Bhar Mein Jao
بھاڑ میں جاؤ
خود کی دنیا تخلیق کرنا مشکل ہے اور اردگرد کی دنیا سے شرف قبولیت حاصل کرنا ناممکن ہے۔ مشکل اور ناممکن میں سے کسی ایک کا انتخاب ضروری ہے اور انتخاب میں ہم اتنے حد تک خود مختار ہے جتنا پیدا ہونے میں ہمارا اختیار تھا لیکن حقیقت پھر بھی یہی ہے کہ ہم پیدا ہوگئے۔
پیدا ہوتے ہی ہم انسانوں کو کچھ ذمہ داریاں سونپ دی جاتی ہے جنہیں اٹھانا ہوتا ہے، کچھ کردار دیئے جاتے ہیں جو نبھانے ہوتے ہیں، کچھ توقعات ہوتے ہیں جن پر پورا اترنا ہوتا ہے اور کچھ خواب ہوتے ہیں جن کے لئے وجود کو کرچیوں میں توڑنا پڑتا ہے۔ یہ خواب، یہ توقعات، یہ کردار، یہ ذمہ داریاں طے کرتے وقت ہم انسانوں سے پوچھنے یا پوچھنے کے حوالے سے سوچنے کی زحمت بھی نہیں ہوتی۔ آباؤ اجداد کی بنی بنائی دنیا میں آنے اور جینے کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔ دنیا میں کچھ بھی مفت میں نہیں ملتا، زندگی بھی مفت میں نہیں ملتی اس کی بھی قیمت ہم چکاتے ہیں۔
جس معاشرے میں ہماری پرورش ہوتی ہے وہ ہمیں اپنا حصہ تصور کرتا ہے اور ہمارے کچھ مختلف کرنے پر اس معاشرے کا ڈیفنس میکنزم ایکٹیویٹ ہو جاتا ہے اور ہم پر ایسے تابڑتوڑ حملے ہوتے ہیں کہ ہم بھول جاتے ہیں کہ ہم کر کیا رہے تھے لیکن کچھ مختلف کرنے کی چاہ پھر بھی نہیں مرتی کیوں کہ ہم مختلف ہے اور ہم جیسا کوئی دوسرا خدا کی قسم آٹھ بلین کی آبادی میں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا۔
ہم خود کو اپنے دنیا کا واحد فوکل پوائنٹ سمجھتے ہیں، ہم جو خود کے لئے فزکس کے قوانین کو الٹا دیتے ہیں۔ ہماری دنیا میں دریا الٹے بہتے ہیں، گریوٹی کا محور ہم ہوتے ہیں، ستارے ہمارے لئے چمکتے ہیں۔ سورج کی کرنیں طلوع اور غروب ہوتے وقت سلام کرکے گزرتی ہے اور خدا معشوق ہونے کے بجائے ہمارا عاشق ہوتا ہے۔ خدا معشوق ہے یا عاشق؟ ماں تو عاشق ہوتی ہے بھلا ستر ماؤں کی طرح چاہنے والا اگر عاشق نہیں کہلایا جاسکتا ہے تو پھر وہ معشوق بھی نہیں۔
ہم خود کے حوالے سے کیا کیا سوچتے ہیں اور تصور کرتے ہیں لیکن تلخ حقیقت یہی ہے کہ ہماری اوقات کائنات کے ایک معمولی ذرہ سے زیادہ نہیں جو اگر انسانوں کے معاشرے میں زندہ رہے تو انسان اسے کنٹرول کرتے ہیں اور اگر نہ رہے تو اسے بوجھ کی طرح فطرت کے حوالے کیا جاتا ہے۔ فطرت "گول مال" فلم کے کردار "وصولی" سے بھی زیادہ وصولی میں ماہر ہوتی ہے اور گن گن کے سب کچھ وصول کرتی ہے۔ ہمیں یہ ماننا چاہیے کہ ہمارے ہونے نہ ہونے سے کائنات کے لامتناہی کانوں پر جوں تک نہیں رینگی گی۔
سورج بھی اسی طرح طلوع ہوگا، ہمارے نہ ہونے کے غم میں وہ سیاہ نہیں ہو جائے گا۔ چاند کے اپنے دکھ ہے اسے ان سے فرصت نہیں۔ ستاروں کو ہمیشہ کی طرح اپنے چمکنے کی پڑی ہوگی اور زندگی مسلسل رواں دواں ہی رہیں گی۔ انسان اور اس کے معاشرے کو ازل سے ابد تک اپنی بقا کی فکر ہوگی اور بیچ میں ہم، ہماری کمی اور ہمارے نہ ہونے کو انسان کمزوری سمجھ کے اسے جڑ سے اکھاڑنے کے درپے ہو جائے گیں اور ہم قصہ ماضی بن جائے گیں، کبھی کبھار ہم قصہ ماضی بھی نہیں بنتے بلکہ بس ختم ہوجاتے ہیں، فنا ہوجاتے ہیں اور دھول کی طرح ہوا میں اڑ جاتے ہیں۔
زندگی اک درندے سے بڑھ کر کچھ نہیں اور جینے کے لئے اس درندے سے مسلسل لڑتے رہنا انسانوں کا مقدر ہے۔ کیوں نا اپنے درندے سے اپنی مرضی اور اپنے طریقے سے لڑا جائے اور شرف قبولیت عطا کرنے والے تمام انسانوں سے کہا جائے کہ بھاڑ میں جاؤ۔ ہاں، بھاڑ میں جاؤ۔

