Toxic Wajood, Jazbati Deemak o Zawal e Rooh
ٹوکسک وجود، جذباتی دیمک و زوال روح

انسانی زندگی کے طویل اور کٹھن سفر میں جہاں ہمیں محبت کے ٹھنڈے چشمے میسر آتے ہیں۔ وہیں کچھ ایسے تپتے ہوئے صحرا بھی ملتے ہیں جن کی لو انسان کے اندر کے گلستان کو جھلسا کر رکھ دیتی ہے۔ ان صحراؤں کا نام زہریلے لوگ ہے۔
یہ وہ نفوس ہیں جو ہمارے گرد و پیش میں بظاہر رشتوں، دوستیوں اور مصلحتوں کے خوشنما لبادے اوڑھ کر رہتے ہیں۔ لیکن ان کی جبلت میں ایک ایسا منفی مادہ چھپا ہوتا ہے جو آہستہ آہستہ ہمارے وجود کی بنیادیں کھوکھلی کرنے لگتا ہے۔ ایک ادیب کی نظر میں، زہریلا انسان محض ایک برا شخص نہیں ہوتا، بلکہ وہ ایک ایسی کیفیت کا نام ہے جو زندگی کی معصومیت اور سکون کو نگلنے کا ہنر جانتی ہے۔ جب ہم سادہ لفظوں میں بات کرتے ہیں تو زہریلا پن دراصل کسی کی انا کا وہ بے لگام پھیلاؤ ہے جو دوسرے کی ہستی کو مٹانے پر تلا ہوا ہو۔
یہ لوگ آپ کی زندگی میں ایک خاموش دیمک کی طرح داخل ہوتے ہیں۔ آغاز میں یہ آپ کے سب سے بڑے خیر خواہ بن کر سامنے آئیں گے، آپ کی تعریفوں کے پل باندھیں گے اور آپ کو یہ یقین دلائیں گے کہ ان جیسا مخلص تو کوئی ہے ہی نہیں۔ لیکن یہ دراصل وہ جال ہوتا ہے جس میں شکار کو پہلے ذہنی طور پر اسیر کیا جاتا ہے۔ جیسے ہی آپ ان کی محبت یا توجہ کے عادی ہوتے ہیں، ان کا اصل چہرہ نمودار ہونے لگتا ہے۔ وہ آپ کے اعتماد کو اپنی ملکیت سمجھنے لگتے ہیں اور پھر شروع ہوتا ہے تنقید اور تضحیک کا وہ سلسلہ جو بظاہر مشورے کی شکل میں ہوتا ہے، مگر اس کی روح میں زہر بھرا ہوتا ہے۔
زہریلے وجود کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ وہ آپ کے سورج کو گرہن لگانے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر آپ کو کوئی کامیابی ملی ہے، آپ نے کوئی نیا سنگِ میل عبور کیا ہے، تو ایک سچا دوست آپ کی خوشی میں نہال ہو جائے گا، مگر ایک زہریلا شخص فوراََ کوئی ایسی بات کہے گا جس سے آپ کی خوشی ماند پڑ جائے۔ وہ آپ کی محنت کو قسمت کا کھیل کہہ دے گا یا آپ کی کامیابی میں ہزار کیڑے نکال کر آپ کو یہ باور کروا دے گا کہ آپ ابھی بھی ادھورے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو آپ کی خود اعتمادی کے محل کو ایک ایک اینٹ کرکے گراتے ہیں، یہاں تک کہ ایک دن آپ آئینے میں کھڑے ہو کر خود سے ہی سوال کرنے لگتے ہیں کہ کیا واقعی میں کسی کام کا ہوں؟
ادب ہمیں سکھاتا ہے کہ تعلقات ایک دوسرے کی نمو کا نام ہیں، لیکن زہریلے تعلق میں صرف ایک کی انا نمو پاتی ہے اور دوسرے کا سکون قربان ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کا سب سے خطرناک حربہ احساسِ جرم ہے۔
