Thursday, 29 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mohammad Din Jauhar
  4. Ilhad Aur Manazra

Ilhad Aur Manazra

الحاد اور مناظرہ

جناب مفتی شمائل ندوی اور جناب جاوید اختر کے درمیان چند ہفتے قبل جو مناظرہ ہوا، اس پر الغاروں متن مشینوں میں سے بہہ چکا اور مسلم ذہن بھی اس میں خوب ڈبکیاں لگا چکا۔ اس مناظرے سے مسلمانوں میں بہرحال خوشی کی ایک لہر سی ضرور پیدا ہوئی ہے اور یہ خوشی ویسی ہی ہے جیسی کسی شیرخوار کے پہلی مرتبہ پاؤں پر کھڑا ہونے کی کوشش سے والدین کو ہوتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ آخرکار مسلم ذہن کو بھی خبر ہو ہی گئی کہ دنیا بھر کے انسان تو "خدا کے وجود" پر "علمی" بحثیں کر رہے ہیں اور حالات کا جبر اسے بھی اس میں کھینچ لایا ہے۔ عصر حاضر کے مسلمان اہلِ علم کے شعور کی ساخت نہ مذہبی رہی ہے اور نہ علمی۔ اس ذہن کے پاس کچھ کلامی سخن ریزے (anecdote) رہ گئے ہیں جنھیں وہ چھروں کی طرح چلا کر گھڑی بھر کے لیے کچھ نفسیاتی اعتماد حاصل کرتا ہے۔ آج کے زمانے میں مسلم عقل کے ظہور کے آثار ابھی پیدا ہی نہیں ہوئے۔

حضرت امام ابوحنیفہؒ کا ایک مشہور قول ہے کہ جس مسلمان نے کسی جھوٹے نبی سے اس کے "سچا" ہونے کوئی "دلیل" مانگ لی تو یہی بات اس کے کافر ہونے کے لیے کافی ہے۔ تو جو مسلمان خدا کے ہونے کی "دلیل" دیتے ہیں یا مخاصم سے طلب کرتے ہیں ان کے مسلمان ہونے نہ ہونے کا معاملہ بھی ہمارے علمائے کرام کو طے کرنے کی ضرورت ہے۔ کلاسیکل کلامی دلائل سے آج کی کسی بھی علمی تحدی کا سامنا کرنا ممکن نہیں ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ہمیں کلاسیکل علم الکلام کا کچھ پتہ ہے اور نہ جدید الحاد کی کوئی سمجھ ہے کیونکہ مسلم عقل خفتہ (dormant) ہے۔ خدا کے ہونے نہ ہونے کا مسئلہ عقلی یا علمی ہے ہی نہیں۔ کسی شے کے ہونے نہ ہونے کا مسئلہ عقلی اور علمی ضرور ہے اور وہی محل بحث ہے۔ یعنی جو شے اپنے ہونے میں مدرک ہے، اس کی شرائط وجود جاننا عقل کی بنیادی ذمہ داری ہے اور جو شے مدرک ہی نہیں اس پر عقلی بحث کرنا محض حماقت ہی ہے۔

سادہ لفظوں میں الحاد خاص طرح کے عقلی علوم کا نتیجہ ہے۔ یعنی یہ خاص طرح کے علوم، عقیدے کو باقی ہی نہیں رہنے دیتے۔ عقیدے اور علم کی باہمی نسبتوں کا سوال ہی کلاسیکل علم الکلام کے آغاز اور نمو کا باعث بنا تھا اور جو امام عالی مقام غزالیؒ میں اپنے کمال کو پہنچا۔ ہمارے اسلاف اپنے خاص تاریخی حالات میں علم اور عقیدے میں نسبتوں کو طے کرنے میں کامیاب رہے۔ ہمارے عہد کے اہل علم کو مسئلہ ہی سرے سے معلوم نہیں ہے تو اس کا جواب کیا دیں گے؟

جدید عہد میں مسلمانوں کو درپیش اصل مسئلہ یہ ہے کہ "علم کیا ہے؟" اور ان کے ہاں اس پر جو تھوڑی بہت گفتگو ہو رہی ہے وہ مغربی علم کی ڈومین میں رہتے ہوئے ہو رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان اہلِ علم جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی ہار چکے ہیں۔ "علم کیا ہے؟" کا مسئلہ آموختے سے حل نہیں ہوتا، کیونکہ ہر تہذیب تاریخ کے ہر خاص لمحے میں عقلی وسائل سے اپنے وجودی قضایا کو محفوظ رکھتے ہوئے اس کا جواب دیتی ہے۔ اس سوال میں عقل مستقل ہے لیکن عقلیت مستقل نہیں ہے۔ علم الکلام عقلی بھی ہے اور ایک خاص طرح کی عقلیت کا اظہار ہے اور جس کے نمائندے امام عالی مقام غزالیؒ ہیں۔ ہمیں اسی عقل اور عقلیت کی ضرورت ہے۔

Check Also

Jab Iqtedar Usoolon Ko Nigal Jaye

By Shair Khan