Thursday, 23 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mudassar Hameed
  4. Sabr Mushkil Kyun Lagta Hai?

Sabr Mushkil Kyun Lagta Hai?

صبر کیوں مشکل لگتا ہے؟

زندگی میں کچھ لمحے ایسے ہوتے ہیں جب انسان کی زبان خاموش ہوتی ہے، مگر دل چیخ رہا ہوتا ہے۔ ایسے ہی لمحوں میں انسان کے ایمان، کردار اور حوصلے کا اصل امتحان ہوتا ہے اور اس امتحان کا نام صبر ہے۔

ہمارے گاؤں میں ایک نوجوان رہتا تھا۔ اس کا نام یہاں لکھنا ضروری نہیں، کیونکہ اس کی کہانی صرف ایک شخص کی نہیں، ہزاروں نوجوانوں کی کہانی ہے۔ وہ بچپن ہی سے محنتی تھا۔ صبح فجر کے بعد کھیتوں میں اپنے والد کا ہاتھ بٹاتا، پھر اسکول چلا جاتا۔ گاؤں کے لوگ اکثر اس کے والد سے کہتے، (تمہارا بیٹا ایک دن بہت بڑا آدمی بنے گا)۔

وقت گزرتا گیا، مگر زندگی نے اس کے لیے آسان راستہ نہیں چنا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد اس نے کئی جگہ ملازمت کے لیے درخواست دی، لیکن ہر بار ناکامی اس کا استقبال کرتی۔ کچھ لوگوں نے مشورہ دیا کہ قسمت خراب ہے، کچھ نے کہا کہ شاید محنت کم ہے۔

ایک شام وہ گاؤں کی مسجد کے باہر خاموش بیٹھا تھا۔ اس کے چہرے پر تھکن تھی، مگر آنکھوں میں امید کی ایک ہلکی سی روشنی باقی تھی۔ اسی دوران گاؤں کے ایک بزرگ اس کے پاس آئے، اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا: "بیٹا! اللہ جب اپنے بندے کو بڑی منزل دینا چاہتا ہے تو پہلے اس کے اندر صبر پیدا کرتا ہے۔ جو راستے میں ہار مان لیتا ہے، وہ منزل تک نہیں پہنچتا"۔

یہ الفاظ اس کے دل میں اتر گئے۔ اس نے ہمت نہیں ہاری، اپنی کوشش جاری رکھی، نئی مہارتیں سیکھیں اور کچھ عرصے بعد اسے وہ کامیابی ملی جس کا وہ برسوں سے انتظار کر رہا تھا۔ اس دن گاؤں کے لوگوں نے صرف ایک نوجوان کی کامیابی نہیں دیکھی، بلکہ صبر کی طاقت کو اپنی آنکھوں سے محسوس کیا۔

صبر ایک ایسا لفظ ہے جو ہر انسان نے سنا ہے، مگر اسے سمجھنا اور اپنی زندگی میں اختیار کرنا آسان نہیں۔ جب حالات ہمارے مطابق ہوں تو صبر کی بات کرنا آسان لگتا ہے، لیکن جب خواب ٹوٹ جائیں، اپنوں کا رویہ بدل جائے، محنت کے باوجود کامیابی نہ ملے یا زندگی بار بار آزمائش میں ڈال دے، تب صبر ایک مشکل راستہ محسوس ہونے لگتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر صبر کرنا اتنا مشکل کیوں لگتا ہے؟

ایک شعر عرض کرتا ہوں

ہر دعا کا جواب فوراً ملا نہیں کرتا
ہر خواب ہر موسم میں کھلا نہیں کرتا

صبر سے تھامے رکھ امید کا دامن
رب کبھی اپنے بندوں کو بھلا نہیں کرتا

بعض اوقات اللہ تمہیں وہ نہیں دیتا جو تم چاہتے ہو، کیونکہ وہ تمہیں وہ دینے کی تیاری کر رہا ہوتا ہے جس کا تم ابھی تصور بھی نہیں کر سکتے۔