وہ اپنی ہر غلطی، اپنی ہر ناکامی اور اپنی ہر تلخی کا ذمہ دار آپ کو ٹھہرائیں گے۔ اگر وہ غصے میں ہیں تو قصور آپ کا ہے، اگر وہ اداس ہیں تو وجہ آپ ہیں اور اگر وہ زندگی میں ناکام ہیں تو اس کا بوجھ بھی آپ کے کندھوں پر ڈال دیا جائے گا۔ وہ آپ کو اس قدر نفسیاتی طور پر اپاہج کر دیتے ہیں کہ آپ ہر وقت ان سے معافیاں مانگتے نظر آتے ہیں، چاہے غلطی آپ کی ہو ہی نہ۔ یہ ایک ایسا جذباتی قید خانہ ہے جس کی سلاخیں نظر نہیں آتیں مگر ان کی سختی ہڈیوں تک محسوس ہوتی ہے۔
اگر ہم اپنی زندگیوں کا وسیع تر مطالعہ کریں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ ہم نے کتنی ہی شامیں ان لوگوں کو مطمئن کرنے کی نذر کر دیں جو کبھی مطمئن ہونے کے لیے بنے ہی نہ تھے۔ ہم نے اپنے قہقہے ان کے قدموں میں ڈھیر کر دیے، اپنی نیندیں ان کی تلخیوں کی بھینٹ چڑھا دیں اور بدلے میں ہمیں کیا ملا؟ صرف ایک گہری تنہائی اور یہ خوف کہ کہیں ہم سے پھر کوئی بھول نہ ہو جائے۔ زہریلے لوگ دراصل وہ شکاری ہیں جو آپ کے سکون کا گوشت کھا کر توانا ہوتے ہیں۔ وہ آپ کی توانائی کو نچوڑ لیتے ہیں اور جب آپ ایک خالی برتن کی طرح رہ جاتے ہیں، تو وہ بڑی بے رخی سے نیا شکار ڈھونڈنے نکل پڑتے ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ادب اور اخلاق ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ ہم ان زہریلے لوگوں کو برداشت کرتے رہیں؟ ہرگز نہیں۔ صبر کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کسی کو اپنی روح پامال کرنے کی اجازت دے دیں۔ انسانی جان اور انسانی وقار کائنات کی سب سے قیمتی متاع ہے۔ جس طرح ایک باغبان اپنے چمن کی حفاظت کے لیے زہریلی جھاڑیوں کو کاٹ پھینکتا ہے، اسی طرح ایک انسان کو اپنے ذہنی سکون کے لیے اپنی زندگی سے ان لوگوں کا اخراج کرنا پڑتا ہے جو اس کے اندر کی ہریالی کو چاٹ رہے ہوں۔ یہ بدتمیزی نہیں، یہ خود ترحمی نہیں، بلکہ یہ اپنی ذات کا تحفظ ہے۔
تحریر کا خلاصہ یہی ہے کہ رشتہ وہ ہے جو آپ کو زندگی کی طرف رغبت دلائے، جو آپ کو اپنے آپ سے محبت کرنا سکھائے، جو آپ کی خامیوں کو ڈھانپے اور آپ کی خوبیوں کو جلا بخشے۔ جو تعلق آپ کو سسکنے پر مجبور کر دے، جو آپ کی آنکھوں میں نمی اور دل میں بوجھ بھر دے، وہ رشتہ نہیں بلکہ ایک بوجھ ہے جسے اتار پھینکنا ہی دانش مندی ہے۔ زندگی بہت مختصر ہے، اتنی مختصر کہ اسے کسی زہریلے انسان کی انا کی بھٹی میں نہیں جلایا جا سکتا۔ اپنے گرد بلند دیواریں کھڑی کیجیے، اپنی حدیں مقرر کیجیے اور ان لوگوں کو الوداع کہنے کا حوصلہ پیدا کیجیے جو آپ کی قدر نہیں جانتے۔ یاد رکھیے، کٹی ہوئی پتنگ کو جانے دینا ہی بہتر ہوتا ہے، کیونکہ اگر آپ اسے تھامے رکھنے کی ضد کریں گے تو اس کی تیز ڈور آپ کے اپنے ہاتھوں کو لہولہان کر دے گی۔ سکون وہ مہنگا سودا ہے جسے کسی بھی سستے انسان کے لیے قربان نہیں کیا جانا چاہیے۔

