس کے بعد وہ قریب قریب گیارہ بجے سے دکانوں پر دوپہر کا کھانا تیار کرنے میں مصروف ہو جاتیں۔ اکثر اوقات اس میں بیوپاریوں کا کھانا بھی شامل ہوتا۔ ایک بجے تک ہر صورت میں یہ کھانا تیار کرنا ہوتا تھا۔ عصر کے بعد وہ رات کے کھانے کی تیاری میں مصروف ہو جایا کرتیں۔ یہ کھانا رات آٹھ بجے کھایا جاتا۔ گھر کے اکثر بڑے مرد رات کو سوتے ہوئے گرم دودھ پی کر سونے کے لیے جایا کرتے تھے۔ پھر ان میں اکثر مرد وہ تھے جن کے پاؤں دبانا بھی گھر کی عورتوں کی ڈیوٹی ہوا کرتی تھی۔

سب گھرانے کثیر العیال تھے۔ ہم کل ملاکر چھے بھائی بہن تھے اور دو بچے پیدائش کے ایک دوسال ميں فوت ہوگئے تھے۔ بچے بیمار پڑتے تو ان کو ڈاکٹر کے پاس لیجانا، ان کی دیکھ بھال کرنا یہ بھی ماؤں کی ذمہ داری تھی۔ اسی طرح ان بچوں کے کپڑے، جوتے، کتابیں اور دیگر ضروریات کی خریداری بھی گھر کی خواتیں کی ذمہ داری تھی۔ رمضان کے دنوں میں یہ خواتین تین بجے بیدار ہوکر سحری کا سامان تیار کرتیں اور پھر عصر کے وقت یہ افطاری کا انتظام کرتیں۔ عیدین پر ان کا سارا دن گھر والوں کے لیے پکوان تیار کرنے میں کچن میں گزرتا تھا اور چاند رات کو رات گئے تک کپڑوں پر استری کرتے اور گھر کی جھاڑ پونجھ اور دیگر کاموں میں جتی رہتیں۔ اس زمانے میں مصالحے پیسنے، چٹنی بنانے تک کی مشقت ان عورتوں کو کرنا پڑتی تھی۔

ہماری نسل کی عورتیں آج زیادہ تر ڈومیسٹک لیبر تک محدود نہیں ہیں۔ انھیں گھر کا خرچ چلانے کے لیے مجبور ہوکر باہر جاب کرنا پڑی ہے۔ میرے کنبے کی بہت سی عورتیں آج سرکاری اور پرائیویٹ ملازمت کرتی ہیں۔ ان میں سے کچھ گھر میں بیٹھ کر کاروبار بھی کر رہی ہیں۔ انھیں ایک طرف تو دومیسٹک لیبر کرنا ہوتی ہے اگرچہ کچھ گھروں میں اب صفائی اور کپڑے وغیرہ دھونے کا کام ملازمائیں کرتی ہیں لیکن کچن ان کی ہی ذمہ داری ہے۔ بچے وہی سنبھالتی ہیں۔ انھیں اب دوہری لیبر کرنا پڑتی ہے۔ لیکن ان کی ڈومیسٹک لیبر، بی بی سیٹنگ کو مرد ٹیکن فار گرانٹڈ لیتے ہیں اور اکثر گھروں میں وہ جاب یا کاروبار سے آمدنی کا جو حصّہ بڑھاتی ہیں اس کی وہ اہمیت نہیں ہے جو مرد اپنی آمدنی کو دیتے ہیں۔ روشن خیال ترین مردوں کی اکثریت جو میرے تجربے سے گزرے ہیں وہ اپنی گھر کی عورتوں کی بجائے دوسری عورتوں کا نصیب ہوتی ہے۔