حقیقت یہ ہے کہ صبر مشکل اس لیے لگتا ہے کیونکہ انسان کی فطرت جلدی نتیجہ چاہتی ہے۔ ہم بیج بوتے ہی پھل کی امید لگا لیتے ہیں۔ ہم محنت شروع کرتے ہی کامیابی چاہتے ہیں۔ لیکن قدرت کا نظام جلد بازی پر نہیں، وقت پر چلتا ہے۔ سورج بھی اپنے وقت پر طلوع ہوتا ہے، بارش بھی اپنے وقت پر برستی ہے اور پھل بھی اپنے موسم میں ہی پک کر تیار ہوتا ہے۔

آج کا دور صبر کو مزید مشکل بنا چکا ہے۔ سوشل میڈیا پر ہمیں دوسروں کی کامیابیاں تو فوراً نظر آتی ہیں، مگر ان کی برسوں کی محنت، ناکامیاں اور آزمائشیں نظر نہیں آتیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ اپنی زندگی کا موازنہ دوسروں کی کامیابی سے کرنے لگتے ہیں اور خود کو ناکام سمجھ بیٹھتے ہیں۔ یہ احساسِ محرومی آہستہ آہستہ انسان کی خود اعتمادی کو کمزور کر دیتا ہے۔

نفسیات بھی یہی بتاتی ہے کہ جو لوگ مشکلات میں اپنے جذبات پر قابو رکھتے ہیں، وہ زندگی میں زیادہ مضبوط ثابت ہوتے ہیں۔ صبر انسان کو صرف انتظار کرنا نہیں سکھاتا، بلکہ صحیح وقت تک امید کے ساتھ کوشش جاری رکھنا سکھاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صبر کرنے والا انسان حالات کا غلام نہیں بنتا بلکہ ان کا مقابلہ کرنا سیکھ لیتا ہے۔

اسلام نے صبر کو غیر معمولی اہمیت دی ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے"۔

یہ صرف ایک تسلی نہیں بلکہ ایک وعدہ ہے۔ جب انسان صبر کرتا ہے تو وہ کبھی اکیلا نہیں ہوتا۔ اللہ کی مدد، رحمت اور حکمت اس کے ساتھ ہوتی ہے، چاہے وہ اسے فوراً محسوس نہ کر سکے۔

صبر کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائے۔ صبر کا مطلب یہ ہے کہ انسان پوری محنت کرے، دعا کرے، اپنی غلطیوں سے سیکھے اور پھر نتیجہ اللہ پر چھوڑ دے۔ یہی وہ صبر ہے جو انسان کو ٹوٹنے سے بچاتا ہے اور آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتا ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کے بڑے بڑے کامیاب لوگ ایک دن میں کامیاب نہیں ہوئے۔ انہوں نے ناکامیاں دیکھیں، تنقید سنی، مشکلات برداشت کیں، مگر صبر کا دامن نہیں چھوڑا۔ اسی صبر نے انہیں وہ مقام دیا جسے آج دنیا کامیابی کے نام سے جانتی ہے۔

آج اگر آپ کسی مشکل سے گزر رہے ہیں، اگر آپ کی دعائیں ابھی تک قبول ہوتی نظر نہیں آ رہیں، اگر آپ کی محنت کا پھل ابھی تک نہیں ملا، تو شاید یہ اختتام نہیں بلکہ آپ کی کہانی کا سب سے اہم باب ہے۔ کیونکہ بعض اوقات اللہ منزل تک پہنچنے سے پہلے انسان کے اندر منزل کو سنبھالنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔

آخر میں صرف ایک سوال۔۔ اگر ہر دعا فوراً قبول ہو جائے، ہر محنت کا نتیجہ فوراً مل جائے اور ہر خواہش اسی لمحے پوری ہو جائے، تو پھر صبر، ایمان اور انسان کے کردار کا امتحان کیسے ہوگا؟

شاید اسی لیے صبر مشکل ضرور ہے، مگر ناممکن نہیں اور یہی وہ خوبی ہے جو ایک عام انسان کو غیر معمولی بنا دیتی ہے۔

Check Also

Fauj, Siasat Aur Siasatdan

By Najam Wali Khan