Firewall Paradox
فائر وال پراڈوکس

اگر کوئی خلا باز بلیک ہول کی طرف گرتا ہوا اس کے ایونٹ ہورائزن تک پہنچ جائے تو اس کے ساتھ کیا ہوگا؟ آئن اسٹائن کی عمومی اضافیت کے مطابق، اگر بلیک ہول بہت بڑا ہو تو وہ شخص ایونٹ ہورائزن عبور کرتے وقت کوئی غیر معمولی چیز محسوس نہیں کرے گا۔ لیکن کوانٹم فزکس ایک بالکل مختلف تصویر پیش کرتی ہے۔ اس کے مطابق ایونٹ ہورائزن پر اتنی شدید توانائی موجود ہو سکتی ہے کہ وہاں ایک فائر وال بن جائے، جو اندر داخل ہونے والی ہر چیز کو فوراً جلا کر ختم کر دے۔ ایک ہی جگہ کے بارے میں دو مختلف نتائج کیسے درست ہو سکتے ہیں؟ یہی سوال فائر وال پراڈوکس کہلاتا ہے۔
کئی دہائیوں تک سائنس دانوں کا خیال تھا کہ بلیک ہول کا ایونٹ ہورائزن صرف ایک فرضی حد ہے۔ اگر کوئی شخص اسے عبور کرے تو اسے کوئی جھٹکا، دیوار یا آگ محسوس نہیں ہوگی۔ اصل خطرہ بہت بعد میں، بلیک ہول کے مرکز کے قریب جا کر پیدا ہوگا، جہاں انتہائی طاقتور کششِ ثقل موجود ہوگی۔
لیکن پھر بلیک ہول انفارمیشن پراڈوکس نے ایک نئی مشکل کھڑی کر دی۔ اگر معلومات کو ضائع ہونے سے بچانا ہے تو ہاکنگ ریڈی ایشن کو کسی نہ کسی طرح وہ معلومات اپنے ساتھ لے کر باہر آنا ہوگا۔ جب سائنس دانوں نے اس مسئلے کا ریاضیاتی تجزیہ کیا تو ایک حیران کن نتیجہ سامنے آیا۔ ایسا محسوس ہونے لگا کہ معلومات محفوظ رکھنے کے لیے ایونٹ ہورائزن پر انتہائی طاقتور کوانٹم توانائی پیدا ہونا ناگزیر ہے۔
سن 2012 میں چند معروف طبیعیات دانوں AMPS (Almheiri, Marolf, Polchinski, and Sully) نے اس خیال کو باقاعدہ شکل دی، جسے بعد میں فائر وال ہائپوتھیسس کہا گیا۔ اس کے مطابق بلیک ہول کے کنارے پر ایک ایسی توانائی کی دیوار موجود ہو سکتی ہے جو اندر جانے والی ہر چیز کو فوراً تباہ کر دیتی ہے۔ اگر یہ نظریہ درست ہو تو آئن اسٹائن کی یہ پیش گوئی غلط ثابت ہوتی ہے کہ ایونٹ ہورائزن کو آرام سے عبور کیا جا سکتا ہے۔
یہی اصل تضاد ہے۔ ایک طرف عمومی اضافیت کہتی ہے کہ ایونٹ ہورائزن پر کچھ خاص نہیں ہوتا، جبکہ دوسری طرف کوانٹم میکینکس اور معلومات کے تحفظ کا اصول اشارہ دیتا ہے کہ وہاں ایک مہلک فائر وال موجود ہونی چاہیے۔ دونوں نظریات اپنے اپنے تجربات میں بے حد کامیاب ہیں، لیکن بلیک ہول کے کنارے پر آ کر ان کے نتائج ایک دوسرے سے ٹکرا جاتے ہیں۔
اس مسئلے کے کئی ممکنہ حل پیش کیے جا چکے ہیں۔ کچھ سائنس دانوں کے مطابق فائر وال واقعی موجود نہیں، بلکہ ہماری موجودہ کوانٹم تھیوری ابھی نامکمل ہے۔ کچھ کا خیال ہے کہ معلومات کسی اور طریقے سے محفوظ رہتی ہیں، اس لیے فائر وال کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔ جبکہ بعض نظریات، جیسے ہولوگرافک پرنسپل، اس تضاد کو ایک مختلف زاویے سے حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اب تک کسی بھی دوربین یا خلائی مشن نے فائر وال کا براہِ راست مشاہدہ نہیں کیا، کیونکہ ایونٹ ہورائزن کے اتنے قریب جا کر پیمائش کرنا موجودہ ٹیکنالوجی سے ممکن نہیں۔ اسی وجہ سے یہ موضوع آج بھی نظریاتی طبیعیات کی سب سے سرگرم تحقیقی بحثوں میں شامل ہے۔