اکثر و بیشتر گھروں میں عورتیں صرف اپنے شوہر کی ذمہ داری ہی نہیں اٹھاتیں بلکہ انہیں گھر کے غیر شادی شدہ دیوروں، ساس، سسر کی ذمہ داری بھی اٹھانی پڑتی ہے اور اس دوران کوئی کمی کوتاہی ہوجائے تو شوہر کی طرف سے بھی صورت حال کو سمجھنے کی کوشش نظر نہیں آتی۔ ورکنگ ویمن اس دوہری محنت سے جس نفسیاتی دباؤ سے گزرتی ہیں اور اس دوران جن مسائل کا وہ سامنا کرتی ہیں وہ کسی المیے سے کم نہیں ہے۔ میں نے اپنے خاندان، کنبے، برادری، اڑوس پڑوس میں اکثر عورتوں کو زچگی کے ایام میں ہیوگلوبل کی کمی سمیت بہت ساری پیچیدگیوں کا سامنا کرتے دیکھا اور اس دوران انھیں جس باقاعدہ چیک اپ، متوازن غذا، ذہنی سکون کی ضرورت ہوتی ہے اس سے محروم پایا ہے اور بعد از زچگی وہ کئی بیماریوں اور جسمانی پیچیدگیوں سے دوچار ہوتی ہیں اس سارے عمل کو بھی کسی ریشنل اور معقول طریقے سے نمٹا نہیں جاتا۔

ہمارے گھرانوں میں بچپن سے ہی لڑکوں کو اپنے کام خود کرنے کی عادت نہیں ڈالی جاتی اور انہیں بچپن سے ایسی تربیت ملتی ہے کہ وہ عورتوں کو اپنے برابر سمجھنے کو تیار نہیں ہوتے۔ مساجنی چپکے سے، لاشعوری طور پر دھیرے دھیرے ان کے اندر داخل ہوجاتی ہے اور میل شاؤنسٹ رویے ساری زندگی ان کا پیچھا نہیں چھوڑتے۔ اولاد نرینہ آج بھی ہمارے گھروں میں قابل فخر اور اولین ترجیح والی خواہش ہے۔

ایک اور چیز جو میں نے اپنے ہاں اکثر دیکھی ہے وہ یہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ہمارے گھرانوں میں عورتیں زیادہ تعلیم یافتہ ہوتی جا رہی ہیں۔ حالانکہ مردوں اور عورتوں دونوں کو ہمارے گھرانوں میں اب تعلیم کے یکساں مواقع فراہم کیے جاتے ہیں لیکن مرد اکثر تعلیمی میدان میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ لیکن عورتوں کی شادی کرتے وقت ان کی تعلیم اور شعور کے مطابق اور ان کی پسند کے مطابق ان کا برابر کا بر تلاش نہیں کیا جاتا۔ اس میں بہت سی چیزیں رکاوٹ بنتی ہیں۔ ایک تو کنبے اور برادری سے باہر رشتے سے ہر حالت میں گریز کیا جاتا ہے۔ دوسرا لڑکی کی عمر لڑکے سے کم تلاش کی جاتی ہے اور اس صورت حال میں اکثر وبیشتر انتہائی تعلیم یافتہ، اچھی تنخواہ یا روزگار والی بچیوں کے رشتے کم پڑھے لکھے نوجوانوں سے کر دیے جاتے ہیں یا ایسے کاروباری لڑکوں سے ان کے رشتے کردیے جاتے ہیں جو انہیں جاب کرنے نہیں دیتے اور بعض صورتوں میں انھیں مزید تعلیم حاصل کرنے نہیں دیتے اور ان کو باہر ازادانہ میل جول کی اجازت نہیں ملتی جس سے کئی اور المیے سامنے آتے ہیں۔

ہمارے سماج کو عورتوں کو "مکمل اور برابر" کا انسان سمجھنے کے لیے ابھی بہت تبدیلی کے عمل سے گزرنا ہوگا۔ سماج میں سرمایہ داری نے محنت کی تقسیم کو جس قدر پیچیدہ بنایا ہے اس پیچیدگی کے مقابلے میں ہمارا جو "خاندانی سسٹم" ہے وہ ابھی بہت پيجھے کھڑا ہے اور محنت کی تقسیم کی پیچیدگی سے جو ڈھانچہ پیدا ہوا ہے اس سے ہمارا گھریلو سسٹم ٹکراؤ اور تضاد ميں کھڑا ہے جس کی سب سے زیادہ متاثرہ عورتیں ہی ہیں۔

Check Also

Gharelu Kaam Aur Aurtein, Zati Tajurba Aur Ilm

By Muhammad Aamir Hussaini